Skip to content
غزہ کی تباہی اور اسرائیل کا جنگی جنون!
ترتیب:عبدالعزیز
5اکتوبر2025ء کو ’الجزیرہ‘ نے اپنی ویب سائٹ پر غزہ میں اسرائیلی فوج کی درندگی، قتل و غارت اور ظلم و سفاکی سے ہونے والی تباہی و بربادی کو اعداد و شمار کی صورت میں شائع کیا ہے۔ یہ رپورٹ غزہ کے سرکاری میڈیا کی طرف سے جاری کی گئی ہے، جو بے گناہ شہریوں اور نہتے عوام پر اسرائیل کے اندھے اور بے حدوحساب بارود برسانے کی المناک صورتِ حال کو بیان کرتی ہے۔ سرکاری میڈیا کے دفتر نے بتایا ہے کہ 67 ہزار سے زائد افراد شہادت سے سرفراز ہوئے۔ یہ ۱ن لوگوں کی تعداد ہے جن کو ہسپتالوں تک پہنچایا گیا اور ان کا ہسپتال کے ریکارڈ میں اندراج موجود ہے، جب کہ ۰۱ ہزار افراد کا اَتا پتا نہیں۔ ان میں سے کئی ملبے تلے دب گئے اور کئی نامعلوم صورتِ حال سے دوچار ہوئے۔
اس رپورٹ کے مطابق 20 ہزار سے زائد بچّے شہید ہوئے، جن میں ایک ہزار ابھی دودھ پیتے بچّے تھے اور 5 سو کے قریب وہ شیرخوار تھے جو پیدائش کے کچھ عرصہ بعد ناموافق حالات سے دوچار ہونے کی بنا پر انتقال کر گئے۔ اس رپورٹ کے مطابق اندراج میں موجود شہید عورتوں کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہے۔
اس سرکاری بیان کے مطابق مکانوں، دکانوں اور مارکیٹوں ، پلازوں کی تخریب و تباہی کے تخمینے کا گراف 90 فی صد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تمام تباہی راکٹوں، میزائلوں، گولہ و بارود اور ڈرون ٹکنالوجی سے برسائی گئی آگ کا نتیجہ ہے۔ اسرائیلی جنگی جنون نے ان دو برسوں میں دو لاکھ ٹن بارود غزہ کی بے گناہ آبادی پر برسایا ہے۔ یہاں اس رپورٹ کی تفصیل درج کی جارہی ہے:
آبادیاتی اعداد و شمار:25 لاکھ کے قریب غزہ کے رہائشی انسان قتل و غارت، نسل کشی اور جبری قحط و بھوک کا شکار ہوئے۔ اجتماعی نسل کشی اور تباہی کا یہ اسرائیلی عمل730 دن (دو برس) تک مسلسل جاری رہا۔ 90فی صد عمارتیں مکمل طور پر تباہ و برباد کردی گئیں۔ غزہ کے80 فی صد رقبے پر غاصب نے اپنا کنٹرول حاصل کرلیا تھا جہاں بے دریغ طریقے سے بارود برسایا، شہریوں کو شہر چھوڑنے پر مجبور کیا اور ظلم و عدوان کا کھلا مظاہرہ کیا۔
شہداء ، لاپتا افراد اور قتل عام:مجموعی طور پر 86 ہزار سے زائد افراد شہادت، لاپتا او ر قتل عام کا شکار ہوئے۔ شہداء کی 67ہزار تعداد تو صرف وہ ہے جن کا ہسپتالوں میں اندراج ہوسکا۔ لاپتا افراد کی تعداد ساڑھے۹ہزار سے زائد ہے۔ ان میں وہ شہداء بھی شامل ہیں جو ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں یا ان کا کوئی اتاپتا نہیں۔ 20ہزار سے زائد شہداء تو بچّے ہیں اور ان میں 19ہزار سے زائد بچّے وہ ہیں جو ہسپتالوں کے ریکارڈ میں آئے ہیں۔ ساڑھے21ہزار سے زائد عورتیں شہید ہوئی ہیں۔ ان میں بھی 10ہزار سے زائد کا اندراج موجود ہے۔9ہزار سے زائد مائیں شہید ہوئیں۔ 22ہزار سے زائد باپ شہادت کا رتبہ پاگئے۔ ایک ہزار سے زائد ۱ن شہید بچوں کی تعداد ہے جن کی عمر ابھی ایک برس سیکم تھی۔ 35 ہزار کے قریب بچّے پیدائش کے بعد شہید ہوگئے۔ ڈیڑھ ہزار سے زائد، طبّی عملے کے افراد کو غاصب فوج نے قتل کردیا اور انھوں نے شہادت پائی۔ ڈیڑھ سو کے قریب شہری دفاع کے افراد تہہ تیغ کیے گئے۔ ڈھائی سو سے زائد صحافی شہید ہوئے۔ 2سو سے زائد بلدیاتی ملازمین کو شہید کردیا گیا جن میں چار بلدیات کے صدور تھے۔ 8سو کے قریب پولیس کے سپاہی اور امدادی سامان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو شہید کیا گیا۔ 