Skip to content
(سیاسی طنز و مزاح)
گیانیش کمار:بازی گر یاماہِر شفاف دھا ندلیات
———-
بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
———-
خدا جب کسی حکمران کو عقلِ کُل، اختیارِ مطلق، اور اپنی آواز کے علاوہ ہر آواز سے بے نیازی ایک ساتھ عطا کرتا ہے، تو اُس کی حکمرانی کی پائیداری کو جانچنے کے لیے کوئی وبائی مرض یا آسمانی آفت نازل نہیں کرتا۔ وہ محض ایک یونیورسٹی کیمپس میں چند نوجوان ذہنوں کو سوال پوچھنے کی مہلک بیماری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی سلطنتوں کے تخت، توپوں کی گھن گرج سے زیادہ، لائبریریوں میں ہونے والی سرگوشیوں سے لرزے ہیں۔ ہر آمر کا سب سے بڑا خوف ایٹم بم نہیں، بلکہ وہ کتاب ہوتی ہے جو نوجوانوں کو یہ سکھا دے کہ بادشاہ بھی کپڑے پہنتے ہیں، اور کبھی کبھی وہ کپڑے موجود نہیں ہوتے۔
ابھی کل ہی کی بات ہے، جب جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طلبہ یونین انتخابات میں بھگوا بریگیڈ کی عبرتناک شکست کی خبر اخبار کی شہ سرخی بنی، تو ہم بھی خوش فہمی کے اس غبارے میں کچھ ایسی ہوا بھرنے لگے کہ ”دیکھا! ابھی جمہوریت کی نبض چل رہی ہے!” اسی نیم پختہ خوشی کو سندِ قبولیت عطا کروانے کی غرض سے ہم سیدھا اپنے استاد، پروفیسر ڈاکٹر یحییٰ جمیل، کے دولت کدے پر حاضر ہوئے۔ پروفیسر صاحب، جن کا نام علاقہ مہاراشٹر کے علمی و ادبی حلقوں میں سند کا درجہ رکھتا ہے اور جن کا اوڑھنا بچھونا فارسی و اردو ادب ہے، عالمی سیاست پر ایک ایسی تشریحی نظر رکھتے ہیں کہ گمان ہوتا ہے وہ صرف واقعات نہیں، بلکہ ان کے پسِ پردہ نیتوں کو بھی پڑھ لیتے ہیں۔ اس وقت وہ اپنی لائبریری میں براجمان، ایک پرانے گلوب کو یوں تھامے ہوئے تھے جیسے کوئی جراح آپریشن سے پہلے مریض کے جسم کا جائزہ لے رہا ہو۔ وہ اسے دھیرے سے گھماتے، پھر کسی ملک پر اپنی انگلی یوں ٹکا دیتے جیسے مرض کی اصل جڑ پکڑ لی ہو، اور زیرِ لب کچھ ایسے بڑبڑاتے کہ محسوس ہوتا تھا وہ دنیا نہیں گھما رہے، بلکہ اس کی بگڑی ہوئی تقدیر کی سطور کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہم نے اخبار ان کے سامنے لہراتے ہوئے کہا، ”استاد مکرم! مبارک ہو! قلعہ فتح ہو گیا! نوجوانوں نے ثابت کر دیا کہ ابھی ضمیر زندہ ہے!”
پروفیسر صاحب نے گلوب سے نظر ہٹا کر ہماری طرف دیکھا، پھر اخبار کو ایسی تحقیقی نظر سے جانچا جیسے وہ کوئی قدیم مخطوطہ ہو، اور ایک عالمانہ قہقہہ لگایا۔ وہ قہقہہ نہیں تھا، ہماری سیاسی سادہ لوحی کا ایک بے رحم پوسٹ مارٹم تھا۔ بولے، ”میاں! تم تاریخ کو واقعات کی سطح پر دیکھتے ہو، وہ اسے حکمتِ عملی کے طور پر برتتے ہیں۔ قلعے دیواروں کے گرنے سے فتح نہیں ہوتے، قلعے تب فتح ہوتے ہیں جب ان کے اندر بیٹھے محافظ ہی باہری حملہ آوروں کے لیے چور دروازے کھول دیں۔ تم ایک چھوٹی سی جھڑپ جیتنے پر بغلیں بجا رہے ہو، اور وہ جنگ ہارنے کا کوئی غم نہیں منا رہے، بلکہ اگلی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ یاد رکھو، شاطر کھلاڑی کبھی کبھی پیادے قربان کر دیتا ہے تاکہ تخت سلامت رہے۔”
ہماری آنکھوں میں تیرتے سوالیہ نشان دیکھ کر انہوں نے اپنی وضاحت کا سلسلہ آگے بڑھایا، ”ارے صاحب، جب جمہوریت اپنی لگام چھڑا کر بھاگنے لگے، جب عوام کی رائے شاہی فرمان سے انحراف کرنے لگے، تو ہر سمجھدار حکومت اپنے ترکش سے آخری اور سب سے مہلک تیر نکالتی ہے۔”
ہمارا اشتیاق اب اپنی انتہا کو چھو رہا تھا۔ ہم نے بے چینی سے پوچھا، ”اور وہ کیا ہے، کوئی نیا قانون؟ کوئی ایمرجنسی؟”
پروفیسر صاحب پراسرار انداز میں مسکرائے، اپنی کرسی پر آگے کی طرف جھکے، اور سرگوشی کے انداز میں بولے، ”گیانیش کمار!”
