Skip to content
غلبۂ دین کی تمہید
فکری احیاء سے تہذیبی قیادت تک
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
انسانی تاریخ ایک مسلسل حرکت اور تغیر کا نام ہے۔ قومیں ابھرتی ہیں، عروج پاتی ہیں، اور پھر زوال کی وادیوں میں گم ہو جاتی ہیں۔ مگر کچھ اقدار، کچھ پیغام اور کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جو زمانوں کے بدلنے کے باوجود اپنی معنویت برقرار رکھتی ہیں۔ اسلام انہی ابھرتی ہوئی ابدی حقیقتوں میں سے ایک ہے۔ اس کا پیغام نہ کسی مخصوص اقلیم کا محتاج ہے اور نہ کسی نسل یا دور کے ساتھ محدود۔ یہ پیغام فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے، وہ فطرت جسے ربّ نے "فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا” کی روشنی میں پیدا کیا۔
گزشتہ ایک صدی میں دنیا نے شدید فکری و تہذیبی ہچکولے دیکھے۔ طاقت کے مراکز بدلے، نقشے بدلے، نظریات بدلے، اور انسان کی زندگی کے معنی بدلتے چلے گئے۔ وہ تہذیبیں جو خود کو دنیا کی آخری اور کامل منزل قرار دیتی تھیں، آج اپنی ہی بنیادوں کے بوجھ تلے لرز رہی ہیں۔ سرمایہ داری کے نظام نے انسان کو صارف بنا کر اس کی روح کو بھوکا چھوڑ دیا۔ لبرل جمہوریت نے آزادی کے نام پر اقدار کو بے چیر کر دیا۔ سیکولر تہذیب نے عقل کو بلند کر تو دیا مگر اس پر وحی کی روشنی بند کر دی، نتیجہ یہ نکلا کہ انسان آج مادی آسائش کے باوجود معنوی و روحانی ویرانی کا شکار ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جس کے بارے میں قرآن نے ایک ابدی حقیقت بیان کی تھی: "یہ دن ہم لوگوں کے درمیان گردش میں رکھا کرتے ہیں”۔ (آل عمران: 140)
تاریخ کی یہ گردش آج ایک نئے باب کے دہانے پر ہے۔ وہ اُمّت جس کو زوال یافتہ سمجھا جا رہا تھا، جس کی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی گئی، جس کے شباب کو منتشر کرنے کے منصوبے بنائے گئے۔ وہ اُمّت ایک نئی فکری و روحانی بیداری کے ساتھ دوبارہ اپنی اصل کی طرف لوٹ رہی ہے۔ یہ لوٹنا حادثاتی نہیں؛ یہ حکمتِ الٰہی کا حصّہ ہے۔ اُمّتِ مسلمہ کی بنیاد طاقت، قومیت، جغرافیہ یا زبان نہیں! ایمان ہے، اور ایمان کی جڑ کبھی نہیں سوکھتی۔
آج کا عالمی منظرنامہ اس حقیقت کی گواہی دے رہا ہے کہ اسلام کا پیش کردہ نظامِ زندگی — وحدتِ انسانیت، عدلِ اجتماعی، معاشی اعتدال اور اخلاقی طہارت — نہ صرف زندہ ہے، بلکہ آج کی دنیا کے عظیم بحرانوں کا واحد جامع حل بن سکتا ہے۔ تہذیبوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ غلبہ ہتھیاروں سے نہیں، فکر اور اخلاق سے قائم ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں مسلمان اُمّت دنیا کے سامنے ایک بار پھر قائد اور راہبر کی حیثیت میں کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، بشرطیکہ وہ اپنی ذمّہ داری کو پہچان لے۔
پس، یہ تحریر محض ماضی کی تکرار یا جذبات کا اظہار نہیں؛ یہ دعوتِ فہم، دعوتِ عمل اور دعوتِ تعمیر ہے۔ یہ اُمّت کو اس کی اصل یاد دلانے کی کوشش ہے۔ یہ چراغ ہے تاکہ راستہ دکھائی دے۔ یہ صدا ہے تاکہ دل بیدار ہوں۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:
