Skip to content
اقبال کا پیغام نوجوانوں کے نام
تحریر: سمیہ بیگم- ممبئی
علامہ محمد اقبالؒ (تاریخِ پیدائش: 9 نومبر 1877ء تاریخِ وفات: 21 اپریل 1938ء)برصغیر کے ایک عظیم مفکر، شاعر، فلسفی، مصلح اور سیاستدان تھے جنہیں بجا طور پر “شاعرِ مشرق” اور “حکیم الامت” کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری صرف حسنِ بیان کا نمونہ نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی تحریک ہے جس نے غلامی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی امت کو بیداری، خودی، ایمان اور عمل کا پیغام دیا۔
اقبال نے اپنی فکر سے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نئی شناخت دی اور تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ ان کی نثر ۔خصوصاً تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ اور خطباتِ اقبال، علم و فلسفہ کی دنیا میں گہرے اثرات رکھتی ہے۔ ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے، کیونکہ وہ انسان کو اپنے خالق، اپنی فطرت اور اپنی ذمہ داری سے جوڑنے والی سوچ کے علمبردار تھے۔
دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر عروج یافتہ قوم کے پیچھے ایک بیدار، جرات مند اور باکردار نوجوان طبقہ موجود ہوتا ہے۔ قوموں کی تقدیر ہمیشہ ان کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں لکھی جاتی ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے یہ سعادت علامہ محمد اقبالؒ کے حصے میں آئی کہ انہوں نے نوجوان نسل کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی۔ اقبال کا پیغام محض شاعری کا حسن نہیں بلکہ ایک روحانی، فکری اور عملی تحریک ہے جو نوجوانوں کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کر کے انہیں خودی، ایمان اور عملِ پیہم کا سبق دیتی ہے۔
اقبالؒ کا تصورِ نوجوان: ملت کا محافظ اور مستقبل کا معمار
اقبالؒ کے نزدیک نوجوان صرف عمر کا نام نہیں بلکہ ایک ذہنی و روحانی کیفیت ہے۔ وہ ایسے نوجوان کو دیکھنا چاہتے تھے جو جوشِ عمل، عزمِ بلند اور ایمانِ کامل سے لبریز ہو۔ انہوں نے فرمایا:
"نوجوانو! تمہاری زندگیاں ملت کے مستقبل کا سرمایہ ہیں۔ تمہارے اندر وہ آگ موجود ہے جو دنیا کے اندھیروں کو مٹا سکتی ہے۔”
اقبال کے اشعار میں نوجوان کبھی شاہین کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو کبھی مردِ مومن کے روپ میں۔ شاہین اقبال کے نزدیک بلندی، غیرت، آزادی اور خودداری کی علامت ہے۔ وہ کہتے ہیں:
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
یہ شعر نوجوان کو یہ درس دیتا ہے کہ وہ بلندیوں کا طلبگار ہو، نہ کہ آسانیوں اور عیش پرستی کا عادی۔
فلسفۂ خودی: اقبال کا فکری انقلاب
اقبالؒ کے فلسفے کا مرکز “خودی” ہے۔ ان کے نزدیک انسان کے وجود کی اصل طاقت اس کی خودی میں پوشیدہ ہے۔ "خودی” کا مطلب غرور یا خودپسندی نہیں بلکہ اپنی اصل پہچان، اپنی روحانی حیثیت اور اپنے خالق سے تعلق کو سمجھنا ہے۔ اقبال کے نزدیک جو شخص اپنی خودی سے غافل ہے، وہ دراصل غلام ہے۔ خواہ وہ آزاد ملک میں کیوں نہ رہتا ہو انہوں نے کہا۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے۔
یہ دراصل ایک فکری انقلاب ہے۔ انسان کو مجبورِ محض سے مختارِ کل بنانے کا پیغام۔ اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان دوسروں کی نقالی چھوڑ کر اپنی سوچ اور اپنی راہ خود بنائے۔ وہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کے سخت مخالف تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ فکری غلامی ہے۔
ایمان اور عشق: روحِ خودی کی غذا