”گیانیش کمار؟” ہم نے حیرت سے پوچھا۔ ”یہ تو محض بھارت کے چیف الیکشن کمشنر ہیں!”
”نہیں صاحب، ادارہ کہو،” پروفیسر صاحب نے گلوب کو روک کربھارت کے نقشے پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔ ”گیانیش کمار صرف ایک شخص یا عہدے کا نام نہیں۔ یہ ایک نظریہ ہے، ایک خدمت ہے، ایک دیسی عالمی جُگاڑ ہے۔ یہ کافکا کے ناول کا وہ بے چہرہ بیوروکریٹ ہے،جوبھارت کے کسی بھی کونے میں،ایسے ’شفاف‘اور ’غیر جانبدار‘انتخابات کروانے کے ماہر ہیں، جس کا نتیجہ اعلان سے پہلے ہی وزیرِ اعظم ہاؤس میں فریم کروایا جا چکا ہو۔”
پھر وہ اپنی کرسی پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، گویا اب وہ کوئی تھیوری نہیں، بلکہ ایک کیس اسٹڈی پیش کرنے والے ہوں۔ کہنے لگے، ”چلو، ایک مفروضہ قائم کرتے ہیں۔ فرض کرو، جے این یو کا اگلا الیکشن آ پہنچا ہے۔ ماحول حسبِ معمول کشیدہ ہے۔ اچانک بھارت کی” انصاف پسند ”سپریم کورٹ مداخلت کرتی ہے اور انتخابات کی غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے ایک ’ایمیکس کیوری‘، یعنی عدالتی معاون، مقرر کرنے کا حکم دیتی ہے۔ اور اس ’خدمتِ جمہوریت‘ کے لیے جس شخصیت کا انتخاب ہوتا ہے، اس کا نام ہے: مسٹر گیانیش کمار۔”
”تصور کیجیے،” پروفیسر یحییٰ جمیل صاحب نے اپنی کہانی جاری رکھی، ”ایک نپی تلی چال، چہرے پر دلداری اور بغل میں چھری والی مسکراہٹ سجائے گیانیش کمار کیمپس میں داخل ہوتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں کہتے ہیں: ’ہم یہاں جمہوریت کا جشن منانے آئے ہیں۔ ہمارا مقصد صرف ایک ہے: آزادانہ، منصفانہ، اور شفاف انتخابات!‘ ان کے الفاظ پر تالیاں بجتی ہیں۔ وہ بائیں بازو اور دائیں بازو، دونوں گروپوں کے نمائندوں سے ملتے ہیں۔ بائیں بازو والوں سے کہتے ہیں، ’آپ کی آئین سے محبت قابلِ قدر ہے۔ ہم اس کی حفاظت کریں گے۔‘ دائیں بازو والوں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر فرماتے ہیں، ’قوم پرستی سے بڑا کوئی دھرم نہیں۔ فکر نہ کریں۔‘”
پروفیسر صاحب نے ہماری بات پر ایک عالمانہ قہقہہ لگایا۔ ”میاں، تمہاری لغت پرانی ہو چکی ہے۔ ’دھاندلی‘ تو ایک غیر قانونی اور سوقیانہ حرکت ہے۔ گیانیش کمار کا فن دھاندلی نہیں، بلکہ دھاندلی کی سائنس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بھکت انہیں محبت سے ’بازی گر‘ کہتے ہیں، جبکہ کچھ ’کم فہم‘ دانشور انہیں ’ماہرِ شفاف دھاندلیات‘ کا لقب دیتے ہیں؛ اصل میں وہ دونوں ہیں۔ وہ اس قصائی کی طرح نہیں جو خون بہائے؛ وہ تو اس ماہرِ بے ہوشی (Anesthesiologist) کی طرح ہیں جو ’قومی مفاد‘ نامی دوا کی اتنی زیادہ مقدار دے دیتا ہے کہ جمہوریت بغیر کسی تکلیف کے، نہایت پرامن طریقے سے کومے میں چلی جاتی ہے۔ وہ دیواریں نہیں توڑتے، وہ تو تعمیرات کے قوانین میں ایسی ترمیم کرواتے ہیں کہ چور دروازہ ہی داخلے کا واحد قانونی راستہ قرار پاتا ہے۔”
پروفیسرصاحب نے اپنی کہانی جاری رکھی…..