9سو افراد ہلال احمر کی تنظیموں کے شہید کیے گئے، 3ہزار کے قریب گھرانے اور خاندان بالکل ختم کر دیے گئے جن کا اندراج شہری ریکارڈ سے ختم کردیا گیا ہے۔ یہ ساڑھے8ہزار شہداء میں سے ہیں۔ 6ہزار سے زائد وہ خاندان ہیں جومکمل طور پر ختم ہوگئے اور ان کا صرف ایک ایک فرد زندہ بچا۔ یہ تعداد 13 ہزار کے قریب شہداء میں سے ہے۔ شہداء میں 55 فی صد سے زائد تعداد بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی ہے۔ 5 سو کے قریب شہداء کی وہ تعداد ہے جو بھوک اور ناکارہ غذا کے سبب شہید ہوگئے۔ ان میں بھی ڈیڑھ سو سے زائد بچّے ہیں۔ اسی طرح فضائی ذرائع سے گرائی گئی امداد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 24 کے قریب ہے۔ 40 فی صد سے زائد لوگ گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوکر جان سے گزر گئے کیونکہ انھیں مناسب اور ضروری غذا اور علاج کی سہولت نہ مل سکی۔ 12ہزار سے زائد حاملہ خواتین ناقص غذا اور صحت کی سہولت کی عدم دستیابی کے باعث اسقاطِ حمل کا شکار ہوئیں۔ 250 کے قریب شہری سردی کی شدت کے سبب خیموں میں دم توڑ گئے۔ان میں بھی زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔
زخمی، گرفتاریاں اور انسانی صورتِ حال:اس دو برس کی بمباری، ڈرون گردی اور میزائل حملوں سے زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد پونے دو لاکھ کے قریب ہے۔ 19ہزار سے زائد زخمی وہ ہیں جن کو بحالی میں ایک طویل مدت درکار ہوگی۔ 5ہزار کے قریب زخمیوں کے اعضاء کاٹ دیے گئے ہیں جن میں 18 فی صد تعداد بچوں کی ہے۔ 12 سو فالج کے کیس ، اتنے ہی بینائی کی کمی کے کیس ریکارڈ ہوئے ہیں۔ 4سو سے زائد صحافی زخمی ہیں۔ 7ہزار کے قریب شہری گرفتار ہوئے۔4سو کے قریب تو میڈیکل عملے کے لوگوں کی تعداد ہے جو گرفتار ہوئے۔ ایک سو کے قریب صحافی اور شہری دفاع سے متعلقہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ 21ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں اور 56ہزار سے زائد بچّے یتیم ہوئے۔ ان میں دونوں ماں باپ یا ایک کی شہادت کی صورت میں یتیم ہونے والے بچّے شامل ہیں۔ 20لاکھ سے زائدافراد جبری نقل مکانی کے نتیجے میں متعدی امراض کا شکار ہوگئے۔ 70ہزار سے زائد افراد یرقان کے مرض میں مبتلا ہوئے۔
صحت کے شعبے کی صورتِ حال:40 کے قریب ہسپتال حملہ آوروں نے تو بالکل تباہ کر دیے یا انھیں کام کے قابل نہیں چھوڑا۔ ایک سو کے قریب مراکز صحت ملیامیٹ کر دیے یا برباد کر دیے یا انھیں کام کے قابل نہیں رہنے دیا۔ 2سوکے قریب ایمبولینسوں کو ظالموں نے نشانہ بنایا۔ صحت کی دیکھ بھال کی خدمات، سہولیات، گاڑیوں اور سپلائی چینوں پر 8سو کے قریب حملے کیے گئے۔ 60 سے زائد سرکاری فائربریگیڈاور شہری دفاع کے شعبے کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
تعلیم اور تعلیمی ادارے:غزہ کی 95 فی صد اسکول عمارات کو سخت نقصان پہنچایا گیا ہے۔ 95 فی صد سے زائد اسکولوں کی عمارتیں نئے سرے سے تعمیر ہوں گی یا ۱ن کا بڑا حصہ تعمیر کرنا پڑے گا۔ 7سو کے قریب اسکول عمارتوں کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ یہ مدارس کی مجموعی تعداد کا 80فی صد ہے۔ 2سو کے قریب اسکول، یونی ورسٹیاں اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔ 4سو کے قریب اسکول،یونی ورسٹیاں اور تعلیمی ادارے جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ ساڑھے 13 ہزار سے زائد طلبہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے۔ 8 لاکھ کے قریب طلبہ کو سفاک دشمن نے تعلیم سے محروم کردیا۔ 8سو سے زائد اساتذہ اور تعلیمی و تربیتی شعبوں کے افراد اس جنگ میں اسرائیلی ظلم سے شہید ہوگئے۔ اسی طرح 2سو کے قریب علما، دانش ور اور محقق اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہوئے۔