ہم تاریخ کے تماشائی رہیں یا اس کے معمار بنیں؟ اللّٰہ ہمیں توفیق دے کہ ہم وہ اُمّت بن سکیں جس کے بارے میں رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا: "تم خیرِ امّت ہو جو انسانیت کی بھلائی کے لیے نکالی گئی ہو”۔
آج کی دنیا بہت تیز رفتاری سے بدل رہی ہے۔ سیاسی طاقت، معاشی نظام اور تہذیبی اثرات اب ویسے نہیں رہے جیسے پہلے ہوا کرتے تھے۔ جو ملک یا نظریے کبھی سب سے طاقتور سمجھے جاتے تھے، وہ اب اکیلے فیصلوں کے مالک نہیں رہے۔ ٹیکنالوجی، میڈیا اور عالمی تعلقات نے اثر و رسوخ کے نئے راستے پیدا کر دیے ہیں۔ اب طاقت ایک جگہ سے ہٹ کر کئی مراکز میں تقسیم ہو چکی ہے۔ یہ تبدیلی صرف حکومتوں یا اداروں میں نہیں، سوچ اور نظریات میں بھی آرہی ہے۔
طاقت کا بٹ جانا، دنیا میں طاقت اب صرف فوج یا دولت کی وجہ سے نہیں بنتی۔ بلکہ علم، ٹیکنالوجی، میڈیا اور رائے عامہ بھی بہت بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے مختلف ملک اور گروہ عالمی سطح پر اہم ہوتے جا رہے ہیں۔
نظریات اور تہذیبوں کا نیا دور، سیکولر اور لبرل نظام جو کبھی مکمل اور کامیاب سمجھا جاتا تھا، اب خود اندرونی بحران کا شکار ہے۔ لوگ انصاف، روحانیت اور اخلاقی سکون کے لیے نئے راستوں کی تلاش میں ہیں۔ اسی تلاش نے مذہب اور روایتی اقدار کو پھر سے اہم بنا دیا ہے۔
دبائے گئے حقائق کا سامنے آنا، آج سوشل میڈیا، تحقیق اور عوامی تحریکوں کی وجہ سے وہ سچائی بھی سامنے آرہی ہے جسے طاقتور لوگ چھپا دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ناانصافیاں، استحصال، اور طاقت کا ناجائز استعمال، اب آسانی سے بے نقاب ہو جاتا ہے۔ دنیا کی یہ تبدیلی مسلمانوں کے لیے ایک نیا موقع پیش کر رہی ہے۔
فکری قوت! اسلامی تعلیمات میں زندگی کے بڑے سوالوں کے مضبوط اور متوازن جواب موجود ہیں۔ اگر مسلمان تحقیق اور علم کو اپنا مضبوط ذریعہ بنا لیں تو وہ دنیا کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔
اخلاقی قوت!! اسلام عدل، دیانت، رحم اور ہمدردی کی بات کرتا ہے۔ یہی وہ قدریں ہیں جن کی آج دنیا کو سخت ضرورت ہے۔
عالمی کردار!!! مسلمان اگر اپنی تہذیب، اخلاق، انسانیت، اور اتحاد کو منظم کر لیں تو وہ عالمی سطح پر مثبت اور مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مسلمانوں کو علم کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ اجتماعی بھلائی کے لیے عملی منصوبے بنانے ہوں گے۔ اختلاف اور انتشار سے نکل کر مشترکہ مقصد کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ دور صرف سیاسی تبدیلیوں کا نہیں، سوچ اور تہذیب کی تبدیلی کا دور ہے۔ اگر مسلمان اس موقع کو سمجھ کر تیاری کریں تو یہ وقت ان کی بحالی، عزّت اور قیادت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ورنہ وقت آگے بڑھ جائے گا، اور ہم پیچھے رہ جائیں گے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، ہم صرف تماشائی بنیں یا رہنمائی کا کردار ادا کریں۔
