Skip to content
شجاعت، غیرت، و حکمت: ٹیپو، اقبال اور آزاد کے انمٹ نقوش
————–
ازقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
————–
تاریخِ اقوام محض حوادث و سوانح کا بے روح سلسلہ نہیں، بلکہ اُن افکار و کردار کی لطیف تفہیم ہے جو تہذیبوں کے عروج و زوال کی اصل اساس بنتے ہیں۔ برصغیر کی مسلم تاریخ کے وسیع کینوس پر، سب سے پہلے میسور کے شیر ٹیپو سلطان (10 نومبر 1750) اپنی عملی مزاحمت، ریاستی تشکیل اور جدید عسکری و معاشی نظم کے باعث ایک مستقل نشانِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے بعد، نومبر کی تقویم علامہ اقبال (9 نومبر 1877) اور مولانا ابوالکلام آزاد (11 نومبر 1888) کی تابندگی سے روشن ہے، جو ایک ایسی فکری کہکشاں کی صورت میں جلوہ گر ہیں جس نے برصغیر کے مسلم شعور کو نئی جہتیں عطا کیں۔
ان تینوں کی محض تعریفی یادداشت اُن کی کثیرالجہت میراث سے انصاف نہیں کرتی۔ ٹیپو سلطان عملی خود مختاری اور سامراجی دباؤ کے مقابل ایک فعال ریاستی جواب کی علامت ہیں؛ اقبال نے تصورِ خودی کے ذریعے روحانی بنیادوں پر قائم ایک جری، خلاق اور زمانہ ساز فرد کی تشکیل کا سلیقہ سکھایا؛ اور مولانا آزاد نے آزادی کے بعد متحدہ قومیت، جمہوری اقدار اور تعلیمی ادارہ سازی کے ذریعے فکری ورثے کو قومی افادیت سے جوڑا۔ یہی مرکزی استدلال اس مضمون کی روح ہے کہ برصغیر کے مسلم ذہن میں جاری دائمی کشمکش؛ عملی خود مختاری، آدرشی خودی، اور بدلتی دنیا میں مفاہمانہ سیاسی حکمت، ان تین تاریخی شخصیات میں ایک ساتھ مجسم دکھائی دیتی ہے۔
ہماری داستان کا آغاز اس قلعے سے ہوتا ہے جو ملت کی عملی خود مختاری اور غیرت کا استعارہ بن گیا۔ 10 نومبر 1751ء (بعض محققین کے نزدیک 1 دسمبر) کو پیدا ہونے والے ٹیپو سلطان کی شخصیت کا مطالعہ نوآبادیاتی تاریخ نویسی کے تعصبات کو سمجھے بغیر ناممکن ہے۔ برطانوی مورخین، مثلاً مارک ولکس، نے ٹیپو کو ایک متعصب، ظالم اور وحشی حکمران کے طور پر پیش کیا۔ یہ تصویر اتفاقی نہیں تھی۔ اس بیانیے کی ضرورت برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو اپنے سامراجی عزائم کو ایک ”مہذب بنانے کے مشن” کا لبادہ پہنانے کے لیے تھی۔ جدید مورخین، جیسے کیٹ برٹل بینک اور محب الحسن، نے اپنی تحقیقات سے ثابت کیا ہے کہ ٹیپو پر تنقید کی اصل وجہ ان کا مذہبی تعصب نہیں، بلکہ ان کا وہ جدید ریاستی اور معاشی نمونہ تھا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے تجارتی اور سیاسی مفادات کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکا تھا۔ ٹیپو نے نہ صرف اپنی فوج کو فرانسیسیوں کی مدد سے جدید بنایا اور راکٹ ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال کیا، بلکہ 1786ء میں بیس جنگی بحری جہازوں اور بیس فریگیٹوں پر مشتمل ایک مضبوط بحریہ کی بنیاد رکھی اور ریاستی تجارت کو فروغ دے کر اپنی معیشت کو کمپنی کے استحصال سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے دربار کے ریکارڈز اور خطوط، جو اب محفوظ ہیں، ظاہر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ہندو رعایا کے ساتھ جو فراخدلانہ رویہ اپنایا، وہ ان پر لگائے گئے مذہبی تعصب کے الزام کی مکمل نفی کرتا ہے۔ جب 1791ء میں مراٹھوں نے سرنگیری مٹھ پر حملہ کیا تو ٹیپو نے اسے دوبارہ تعمیر کرنے میں مدد کی، اور ان کے اور شنکراچاریہ کے درمیان تیس خطوط دریافت ہوئے جو ان کے باہمی احترام کو ثابت کرتے ہیں۔ ان کے وہ اقدامات جنہیں ظلم سے تعبیر کیا جاتا ہے، مثلاً کورگ اور مالابار میں کی گئی کارروائیاں، جدید مورخین کے مطابق بڑی حد تک برطانوی پروپیگنڈے کا حصہ تھیں، اور دراصل یہ ان اندرونی بغاوتوں کے خلاف حربی اقدامات تھے جو دشمن کے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔ 4 مئی 1799ء کو سرینگاپٹم کے محاصرے میں ٹیپو کی شہادت محض ایک حکمران کا خاتمہ نہیں تھا؛ یہ برصغیر میں ایک خود مختار اور جدید ریاست کے خواب کی شکست تھی۔ ان کا قلعہ ٹوٹ گیا، لیکن اس کی بلند دیواریں آج بھی اس مردِ حر کی عملی تصویر پیش کرتی ہیں جس نے برطانوی سامراج کے خلاف آخری سانس تک مزاحمت کی۔
