Skip to content
وندے ماترم : کیوں بھولی کہانی یاد آئی؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی نے’وندے ماترم‘ کا شوشا چھوڑا اور اس پر اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اعلان کیا ہے کہ ریاست بھر کے اسکولوں میں ’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دیا جائے گا یعنی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو مردآہن سردار پٹیل کی جینتی میں شامل نہیں ہوتے لیکن جناح کا احترام کرنے والے پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں۔ یوگی جو کو ممکن ہے معلوم نہ ہو کہ سردار پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی لگائی تھی کیونکہ وہ کانگریسی تھے ۔ اس کے علاوہ محمدعلی جناح کی مزار پر جاکر انہیں ایک تاریخ ساز شخصیت کا اعزاز دینے والا کوئی اور نہیں ان کی اپنی جماعت بی جے پی کا سابق صدر لال کرشن اڈوانی تھا۔
ان کو رسوا کرکے سیاست سے دور کرنے کے باوجود دو دن قبل وزیر اعظم موصوف کے گھر جاکر 98؍ ویں سالگرہ کی مبارکباد دے چکے ہیں۔ جہاں تک تقسیم ہند کے لیے قائدِ اعظم محمد علی جناح کو ذمہ دار ٹھہرانے والے یوگی یہ بتانا چاہیے کہ ہندو مہا سبھا بنگال اور سندھ میں اس کی سربراہی والی مخلوط میں شامل کیوں ہوئی تھی۔ پاکستان کی تجویز رکھنے والے فضل الحق کی وزارت میں وزیر رہنے والے شیاما پرشاد مکرجی کو آر ایس ایس نے جن سنگھ کا پہلا صدر کیوں بنایا تھا ؟ ایسے میں ’وندے ماترم‘ کی مخالفت تقسیم ہند کا سبب سمجھنا نہ صرف سادہ لوحی بلکہ حماقت یا سازش ہے۔
وزیر اعلیٰ یوگی ریاست کے 403 اسمبلی حلقوں میں سردار پٹیل کی یاد میں ایکتا یاترا اور ’وندے ماترم‘ کی 150ویں سالگرہ منانے کی وجہ اتر پردیش کے بجنور ضلع میں خودکشی کے بڑھتے واقعات سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس ایک ضلعکے اندر گزشتہ ایک ماہ میں 25 سے زائد لوگوں نے خودکشی الگ الگ طریقے سے خودکشی کی ۔اس ضلع میں یکم جنوری 2025 سے 9 نومبر 2025 تک مجموعی طور پر 197 خودکشی کے واقعات درج کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 127 اموات تو صرف جون سے اکتوبر کے درمیان 5 مہینوں میں ہوئی ہیں۔ یہی حال پورے صوبے کا ہے مگر وزیر اعلیٰ کو سردار پٹیل اور وندے ماترم کی پڑی ہوئی ہے بلکہ اگلا انتخاب ہارنے کا ڈرستانے لگا ہے۔ وندے ماترم پر تنازع کھڑا کرکے اسے قومی ترانہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جو سراسر کذب گوئی ہے۔ اس لیے کہ ملک کا رسمی قومی ترانہ تو رابندر ناتھ ٹیگور کا تحریر کردہ ’جن گن من‘ ہے۔
سنگھ پریوار آج کل اچھل اچھل کر ’وندے ماترم ‘ کو انگریزوں کے خلاف آزادی کا ترانہ قرار دے رہا ہے۔اس کو یہ بتانا چاہیے کہ کیا گزشتہ ڈیڑھ سو سال میں سے پہلے72؍ سالوں کے دوران جب انگریز سامراج کا غلبہ تھا تو کیا اس نے یہ ترانہ پڑھنے کی جرأت کی تھی ۔ اس کے پرچم تلے انگریز حکومت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیاتھا ؟یا ثقافتی چولا اوڑھ کر آزادی کی جنگ سے گریز کیاتھا؟کیا ہندوتوا کے سب سے بڑے دانشور ونایک دامودر ساورکر نے معافی مانگنے کے بعد تاحیات انگریز سامراج سے وفاداری کا عہد نہیں کیا تھا؟ کیا ان لوگوں نے مجاہدین آزادی کے خلاف انگریزوں کی مخبری نہیں کی تھی ؟ کیا انگریزوں کے ’بانٹو اور کاٹو‘ کی حکمتِ عملی کو بروئے کار لا کر آر ایس ایس نے بلاواسطہ فرنگی سامراج کے ہاتھ مضبوط نہیں کیے؟ اس وقت یہ قوم پرستی کے جذبات کہاں مرگئے تھے؟ آزادی سے پہلے مسلم لیگ کی حکومت میں شامل ہونے والی ہندوتوا نوازوں کو اچانک یہ ملک کی محبت یا عبادت کا جذبہ کیوں عود کر آگیا جبکہ انگریزوں کے زمانے میں تو ان پر غالب کا یہ شعر صادق آتا تھا کہ؎
جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں
دورِغلامی میں تو ہندوتوا نواز بار بار مجاہدین ِآزادی کے رقیب روسیافرنگیوں کے در پر جاکر سجدہ ریز ہوجایا کرتے تھے اور ان بدبختوں کی یہی کیفیت تھی جو اوپر کے شعر میں بیان ہوئی ہے لیکن جب ان لوگوں کی ناکامی کے بعد ملک آزاد ہوگیا تو سنگھ پریوار کو سانپ سونگھ گیا۔ ان لوگوں نے ترنگے کی مخالفت شروع کردی اور اب ترنگا یاترا نکال رہے ہیں۔ تین سال قبل (2022) کرناٹک حکومت میں سابق وزیر ایشورپا نے دعویٰ کیاتھا کہ آر ایس ایس کا پرچم ایک دن قومی پرچم بنے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’’کیسریا پرچم قربانی کی علامت ہے۔ اس کا احترام آج یا کل سے شروع نہیں ہوا بلکہ ہزاروں سالوں سے اس کا احترام ہو رہا ہے۔‘‘ موصوف نے فرمایا تھا قربانی کے جذبہ کو پیدا کرنے کے لیے ہی آر ایس ایس زعفرانی پرچم کی پوجا کرتا ہے۔ ترنگا پرچم آئین کے مطابق قومی پرچم ہے، اس لیے ہم اس کا احترام کرتے ہیں لیکن آر ایس ایس سے جڑے لوگ جب پوجا کرتے ہیں تو سامنے کیسریا پرچم ہوتا ہے۔ ان لوگوں کے الزام کو درست مان لیا جائے کہ مسلم لیگ اور کانگریس نے ملک کو تقسیم کیا تب بھی اس حقیقت سے انکار کیونکر ممکن ہے کہ انہوں نے دو آزاد ملک بنوائے جبکہ ہندوتوانواز اگر کامیاب ہوجاتے تو آج بھی یہ ملک غلام ہی رہتا۔
آزادی جدوجہد میں کئی ترانوں اور گیتوں نے جوش و جذبہ پیدا کرنے کا کام کیالیکن ’’جَن گَن مَن‘‘ کو قومی ترانہ بنایا گیا؟1911ء میں نوبیل انعام یافتہ ادیب و شاعر رابندرناتھ ٹیگور نے اسے لکھا جو بعد میں اسی سال کلکتہ سیشن کے کانگریسی اجلاس میں پہلی بار گایا گیا۔ یہ نغمہ بہت جلد ہی آزادی کے متوالوں کے دل کی آواز بن گیا۔اس کی سب سے بڑی خوبی ہمہ گیر ی اور شمولیتی پیغام ہے۔ یہ ترانہ ملک کے مختلف خطوں، مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں کے لوگوں کو ایک دھاگے میں پروتا ہے۔ اس میں کسی خاص مذہب، ذات یا فرقے کی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی بات کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے قومی وحدت کی بہترین علامت سمجھا گیا۔ یہ لطافت وموسیقی بھرا ترانہ سننے والوں کے دل میں جوش، فخر اور حب الوطنی کے جذبات جگا دیتا ہے۔
آزادی کے بعد قومی ترانے کے انتخاب کی خاطر کئی تجاویز پیش کی گئیں جن میں ’’وندے ماترم‘‘ بھی شامل تھا لیکن اسے مسترد کرکے 24؍ جنوری1950ء کے دن ’’جَن گَن مَن‘‘ کو ہندوستان کا قومی ترانہ قرار دیا گیاکیونکہ یہ ترانہ زیادہ جامع، غیر متنازع ، غیر جاندار اور تمام قوموں کو ساتھ لے کر چلنے والا مانا گیا۔ ٹیگور پروفیسر جان واٹسن کو ایک خط میں لکھا تھا کہ ’’نہ میں کسی مذہبی فرقے سے تعلق رکھتا ہوں اور نہ ہی میں کسی خاص عقیدے پر کاربند ہوں، میں اتنا جانتا ہوں کہ جب سے خدا نے مجھے بنایا ہے اس نے اپنے کو میرا بنالیا ہے” جان واٹسن کے مطابق ’’ٹیگور کا مذہب خدا اور فطرت سے محبت تھا‘‘۔ مورخین نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ ٹیگور بت پرست نہیں تھے۔وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی پرورش والد کے توحید پرستانہ نظریات میں ہوئی تھی۔ البتہ وہ ایک ایسے خدا کے قائل تھے جو بے نیاز ہو، زمان ومکان سے وراء ہو اور کائنات کا تنہا خالق وہادی ہو۔ موصوف وحدت الوجود کے عقیدے سےبہت متاثر تھے۔
مولانا محمود مدنی نے ’وندےماترم ‘ کو مکمل طور پر شرکیہ عقائد و نظریات پر مبنی ہے۔ اس کے 4 اشعار میں وطن کو دُرگا ماتا سے تشبیہ دے کر لائقِ عبادت کہنا مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کے خلا ف ہے۔ موصوف کے مطابق ملک کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی (دفعہ 25) اور اظہارِ رائے کی آزادی (دفعہ 19) فراہم کرتا ہے۔ ان دفعات کے تحت کسی بھی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے یا ضمیر کے خلاف کسی نعرے، گیت یا نظریے کو اپنانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کا بھی یہ فیصلہ ہے کہ کسی بھی شہری کو قومی ترانہ یا کوئی ایسا گیت گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہو۔مولانا مدنی نے واضح کیا کہ محبت اور عبادت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ مسلمان اس ملک سے کس قدر محبت کرتے ہیں، یہ کسی کو باور کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ملک کی وحدت و سلامتی کی حفاظت اور آزادی کی تحریک میں مسلمانوں کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔
مولانا مدنی کے مطابق حب الوطنی کا تعلق دلوں کی وفاداری اور عمل سے ہے، نعرے بازی سے نہیں۔جمعیۃ علماء ہند نےوزیر اعظم سمیت تمام قومی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ایسے حساس مذہبی و تاریخی معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہ کریں بلکہ ملک میں باہمی احترام، رواداری اور اتحاد کو فروغ دینے کی اپنی آئینی ذمہ داری پر کاربند رہیں۔وندے ماترم کی بابت پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی رائے دوٹوک ہے۔ وہ فرماتے ہیں: "بد قسمتی سے اس وقت ہندوستان پر بتدریج فرقہ پرستی کا غلبہ ہوتا جا رہا ہے، فرقہ پرست سیاسی جماعتیں بر سراقتدار آ رہی ہیں اور انہوں نے بعض ریاستوں میں ایک ایسے ترانہ کو پڑھنے کا لزوم عائد کر دیا ہے جو مشرکانہ تصور پر مبنی ہے، میری مراد وندے ماترم سے ہے، یہ سنسکرت زبان کا فقرہ ہے اور اس کے معنی یہ ہے کہ میں اپنے مادر وطن کا پرستار ہوں اور اس کی عبادت کرتا ہوں، حب الوطنی بری چیز نہیں ۔ یہ خدا ہی کی طرف سے ہر انسان کے اندر ودیعت ہے، لیکن اسلام میں خدا کے سوا کسی کی پرستش نہیں کی جاسکتی اور بندگی صرف خدا ہی کے لئے ہے اس لئے اسلامی نقطہ نظر سے اس طرح کے اشعار کا پڑھنا اور ان کو قبول کرنا قطعاً جائز نہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ برادرانِ وطن کو سمجھایا جائے کہ مسلمانوں کے لئے یہ محض ایک قومی اور ملکی مسئلہ نہیں اور نہ ہم اس کو انا اور وقار کا مسئلہ ہے بلکہ اس کی جڑیں ایمان و عقیدہ میں پیوست ہیں ۔
Like this:
Like Loading...