گزشتہ چند دہائیوں کا منظرنامہ دراصل ایک خاموش مگر نہایت گہرے معانی رکھنے والی کشمکش کا آئینہ دار ہے۔ مغربی استعمار اور اس کے فکری ڈھانچے نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ یہ کوشش کی کہ مسلمان اُمّت کے وجود اور اس کی اساس کو منتشر کر دیا جائے۔ ان کی منصوبہ بندی کا مرکز یہی تھا کہ اگر اس اُمّت کو اس کے سرچشمۂ قوت قرآن اور سیرتِ محمدیﷺ سے جدا کر دیا جائے تو وہ محض ایک منتشر گروہ بن کر رہ جائے گی، نہ اس کے پاس کوئی فکری قوت باقی رہے گی اور نہ وہ تہذیبی و سیاسی اعتبار سے کوئی وزن رکھے گی۔
مگر تاریخ کی رفتار کسی ایک قوت کے ارادے پر نہیں چلتی۔ وہ اپنے فیصلے خود لکھتی ہے اور اس کے فیصلوں میں گہری حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اُمّت جسے کمزور اور منتشر سمجھا جا رہا تھا، عالمی فکری مباحث کے مرکز میں واپس آ گئی ہے۔ یہ واپسی شور شرابے، جنگ و جدال یا سطحی نعروں کے ساتھ نہیں ہوئی۔ یہ بیداری عقل، شعور، علم، درد اور تجربے کے بھٹی میں تپ کر سامنے آئی ہے۔ مسلم ممالک جنہیں کبھی ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا گیا تھا، آہستہ آہستہ وحدت کے نئے دریچوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ خطوں کی سطح پر اقتصادی تعاون، دفاعی شراکت، اور وسائل کی مشترکہ نگہداشت کے تصورات قوت پکڑ رہے ہیں۔ طاقت کا تاریخی توازن بتدریج ایک نئے رخ کی طرف مائل ہو رہا ہے۔
وہ نوجوان جنہیں گزشتہ زمانے میں مغربی تہذیب کے سحر میں مبتلا سمجھا جاتا تھا، آج قرآن کو زبانِ شعور کے طور پر پڑھ رہا ہے۔ وہ تاریخ کو نئی آنکھ سے دیکھ رہا ہے، اپنے اسلاف کے کارناموں کو نئی سنجیدگی سے سمجھ رہا ہے، اور اپنی شناخت کے ساتھ افتخار اور اعتماد کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس بیداری کی بنیاد جذبات نہیں، فکر ہے۔ مغرب آج اپنے ہی بنائے ہوئے نظریات کے بوجھ تلے دبنے لگا ہے۔ خاندانی نظام متزلزل ہے، معاشرتی رشتے بکھر رہے ہیں، انسان کی شناخت دھندلا رہی ہے، اور معنویت کی تلاش نے نوجوان ذہن کو بے چین کر دیا ہے۔ ایسے میں اسلام کی جامع اخلاقی اور تہذیبی بنیادیں ایک متبادل کے طور پر ابھر رہی ہیں جو فطرت سے ہم آہنگ ہیں، اور روح کی پیاس کو بجھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
فلسطین، چیچنیا، سوڈان، یمن، شام — یہ سارے خطے اگرچہ صدیوں کی آزمائشوں کی زد میں رہے، مگر انہی تجربوں کی آگ سے عزم، صبر، مزاحمت اور حوصلے کی جس روشنی نے جنم لیا ہے، وہ پوری اُمّت کے دل میں اعتماد کی لہر بن کر دوڑ رہی ہے۔ یہ قوم اب جان چکی ہے کہ ظلم وقتی ہو سکتا ہے، مگر حق کی آواز ابدی ہے۔ قوتِ ایمانی کو شکست دینا کسی طاقت کے بس میں نہیں۔ یہ بیداری نہ جذباتی ہجوم کا نام ہے اور نہ نعرہ بازی کا شور۔ یہ دانش، عقل، حکمت، دلیل، اور فکری پختگی کا ظہور ہے۔ یہ وہ بیداری ہے جس نے دل بھی روشن کیے اور ذہن بھی۔ جس نے اُمّت کو دوبارہ سوچنا سکھایا، سمجھنا سکھایا، اور اٹھ کھڑے ہونا سکھایا۔ یہ سفر ابھی جاری ہے۔ مگر اس کے قدم مضبوط ہیں، سمت واضح ہے، اور منزل قریب آتی محسوس ہوتی ہے۔ وہ اُمّت جو کبھی تاریخ میں روشنی کا مینار تھی، ایک بار پھر مستقبل کی روشنی بن کر اُبھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اور اللّٰہ ایسے ہی وعدوں کا سچا نگہبان ہے۔
