Skip to content
اورنگ آباد میں اِنوسنس نیٹ ورک انڈیا کا قیام, غلط مقدمات اور ناحق قید کے خلاف ایک نئی تحریک کا آغاز ہے۔
ایڈوکیٹ صدیقی محمد فیض الدین کی قیادت میں عبد الواحد شیخ کی تحریکِ انصاف و اصلاح سے متاثر نیا علاقائی باب قائم کیا گیا۔
اورنگ آباد ۲۸ ںومبر( رپورٹ: اسامہ راول) اورنگ آباد (چھترپتی سنبھاجی نگر) مہاراشٹرا میں ’’اِنوسنس نیٹ ورک انڈیا‘‘ کے نئے باب کا باضابطہ آغاز کیا گیا، جس کے لیے چودہ وکلاء پر مشتمل عبوری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی کی قیادت ایڈوکیٹ صدیقی محمد فیض الدین کر رہے ہیں۔ مسلم میرر سے گفتگو کرتے ہوئے فیض الدین نے کہا کہ ملک میں بے گناہ افراد کو غلط مقدمات میں پھنسانے، جھوٹے الزامات لگانے، اور من مانے انداز میں گرفتار کرنے کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ہم نے محسوس کیا کہ اس کے خلاف آواز اٹھانا اور ایک منظم پلیٹ فارم مہیا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب کسی غریب خاندان کے واحد کمانے والے کو اس قانونی بھول بھلیّاں میں پھنسایا جاتا ہے تو اس کے لیے اپنی آزادی حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد مرہٹواڑہ کے پورے علاقے میں قانونی مدد اور قانونی رہنمائی فراہم کرنا ہے تاکہ کسی بے گناہ شخص پر جھوٹا مقدمہ درج ہو تو وہ تنہا نہ رہے۔ ہم یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ کسی بھی ناحق قید یا غلط الزام کے خلاف خاموشی اختیار نہ کی جائے۔
’’اِنوسنس نیٹ ورک انڈیا‘‘ کے بانی عبد الواحد شیخ ہیں، جو ۲۰۰۶ کے ممبئی ٹرین بم دھماکوں (۷/۱۱ مقدمہ ) میں ملزم بنائے گئے تھے اور ۲۰۱۵ میں مکوکا عدالت نے انہیں بری قرار دیا۔ شیخ نے نو سال ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں گزارے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کے باوجود ہمیں سزا سنائی گئی۔” اس تجربے نے مجھے یہ احساس دلایا کہ قانونی جدوجہد اپنی جگہ، مگر انصاف کے لیے سماجی اور فکری سطح پر مسلسل جدوجہد بھی ضروری ہے۔” جیل سے رہائی کے بعد شیخ کے شریک ملزمان نے ان سے درخواست کی کہ وہ اُن کی رہائی کے لیے اپنے صالحیت کے حساب سے جو بن پڑے وہ کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ میرے لیے ایک اخلاقی ذمہ داری بن گئی اور پھر یہی میری زندگی کا مقصد ٹھہرا۔
رہائی کے بعد شیخ نے دوبارہ بطور استاد تدریس شروع کی اور ساتھ ہی ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری کی قانونی ٹیم سے وابستہ ہوئے، جو ۷/۱۱ مقدمے کی پیروی بمبئی ہائی کورٹ میں کر رہے تھے۔ اسی عرصے میں ان کی ملاقات ایڈوکیٹ پری جاتا اور محقق شاریب علی سے ہوئی، جو انسانی حقوق کے میدان میں سرگرم تھے۔ عالمی سطح پر موجود ’’اِنوسنس نیٹ ورک‘‘ کی تحریک سے متاثر ہو کر، شاریب علی نے ہندوستان میں ایک مقامی شاخ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ اس کے بعد سب نے مل کر سول سوسائٹی کو متحرک کرنا شروع کیا تاکہ دہشت گردی کے مقدمات میں ناحق سزا پانے والوں کے لیے انصاف کی جدوجہد کو منظم شکل دی جا سکے۔ دہلی میں ان کی پہلی عوامی نشست میں وکلاء، طلبہ، محققین اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی اور اسی موقع پر ’’اِنوسنس نیٹ ورک انڈیا‘‘ کا باضابطہ قیام عمل میں آیا۔
’’اِنوسنس نیٹ ورک انڈیا‘‘ اپنی ویب سائٹ پر خود کو اس طرح متعارف کراتا ہے کہ یہ ایک کل ہند اجتماعی پلیٹ فارم ,جو اُن افراد اور تنظیموں پر مشتمل ہے جو ان لوگوں کے حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں جو ناحق مقدمات میں پھنسا دیے گئے یا غلط طور پر سزا یافتہ قرار دیے گئے ہیں، خصوصاً دہشت گردی کے الزامات کے تحت۔ یہ نیٹ ورک بری شدہ قیدیوں کی قیادت میں کام کرتا ہے اور اس میں وکلاء، محققین اور انسانی حقوق کے علمبردار شامل ہیں۔ اس کی توجہ فوجداری نظامِ انصاف میں اصلاحات، متاثرین کی باز آبادکاری اور پالیسی میں تبدیلی کے مطالبات پر مرکوز ہے۔ اس ویب سائٹ پر ۷/۱۱ مقدمے سے متعلق اہم دستاویزات بھی محفوظ کی گئی ہیں۔
