Skip to content
برطانیہ میں مساجد کی حفاظت کےلئے حکومت کا مثالی اقدام
ازقلم: سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
پوری دنیا میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا واقعات کے تناظر میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران برطانیہ کا منظر نامہ نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے،کبھی فخر کے ساتھ عیسائی قوم کے طور پر یہ ملک جانا جاتا تھا،اب مسیحی آبادی یہاں مسلسل کم ہورہی ہے،عیسائی اب بھی یہاں آبادی کا ایک اہم حصہ ہیں لیکن ان کے تناسب میں کمی آئی ہے،انگلینڈ اور ویلز میں تقریبا 46 فیصدلوگ عیسائی کے طور پر اپنی شناخت ظاہر کرتے ہیں،دریں اثناء ایسے لوگوں کی تعداد جو کہتے ہیں کہ ان کا کوئی مذہب نہیں ہے وہ 37 فیصد تک پہنچ گئی ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ تین میں سے ایک برطانوی اب کسی مذہب کے ساتھ شناخت نہیں رکھتا،حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں ایک رپورٹر نے وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے براہ راست یہ پوچھا کیا برطانیہ اب بھی ایک عیسائی ملک ہے؟ اس سوال پر وزیراعظم کیئر اسٹار مرنے کہا کہ ان کی پرورش ایک مسیحی ماحول میں ہوئی،چرچ ان کی زندگی کا حصہ رہا ہے، یہ شناخت برطانوی روایت میں بڑی گہری ہے اور جڑی ہوئی ہے لیکن انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آج برطانیہ صرف ایک عیسائی ملک نہیں ہے،مسلمان،ہندو،سکھ،یہودی،بدھ مت اور دیگر مذہب کے لوگ بھی یہاں بڑی تعداد میں رہتے ہیں اور یہ تنوع برطانیہ کی طاقت ہے،برطانیہ میں مسلمانوں کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، 2011 میں 2.7 ملین سے 2021 تک یہ تقریبا 3.87 تک پہونچ گئی ہے،مسلمان اب کل آبادی کا تقریبا 6.5 فیصد پر مشتمل ہیں،ہندو تقریبا 1.7فیصد،سکھ 0.9 فیصد،یہودی 0.5فیصد اوربدھ مت کے پیروکار بھی تقریبا 0.5 فیصد ہیں،اس تبدیلی کی تین بڑی وجوہات ہیں،سب سے پہلے مسلم آبادی میں تیزی سے اضافہ شرح پیدائش اور ایمیگریشن اہم عوامل ہیں،دوسرا معاشرے میں سیکولرازم اور ذاتی شناخت کی طرف تبدیلی جو تیزی سے بڑھتے ہوئے کسی مذہب نہیں بلکہ گروپ کی طرف لے جا رہی ہے،تیسرا نوجوان نسل کے بدلتے ہوئے رویے جو مذہب کو طرز زندگی کے بجائے ذاتی پسند کے طور پر دیکھتے ہیں،برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت 40 لاکھ سے زیادہ ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مسلم طبقہ کی حفاظت کو پیش نظر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں 10 ملین پاؤنڈ کا اضافی فنڈ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے یہ قدم پیس ہیون مسجد پر گزشتہ دنوں پیش آئے آگ زنی واقعے کے بعد اٹھایا گیا ہے،حالانکہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا تھا لیکن مسجد کے داخلی دروازہ اور ایک کار کو ضرور نقصان پہنچا تھا، وزیراعظم اسٹارمر نے وزیر داخلہ شبانہ محمود سیمت کئی لوگوں کے ساتھ متاثرہ مسجد کا دورہ کیا تھا اور اضافی فنڈ جاری کرنے سے متعلق کہا تھا کہ یہ فنڈ مسلم طبقے کو امن و تحفظ والے ماحول میں زندگی گزارنے کا حق فراہم کرے گا،انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ ایک فخر آمیز اور عدم برداشت والا ملک ہے کسی بھی طبقے