یہ تبدیلی محض ایک سیاسی یا معاشی رجحان نہیں؛ یہ زمانے کی روح میں آنے والی گہری گردش کی علامت ہے۔ وہ گردش جسے قرآن یوں بیان کرتا ہے: "یہ دن ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں”۔ یعنی تاریخ کبھی ایک ہی رخ پر نہیں رواں رہتی۔ قوت کے مراکز، تہذیبوں کے محور، فکر کے چراغ اور قوموں کے مقدر سب ایک دائمی گردش کے تابع ہیں۔ دنیا کی بڑی سلطنتیں — رومی ہوں یا فارسی، یونانی ہوں یا برطانوی — ان سب کا غلبہ ہتھیاروں سے نہیں، فکر کے غلبے سے قائم ہوا تھا۔ لیکن جب نظریہ کمزور پڑا، اخلاق ریزہ ریزہ ہوا اور نظامِ زندگی روح سے خالی ہونے لگا تو یہ سلطنتیں اپنے ہی بوجھ سے ڈھہ گئیں۔ آج یہی منظر مغربی تہذیب کے آسمان پر نمایاں ہے۔ سرمایہ داری نے انسان کو محض صارف بنا دیا، ایک خالی ظرف جو زیادہ سے زیادہ خریدنے اور کھپانے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ دولت چند ہاتھوں میں سمٹ گئی، اور اکثریت کو بے معنویت، اضطراب اور عدم مساوات کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔
"لبرل جمہوریت” کا اخلاقی زوال، انسانی آزادی کے نام پر ایسی قدریں وضع ہوئیں جنہوں نے فرد کو معاشرے سے کاٹ کر تنہا کر دیا۔ خاندان ٹوٹ گیا، حیاء کی بنیادیں بکھر گئیں، اور معاشرتی زندگی ایک ایسے خلا میں تبدیل ہوگئی جہاں جذبات ہیں مگر معنویت نہیں۔ "سیکولر تہذیب” کا سب سے بڑا المیہ، وہ انسان کو جسم تو دیتی ہے، خواہشات کو بڑھاتی ہے، لیکن روح کو بھول جاتی ہے۔ یہ تہذیب روشنی کی فراہمی کا دعویٰ کرتی ہے، مگر اس کے چراغ میں حرارت نہیں، روشنی نہیں، صرف چمک ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام دوبارہ جلوہ گر ہوتا ہے۔ اسلام انسان کو دو انتہاؤں سے بچاتا ہے: نہ وہ روحانیت کے نام پر دنیا سے فرار کی دعوت دیتا ہے۔ نہ دنیا میں اتنا محو ہونے کی کہ انسان اپنی اصل بھول جائے۔ اسلام انسان کو انسان بناتا ہے! دل اور عقل کے اشتراک سے، روح اور بدن کے توازن سے، عدل اور محبت کے نظام سے۔ یہ نظام پیش کرتا ہے:
"وحدتِ انسانیت” کہ انسان رنگ و نسل سے پہلے انسان ہے۔
"عدلِ اجتماعی” کہ معاشرہ طاقتور کے نہیں، حق کے اصول پر قائم ہو۔
"معاشی توازن” کہ دولت کا بہاؤ رُکے نہیں، بلکہ زندہ رہگزر کی طرح گردش کرے۔
"اخلاقی پاکیزگی” کہ انسان اپنی نظروں، دل اور خواہشات میں بھی پاکیزہ ہو۔
یہ تبدیلی دراصل ایک اعلان ہے۔ دنیا اپنی روح کھو چکی ہے اور روح کا سر چشمہ پھر سے اسلام کے آفاقی پیغام میں دریافت ہو رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جسے بہت سے مفکرین غلبۂ دین کی تمہید کہتے ہیں۔ یعنی وہ پیش خیمہ جس کے بعد: ذہن کی غلامی ٹوٹتی ہے، فکری استقلال پیدا ہوتا ہے، اور اُمّت اپنے مقامِ شہادت پر کھڑی ہوتی ہے۔ یہ موسم بدلنے کی آہٹ ہے، ہوائیں رخ بدل رہی ہیں۔ رات کتنی بھی گہری ہو، فجر کے قدموں کو روکا نہیں جا سکتا۔