عبادت گاہوں اورقبرستانوں کی صورت حال :ساڑھے 8سو کے قریب مساجد کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ 2سو کے قریب مساجد جزوی طور پر منہدم ہوئیں۔ تین گرجوں کو بھی ایک سے زائد مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔ 60 میں سے40قبرستانوں کو بلڈوز کر دیا گیا۔ اڑھائی ہزار کے قریب فوت شدگان اور شہداء کی لاشیں قبروں سے غائب کردی گئیں۔ سات اجتماعی قبریں ہسپتالوں کے اندر ہی بنائی گئیں۔ 5 سو سے زائد افراد کو سفاک دشمن نے قتل کیا اور پھر ان کی لاشیں اجتماعی قبروں سے بھی نکال کر لے گئے۔
مکانات، جبری نقل مکانی اور پناہ گزین کیمپ :قابض و جابر اور غاصب ظالم نے پونے تین لاکھ رہائشی یونٹس مکمل طور پر تباہ کر دیے ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ کے قریب رہائشی یونٹس کو شدید نقصان پہنچایا جو رہائش کے قابل نہیں رہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد رہائشی یونٹس کو جزوی طور پر تباہ کر دیا گیا۔ تین لاکھ کے قریب فلسطینی خاندان بے گھر ہوئے۔ سوا لاکھ سے زائد خیموں کو مکمل طور پر ناکارہ کر دیا گیا جو استعمال کے قابل نہ رہے۔ 20لاکھ کے قریب شہری جبری نقل مکانی کے باعث بے گھر ہوئے۔ سو کے قریب پناہ گاہوں اور جبری نقل مکانی کے نتیجے میں قائم ہونے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
امداد و علاج کی روک تھام اور مسلط کردہ بھوک: 220 دن تک غزہ کی پٹی کی تمام گزرگاہوں کو مکمل طور پر بند رکھا گیا۔ سوا لاکھ انسانی امداد اور ایندھن وغیرہ کے ٹرکوں کو غزہ میں داخل نہ ہونے دیا گیا۔ فلسطینی شہریوں کو بھوک سے مارنے کی پالیسی کے تحت 50 کے قریب کھانے کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح امداد اور خوراک کی تقسیم کے 60 سے زائد مراکز کو بھی اسی پالیسی کے تحت نشانہ بنایا گیا۔ امدادی کاموں میں حصہ لینے والے ساڑھے 5سو افراد کو شہید کردیا گیا۔ 128 مرتبہ امدادی قافلوں اور انسانی وفود کو نشانہ بنایا گیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد شہید اور 19سو سے زائد زخمی موت کے جال میں گم ہوگئے۔ ان کو ’اسرائیلی امریکی امدادی مراکز‘ کہا جاتا ہے اور ’مستحقین امداد کے متلاشی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ ساڑھے 6لاکھ بچّے غذائی قلّت، بھوک اور خوراک کی کمی کے باعث موت کے خطرے سے دوچار تھے۔ 40 ہزار شیرخوار (ایک سال سے کم عمر) دودھ کی نایابی کے سبب موت کا سامنا کر رہے ہیں۔ دودھ کے اڑھائی لاکھ پیکٹ اسرائیلی فوج نے غزہ کے معصوموں تک پہنچنے سے روکے رکھے۔
بنیادی ڈھانچہ اور عوامی سہولیات کی تباہی : 7سو سے زائد پانی کے مرکزی کنوئیں اسرائیل نے تباہ کردیے اور انھیں ناکارہ بنادیا۔ میٹھے پانی کے 134 منصوبوں کو اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا اور اس کے دوران ساڑھے 9ہزار کے قریب شہادتیں ہوئیںجن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ 5ہزار سے زائد کلومیٹر بجلی کے نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا۔ سوا دو لاکھ سے زائد بجلی میٹر اسرائیلی تباہی کا نشانہ بن کر ختم ہوگئے۔ 2ہزار ارب کلوواٹ فی گھنٹہ بجلی کی مقدار سے غزہ کی پٹی کو محروم رکھا گیا۔