Skip to content
گھر: اسلامی تہذیب کا سنگِ بنیاد اور اس کی عصری معنویت
ازقلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
(اسسٹنٹ پروفیسر،
صدر شعبہ اردو، یوگیشوری کالج،
آمباجوگئی، مہاراشٹر)
انسانی تہذیب کی تاریخ کا اگر کوئی ایک مرکزِ ثقل رہا ہے تو وہ ‘گھر’ کا ادارہ ہے۔ یہ محض سر چھپانے کی ایک پناہ گاہ نہیں، بلکہ وہ اولین گہوارا ہے جہاں فرد کی شخصیت تعمیر ہوتی ہے، اقدار جنم لیتی ہیں، اور جہاں سے پھوٹنے والی شعاعیں پورے معاشرے کی اخلاقی ہیئت کو تشکیل دیتی ہیں۔ ہر نظریۂ حیات نے خاندان کو اپنے فکری نظام میں جگہ دی ہے، لیکن اسلام نے ‘بیت’ یعنی گھر کو جو تقدس، مرکزیت اور جامعیت عطا کی ہے، اس کی نظیر ملنا محال ہے۔ اسلامی تصورِ حیات میں گھر ایک ایسا قلعہ ہے جو خارجی دنیا کی آلودگیوں سے فرد کو روحانی و نفسیاتی تحفظ فراہم کرتا ہے اور ایک ایسی تربیت گاہ ہے جو معاشرے کے لیے صالح اور متوازن افراد تیار کرتی ہے۔ یہ مقالہ اسی اسلامی تصورِ خاندان کے بنیادی خدوخال، اس کی تشکیل میں مرد و زن کے تکمیلی کردار، اور اس کی عصری معنویت کو ایک تحقیقی و تجزیاتی پیرائے میں پیش کرنے کی ایک سعی ہے۔ اس تحقیق کا منہج بنیادی طور پر قرآن و سنت کے بنیادی متون کے تجزیے پر استوار ہے، جس میں اسلامی علمی روایت کے عظیم مفکرین، بالخصوص امام غزالی اور ابن خلدون کے افکار سے استشہاد کرتے ہوئے ایک جامع تصویر پیش کی جائے گی۔
قرآن کریم نے خاندانی زندگی کے آغاز اور اس کے مقصد کو ایک ایسے بلیغ انداز میں بیان کیا ہے جو اس کی روحانی اساس کو واضح کر دیتا ہے۔ سورۃ الروم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور اُس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان مودّت اور رحمت پیدا کر دی۔” (الروم: 21)۔ یہ آیت خاندان کے ادارے کو محض ایک معاشرتی معاہدہ کے بجائے ایک الٰہی نشانی قرار دیتی ہے جس کے تین بنیادی ستون ہیں: سکون، مودّت، اور رحمت۔ ‘سکون’ وہ گہرا قلبی اطمینان اور ذہنی آسودگی ہے جو انسان کو صرف اپنے گھر کی چار دیواری میں میسر آتی ہے۔ یہ دنیاوی کشمکش اور اضطراب کے مقابلے میں ایک روحانی پناہ گاہ ہے۔ ‘مودّت’ سے مراد وہ پرجوش محبت اور فطری کشش ہے جو دو اجنبی افراد کو ایک دائمی رشتے میں منسلک کرنے کا ابتدائی محرک بنتی ہے۔ یہ رشتے کا وہ انجن ہے جو اسے قوتِ آغاز فراہم کرتا ہے۔ لیکن اسلام کا تصورِ خاندان محض اس جذباتی محبت پر انحصار نہیں کرتا۔ قرآن اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر ‘رحمت’ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ پختہ، ہمدردانہ اور شفیق تعلق ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا ہے، جب میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے محض محبوب نہیں، بلکہ محافظ، رازدار اور مشکل وقت کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ یہ رحمت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت کا ایک پرتو ہے جو خاندان کے ادارے کو دائمی استحکام عطا کرتی ہے۔ اسی تعلق کی گہرائی کو ایک اور مقام پر قرآن نے "ھن لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ” (البقرۃ: 187) یعنی "وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو” کی تشبیہہ سے واضح کیا ہے۔ لباس انسان کے لیے زینت بھی ہے، ستر پوشی کا ذریعہ بھی، اور سرد و گرم سے حفاظت کا سامان بھی۔ بعینہٖ یہی کردار میاں بیوی کا ایک دوسرے کے لیے ہے۔