یہ سوال دراصل اس عہد کی روح کو سمجھنے کا سوال ہے۔ کیا یہ واقعی غلبۂ دین کی جانب پیش قدمی ہے؟ جواب — ہاں۔ مگر وہ نہیں جس کا تصور تاریخ کے شور و غل اور فتوحات کے نعروں میں کیا جاتا تھا۔ غلبۂ دین کا مفہوم تیغ و سناں کے گرد نہیں گھومتا۔ یہ دلوں کی فتح اور نظامِ فکر کی بالادستی کا نام ہے۔ یہ وہ غلبہ ہے جو اندر سے ابھرتا ہے، جو انسان کی روح میں اترتا ہے، جو ذہن و قلب کی ساخت کو بدل دیتا ہے۔
غلبۂ دین کی حقیقت بظاہر ایک جامع اصطلاح ہے، مگر اس کی روح تین بنیادی ستونوں پر استوار ہے، اور انہی ستونوں سے ایک صالح تہذیب، ایک پاکیزہ معاشرہ اور ایک منور انسان کی تشکیل ہوتی ہے۔
فکری غلبہ: غلبہ سب سے پہلے فکر میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب انسان کے نظریات، اقدار اور زندگی کا مقصد قرآن کی ہدایت اور سیرتِ محمدیﷺ کے نور میں سمجھا جانے لگے، جب حق اور باطل کی پہچان نظریاتی وضاحت کے ساتھ دل میں اتر جائے، اور جب تہذیب و تمدّن کی بنیاد وحی کی بصیرت پر قائم ہو جائے تو یہی فکری غلبہ ہے۔ یہ غلبہ ذہنوں کی دنیا میں ہوتا ہے۔ یہ دلائل کی قوت سے قائم ہوتا ہے۔ یہی اس سفر کی پہلی منزل ہے۔
اخلاقی غلبہ: فکر جب پختہ ہو جاتی ہے تو کردار میں ڈھلتی ہے۔ اور یہی اخلاقی غلبہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جب فرد اور معاشرہ: معاملات میں دیانت کو معیار بنائے، تعلقات میں اخلاص اور وفا کو اصل قدر جانے، اور زندگی کے ہر میدان میں امانتداری، شرافت اور پاکیزگی کو ترجیح دے، یہ غلبہ ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ انسان کے باطن کی روشنی سے قائم ہوتا ہے۔
نظامِ عدل کا غلبہ: جب فکر اور اخلاق مل کر معاشرے کی ساخت بناتے ہیں، تو نظام خود بخود صحیح رخ اختیار کرتا ہے۔ یہی ہے نظامِ عدل کا غلبہ! جہاں معیار طاقت نہیں حق ہو؛ جہاں دولت کی مرکزیت کے بجائے انسان بنیادی قدر ہو؛ جہاں کمزور کا ہاتھ تھاما جائے اور طاقتور کو اس کی حد یاد دلائی جائے؛ یہ وہ عدل ہے جس پر آسمان اور زمین قائم ہیں۔ غلبۂ دین نہ نعرہ ہے، نہ سیاسی دعویٰ۔ یہ ایک تدریجی، گہرا اور روحانی انقلاب ہے، جو دل سے شروع ہو کر فرد تک، فرد سے معاشرے تک، اور معاشرے سے تہذیب تک پہنچتا ہے۔ غلبہ دراصل نور کا سفر ہے جو فکر سے کردار اور کردار سے نظام تک بہتا چلا جاتا ہے۔