7لاکھ میٹر پانی کے پائپ، نیٹورک کو اسرائیل نے تباہ کردیا۔ ۰۳ لاکھ میٹر سڑکوں کے نیٹ ورکس کو برباد کر دیا گیا۔ اڑھائی سو کے قریب سرکاری عمارتوں کو تباہ کر دیا گیا۔ ۳سو کے قریب پارکس، کھیل کے گرائونڈ اور اسپورٹس ہال تباہ کر دیے گئے۔ 2سو سے زائد قومی و ثقافتی ورثے کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کی بربادی:94 فی صد زرعی اراضی کو اسرائیلی فوج نے تباہ کردیا ہے جو اصل میں ایک لاکھ 78ہزار دونم ہے۔ ایک ہزار سے زائد زرعی کنوئوں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ 7سو کے قریب گائے، بھیڑ،بکری اور مرغی فارموں کو جنونی اسرائیلیوں نے برباد کردیا۔ سبزیوں کی کاشت کے لیے استعمال ہونے والی اراضی 93 دونم سے کم ہوکر صرف4 ہزار دونم رہ گئی ہے۔ غزہ کی پٹی کے زیرانتظام84 فی صد زرعی سہولیات تباہ کردی گئی ہیں۔ سبزیوں کی سالانہ پیداوار ساڑھے 45 لاکھ ٹن سے کم ہوکر صرف 28ہزار ٹن رہ گئی ہے۔ ماہی گیری کے علاقوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے یہ شعبہ سوفی صد متاثر ہوا ہے۔
پانچ اہم شعبہ ہائے حیات کے نقصانات :اجتماعی نسل کشی کے باعث 70ارب ڈالر ابتدائی نقصان ہے۔ 5 ارب ڈالر صحت کے شعبے،4ارب ڈالر تعلیمی شعبے، 3ارب ڈالر کے قریب ہائوسنگ سیکٹر، ایک ارب ڈالر مذہبی ۱مور کے شعبے، ساڑھے 4ارب ڈالر کے قریب زرعی شعبے، 4ارب ڈالر گھریلو سامان کے ضمن میں، 3ارب ڈالر مواصلات اور انٹرنیٹ کے شعبے میں، 2ارب ڈالر کے قریب نقل و حمل اور مواصلات کے شعبے میں، ڈیڑھ ارب ڈالر کے قریب بجلی کے شعبے اور 6ارب ڈالر شہری سہولیات اور بلدیاتی کاموں کے شعبے میں نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
جنگ بندی کے بعد کی صورتِ حال :10اکتوبر 2025ء کو دو برس کی بے رحم اسرائیلی حملوں سے غزہ کی خوفناک تباہی کے بعد امریکا اور چند اسلامی ممالک کی مشاورت کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا جس کے پہلے مرحلے میں دونوں اطراف کے جنگی قیدیوں کی واپسی طے پائی۔ غزہ میں امداد و خوراک کی بندش کو کھولنے پر اتفاق ہوا۔ غزہ کی بحالی کے لیے کاوشوں کی بات کی گئی۔ مگر اسرائیل اور وزیراعظم اسرائیل نے ہٹ دھرم طبیعت اور سرشت کی اپنی تاریخی روایات پر قائم رہتے ہوئے معاہدے کی ان شرائط اور نکات کی ذرا پروانہ کی۔ غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جنگی کارروائیاں اور حملے مزید قبضے کی کوششیں اور غزہ پر مکمل قبضے کی دھمکیاں، زیتون کے درختوں کی تباہی جیسے پرانے ہتھکنڈوں سے ہاتھ نہ روکا۔ غزہ سے رابطے کی سات کراسنگ میں سے صرف دو کرم ابوسالم اور کیہوویم سے امدادی ٹرکوں کے گزرنے کی اجازت دی۔ باقی پانچ گزرگاہوں کو حسب سابق بند رکھا ہوا ہے۔ رفح کراسنگ جو غزہ کے لیے زیادہ قابلِ رسائی گزرگاہ ہے، اس کو نہ کھولنے کا بار بار اعلان کیا۔ غزہ کی مقامی انتظامیہ کی اطلاعات کے مطابق 18ہزار امدادی ٹرکوں میں صرف18 سو ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ملی جن میں سے صرف ساڑھے 6 سو ٹرک، 12 اور 13اکتوبر کو داخل ہوسکے۔ یہ بھی اقوام متحدہ کے مطالبے پر ممکن ہوسکا۔ اس دوران فلسطینیوں کو مارنے، ان پر میزائل پھینکنے کا عمل جاری رہا۔ ادھر اسرائیلی اسمبلی ’کینسٹ‘ میں غزہ پر مکمل قبضے کی قرارداد بھی منظور کرالی گئی۔ امریکی صدر اور اس کے نمائندے کہتے ہیں کہ ایسا نہ ہوگا مگراس کی کوئی ضمانت نہیں۔ اس دوران اسرائیل آبادکاری میں توسیع اور قبضہ گیری میں مسلسل پیش قدمی کرتا رہا۔ اب تو باقاعدہ پیلی لکیر کھینچی جارہی ہے جہاں تک اسرائیل کے قبضے کی حدود ہوں گی۔ اس میں رفح کا بہت سا رقبہ بغیر حدود کے اپنے اندر شامل کر رہا ہے۔ اسرائیل نے اس لائن پر ساڑھے ۳میٹر ۱ونچی کنکریٹ کی دیواربنانا شروع کر دی ہے۔ 10اکتوبر کے بعد سے اب تک ایک سو سے زائد فلسطینی اسرائیلی حملوں میں شہید کیے گئے اور اڑھائی سو کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔
اسرائیل کا مذہبی عقیدہ اور جنگی جنون :غزہ کی اس خوفناک تباہی کے پیچھے کیا ذہنیت اور عقیدہ کام کرتا ہے؟ اس کومعروف مصری عالم اور محقق و مصنف پروفیسر محمد عمارہ (1931ء -2020ء)نے یوں بیان کیا ہے:اسرائیل کی 1948ء سے لے کر آج تک تمام جنگوں میں ایک مظاہرہ خاص طور پر ہوتا رہا کہ وہ اپنے جنگی اہداف کو نشانہ بنانے کے دوران صرف انھی اہداف تک محدود نہیں رہتا بلکہ قتل و غارت اور تباہی و بربادی سے بلاامتیاز کام لیتا ہے۔ کسی بچے پر ترس کھاتا ہے، نہ کسی عورت کا لحاظ رکھتا ہے۔ کسی مجاہد اور شہری میں کوئی فرق نہیں کرتا، کسی جنگجو اور غیر جنگجو کو نہیں چھوڑتا۔ 1948ء کی جنگ میں اس کی فوج نے سیکڑوں فلسطینی دیہات تباہ کیے، نہ مسجدوں کو چھوڑا نہ گھروں اور قبرستانوں کو۔ بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور پرامن شہریوں تک کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 1978ء میں تو اس نے قیدیوں کے بھی قتل سے دریغ نہ کیا۔ ساحل پر موجود شہروں کو تباہ کر دیا، شہری آبادی کو نشانہ بنا کر مٹا دیا۔ اسرائیل نے اس تباہ کن ذہنیت کا غزہ اور لبنان کے خلاف ہر لڑائی میں مظاہرہ کیا۔ اس ہمہ گیر تباہی میں اسکول، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام اسکولوں کو بھی نہ چھوڑا۔ مساجد اور ہسپتالوں کو تباہ کر دیا، حتیٰ کہ ایمبولینسیں بھی اس کے حملوں سے محفوظ نہ رہیں۔صہیونیت کا یہ مسلسل اور عجیب و غریب مظاہرہ جس میں جنگی قواعد و ضوابط کا ذرا لحاظ نہیں رکھا جاتا، اس کا سبب کیا ہے؟ تجزیہ نگار، صحافی اور سیاست دان اس کو ’اجتماعی سزا‘ کا نام دیتے ہیں جو بین الاقوامی قانون جنیوا معاہدے کی روح سے جرم ہے لیکن کوئی تجزیہ کار، صحافی یا سیاست دان اس طرف متوجہ نہیں ہوتا کہ اس کا سبب ایک دینی حکم کی بجا آوری ہے جس کا متن تلمود میں موجود ہے۔ یہودی علما ’حاخامات‘ نے عہد نامۂ قدیم میں اس کو درج کیا ہے اور یہودی علما اس حکم کی تعلیم صہیونی فوج کی یونٹوں میں دیتے ہیں۔ فوج کا یہ جنگی عقیدہ عربوں کی نسل کشی اور ان کا خاتمہ ہے۔ یہودیوں کے نزدیک موجودہ عرب قدیم عمالقہ کا نمونہ ہے جن کے بارے میں کتاب مقدس کے سفر الخروج کے باب 14:17 میں کہا گیا ہے:
رب نے موسیٰ سے کہا : یہ بات کتاب میں بطور یادداشت لکھ اور یشوع کو بھی سنادے ، کیونکہ میں عمالیق کا نام آسمان کے نیچے سے مٹا ڈالوں گا۔
فوج جو انسانوں اور مکانوں کو نیست و نابود کر دیتی ہے، بستیوں اور شہروں کو ملبے کے ڈھیر بنا دیتی ہے دراصل وہ یہ تعلیم کتاب مقدس کے باب 13: 12 ، 15 – 17 سے پاتی ہے جو اس کے رب کی زبان سے اس کی پسندیدہ قوم کے لیے آیا ہے:
اگر تو ان شہروں میں سے کسی کے بارے میں، جو تیرا رب تجھے عطا کرے کہ تو ان میں رہے، کوئی بات سنے تو اس شہر کے باشندوں کو تلوار کی دھار سے کاٹ کر رکھ دے اور ہرجانور چوپایا جو اس شہر میں ہے اسے بھی تلوار سے ختم کر دے۔ اس شہر کے تمام ساز و سامان کو ایک میدان میں اکٹھا کر اور آگ لگا کر اس شہر اور اس کے سارے سامان کو جلا کر رکھ دے تاکہ یہ شہر ایک ٹیلا بن کر رہ جائے ، دوبارہ تعمیر نہ ہو سکے۔