”ووٹنگ کا دن آتا ہے،ہر بوتھ پر گیانیش کمار کے تربیت یافتہ اہلکار تعینات ہیں۔ ووٹنگ مشینیں بالکل نئی ہیں، سیدھی فیکٹری سے آئی ہیں، اور ان کی روح تک کو ’قوم کے لیے وقف‘ کر دیا گیا ہے۔ شام کو گنتی شروع ہوتی ہے۔ ابتدائی رجحانات میں بائیں بازو آگے ہے۔ ان کے کیمپ میں جشن کا سماں ہے۔ ڈھول بج رہے ہیں۔ لیکن پھر، آخری راؤنڈز میں، جیسے کوئی معجزہ رونما ہوتا ہے۔ سائنس اور سماجی علوم کے وہ شعبے جہاں سے کبھی دائیں بازو کو دس ووٹ نہیں ملے تھے، وہاں سے ان کے امیدوار ہزاروں ووٹوں سے جیت جاتے ہیں۔ رات گئے نتیجہ آتا ہے: ’قوم پرست اتحاد نے تاریخ میں پہلی بار جے این یو میں کلین سویپ کر لیا! طلبہ نے ملک دشمن عناصر کو یکسر مسترد کر دیا!‘”
گیانیش کمار ایک اور پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ چہرے پر تھکاوٹ اور فرض شناسی کا نور ہے۔ کہتے ہیں، ”یہ طلبہ کی جیت ہے۔ یہ جمہوریت کی جیت ہے۔ ہم نے صرف اپنا فرض نبھایا ہے۔”
پروفیسر صاحب اپنی کرسی پر پیچھے کی طرف جھکے، گلوب کو پھر سے گھمایا اور بولے، ”کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، میاں! یہاں سے تو گیانیش کمار کا عالمی کیریئر شروع ہوتا ہے۔”
”اس کے بعد، گیانیش کمار ایک عالمی مشیر بن جاتے ہیں۔ ”نظامِ جمہوریت کی انتظام کاری خدمات” (Democratic Management Services – DMS) کے نام سے ایک کمپنی کھولتے ہیں۔ ان کی ویب سائٹ پر جلی حروف میں لکھا ہے: ’کیا آپ کی عوام آپ کے ترقیاتی ایجنڈے کو نہیں سمجھ رہی؟ کیا آپ کے ملک میں چند غیر ملکی ایجنٹ جمہوریت کے نام پر خلفشار پیدا کر رہے ہیں؟ کیا آپ انتخابات کے غیر متوقع نتائج سے پریشان ہیں؟ گھبرائیے نہیں! ہم سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کے ملک میں امن، استحکام، اور آپ کی مرضی کے مطابق جمہوریت لائیں گے۔ سو فیصد کامیابی کی گارنٹی کے ساتھ!‘”
”ان کے گاہکوں کی فہرست میں افریقہ کے کئی تاحیات صدور، مشرقی یورپ کے کئی ’مضبوط‘ رہنما، اور لاطینی امریکہ کے وہ جنرل شامل ہوتے ہیں جو انتخابات کو ایک فضول مشق سمجھتے ہیں۔ گیانیش کمار ہر جگہ جاتے ہیں۔ وہی نپی تلی چال، وہی مسکراہٹ۔ وہ ہر ملک کے آئین کا مطالعہ کرتے ہیں، اور پھر اس میں وہ ’چور دروازے‘ تلاش کرتے ہیں جہاں سے جمہوریت کو باہر نکال کر آمریت کو داخل کیا جا سکے، اور اس پورے عمل کو ’آئینی اصلاحات‘ کا نام دیتے ہیں۔”
پروفیسر صاحب نے گلوب کو روک کر افریقہ کے ایک ملک پر انگلی رکھی۔ ”یہاں کے صدر صاحب پچھلے چالیس سال سے ’عوامی خدمت‘ کر رہے تھے۔ ہر الیکشن میں جیت تو جاتے تھے، مگر عالمی میڈیا بڑا شور مچاتا تھا۔ گیانیش کمار کو بلایا گیا۔ انہوں نے صرف ایک چھوٹا سا قانون بدلا: صدر کے لیے زیادہ سے زیادہ دو مدتوں کی پابندی تو رہے گی، مگر ہر مدت کی طوالت اب عوام کی ’خواہش‘ پر منحصر ہوگی۔ اگلے ہی ریفرنڈم میں عوام نے ’خواہش‘ کی کہ اگلی مدت تیس سال کی ہونی چاہیے۔”
