Skip to content
ظریفانہ: دہلی دھماکہ اور کویتا کرکرے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن پٹیل نے کلن چودھری سے کہا یار آج میں ایل این جی اسپتال میں گیا تو مجھے کویتا کرکرے کی یاد آگئی؟
کلن بولا یار یہ بتا کہ تو اس گندے سرکاری اسپتال میں گیا کیوں ؟ اور تجھے دہلی میں بیٹھے بیٹھے ممبئی کی رہنے والی کویتا کرکرے کیوں یاد آگئی ؟
بھیا ہماری طرح میرا پڑوسی جمن پنڈت کسی منتری سنتری کا ڈرائیور نہیں تھا ۔ وہ بیچارہ دہلی دھماکے میں مارا گیا تو میں اس کے بیوی بچوں کے ساتھ گیا تھا۔
اچھا اب سمجھا لیکن وہاں تو بیمارغریب مرنے کے لیے جاتے ہیں اسی لیے سرکار دربار کے لوگ خود سرکاری اسپتالوں میں نہیں جاتے ۔
جی ہاں مگر جائے حادثہ سے قریب وہی اسپتال تھا اس لیے پولیس بیشتر لوگوں کو اسی دواخانے میں لے گئی جہاں جمن نے بدانتظامی کے سبب دم توڑ دیا۔
کلن بولا اچھا تو کیا اس کی جان دہشت گردوں نے وجہ سے نہیں بلکہ سرکاری بدانتظامی کے سبب گئی؟
جی ہاں اس کی بیوی للیتا یہی تو کہہ رہی تھی ۔ اس کا کہنا تھا کشمیری پنڈتوں کے ساتھ دھوکہ ہوا۔
پاگل ہے کیا ؟ یہی تو سرکار ہے جس نے کشمیری پنڈتوں کے تحفظ کی خاطر آئین کی دفع 370کو ختم کیا پھر بھی وہ احسان فراموش عورت یہ کہتی ہے۔
ارے بھیا یہی تواس کاالزام ہے۔ آئین میں تبدیلی کے بعدکشمیری پنڈتوں کے نام پر اگنی ہوتری نے نوٹ اور مودی نے ووٹ بٹورے ۔
یار کمال کی عورت ہے۔وویک اگنی ہوتری نے کشمیر فائلس بناکر دنیا بھر کو کشمیری پنڈتوں کے مسائل سے واقف کرایا پھر بھی وہ بدبخت ایسا کہتی ہے؟
جی ہاں اس کا کہنا ہے واقفیت سے کیا ہوتا ؟ ان کو جس تحفظ کا وعدہ کیا گیا تھا وہ کہاں ہے؟ ان کو اسی سرکار نے کشمیر سے نکالا اور اب دہلی میں بھی ۰۰۰
کلن نے کہا جی ہاں سو تو ہے دہلی کے اندر بھی اس کا شوہر دہشت گردانہ حملے میں مارا گیا ؟ اب تو پہلگام سے دہلی تک آتنک ہی آتنک ہے ۔
للن بولا بھیا تم پلوامہ کو بھول گئے جس میں سی آر پی ایف کے 46 ؍ اہلکار ہلاک ہوئے مگر 6؍ سال ہوگئے نہ تفتیش نہ سزا وہ بھی تو اسی سرکار میں ہواتھا۔
یار تم پلوامہ کو چھوڑو اور آپریشن بالاکوٹ کو یاد کرو جس نے چوکیدار چور کو پانچ سال کے لیے ساہوکار بنا دیا ۔
بھیا تم تو جس کو چاہو بھولو اور جسے مرضی ہو یاد کرو مگر جس ماں کالال پلوامہ میں مارا گیا وہ اسےکیسے بھول جائے؟
کلن بات بدلنے کے لیے بولا وہ تو ٹھیک ہے مگر تمہیں 17؍ سال پرانا 2008 کا ممبئی حملہ کیوں یاد آگیا ؟ اسےتو بی جے پی بھی بھول چکی ہے۔
ارے بھائی وہ اس لیے بھول گئی کیونکہ اب گیند اس کے پالے میں ہے۔
للن بولا یہ گیند کا پالا بدلنا سمجھ میں نہیں آیا ؟
ارے بھائی ممبئی حملے کے بعدمیں ممبئی میں گجرات کے وزیر اعلیٰ کی گاڑی کا ڈرائیور تھا؟
اچھا مگر گجرات کے وزیر اعلیٰ کا اس دھماکے سے کیا لینا دینا ؟
بھیا لگتا تم پردھان جی کے مزاج سے واقف نہیں ہو ۔ وہ ہر ’آپدا میں اوسر ‘(مشکل میں موقع) تلاش کرلیتے ہیں۔
ارے بھائی وہ تو ٹھیک ہے مگر اس کا ممبئی بم دھماکوں سے کیا تعلق؟
سیدھا تعلق ہے۔ انہوں نے ممبئی جاکر پریس کانفرنس کی اور اس وقت کے وزیر اعظم کا استعفیٰ مانگا ۔