یہ تو ان شہروں کی سزا ہے جو پرامن ہیں، لڑائی میں حصہ نہیں لیتے، نہ اسرائیل کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ اس متن میں ’کوئی بات‘ کا مطلب ہے کہ وہ اپنی سرزمین اسرائیل کے لیے چھوڑنے اور خالی کرنے سے انکار کریں۔اسرائیل جب اپنی تمام جنگوں میں تشدد و ہلاکت کی انتہا تک جاتا ہے۔ بچوں کے ساتھ کوئی شفقت کرتا ہے، نہ عورتوں پر ترس کھاتا ہے اور نہ کسی معاہدے اور پیمان کا پاس رکھتا ہے، تو وہ اسی جنگی عقیدے کا نفاذ عمل میں لاتا ہے جو اس کی فوج اپنی مقدس مذہبی کتب سے اپنے علما سے سیکھتی ہے۔ یہ عقیدہ انھیں دیگر تمام قوموں کو ختم کر ڈالنے بلکہ کسی ترس اور عہد کا لحاظ رکھے بغیر تباہ کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس عقیدے کے مطابق وہی مقدس قوم ہیں اور ہر قوم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ سفر التثنیہ میں ہی ہے:
جب خداوند تیرا خدا ان سات قوموں کو، جو تجھ سے بڑی اور طاقت ور ہیں، تیرے سامنے سے ہٹا دے اور تو انھیں شکست دے تو انھیں مکمل طور پر تباہ کر دینا۔ ان کے ساتھ کوئی عہد نہ کرنا اور نہ ہی ان پر رحم کرنا۔ ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرنا۔ کیونکہ تو ایک مقدس قوم ہے۔ خداوند تیرے خدا نے تجھے زمین کی تمام قوموں میں سے چن لیا ہے تاکہ تو اس کی خاص قوم ہو۔ تو تمام قوموں سے زیادہ بابرکت ہو گا اور تو ان سب قوموں کو تباہ کر دے گا، اور تو ان پر رحم نہ کرنا۔
اسی طرح صہیونی جب مقبوضہ زمین سے باقی عربوں کے نکل جانے کی بات کرتے ہیں تاکہ یہودی اپنی خالص یہودی ریاست وہاں قائم کر سکیں، تو یہ بھی ان کا دینی عقیدہ ہے۔ سفر العدد 33:50-51، 55- 56 میں یہ آتا ہے:
4- اور خداوند نے موآب کے میدانوں میں یردن کے کنارے یریحو کے مقابل موسٰی سے کہا: بنی اسرائیل سے کہو: تم یردن پار کر کے ملک کنعان میں جاؤگے اور تم اس ملک کے تمام باشندوں کو اپنے سامنے سے نکال دو گے، اور اس ملک کو اپنا بنا لو گے اور اس میں بس جاؤ گے، لیکن اگر تم اس ملک کے باشندوں کو اپنے سامنے سے نہ نکالو گے، تو جو لوگ تم میں سے باقی رہ جائیں گے وہ تمھاری آنکھوں میں کانٹے اور تمھاری پسلیوں میں خار بن جائیں گے، اور وہ اس ملک میں جہاں تم رہتے ہو تمھیں تنگ کریں گے۔
ان متون سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فلسطینیوں اور عربوں پر بے دردی کے ساتھ مسلط کی گئی اسرائیل کی جنگ ان کا محض سیاسی تصادم نہیں بلکہ ایک دینی فریضے اور حکم کی تکمیل ہے جس کا ہمیں احساس ہی نہیں ہے۔
معصوم شہریوں کو قتل کرنا فرض ہے:اسرائیلی فوج کے یونٹوں میں جو یہودی علما تعینات ہوتے ہیں، ان کو عسکری رینک دیے جاتے ہیں جن کی ڈیوٹی فوجیوں کو مذکورہ عقیدے کی تعلیم دینا ہے۔ فلسطینیوں پر ظلم و تشدد اور تباہی و بربادی کے ذریعے وہ اس عقیدے پر عمل کرتے ہیں۔ یہ یہودی علما کے فتاویٰ جاری کرتے ہیں جن کو بڑی تعداد میں طبع کر کے فوج میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ علماء جنگی عقیدے سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ تلمود میں اس سوچ کو ’اسلحہ کی صفائی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔اسرائیلی فوج نے وسطی علاقے میں جو کہ اس کی مقبوضہ زمین کے مغربی کنارے پر واقع ہے، ایک حاخام بریگیڈیئر فیضان زیمبل کا فتویٰ شائع کیا۔ اس میں اس حاخام نے معصوم فلسطینی شہریوں کے قتل کو فرض قرار دیا کیونکہ یہودی قانون ’ہلاکات‘ [ہلاخات]کی روشنی میں یہ ایک دینی ذمہ داری ہے۔