Skip to content
ظہران ممدانی: اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
نیویارک کےنومنتخب میئر ظہران ممدانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بظاہر کوئی مقابلہ نہیں تھا ۔ ایک سال قبل جب ظہران ممدانی نے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تو ان کے پاس کامیابی کا ایک بھی وسیلہ نہیں تھا۔ امریکہ میں انتخابی کامیابی کے لیے پہلی شرط ڈیموکریٹک یا ریپبلکن پارٹی کا ٹکٹ ہوتاہے کیونکہ وہاں ان میں سے ایک کا حمایت یافتہ امیدوار ہی کامیاب ہوتا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے نیویارک سےجیتنے کا کوئی امکان نہیں ہے اور شہر کے سابق گورنر اینڈریو کومو ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ظہران ممدانی نے غیر معروف سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا لیکن مثل مشہور ہے ’ہمت مرداں مدد خدا‘ ۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے سابق گورنر کے بجائے ممدانی کی حمایت کردی تو کومو کو بغاوت کرکے بطور آزاد امیدوار لڑنا پڑا۔ظہران نے جب مہم شروع کی تو ایک فیصد رائے عامہ ان کے حق میں تھی جبکہ وہ 50 فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور ایک لاکھ سے زیادہ رضاکاروں نے ان کے لیے بلا معاوضہ کام کرکےعیسائی و یہودی سرمایہ داروں کے ہزاروں کروڈ پر پانی پھیر دیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک میں بلاوجہ خود کو رسوا کیا کیونکہ ظہران ممدانی اگرہار جاتے تب بھی ریپبلکن امیدوار کامیاب نہیں ہوتا ۔ 34؍ سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ظہران ممدانی کا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق گورنر اینڈریو کومو سے تھا ۔ ان کی پارٹی کے ظہران کی حمایت کے بعد انہوں نے مجبوراً آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ ا۔ ٹرمپ مخالفین کی آپسی لڑائی سے کنارہ کش ہو کر کامیاب ہونے والےکو آشیرواد دے کر تھوڑا بہت کریڈٹ بھی لے سکتے تھے لیکن رعونت کا بھوت سوار تو ذلیل کرکے چھوڑتا ہے۔ عصبیت کی آگ میں اندھے ہوکر ظہران پر ٹرمپ یہودی مخالف ہونے کا الزام لگا تے ہیں جبکہ یہود یوں میں نوجوانوں کی بڑی تعدادنے انہیں ووٹ دیتی ہے ۔ اس طرح خود یہودیوں کے خاطر خواہ حصے نے بھی عیسائی صدر کی سازش میں پھنسنے سے انکار کردیا ۔ ٹرمپ جیسے خود سر سرمایہ دار کو ظہران کے اسلام کے علاوہ ان کی غریب پروری سے پریشانی تھی کیونکہ یہ ہوا ان جیسے مداریوں کا تماشا ختم کرسکتی ہےبقول علامہ اقبال ؎
پُرانی سیاست گری خوار ہے،زمیں مِیر و سُلطاں سے بیزار ہے
گیا دَورِ سرمایہ داری گیا،تماشا دِکھا کر مداری گیا
سرزمینِ امریکہ پرہندوستانیوں کی کامیابی بی جے پی کے اربابِ حل و عقد کو غورو خوض کرنا چا ہیے۔ انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ مسلمانوں یا سکھوں پر سیاست کے دروازے بند کرنے کی کوشش سے نہ صرف ان کا اپنابلکہ ملک و قوم کا بھی عظیم خسارہ ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی عصبیت کا یہ عالم ہے کہ معمولی باتوں پر ایکس پیغامات لکھنے والے خود ساختہ ’وشوگرو‘ کے دفتر میں سناٹا پسرا ہوا ہے ۔ یہ تینوں ہندوستانی نژاد اگر ہندو ہوتے تو میڈیا اس خبر کو سر پر اٹھالیتا اور مودی جی کے لیے بہار کا انتخاب جیتنا آسان ہوجاتا مگر دل کے ارماں آنسووں میں بہہ گئے۔ ظہران ممدانی کا دوٹوک انداز بھی مودی کے زبان کی زنجیر بن گیا ہوگا۔ مودی کی فسطائی نظریات پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ممدانی نے کہا تھا کہ وہ مودی کے ساتھ کسی تقریب یا پلیٹ فارم پر شریک نہیں ہوں گے۔ اپنے فیصلے کی وضاحت میں ان کی دلیل تھی کہ نریندر مودی کو 2002 گجرات فسادات کے دوران اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے مسلمانوں کے قتلِ عام کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ “میں ایسے شخص کے ساتھ اسٹیج پر نہیں کھڑا ہو سکتا جس نے گجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام میں اہم کردار ادا کیا۔ تاریخ اس اجتماعی قتلِ عام کو فراموش نہیں کرے گی۔
ظہران ممدانی کے بیانات میں منافقت یا مداہنت کا شائبہ تک نہیں ہوتا یہی دوٹوک انداز ان کی مقبولیت کاسبب ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے مودی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمیں مودی کو اسی نظر سے دیکھنا چاہیے جس نظر سے ہم نیتن یاہو کو دیکھتے ہیں، وہ جنگی مجرم (war criminal) ہیں‘‘۔ MSNBC جیسے قومی چینل پر انٹرویو میں ممدانی نے بلا جھجھک کہا تھا کہ : "اگر میں نیویارک کا میئر ہوتا تو بینجمن نیتن یاہو کو گرفتار کر لیتا، اور میں یہ ضرور کروں گا۔‘‘ ممدانی کی اسرائیلی مخالفت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ انہوں نے ہولوکاسٹ کی یادگاری قراردادوں پر دستخط کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ : "ماضی کی یاد کو موجودہ مظالم کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ ویسے بھی یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جرمن قوم کے مظالم کا انتقام بے قصورفلسطینیوں سے لیا جائے۔ نیویارک کی یہودی لابی نے اپنی قوم کو ممدانی کے خلاف بھڑکانے کے لیے تینوں امیدواروں سے سوال کیا تھا کہ کیا وہ انتخاب جیتنے کے بعد اسرائیل جائیں گے؟ دوامیدواروں نے تو خوشی خوشی حامی بھر دی مگر ظہران ممدانی نے کہا کہ وہ کیوں جائیں؟ وہ نیویارک کے میئر بنیں گے اور شہر میں رہنے والے یہودیوں سمیت سارے باشندوں کی خدمت کریں گے۔ ان کی کامیابی میں اس بیباکی کا اہم کردار ہے کیونکہ لوگ سمجھ گئے یہ شخص جھوٹ نہیں بولتا۔
نیویارک کو اسرائیل کے باہر دنیا کا سب سے بڑا یہودی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس میں ممدانی کی جیت امریکی عوام میں صہیونی مظالم کے خلاف بڑھتے ہوئے شعور اور ایک نئے سیاسی رجحان کی علامت ہے۔یہ بڑی سیاسی تبدیلی غزہ میں اسرائیلی درندگی کے مظاہرے نے عیاں کردی۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران ممدانی نے کہا تھاکہ "قوموں کے وجود کا حق ظلم اور جارحیت کا جواز نہیں بن سکتا۔ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نوآبادیاتی نسل پرستانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے‘‘۔اتحاد یہود نامی نیویارک کی تنظیم کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے تلقین کی تھی کہ ” اسرائیل کو ایک ایسی ریاست بننا ہوگا جو سب کو مساوی حقوق دے، نہ کہ ایسی ملک جو مذہب یا نسل کی بنیاد پر امتیاز برتے‘‘۔ اس طرح ممدانی نےفلسطینی تنازع کو مسلم یہودی جنگ کے بجائے انسانی حقوق و آزادی کا مسئلہ بناکر پیش کیا۔ ٹی وی چینل "فوکس 5” سے گفتگو میں وہ بولے "میں کسی ایسی ریاست کی حمایت نہیں کر سکتا جو مذہب کی بنیاد پر شہریوں کے درمیان بھید بھاو کرے۔‘‘طوفان الاقصیٰ کے فوراً بعد 7؍ اکتوبر2023ء کو ممدانی نے خبردار کردیا تھا کہ اسرائیلی ردِعمل غزہ میں قتل عام کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا تھا: "حقیقی امن کا آغاز قبضے کے خاتمے اور نسلی امتیاز کے نظام کے انہدام سے ہوتا ہے۔‘‘