اقبال کے نزدیک خودی کا استحکام ایمان اور عشق سے ہوتا ہے۔ ایمان کا مطلب صرف عقیدہ نہیں بلکہ عمل، سچائی، عدل اور استقلال ہے۔ عشق، اقبال کی فکر میں، محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ انسان کو عمل کے میدان میں اتارنے والی طاقت ہے۔ وہ کہتے ہیں:
عشق وہ بحرِ عمیق ہے کہ جس میں
سب قطرے ہیں، گوہر بن کے نکلتے
اقبال کے نزدیک عشق ہی وہ قوت ہے جو نوجوان کے اندر حرارت پیدا کرتی ہے۔ یہی عشق قوموں کو زندہ کرتا ہے، اور یہی عشق انسان کو خودی کے مقامِ بلند پر پہنچاتا ہے۔
اقبال کا مردِ مومن: ایک عملی نمونہ
اقبال کا “مردِ مومن” دراصل وہی نوجوان ہے جو ایمان، علم، جرات، اور کردار میں کامل ہو۔ وہ تقلید نہیں کرتا، تخلیق کرتا ہے۔ وہ دنیاوی لذتوں میں نہیں، بلکہ مقصدِ حیات کی تکمیل میں خوشی ڈھونڈتا ہے۔ اقبال اس کردار کی تعریف کرتے ہیں:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اقبال نوجوان کو دیدہ ور بننے کا پیغام دیتے ہیں، یعنی وہ انسان جو عام لوگوں سے مختلف ہو، جو خواب دیکھنے کی ہمت رکھتا ہو اور ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی طاقت بھی۔
اقبال کی نثر میں پیغامِ بیداری
اقبال صرف شاعر نہیں، مفکر بھی تھے۔ ان کی نثر، خصوصاً "تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ”, "جاوید نامہ”, اور "خطباتِ اقبال” میں اسلام کی فکری تجدید کی آواز گونجتی ہے۔ وہ نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اسلام کو صرف عبادت تک محدود نہ سمجھو۔ یہ ایک متحرک نظامِ حیات ہے جو سیاست، معیشت، اخلاق، سائنس اور علم سب پر محیط ہے۔ اقبال کے نزدیک مسلمان نوجوان کا فرض صرف اپنی ذات کی بہتری نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی فلاح ہے۔ وہ اسے قرآن کے پیغام کی طرف بلاتے ہیں۔ عمل، علم اور ایمان کے امتزاج سے تعمیرِ نو کا راستہ دکھاتے ہیں۔
موجودہ دور میں اقبال کا پیغام
آج کا نوجوان ٹیکنالوجی، میڈیا اور مغربی کلچر کے سمندر میں بہہ رہا ہے۔ وہ اپنی شناخت سے دور، اپنی تہذیب سے غافل اور اپنے مقصدِ حیات سے ناآشنا ہو چکا ہے۔اقبال کا پیغام آج بھی اسے جھنجھوڑتا ہے کہ وہ اپنی اصل پہچان کی طرف لوٹے۔ اقبال کی یہ پکار آج بھی تازہ ہے:
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترا نشیمن فلک کے پار ہے!
پیغام آج کے نوجوان کو مایوسی، سستی، اور نقالی کے جال سے نکال کر بلندی، خوداعتمادی اور عمل کے راستے پر لے جا سکتا ہے۔اقبال کی نگاہ میں نوجوان وہ سرمایہ ہے جو اگر بیدار ہو جائے تو قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
نتیجہ: اقبال کی فکر، آج کی ضرورت
اقبال کا پیغام وقت اور مقام سے بالاتر ہے۔ وہ دراصل انسان کے اندر چھپے ہوئے خدائی جوہر کو جگانے کا نام ہے۔ آج جب امتِ مسلمہ فکری انتشار، سیاسی غلامی اور اخلاقی زوال کا شکار ہے، تو ہمیں اقبال کی طرف پلٹنا ہوگا۔ نوجوان اگر اقبال کی تعلیمات کو سمجھ لیں، تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کا مقصد پا سکتے ہیں بلکہ امت کی کھوئی ہوئی عظمت کو بھی واپس لا سکتے ہیں۔ اقبال کا آخری پیغام یہی ہے:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا”
اگر نوجوان اپنی خودی کو پہچان لیں، علم و عمل کو اپنا شعار بنالیں، ایمان کو دل کا یقین بنالیں، تو کوئی طاقت انہیں زوال سے نہیں روک سکتی۔ اقبال کی شاعری ایک عہد ساز منشور ہے۔ وہ نوجوانوں سے محض محبت نہیں کرتے، بلکہ انہیں امتِ مسلمہ کے "محافظِ تقدیر” سمجھتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اقبال کے پیغام کو صرف یاد نہ کیا جائے بلکہ زندہ رکھا جائے — تعلیم کے نصاب میں، عمل کے میدان میں، اور کردار کے آئینے میں۔ اقبال کا نوجوان وہ ہے جو کہتا ہے:
میں انقلابِ زمانہ کو روک سکتا ہوں
اگر خودی کا شعور میرے اندر بیدار ہو جائے!
Like this:
Like Loading...