پر حملہ ہمارے پورے ملک اور اقدار پر حملہ ہے،واضح رہے کہ گزشتہ 4 اکتوبر کو ہوئی آگ زنی کے واقعے میں مسجد کے سامنے کھڑی کار اور مسجد کا دروازہ جل گیا تھا،مقامی پولیس نے اسے ہیڈ کرائم یعنی نفرت پر مبنی جرم کی شکل میں درج کیا،پولیس نے تین لوگوں کو آگ زنی اور جان جوکھم میں ڈالنے کے شبہ میں گرفتار بھی کیا،اس واقعے کے بعد وزیراعظم اسٹار مرنے مسلم طبقے سے کہا کہ ہمیں عبادت کے مقامات میں سکیورٹی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے لیکن افسوسناک ہے کہ ہمیں ایسا کرناپڑ رہا ہے اور اس کی ضرورت پڑ رہی ہے،بہرحال حکومت نے بتایا کہ نئے فنڈ کے تحت مسجدوں اور مسلم مراکز میں سی سی ٹی وی،الارم سسٹم،مضبوط باڑ اور سکیورٹی اہلکار کا انتظام کیا جائے گا،سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں مارچ 2025 تک مسلم منافرت پر مبنی ہیڈ کرائم میں 19 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سبھی مذہبی ہیڈ کرائم کا 44 فیصد حصہ مسلم طبقے پر مرکوز ہے،ایسٹ سسیکس کاؤنٹی کونسل کا کہنا ہے کہ علاقے میں پرچم وغیرہ لگانا خصوصا سی فور،نیو ہیون اور پیس ہیون جیسے اہم شہروں میں عدم تحفظ اور خوفناک ماحول بنارہاہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مساجد پر نفرت انگیز حملوں میں اضافے کے بعد ان کی حفاظت کے لئے 10 ملین پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ کا اعلان کیا ہے،انہوں نے وزیر داخلہ شبانہ محمود کے ہمراہ مشرقی سسیکس کی متاثرہ مسجد کا دورہ کیا،اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ کو اپنی رواداری اور یکجہتی پر فخر ہے، کسی بھی کمیونٹی پر حملہ دراصل مشترکہ اقدار پر حملہ ہے،جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،انہوں نے واضح کیا کہ مساجد کی حفاظت کے لئے مختص فنڈنگ کا مقصد صرف مالی مدد نہیں بلکہ مسلمانوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ برطانوی معاشرے کا محفوظ اور محترم حصہ ہے،وزیر داخلہ شبانہ محمود نے اعلان کیا کہ حکومت،مساجد کی نگرانی،سکیورٹی کیمروں،داخلی راستوں اور ہنگامی رد عمل کے نظام کو مزید مضبوط کرے گی،انہوں نے مذکورہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد پر حملہ خوفناک جرم تھا،جسکے تباہ کن نتائج نکل سکتے تھے لیکن اسے بروقت بچا لیا گیا۔
برطانوی حکومت کے اس تاریخی اقدام کو تمام گوشوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے،دنیا بھر کے دیگر ممالک کے بشمول ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو صرف سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے ہوا دینا عام بات ہے،امریکہ میں موجود صدر ٹرمپ نے مقامی باشندوں کی تائید حاصل کرنے کے لئے غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے کو اہم انتخابی موضوع بنایا،اسی طرح یورپ میں بھی کئی کٹر سیاسی جماعتوں کی جانب سے اقتدار کے حصول کے لئے مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بھڑکایا جا رہا ہے،برطانیہ میں ایمیگریشن مخالف اور انتہائی دائیں بازو کی’ ریفارم یو کے پارٹی’ کے قانون سازلی اینڈرسن کے ایک بیان نے رواں سال کے آغاز پر ایک تنازعہ اس وقت کھڑا کردیا تھا،جب انہوں نے لندن کے میئر صادق خان پر اسلام پسندوں کے زیر کنٹرول ہونے کا الزام عائد کیا تھا،لیکن مفاد