اپنی تعلیمی زندگی کے دوران ظہران نے( میں 2014 ) "طلبہ برائے انصافِ فلسطین” کی شاخ قائم کرکےکہا تھا کہ "اسرائیلی جامعات نوآبادیاتی جرائم میں براہِ راست اور بالواسطہ شریک ہیں۔‘‘وہ اسرائیل کی جنگ کو "نسل کشی” قرار دیتے ہوئے واشنگٹن پر شریکِ جرم ہونے کا الزام لگا تے رہے ہیں ۔ تحریک مقاطعہ (BDS) کے حامی ممدانی نے نیویارک اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ اقتصادی کونسل کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے اور غیر قانونی بستیوں کی مالی معاونت پر پابندی کے لیے قانون بھی پیش کیا تھا۔ ظہران ممدانی کی فتح میں سابق میئروں کی بدعنوانی، ’’سوشلسٹ ڈیموکریٹس‘‘ کی مضبوط تنظیمی ساخت، اور امریکی سماج کے اس طبقے کا ردِعمل شامل ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ڈیموکریٹ پارٹی کے جھوٹ سے تنگ آ چکا ہے۔ سچ تو یہ ہے غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کی حمایت نے انصاف پسند امریکیوں کو بائیڈن و کملا ہیرس سے دور کردیا ۔ وہ اس امید میں ٹرمپ کے قریب گئے کہ انہوں نے ساری جنگوں کو بند کرنے اور امریکہ کو ان سے دور رکھنے کا اعلان کیا تھا مگر انتخاب جیتنے کے بعد موصوف اپنے وعدے سے مکر گئے ۔ انہوں نے یمن میں حوثیوں سے لے کرایران تک پر حملہ کردیا نیز غزہ کے تعلق سے اوٹ پٹانگ تجاویز دیتے رہے ۔ ٹرمپ کو نیویارک میں اس حماقت کی بڑی قیمت چکانی پڑی ۔
طوفان الاقصیٰ کے بعد امریکی معاشرہ دائیں بازو کی حمایت کرنے کے بجائے ترقی پسند بائیں بازو کی سمت بڑھ رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی ناکامیوں کو تسلیم تو کیا مگر پولسٹرس کی اس رائے کا حوالہ دیا کیا کہ ٹرمپ بیلٹ پر نہ ہونے اور شٹ ڈاؤن کی وجہ سےیہ انتخابی ہار ہوئی ہے۔ یہ بہانے بازی ہے مگر حقیقت وہی ہے جس کا اظہار موصوف نےظہران ممدانی پرتنقید کرتے ہوئے کیا تھا ۔ انہوں نے ممدانی کی شخصیت،شناخت اور افکارونظریات کو نشانہ بنایا تھا حتی کہ انتخابات سے قبل ممدانی کے جیتنے پر نیویارک کا فنڈ روکنے تک کی دھمکی دے دی تھی مگر انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ کادماغ درست ہوگیا اور ان کے سربدل گئے ۔میامی میں ایک تقریب کے دوران، ٹرمپ نے ممدانی کو ’کمیونسٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیویارک اپنی آزادی کھو چکا ہے اور اب سوشلزم کی راہ پر گامزن ہے۔ تاہم وہ نیویارک شہر کو کامیاب بنانے میں تعاون کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ ایک کمیونسٹ نیویارک میں کیسے کام کرتا ہے۔ ہم کچھ مدد فراہم کریں گے تاکہ شہر دوبارہ آگے بڑھ سکے۔ٹرمپ یہ چیلنج کر چکے ہیں جب تک وہ وائٹ ہاؤس میں ہیں امریکہ کسی بھی طورپر کمیونسٹ نہیں بنے گا لیکن انہیں منہ کی کھانی پڑی ۔ دولت و شہرت کے غرور و تکبر میں مبتلا صدر ڈونلڈ ٹرمپ بشیر بدر کا یہ شعر بھول گئے؎
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
Like this:
Like Loading...