اسرائیلی کاتب ’اسرائیل شاحاک‘ نے اس فتوے کو اپنی کتاب ’یہودی مذہب اور غیر یہودیوں کے بارے میں اس کا موقف‘ میں شامل کیا ہے۔ شاحاک اس کتاب میں لکھتا ہے: جنگ کے دوران افواج کا شہریوں سے آمنا سامنا ہو جانے کی صورت میں یا سخت جارحانہ حملے یا مدافعانہ حملے کی صورت میں ہماری افواج کے پاس شہریوں کو تکلیف پہنچانے کی کوئی دلیل نہیں ہے، تاہم انھیں قتل کرنے کا امکان موجود ہے کیونکہ انھیں قتل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ یہودی قانون ’ہلاکات‘ تو معصوم شہریوں کو قتل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
حاخام شمعون وائزر، تو اسرائیلی فوجی موشی جو 1960ء میں مقبوضہ فلسطین میں خدمات انجام دے رہا تھا کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے جس میں موشی پوچھتا ہے کہ کیا ہم عربوں کے ساتھ عمالقہ جیسا معاملہ کریں یعنی ان کو قتل کر دیں تاکہ ان کا ذکر زمین سے ختم ہوجائے جیسا کہ سفرالتثنیہ 25:19 میں آیا ہے: ’’تاکہ تم آسمان کے نیچے عمالقہ کا ذکر ہی ختم کر دو‘‘۔ ہم اس پر عمل کریں یا عادلانہ قوانین جنگ کا اطلاق کریں جن کے مطابق صرف محارب (جنگجو) کو قتل کیا جاتا ہے اور کیا ہتھیار ڈال دینے والے عربی کو پانی پیش کرنا میرے لیے جائز ہے؟
اس خط کا جواب دیتے ہوئے حاخام شمعون وائزر، یہودی شریعت ’ہلاکات‘ کا حکم واضح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں تمھارے سامنے بعض دانشوروں کے اقوال رکھتا ہوں اور ان کی وضاحت کرتا ہوں: یہودیوں کے علاوہ دیگر مذاہب میں جنگ کے مخصوص قوانین ہیں جس طرح فٹ بال اور باسکٹ بال کے قوانین ہوتے ہیں مگر ہمارے دانش وروں کے مطابق جنگ ہمارے نزدیک کھیل نہیں بلکہ زندگی کی ضرورت ہے اور صرف ان مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس کو نافذ کرنے کی صورت حال کے بارے میں سوچنا ضروری ہے۔ غیر یہودی کو قتل کر دو، اس کا سرقلم کردو۔ یہی ’ہلاکات‘ کے مطابق ’قانون اسلحہ صفائی‘ ہے۔اسرائیلی فوجی موشی نے اس خط کا جواب اپنے ساتھی فوجیوں کو بھی پڑھ کر سنایا تاکہ وہ اپنی شریعت کا وہ قانون جان لیں جس کے مطابق بہترین غیر محارب [غیرجنگجو]،بے گناہ اور معصوم فلسطینی کا قتل لازمی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ وہ غیریہودی ہے، وہ سانپ ہے جس کا سر کچلنا ضروری ہے۔موشی نے حاخام شمون وائزر کو جوابی خط لکھا کہ مجھے آپ کا خط مل گیا ہے۔ میں نے اس کو یوں سمجھا ہے کہ میرے لیے زمانۂ جنگ میں ان عرب مرد و عورت کو قتل کرنا نہ صرف جائز ہے جو اچانک میری زد میں آجائیں بلکہ میرا یہ فریضہ ہے کہ اس قانون کو نافذ کر کے رہوں۔
نسل پرست قبضہ گیر نوآبادیات:اسرائیل نو آبادیاتی اور نسلی امتیاز کے استعمار کی آخری نشانی ہے۔ سفید فاموں نے اپنے زوال سے قبل یہ نظام جنوبی افریقہ میں اس نسل پرستی کی بنیاد پر نافذ کیا جس کے مطابق سفید فام تمام نوع انسانی سے برتر مخلوق ہیں۔ ادھر صہیونیت نے سرزمین فلسطین میں اسی نسلی برتری کا امتیاز قائم کرنے کا کھیل کھیلا ہے۔ صہیونیت اس کو اپنا دین بنائے ہوئے ہے کیونکہ یہ عہد نامہ قدیم اور اس کی شرح تلمود کی تعلیمات ہیں۔اسرائیل شاحاک (1933ء -2001ء) اپنی مذکورہ کتاب میں اس نسلی برتری کے عقیدے سے متعلق متعدد مثالیں پیش کرتا ہے۔ ان کے ہاں ’نفس‘ لفظ کا مطلب یہودی ہے وہ اس میں غیر یہودیوں اور کتوں کو بالکل شامل نہیں کرتے۔ آرتھوڈوکس یہودی اپنی نوخیز عمری ہی سے مقدس تعلیمات میں یہ عقیدہ بھی سیکھ لیتا ہے کہ غیر یہودی کتوں کے برابر ہیں اور ان کو اچھا سمجھنا گناہ ہے۔
