Skip to content
میری ڈائری کا ایک ورق
’قرآن ہے تو ممکن ہے‘
ازقلم:عبد العزیز
گزشتہ رات خواب میں ’’قرآن ہے تو ممکن ہے‘‘ کے موضوع پر ایک مذا کرہ کرنے کی بات ذ ہن میں آتی ہے پھر دعوت نامہ لکھنے لگتا ہوں۔ قرآن کی تصویر بھی دعوت نامہ میں ڈالنے کے لئے خطوط بنا تا ہوں۔ جب جگہ کی بات ذہن میں آتی ہے تو اس کا ایڈریس بھول جاتا ہوں پھر سوچتا ہوں کہ عرفان لائبریر ی تو اتہ پتہ کے ساتھ یاد ہے وہاں کا پتہ ڈال دیتا ہوں۔ اچانک میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ اس کی تعبیر ذہن میں جو آنکھ کھلنے کے بعد یہ آئی کہ اللہ تعالیٰ مذکورہ موضوع پر ایک مضمون لکھنے کی ہدایت فرما رہا ہے۔ اس موضوع پر ’’ اقبال کی بانگ درا‘‘ کے عنوان سے خاکسار کی ایک کتاب 208 صفحات پر مشتمل منظر عام پر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آچکی ہے۔ اس کتاب کی تمہید پیش خدمت ہے ۔ کسی نے خواب کے متعلق یہ کہا ہے کہ’’خواب خواب ہے خواب کی حقیقت نہ پوچھ‘‘
’’سیرت طیبہؐ پرکتاب مکمل ہوئی تو قرآن مجید کی طرف متوجہ ہونے کی سعادت نصیب ہوئی کہ اس کار ثواب میںحصہ لیں یہ خیال آتے ہی علامہ اقبال کے ارشادات ونگارشات یاد آگئے کچھ اس طرح کہ اس ترجمان قرآن کی تخلیقات کا سہارا لے کر قرآنی تعلیمات کاعکس جمیل پیش کیاجائے توشاید یہ کئی کتابوں پر بھاری ہو۔
اقبال پر کتابیں بہت لکھی جاچکی ہیں مگر شاید اس نیت سے کم لکھی گئی ہوں کہ جس سے قرآن کا چرچا ہو‘ قرآن کوزمین پر چلتے پھرتے دیکھنے کی امنگ اور ولولہ پید اہو‘ قرآن سے عقیدہ واحترام کے ساتھ ساتھ قرآن سمجھنے سمجھانے کا شوق و ذوق پڑھے۔قرآن میںپیش کیا ہوا دین غالب ہو۔ ہاں یہ کتاب اسی نیت سے مرتب کی گئی ہے اس میں کتنی کامیابی ہوئی ہے اسے قارئین کرام کو بتاناہے راقم تویہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ سارے اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن سے بے توجہی مسلمانوں کی تنزلی کانتیجہ ہے‘ یہ بات بھی سچ ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ قرآن کی عظمتوں اور بلندیوں کا وہ ساتھ نہیں دے سکے تو کوشش شروع کردی کہ قرآن کو اس کی بلندیوں سے اس قدر نیچے اتارلیں کہ ان کی پستیوں کاساتھ دے سکے ؎
’’خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں‘‘
علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کو اپنے اشعار ونگار شات سے بار بار یاد دلایا کہ عہد رفتہ کے مسلمان محض اس لئے معزز تھے اور قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے کہ وہ قرآن کا دامن مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے ؎
وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہوکر
اور تم خار ہوئے تارک قرآن ہوکر
شاعر مشرق نے مسلمانوں کو جگانے کے لئے صاف صاف بتایا کہ ؎
گر تومی خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جزبہ قرآن زیستن
(اگر تمہیں مسلمان بن کر زندہ رہنا ہے تو یہ کام قرآن کے بغیر ناممکن ہے) قرآن ہے تو ممکن ہے۔
ادب حسن بیان و تاثیر کلام کانام ہے اور اگر دل سے بات نکلتی ہے تو اس کی تاثیر مزید بڑھ جاتی ہے۔اقبال نے محض حسن بیانی سے ہی اپنے شعرو فلسفہ کو نہیںسینچا بلکہ اپنے خون جگر سے بھی اس کی آبیاری کی ہے اس لئے اقبال کا طرز کلام عشق کے بندوں کے طرز کلام سے کم نہیں ہے۔ اللہ کرے قرآن اور اقبال کے قرآنی توسط سے اس کتاب میں تاثیر پیدا ہوجائے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ؎
انداز بیان گرچہ بہت شوخ نہیںہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں…
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 11
Like this:
Like Loading...