پرست قائدین یہ بھول رہے ہیں کہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے عوام کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کے سماج پر کس طرح کے بدترین اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور کس طرح نوجوان اس جنون میں مبتلا ہو کر اپنا مستقبل داؤ پر لگارہے ہیں،برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مسلم برادریوں کو نفرت انگیز جرائم اور حملوں سے بچانے کے لئے سکیورٹی کے ضمن میں اضافی 10 ملین پاؤنڈ دینے کا وعدہ کیا،حکومت نے کہا کہ نئی فنڈنگ کے ذریعے مساجد اور مسلم مذہبی مراکز کو سکیورٹی کے انتظامات فراہم کیے جائیں گے،جن میں سی سی ٹی وی،الارم،محفوظ باڑ اور سکیورٹی حملہ شامل ہیں،اسٹارمر نے کہا کہ یہ اقدامات برادریوں کو محفوظ زندگی گزارنے کے قابل بنائیں گے،انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ ایک باوقار اور روادار ملک ہے، کسی بھی برادری پر حملہ دراصل ہماری پوری قوم اور ہمارے اقدار پر حملہ ہے،یہ فنڈنگ مسلم برادریوں کو وہ تحفظ فراہم کرے گی جس کی انہیں ضرورت ہے اور جس کی وہ مستحق ہیں،تاکہ وہ امن اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں،یہ اضافی رقم مساجد کے تحفظ کی سکیورٹی اسکیم کو وسعت دے گی،جو ان مسلم کمیونٹی مراکز اور مذہبی اسکولوں کی حفاظت کرتی ہے،جنہیں نفرت پر مبنی جرائم کا سامنا کرنا پڑا ہے،یا جو ایسے حملوں کے خطرے میں ہے،یہ رقم اس سال پہلے سے دستیاب 29.4 ملین پاؤنڈ میں اضافہ ہے،سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے دوران اسلام مخالف جرائم میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور تمام مذہبی نفرت انگیز جرائم میں سے 44 فیصد مسلمانوں کے خلاف کئے گئے یہ صرف برطانیہ کی رپورٹ ہے،اسکے علاوہ حکومت نے ایک نیا ورکنگ گروپ قائم کیا ہے جو حکومت کو اینٹی مسلم اسلامو فوبیا کی تعریف فراہم کرے گا،تاکہ مسلمانوں کے خلاف ناقابل قبول نفرت انگیز واقعات سے نمٹنے کے لیے جاری وسیع تر اقدامات کی حمایت کی جا سکے،یہ گروپ حکومت کو اس بارے میں مشورہ دے گا کہ مسلمانوں کے خلاف،تعصب،امتیاز اور نفرت انگیز جرائم کو بہتر طور پر کیسے سمجھا جائے اور واضح طور پر بیان کیا جائے واقعات وحوادثات کی نگرانی اور رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ گرانٹ حاصل کرنے والا ادارہ اس بات کے بارے میں آگاہی بڑھانے پر کام کرے گا کہ نفرت انگیز جرم کیا ہوتا ہے؟ متاثرین کو واقعات کی اطلاع دینے کی ترغیب دے گا اور نفرت کے شکار افراد کے لئے امداد فراہم کرنے میں سہولت پیدا کرے گا،یہ ادارہ حکومت سمیت مقامی و قومی شراکت داروں اور مذہبی و عقیدتی گروہوں کے نیٹ ورک کے ساتھ مل کر اس اہم کام کو آگے بڑھائے گا،یہ فنڈ کسی ایک تنظیم یا تنظیموں کے گروپ کے لئے ہے،تاکہ وہ مل کر انگلینڈ بھر میں نفرت پر مبنی واقعات کا درست ریکارڈ تیار کرنے پر کام کر سکیں،اپنی مہارت سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ گروپ کے ارکان برطانیہ بھر کی مسلم برادریوں کے مختلف پس منظر اور تجربات کو مدنظر رکھنے کے لئے وسیع پیمانے پر مشاورت کریں گے، گروپ حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کو مسلم برادریوں کے خلاف ناقابل قبول سلوک اور تعصب کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا،تاہم گروپ کے اقدامات اس بنیادی حق سے ہم آہنگ ہوں گے جو برطانوی شہریوں کو اظہار رائے اور تقریر کی آزادی کے طور پر حاصل ہے،جس میں مذاہب،انکے ماننے والوں کے عقائد یا عبادتی طریقوں پر تنقید،ناپسندیدگی کا اظہار یا حتی کہ توہین کرنے کا حق بھی شامل ہے۔