یہی ہے دین کا غلبہ، وہ غلبہ جو دل کی زمین پر ہوتا ہے، اور پھر زمانے کی زمین پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ غلبہ ظاہری شور نہیں، باطنی انقلاب ہے، آج یہ انقلاب خاموش ہے، مگر وسیع ہے۔ آہستہ ہے، مگر گہرا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ ناقابلِ واپسی ہے۔ نوجوان دوبارہ قرآن کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ دنیا متبادل اخلاقی نظام کی تلاش میں ہے۔ انسان وسائل کی فراوانی کے باوجود روح کی بھوک محسوس کر رہا ہے۔ اور تاریخ کے دروازوں پر ایک نئی صدا گونج رہی ہے! انسان کی حقیقی نجات صرف اللّٰہ کی بندگی میں ہے۔ یہ احساس نہ نعروں میں ہے اور نہ ہجوم کے شور میں یہ دلوں کی گہرائی میں اتر رہا ہے۔ غلبۂ دین کوئی اچانک نمودار ہونے والا واقعہ نہیں۔ یہ ایک تدریجی سفر ہے جو سوچ سے کردار تک، کردار سے معاشرے تک، اور معاشرے سے تہذیب تک جاتا ہے۔ یہ سفر شروع ہو چکا ہے۔ اور جو سفر دل میں آغاز پاتا ہے، دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ یہ روشنی کسی چراغ کی نہیں سورج کی ہے۔ اور سورج ایک بار طلوع ہو جائے تو پھر ڈوبتا نہیں۔
دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے وہ لمحہ جب تاریخ اپنے صفحات پلٹتی ہے اور نئے باب کا آغاز ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا آنے والا زمانہ مسلمانوں کا ہوگا؟ اور اگر ہاں، تو اس وارثی کے کن معیاروں پر مبنی ہوگا؟ جواب ایک عمیق، منظم اور پر معانی سفر میں پوشیدہ ہے۔ آنے والی فتح محض نام و نمود یا فوجی غلبے کی علامت نہیں ہوگی؛ یہ اہلِ فکر، اہلِ ضمیر اور اہلِ عمل کی فتح ہوگی۔ جس اُمّت کا ہتھیار علم و طاقت ہوگا یعنی علمی بصیرت اور عملی صلاحتِ کار!! وہ میدانِ عمل میں تبدیل کرنے کی قوت رکھے گی۔ مگر طاقت جب تک قلب کا مرکز قرآن نہ بنے، رہنما قوت نہ بنے، وہ محض ظاہری برتری رہ جاتی ہے۔ قرآن اسی اُمّت کو سمت دیتا ہے جو دل کے اندر سے زندہ ہو۔
علم و قوت جب اخلاقی ضابطوں سے ہم آغوش ہو جاتی ہے تو معاشرے قائم رہتے ہیں۔ راست بازی، امانت، شرافت اور اخلاص وہ ستون ہیں جو فرد کو انسان بناتے اور جماعت کو باوقار۔ جب کردارِ اُمّت میں یہی معیار غالب ہوں گے تو قوت کا استعمال عدل اور ہمدردی کے تابع ہو گا، نہ کہ تسلّط اور استبداد کا ذریعہ۔ واحد جہدِ فردی کافی نہیں؛ وقت متحدانہ کاربستگی کا ہے۔ اتحاد کا مطلب صرف ایک سیاسی محاذ نہیں بلکہ فکری ہم آہنگی، اقتصادی تعاون، اور نظریاتی یکسوئی بھی ہے۔ جب اُمّت کے اندر بھائی چارہ اور مشترکہ مقصد پروان چڑھتا ہے تو قوت کے ہر ذرے میں نظم آتا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ معاشرہ جنم لیتا ہے جو تاریخ میں اپنا مقام بنا سکے۔ یہ وعدہ کسی جادو یا محض امید کا نتیجہ نہیں۔ تبدیلی انفرادی اور اجتماعی عمل سے جنم لیتی ہے: غفلت کا ترک، علمی محنت، اخلاقی اصلاح اور سُنتِ نبویﷺ کے مطابق نظامِ حیات کی تنظیم۔ اگر مسلمان اپنی تاریخی ذمّہ داری قبول کریں اور قرآن و سُنّت کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط کریں تو یہ فتح صرف اُن کا اعزاز نہیں بلکہ پوری انسانیت کی نجات و امن کا سبب بنے گی۔