ہم تصور کی دنیا سے واپس آئے۔ ہم نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا، ”مرشد، آپ ٹھیک کہتے تھے۔ یہ دور بندوق اور توپ کا نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی اور بیوروکریسی کا ہے۔ آج کے فاتحین وہ نہیں جو قلعے کی دیواریں توڑتے ہیں، بلکہ وہ ہیں جو چور دروازے بناتے ہیں اور پھر اسے ہی صدر دروازہ قرار دے دیتے ہیں۔”
پروفیسرصاحب نے اپنی عینک صاف کی اور بولے، ”اور ان باغیوں کا کیا ہوگا جن کی جیت پر تم جشن منا رہے تھے؟”
”ان کے نعرے بھی خوب تھے،” ہم نے حسرت سے کہا۔ ”کہتے تھے، ’ہمیں چاہیے آزادی!‘… بھوک سے، غربت سے، جہالت اور تعصب سے۔”
”بالکل!” پروفیسر صاحب نے تائید کی۔ ”یہ نعرہ تو قاہرہ کے تحریر اسکوائر سے لے کر ہانگ کانگ کی سڑکوں تک، ہر اس نوجوان کی آواز ہے جو صرف روٹی نہیں، عزتِ نفس بھی مانگتا ہے۔ مگر مطلق العنان ذہنیت کی مشکل ہی یہی ہے کہ وہ ہر مطالبے کو سازش اور ہر سوال کو بغاوت سمجھتی ہے۔ جب گیانیش کمار جیسے جادوگر موجود ہوں تو ان نعروں کی حیثیت اس بارش جیسی رہ جاتی ہے جو صحرا پر برستی تو ہے، مگر اسے ہرا نہیں کر پاتی۔”
”تو پھر اس قلعے کا کیا ہوگا؟” ہم نے جے این یو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
پروفیسرصاحب مسکرائے، ”میاں، فکر نہ کرو۔ حکومتیں بدلتی ہیں، ملک بدلتے ہیں، مگر نوجوانوں کے باغی تیور اور حکمرانوں کی اُن سے الرجی، یہ وہ آفاقی سچ ہے جو کبھی نہیں بدلتا۔ گیانیش کمار جیسے طلسمات وقتی ہوتے ہیں۔ جب چور دروازے ہی اتنے زیادہ ہو جائیں کہ صدر دروازہ کون سا تھا، یہی بھول جائے، تو عوام ایک دن پوری عمارت ہی گرا دیتے ہیں۔جے این یو کے یہ نوجوان اسی عمارت کی بنیادوں میں پہلا ڈائنامائٹ لگا رہے ہیں۔”
یہ کہہ کر وہ دوبارہ اپنے گلوب کو گھمانے لگے۔ ہم ان کی لائبریری سے باہر نکلے تو ہمارے ذہن سے ہماری ذاتی خوش فہمی کا غبار چھٹ چکا تھا۔ اس کی جگہ کسی امید نے نہیں، بلکہ ایک گہری، یخ بستہ حقیقت نے لے لی تھی۔ ہمیں احساس ہوا کہ گیانیش کمار محض ایک شخص نہیں، بلکہ ”چور دروازہ سیاست” کا وہ زندہ طلسمات ہے، جو آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کی جمہوریت کو غائب کر دیتا ہے اور آپ تالیاں پیٹتے رہ جاتے ہیں۔ اور جے این یو جیسے قلعے؟ وہ اس بچے کی طرح ہیں جو چیخ تو رہا ہے کہ ”بادشاہ ننگا ہے”، مگر اس کا شور اس ہجوم کی تالیوں میں دب کر رہ جاتا ہے جو بادشاہ کی عریانی کی تعریف میں قصیدے پڑھ رہا ہو۔
(یہ طنز و مزاحیہ انشائیہ جے این یو طلباء یونین الیکشن میں لیفٹ کی شاندار فتح اور بھگوا بریگیڈ کی عبرت ناک شکست کے تناظر میں لکھا گیا ہے)
Like this:
Like Loading...