شیخ کی پہلی کتاب ’’بے گناہ قیدی‘‘ نے انسدادِ دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس)ممبئی کی جانب سے ثبوت گھڑنے اور ۱۳ بے قصور نوجوانوں کو۷/۱۱ کے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے انکشافات کیے۔ یہ کتاب وسیع پیمانے پر زیرِ بحث آئی اور اسے ہندوستان میں مسلمان نوجوانوں کے خلاف جھوٹے مقدمات کے بڑھتے رجحان کو سمجھنے کے لیے ایک اہم دستاویز قرار دیا گیا۔ ۲۰۱۶ میں نیٹ ورک نے دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں اپنا پہلا ’’بے گناہ عوامی ٹریبونل‘‘ منعقد کیا، جہاں ۱۶ ایسے افراد نے گواہی دی جنہیں غلط طور پر دہشت گردی کے مقدمات میں پھنسایا گیا تھا۔ اس ٹریبونل کی رپورٹ بعد میں لاء کمیشن کی رپورٹ نمبر ۲۷۷ کے لیے بنیاد بنی۔ ۲۰۱۸ میں اسی نوعیت کا دوسرا ٹریبونل کولکاتا میں منعقد کیا گیا۔
۲۰۱۷ سے اب تک نیٹ ورک نے ممبئی میں دو اہم سالانہ پروگراموں کی روایت قائم کی ہے، ایک ۷/۱۱ بم دھماکوں کی برسی پر اور دوسرا شاہد اعظمی میموریل لیکچر کے عنوان سے، جو اُن وکیل کی یاد میں منعقد کیا جاتا ہے جنہوں نے ۷/۱۱ کے ملزمان کی پیروی کی تھی۔ ان پروگراموں میں ممتاز قانون دان، صحافی اور فلم ساز شرکت کرتے ہیں جن میں جسٹس ابھے تھِپسے، ہنسل مہتا، یوگ موہت چودھری، سوزن، نازیہ سید اور فیصل قاضی شامل ہیں۔ عبد الواحد شیخ نے کتابت ، میڈیا، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی جدوجہد کو وسیع تر سطح پر پہنچایا ہے۔ ان کا یوٹیوب چینل ’’بے گناہ قیدی‘‘ اب تک ۲۵۰ سے زائد ویڈیوز پر مشتمل ہے، جن میں ناحق قید کے مختلف مقدمات کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ ان کا ’’موبائل لیگل ایڈ‘‘ ہیلپ لائن نمبر چوبیس گھنٹے فعال ہے، جو فوری قانونی مشورہ اور مدد فراہم کرتا ہے۔ شیخ کے مطابق اس ہیلپ لائن کی بدولت کئی ایسے مقدمات میں گرفتاریوں کو وقت پر روکا جا سکا۔
جدوجہد سے آگے بڑھتے ہوئے شیخ اب بھی بری شدہ قیدیوں کی قانونی رہنمائی، تعلیم اور باز آبادکاری میں مدد کر رہے ہیں۔ ان کی آئندہ آنے والی کتابوں میں ایک خود نوشت سوانح عمری (رولی بکس کے زیرِ اہتمام) اور دوسری اپنے شریک ملزمان کی زندگیوں پر مبنی مشترکہ تصنیف شامل ہے۔ حال ہی میں ’’اِنوسنس نیٹ ورک‘‘ نے ایک تھنک ٹینک بھی قائم کیا ہے جس کا مقصد ناحق قید کے واقعات اور سخت قوانین کے غلط استعمال کی دستاویزی تحقیق کرنا ہے۔ شیخ کے بقول انکے ٹیم میں محققین، اساتذہ اور وکلاء شامل ہیں اور وہ ایک تفصیلی رپورٹ پر کام کر رہے ہیں۔
سہیل شیخ، جو ۷/۱۱ مقدمے کے ایک بری شدہ قیدی ہیں، نے مسلم میرر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اِنوسنس نیٹ ورک‘‘ کا باضابطہ قیام تو ۲۰۱۶ میں عمل میں آیا، مگر اس کی جڑیں آرتھر روڈ جیل کے اندر پیوست ہیں۔ عبد الواحد نے صرف وہ کام باہر آ کر جاری رکھا جو ہم نے اندر شروع کیا تھا۔ اس نیٹ ورک نے ہماری بے گناہی کو سماج کے سامنے تسلیم کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ نیٹ ورک کی محقق اور وکیل ایڈوکیٹ شروتی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ۷/۱۱ مقدمہ دراصل دوہرے ناانصافی کی مثال ہے، ایک طرف بے گناہوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دوسری جانب اصل مجرم آزاد گھومتے رہے۔ ’’اِنوسنس نیٹ ورک‘‘ کا کام عام شہریوں کے انصاف پر یقین کو بحال کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ شیخ نے انکشاف کیا کہ بنگلور، جلگاؤں، جالنہ آور چنئی میں نیٹ ورک کی نئی شاخیں جلد ہی قائم کی جا رہی ہیں، جن کا افتتاح رواں ماہ کے آخر تک متوقع ہے۔
Like this:
Like Loading...