یہی اصل امتحان ہے۔ وقت خود کسی قوم کو نہیں بخشتا؛ وہ ان لوگوں کا ہے جو اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں، جو علم کو طاقت بناتے ہیں، دلوں کو قرآن سے منور کرتے ہیں، کردار کو پاکیزہ بناتے ہیں اور اتحاد کی راہیں چنتے ہیں۔ آنے والا زمانہ کسی مخصوص قوم کی غلامی کا نہیں بلکہ قابلیتِ ہدایت کا زمانہ ہوگا۔ اگر مسلمان اس قابلیت کو اپنے اندر پروان چڑھائیں گے تو دنیا کے تاریکی چھٹیں گے اور روشنی کے نئے در کھلیں گے! نہ بطور تسلّط، بلکہ بطور رہنمائی، عدل اور رحمت۔ یہ دعوت ہے امید کی بھی اور محاسبۂ عمل کی بھی: روشنی دروازے پر ہے؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے قدم بڑھانے ہیں؟
یہ حقیقت یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اُمّت کا عروج اور زوال کسی حادثے یا اتفاق کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ یہ اللّٰہ کی سنّت ہے، وہ سنّت جو نہ بدلتی ہے، نہ مٹتی ہے: "اللّٰہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل دیں” (الرعد: 11)۔ لہٰذا سوال یہ نہیں کہ تاریخ ہمارا انتظار کر رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس تاریخ کے اہل بن رہے ہیں؟ زبانیں دعوے کر سکتی ہیں، مگر تاریخ صرف عمل کو پہچانتی ہے۔ آج کی دنیا کے فکری و اخلاقی بحران نے انسانیت کو ایک نئی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے میں اُمّتِ مسلمہ کے لیے دعوت، رہنمائی اور شہادتِ حق کی ذمّہ داری پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ مگر یہ ذمّہ داری اس وقت تک ادا نہیں ہو سکتی جب تک!!! دل قرآن سے زندہ نہ ہوں، ذہن علم سے روشن نہ ہوں، کردار سنّت سے پاکیزہ نہ ہو،اور صفوں میں اتحاد نہ ہو۔
دین محض عبادات کا مجموعہ نہیں، یہ ایک طرزِ نظر اور نظامِ حیات ہے۔ اسے غالب کرنا، دنیا پر حکومت کرنا نہیں، دلوں کو اللّٰہ کے حضور جھکانا ہے۔ اور دل اسی وقت جھکتے ہیں جب ہم خود جھک جائیں؛ اخلاص سے، محبت سے، بندگی سے۔ آج کی بیداری، آج کی آہٹ، آج کی تبدیلی اللّٰہ کے وعدے کی تکمیل کی طرف بڑھتا ہوا ایک مرحلہ ہے۔ لیکن اس وعدے کا تعلق ایمان اور عمل کے ساتھ مشروط ہے: "اللّٰہ نے تم میں سے اُن لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ انہیں زمین میں خلافت دے گا” (النور: 55)۔
یہ وعدہ ہماری نسبت سے نہیں ہمارے ایمان اور اعمال کی نسبت سے ہے۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کو بہادری سے پہچانیں، اپنی قوتوں کو شعور سے مضبوط کریں، اپنے آپ کو اللّٰہ کے حضور پیش کریں، اور اس راستے پر چل پڑیں جس پر چل کر ہمارے اسلاف نے تاریخ کے افق کو جگمگا دیا تھا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں فیصلہ کرنا ہے! کیا ہم اپنے وقت کے گواہ ہوں گے یا اپنے وقت کے بیدار کرنے والے؟ کیا ہم اُمّت کے ماضی پر نادم رہیں گے یا اُمّت کے مستقبل کی تعمیر کریں گے؟ کیا ہم انتظار کریں گے یا اٹھ کھڑے ہوں گے؟ کیونکہ جو اُٹھ کھڑا ہوا — وہی وارثِ زمین ہوگا۔
واللّٰہُ وَلِيُّ التَّوْفِيق۔ وَالسَّلامُ عَلیٰ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدیٰ۔
🗓 (08.11.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
Like this:
Like Loading...