سلطنت برطانیہ کسی زمانے میں اپنی وسعت کے اعتبار سے تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت تھی اور کافی عرصے تک یہ ایک عالمی طاقت رہی۔1921ء میں اپنی طاقت اور وسعت کی انتہا پر یہ 33 ملین مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی تھی،اس کے زیر نگیں 45 کروڑ 80 لاکھ لوگ تھے جو اس وقت کی عالمی آبادی کا ایک چوتھائی بنتے ہیں۔یہ اتنی وسیع تھی کہ اس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ سلطنت برطانیہ پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔یہ دنیا کے پانچوں آباد براعظموں پر موجود تھی۔برطانیہ کے چاروں طرف بحر اوقیانوس اور اس کے ذیلی بحیرے ہیں جن میں بحیرہ شمال و رود باد انگلستان،بحیرہ سیلٹک اور بحیرہ آئرش شامل ہیں،برطانیہ چینل سرنگ کے ذریعے فرانس سے منسلک ہے جو رود باد انگلستان کے نیچے سے گزرتی ہے،جبکہ شمالی آئرلینڈ،جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ ملتا ہے۔برطانیہ درحقیقت ایک سیاسی اتحاد ہے جو چار ممالک انگلستان،اسکاٹ لینڈ،ویلز اور شمالی آئرلینڈ سے مل کر بنا ہے،انکے علاوہ دنیا بھر میں برطانیہ کے دیگر کئی مقبوضہ علاقے بھی ہیں،جن میں برمودا،جبل الطارق،یا جبرالٹر،مونٹسیرٹ اور سینٹ ہلینا بھی شامل ہیں۔برطانیہ ایک آئینی بادشاہت ہے جو دولت مشترکہ کے 16 ممالک کی طرح شہنشاہ چارلس سوم کو اپنا حکمران تصور کرتی ہے۔برطانیہ جی 8 رکن ہے اور انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے،اس کی معیشت دنیا کی پانچویں اور یورپ کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے،جس کا اندازہ 2.2 کھرب امریکی ڈالرز ہے اور آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے،جس کی آبادی 60.2 ملین ہے،برطانیہ شمالی اوقیانوسی(نیٹو) اور اقوام متحدہ کا بانی رکن اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے،برطانیہ دنیا کی بڑی جوہری طاقتوں میں سے ایک ہے یہ یورپی یونین کا بھی رکن ہے،سلطنت برطانیہ کے خاتمے کے باوجود انگریزی زبان کے عالمی استعمال اور دولت مشترکہ کے باعث برطانیہ کے اثرات اب بھی دنیا پر باقی ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ برطانوی حکومت نے جس طرح اپنے یہاں مساجد اور مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانےکےلئے قدم اٹھایا ہے،یہ بہرحال قابل تقلید ہے،اسکی سراہنا کی جانی چاہئے اور ہندوستان جیسے ممالک میں جہاں مسلمانوں اور اقلیتوں کے لئے زمینیں تنگ کی جارہی ہیں،مساجد ومدارس کو نشانہ بنایا جارہاہے،جمہوری حقوق پامال کئے جارہے ہیں،کھلے عام نفرت پھیلایا جارہاہے،اس پر روک لگنی چاہئے،اسکے بغیر وشوگرو بننے کا خواب ممکن نہیں،ملک میں امن وامان کی فضا قائم کرنا اور قانون کی بالادستی کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے،حکومت برطانیہ کا یہ سلوک نفرت بھرے اس ماحول میں امید کی ایک بڑی کرن ہے۔
*(مضمون نگار،معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com
Like this:
Like Loading...