’کتاب تربیت‘ جس پر حکومت اسرائیل نے ایک بڑی رقم خرچ کر کے طبع کرایا ہے اور اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور یہ اسرائیل کی قومی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب کے آغاز ہی میں لکھا ہے: غیر یہودی غلام کو تاحیات غلام رکھنا واجب ہے اور یہودی غلام کو آزاد کردینا واجب ہے۔ اس لیے کہ یہودی کائنات کے افضل ترین انسان ہیں۔ وہ اس لیے پیدا کیے گئے تاکہ خالق کو پہچانیں اور اس کی عبادت بجا لائیں۔ بندوں کو غلام بنانا ان کا حق ہے اور جب ان کے پاس دیگر قوموں کا فرد غلام نہ ہو تو پھر وہ اپنی ہی قوم کے فرد کو غلام بنانے پر مجبور ہوں گے، جو اپنے ربّ کی خدمت نہ کرپائیں گے۔ یہی اس آیت کا مقصد ہے:
تم اپنے بھائیوں کو جو سب رب کی عبادت کے لیے تیار ہو رہے ہیں دْور نہیں کرو گے۔(سفراللاویین 25-26)
ان کی کتاب مقدس (عہد نامہ قدیم) کی وصیت یہ ہے کہ تم کسی ایسی شے کو زندہ نہ چھوڑو جو سانس لیتی ہو(سفر التثنیہ60-61)،تو یہ آیت اسرائیلی افواج کے لیے ایسا تربیتی لیکچر بن جاتی ہے جو مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، جس لیکچر میں کہا جاتا ہے کہ فلسطینی عمالقہ کی مانند ہیں اور عمالقہ کا ذکر آسمان کے نیچے سے مٹا ڈالو(سفرالتثنیہ 25:9)۔ اور جو فلسطینی عمالقہ جیسے انجام سے بچ جائے، اس کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جائے۔
موسیٰ بن میمون فلسفی (1135ء -1204ء)کو یہودی سیّدنا موسٰی جیسا بلند مقام سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کا کہنا ہے کہ موسٰی کے بعد موسٰی جیسا کوئی نہیں آیا سوائے موسی (بن میمون) کے۔ یہ یہودی فلسفی عہد نامہ قدیم کے اسفار کی شرح و تفسیر کرتے ہوئے کہتا ہے: غیر یہودی بلند دینی قیمت تک نہیں پہنچ سکتے اور نہ رب کی حقیقی عبادت کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی طبیعت ہی بے زبان حیوانوں کی طرح ہے۔ وہ کائنات میں ادنیٰ ترین انسان ہیں، بندروں سے کچھ اوپر کا درجہ رکھتے ہیں۔
یہودی عورت کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنے ماہوار غسل طہارت کے بعد مذہبی حمام سے واپسی پر چار شیطانی اشیاء کا سامنا کرنے سے پرہیز کرے: کسی غیر یہودی سے، کسی خنزیر سے، کسی کتے سے اور کسی گدھے سے۔ اگر ان میں سے کسی سے بھی اس کا سامنا ہو جائے تو وہ دوبارہ غسل کرے۔
اسرائیل نے درجنوں قوانین ایسے بنا رکھے اور جاری کر رکھے ہیں جو فلسطین کی سرزمین پر یہودی نوآبادیاتی نظام میں نسلی برتری کے امتیاز کے مظہر ہیں۔ اس امتیازی یہودی نظام اور نسلی برتری قائم کرنے والے یہودی نظام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے والوں نے کیا کبھی ان حقائق پر بھی توجہ کی؟ کیا مسیحی تہذیب کے فرزندوں نے جو کہ عربوں اور مسلمانوں کے خلاف صہیونیت کے اتحادی ہیں موسیٰ بن میمون کے بیان کو پڑھا ہے؟ اس نے تورات شفاہیہ (تورات کی شفوی تشریح) میں سیّدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے اور ہر یہودی کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ جب یسوع کا نام سنے تو کہے اللہ تعالیٰ شریر نام کو ہلاک کرے تاکہ یہ شریر نام یسوع ناصری اور اس کے شاگردوں کو مبتلائے مصیبت کرے۔ یہ یہودی دیگر انسانوں کو نہ انسان سمجھتے ہیں اورنہ ۱نھیں زمین پر زندہ رہنے کا حق دینے کے لیے تیار ہیں۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...