اس الٰہی ادارے کی داخلی تنظیم اور اس کے سب سے اہم مقصد، یعنی نسلِ نو کی تربیت، کے ضمن میں اسلام نے عورت کو ایک محوری منصب عطا کیا ہے۔ یہ کوئی روایتی یا جذباتی دعویٰ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں اسلامی نظریۂ علم و تربیت میں بہت گہری ہیں۔ اسلامی فکر کے عظیم ترین معماروں میں سے ایک، امام ابو حامد الغزالی (متوفی 1111) اپنی شہرہ آفاق تصنیف "احیاء علوم الدین” میں بچے کی نفسیات پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "بچے کا دل ایک پاکیزہ، سادہ اور بے نقش جوہر ہے جو ہر قسم کے نقش کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔” اس کا گہرا مفہوم یہ ہے کہ بچے کی ابتدائی زندگی میں اس پر جو نقوش ثبت ہوتے ہیں، وہ اس کی شخصیت کا دائمی حصہ بن جاتے ہیں۔ اس عمل میں ماں کا کردار سب سے بنیادی ہے، کیونکہ وہ بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔ اس کا عملی نمونہ، اس کا لہجہ، اس کی گود میں پڑھی جانے والی لوریاں، اور اس کے شب و روز کا معمول بچے کے لاشعور میں تحلیل ہو کر اس کی اخلاقی اور روحانی سمت متعین کرتا ہے۔ جب ایک ماں خود نماز اور تلاوت کی پابند ہوتی ہے، جب وہ ہر کام اللہ کا نام لے کر شروع کرتی ہے، اور جب اس کی زبان سچائی اور شائستگی کی عادی ہوتی ہے، تو یہ اقدار بچے کی فطرتِ ثانیہ بن جاتی ہے۔ یہ رسمی تعلیم سے کہیں زیادہ مؤثر اور گہری تربیت ہے، جہاں علم کتاب سے نہیں، بلکہ ماں کے وجود سے بچے کے وجود میں منتقل ہوتا ہے۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے عورت کو "رَاعِیَةٌ فِیْ بَیْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُوْلَةٌ عَنْ رَعِیَّتِهَا” یعنی "اپنے شوہر کے گھر کی نگران اور اپنی رعایا (اولاد) کے بارے میں جوابدہ” قرار دیا (صحیح البخاری)۔ یہاں ‘راعی’ (نگران/ چرواہے) کی اصطلاح انتہائی معنی خیز ہے، جو محبت بھری حفاظت، ہمہ وقت نگہبانی اور گہری ذمہ داری کے احساس کو ظاہر کرتی ہے۔
تاہم، اسلامی تصورِ خاندان کی عمارت صرف ایک ستون پر قائم نہیں ہو سکتی۔ تصویر کا دوسرا اور اتنا ہی اہم رخ مرد کا وہ کردار ہے جسے قرآن نے ‘قوام’ کی جامع اصطلاح سے تعبیر کیا ہے: "اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَاءِ” (النساء: 34)۔ اس آیت کی غلط تشریح نے اکثر مرد کو ایک آمر اور حاکم کے طور پر پیش کیا ہے، جو اسلامی روح کے سراسر منافی ہے۔ ‘قوام’ کے معنی ‘وہ جو کسی چیز کو قائم رکھے اور اس کی پوری ذمہ داری اٹھائے’ کے ہیں۔ یہ اقتدار پسندی کا نہیں، بلکہ ادارہ جاتی ذمہ داری کا منصب ہے۔ مرد کی یہ ذمہ داری دوہری نوعیت کی ہے: ایک طرف خاندان کی معاشی کفالت اور مادی ضروریات کی فراہمی، اور دوسری طرف ان کی اخلاقی و روحانی سرپرستی اور خارجی دنیا کے منفی اثرات سے حفاظت۔ اسلامی تہذیب کے عظیم مؤرخ اور سماجی مفکر، ابن خلدون (متوفی 1406)، اپنے شہرہ آفاق "مقدمہ” میں کسی بھی تہذیب کے استحکام کے لیے ‘عصبیت’ یعنی گروہی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ خاندان وہ پہلی اکائی ہے جہاں یہ عصبیت تشکیل پاتی ہے، اور اسے پروان چڑھانے میں مرد کا کردار کلیدی ہے۔ وہ خاندان کو خارجی دنیا سے جوڑتا ہے اور اس کے لیے تحفظ کی ایک ڈھال فراہم کرتا ہے۔ اس کی بہترین عملی مثال خود نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ہے۔ آپؐ نے مرد کے کردار کو صرف نان نفقہ فراہم کرنے والے تک محدود نہیں کیا، بلکہ آپؐ گھر کے کام کاج میں ازواجِ مطہرات کا ہاتھ بٹاتے، اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ کے لیے کھڑے ہو جاتے، اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ نرمی، محبت اور مشاورت کا معاملہ فرماتے تھے۔ پس، ایک مثالی اسلامی گھر وہ ہے جہاں عورت داخلی تنظیم و تربیت کا مرکز ہو اور مرد اس پورے ادارے کا محافظ و نگہبان ہو۔
عصری تناظر میں اسلامی ماڈل کی معنویت کو سمجھنے کے لیے اس کا موازنہ غالب مغربی تصورِ خاندان سے ناگزیر ہے۔ صنعتی انقلاب اور تحریکِ روشن خیالی کے بعد مغربی فکر نے زندگی کو دو واضح خانوں میں تقسیم کر دیا: ایک عوامی دائرہ جہاں معیشت، سیاست اور کام کاج ہے، اور دوسرا نجی دائرہ جہاں خاندان اور ذاتی زندگی ہے۔ اس تقسیم نے خاندان کو ایک خالصتاً نجی اور جذباتی معاملہ بنا کر اس کی تہذیبی اور تعلیمی اہمیت کو ثانوی کر دیا۔ اس کے برعکس، اسلام میں گھر صرف ایک نجی ادارہ نہیں، بلکہ یہ بیک وقت ایک عبادت گاہ، ایک تربیت گاہ، اور ایک سماجی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں جدید مغربی فکر کا محور ‘فرد’ اور اس کی انفرادی خوشی ہے، وہیں اسلام ‘خاندان’ کو معاشرے کی بنیادی اکائی قرار دیتا ہے اور فرد کی خوشی کو خاندان کی مجموعی فلاح اور استحکام سے وابستہ کرتا ہے۔
حاصلِ بحث یہ ہے کہ اسلام ایک ایسے خاندانی نظام کا تصور پیش کرتا ہے جو محض انسانی تجربے یا سماجی ارتقاء کا نتیجہ نہیں، بلکہ وحی کی روشنی میں ترتیب دیا گیا ایک جامع اور متوازن نظام ہے۔ یہ نظام مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا حریف نہیں، بلکہ تکمیلی ساتھی قرار دیتا ہے، جن میں سے ہر ایک کو اس کی فطری صلاحیتوں کے مطابق مخصوص ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ گھر کو اسلامی تہذیب کا گہوارہ بنانے کا عظیم کام عورت کے محوری تربیتی کردار کے بغیر ناممکن ہے، لیکن یہ فلک بوس عمارت مرد کی ‘قوامیت’ پر مبنی مضبوط اور ذمہ دارانہ ستون کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ آج جب مادیت پرستی، انفرادیت پسندی اور سماجی انتشار کے طوفان خاندانی نظام کی بنیادوں کو متزلزل کر رہے ہیں، اسلامی تصورِ خاندان ایک ایسے محفوظ لنگرگاہ کے طور پر سامنے آتا ہے جو نہ صرف فرد کو سکون، مودّت اور رحمت کی نعمتوں سے مالا مال کر سکتا ہے، بلکہ ایک صالح اور مستحکم معاشرے کی تشکیل کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔
Like this:
Like Loading...