جب یہ قلعہ مسمار ہو گیا، تو اس کی شکست خوردہ قوم کو ایک ایسے معمار کی ضرورت تھی جو اس کے نظریاتی وجود کی از سرِ نو تعمیر کر سکے۔ یہ کردار 9 نومبر 1877ء کو پیدا ہونے والے علامہ اقبال نے ادا کیا۔ اقبال نے ایک ایسے عہد میں آنکھ کھولی جب مسلم تہذیب کا فکری قافلہ جمود کا شکار تھا اور مغرب کا سیاسی و علمی غلبہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکا تھا۔ انہوں نے محض مرثیہ گوئی کرنے کے بجائے ”خودی” کا ایک انقلابی تصور پیش کیا، جو اپنی ذات کے عرفان اور کائنات کو مسخر کرنے کی لامحدود انسانی استعداد پر ایقان کا نام ہے۔ تاہم، عالمی علمی روایت میں ان کی فکر کا تجزیہ کرتے ہوئے ہمیں مستشرقین کے اس بیانیے پر بھی ناقدانہ غور کرنا ہوگا جو اقبال کے تصورِ خودی کو نٹشے کے ”سپرمین” کا چربہ قرار دیتا ہے۔ یہ تنقید، جس کی نمائندگی ہملٹن گِب جیسے مفکرین نے کی، محض علمی نہیں بلکہ ایک گہری تہذیبی سیاست کی عکاس تھی۔ اس بیانیے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ مشرق کا ذہن اصلی فکر پیدا کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے اور اس کی ہر اعلیٰ فکر مغرب کی خوشہ چینی ہی ہے۔ لیکن جب ہم این میری شمل جیسی غیر جانبدار محقق کی نگاہ سے اقبال کو پڑھتے ہیں، تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اقبال کا ”مردِ مومن” نٹشے کے خدا بیزار اور اخلاق سے ماورا سپرمین کی کامل ضد ہے۔ اقبال کی فکر کی جڑیں قرآن، حدیث اور مولانا رومی کے عشقِ الٰہی میں پیوست ہیں۔ انہوں نے اپنی شہرہ آفاق انگریزی تصنیف ”The Reconstruction of Religious Thought in Islam” میں مغربی فکر کا گہرا مطالعہ ضرور کیا، مگر اس کی بنیاد پر اسلامی فکر کی تشکیلِ جدید کی، نہ کہ اس کی کورانہ تقلید کی۔ اقبال کا اصل کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے ایک ایسی نظریاتی عمارت کا نقشہ پیش کیا جس کی بنیاد تو روحانی تھی، مگر اس کے ستون عصرِ حاضر کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ ایک ایسے معمار تھے جنہوں نے مسلمانوں کو ان کی فکری بنیادوں پر کھڑے رہتے ہوئے جدید دنیا سے مکالمے کا ہنر سکھایا۔
جب نظریاتی عمارت کا نقشہ تیار ہو گیا اور سیاسی افق پر آزادی کی جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی، تو تاریخ کو ایک ایسے پل کی ضرورت تھی جو ماضی کے ورثے کو مستقبل کے امکانات سے جوڑ سکے اور منقسم دلوں کو ایک مشترکہ زمین فراہم کر سکے۔ یہ کردار 11 نومبر 1888ء کو مکہ میں پیدا ہونے والے مولانا ابوالکلام آزاد نے ادا کرنے کی کوشش کی۔ مولانا آزاد کا علمی قد، فکری وسعت اور سیاسی بصیرت انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہیں۔ ایک طرف وہ ”لسان الصدق” اور ”الہلال” کے ذریعے امت کو اس کی دینی عظمت اور سیاسی شعور کی یاد دہانی کرا رہے تھے، تو دوسری طرف وہ ایک ایسے جدیدبھارت کا خواب دیکھ رہے تھے جس کی بنیاد متحدہ قومیت اور سیکولر جمہوریت پر ہو۔ ان کا یہی موقف انہیں ایک پیچیدہ اور متنازع شخصیت بنا دیتا ہے۔ ان کے ناقدین، خاص طور پر مسلم لیگ کے حامی، یہ دلیل دیتے ہیں کہ ان کا متحدہ قومیت کا نظریہ زمینی حقائق اور مسلمانوں کے اجتماعی خدشات کو سمجھنے میں ناکام رہا۔ یہ تجزیہ مکمل طور پر غلط نہیں۔ مولانا کا وژن شاید اس وقت کی مسلم اشرافیہ اور عوامی جذبات کی لہر سے ہم آہنگ نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ سیاسی طور پر تنہا رہ گئے۔ لیکن ان کے کردار کو محض ایک ناکام سیاست دان کے طور پر دیکھنا تاریخ کی سادہ لوحی ہوگی۔ آزاد کا موقف ایک گہری علمی اور تہذیبی بصیرت پر مبنی تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان کی تقسیم نہ صرف جغرافیائی ہوگی بلکہ یہ ایک عظیم مشترکہ تہذیبی ورثے کی تقسیم بھی ہوگی۔ ان کی کتاب غبارِ خاطر، جو 1942 سے 1946 تک احمدنگر فورٹ میں قید کے دوران لکھی گئی، ان کی روح کی اس گہرائی اور اس تہذیبی درد کی عکاس ہے جو وہ محسوس کر رہے تھے۔ بطور آزاد بھارت کے پہلے وزیرِ تعلیم (1947-1958)، انہوں نے تعلیمی ترقی کے لیے اہم اداروں کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے 1951 میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IIT) کا آغاز کیا، 1953 میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، اور تعلیمی و ثقافتی نقطہ نظر سے اہم دیگر اداروں کی ترویج کی۔ اس طرح انہوں نے اس پل کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جس پر چل کر ایک نیا، پڑھا لکھا اور روادار ہندوستان تعمیر ہو سکے۔
آخر میں، جب ہم ان تینوں شخصیات کے فکری اور عملی ورثے کا تنقیدی تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ان کے نظریات میں دلچسپ مماثلتوں کے ساتھ ساتھ بنیادی تضادات بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ قومیت کا سوال ان تینوں میں سب سے بڑا نقطہ انقطاع فراہم کرتا ہے: ٹیپو کا نظریہ اپنی ریاستِ میسور کی جغرافیائی و عملی خود مختاری پر مرتکز تھا، اقبال کا نظریہ ملتِ اسلامیہ کے ایک آفاقی اور نظریاتی تصور پر مبنی تھا، جبکہ آزاد کا نقطہ نظر متحدہ ہندوستانی قومیت کے ایک تہذیبی اور سیاسی معاہدے کو ترجیح دیتا تھا۔ اسی طرح، مغرب کے ساتھ تعلق کے معاملے پر بھی ان کی حکمتِ عملیاں جداگانہ رہیں: ٹیپو نے عسکری مخاصمت اور مصلحتاً سفارتی اتحاد کی راہ اپنائی، اقبال نے مغربی علوم کے تنقیدی استفادے اور فکری نقد پر زور دیا، اور آزاد نے جمہوری اقدار اور سیاسی مکالمے کو اپنی حکمتِ عملی کی بنیاد بنایا۔ حکمتِ عملی اور نظریات میں یہ واضح انقطاع اس امر کا قوی ثبوت ہے کہ برصغیر میں مسلم فکر کبھی بھی یکسانیت کا شکار نہیں رہی، بلکہ اس نے اپنے بدلتے ہوئے تاریخی سیاق و سباق اور سیاسی چیلنجز کے پیشِ نظر ہمیشہ دانش مندانہ اور متنوع حل اور حکمتِ عملیاں وضع کیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ٹیپو سلطان، علامہ اقبال، اور مولانا آزاد محض تاریخی کرداروں کے مجسمے نہیں، بلکہ تین زندہ اور متحرک رویوں کے مظہر ہیں جو آج بھی ہمارے اجتماعی شعور میں کارفرما ہیں: ناقابلِ مصالحت و مزاحمت کا رویہ (ٹیپو سلطان)، اس مزاحمت کو توانائی بخشنے کے لیے نظریاتی خواب دیکھنے کا رویہ (علامہ اقبال)، اور اگر خواب ٹوٹ جائے تو اس کے ملبے پر تعمیرِ نو کی عملی اور دانش مندانہ حکمت کا رویہ (مولانا ابوالکلام آزاد)۔ ان کا ورثہ، جو شجاعت کے لہو، غیرت کی آن اور حکمت کی ضیا سے عبارت ہے، آج ہم سے سوال کرتا ہے: کیا ہم نے ٹیپو کی شمشیر کی آب، اقبال کی فکر کی تاب، اور آزاد کی حکمت کی کتاب کو محض طاقوں کی زینت بنا دیا ہے؟ یا ان فکری قندیلوں کی روشنی میں اپنے حال کے اندھیروں سے لڑنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تاریخ ہم سے نہیں، بلکہ ہم تاریخ کو دیں گے۔
َََََََََََََََََََََََََُُُُّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّٰٰ
Like this:
Like Loading...