اچھا ممبئی جاکر وزیر اعظم کا استعفیٰ مانگا اور اب خود سبکدوش ہونے کے بجائے بھوٹان کے راجہ کی سالگرہ منانے نکل گئے ۔ یار غضب منافقت ہے۔
جی ہاں بھائی وقت وقت کی بات ہے۔پردھان جی اپنے دوست اڈانی کو ہائیڈل پاور پلانٹ کا ٹھیکہ دلانے کے لیے مجبوراً گئے ، ورنہ وہ نہ جاتے۔
یار یہ بھی کوئی مجبوری ہے۔ وہ ایک آدھ ہفتہ بعد چلے جاتے تو کیا فرق پڑتا ؟
بھیا اس طرح کے معاملے میں دیر خطرناک ہوسکتی ہے۔ کون جانے بہار انتخابی نتائج کے بعد ان کی سرکار رہے یا نہیں۔ اسی لیے گئے ہوں گے؟
ہاں یار بہت سارے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ سرکار نہ بھی گرے تب بھی وزیر اعظم تو بدل ہی دیا جائے گا۔
اچھا یہ بات ہے۔ وزیر اعظم کی بے حسی کا اصلی سبب اب سمجھ میں آیا، لیکن ان کے مطالبے پر ڈاکٹر منموہن سنگھ نے تھوڑی نا استعفیٰ دیا تھا۔
چلو مان لیا انہوں نے نہیں توکم از کم اس وقت کے وزیرداخلہ شیوراج پاٹل سے تو استعفیٰ لے لیاگیا تھا۔یہاں تو امیت شاہ ڈھٹائی سے چپکے ہوئے ہیں۔
جی ہاں اور بڑی بڑی ہانک رہے ہیں لیکن ایسا ہی بیان انہوں نے پہلگام کے بعد بھی دیا تھا جو جملہ نکلا ۔
ارے بھائی شاہ تو دور خود پردھان جی نے کہا تھا کہ یہ مودی ہے ۔ یہ گولی کا جواب گولے سے دے گا ۔ اب کہاں گئے گولے؟
ہاں یار میں بھی سوچ رہا تھا کہ ابھی تک پاکستان پر حملہ کیوں نہیں ہوا؟
بھائی اس میں سوچنے کی کیا بات ہے؟ آپریشن سیندور کے بعد والی عالمی رسوائی کے بعد اسے کون ہ دوہرائے گا؟
جی ہاں مجھے یاد ہے انہوں نے کہا تھا آپریشن سیندور ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے۔ اگر ایسا ہے تو ا ب تک اسلام آباد و کراچی پر قبضہ کرلینا چاہیے تھا ۔
یہی ہونا چاہیے کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری ۔ مجھے تو لگتا ہےبہار انتخاب میں اس کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہےلیکن دیر ہوگئی ۔
للن نے کہا ہاں بھائی نہ ہمدردی اور نہ دلیری، کچھ بھی ہاتھ نہ آیا۔یعنی نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔
اچھا تو تمہارا مطلب ہے کھایا پیا کچھ نہیں گلاس پھوڑا بارہ ا ٓنہ؟
کلن نے سوال کیا لیکن بھائی للیتا کے ساتھ تمہیں کویتا کیوں آگئی؟کیا اس لیے دونوں نے دہشت گردانہ حملے میں اپنے خاوند گنوائے ؟
نہیں دوست کویتا کو صرف اپنے خاوند کی موت کا غم نہیں تھا وہ بہت دلیر عورت تھی ۔ وہ وزیر اعلیٰ سے ملنے کے لیے کمرے سے باہر بھی نہیں آئی ۔
اچھا تو کیا وہ بیرنگ لوٹا دئیے گئے؟
جی ہاں میں خود گاڑی سےانہیں کویتا کرکرے کے گھر لےگیا تھا ۔مودی جی نے انہیں لبھانے کے لیے ایک کروڈ کی مدد کا اعلان کیا مگر۰۰۰۰
مگر کیا؟ کیا اس عظیم خاتون نے وہ خطیر رقم ٹھکرا دی ؟
اور نہیں تو کیا؟ اس نے وہی کیا جو ہرین پنڈیا کے والد نے کیا تھا۔ موصوف سنگھ سے تھے مگر انہوں نےوزیر اعلیٰ کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا تھا ۔
لیکن للیتا پنڈت نے تمہیں گیارہ سال قبل مر کھپ جانے والی کویتا کی یاد کیوں دلائی یہ معمہ ہنوز سمجھ میں نہیں آیا؟
بھائی للیتا کا رو رو کر بار بار کہہ رہی تھی کہ میں نے منافقوں کو پہچان لیا ہے اور میں کبھی ان سے دھوکہ نہیں کھاوں گی۔
لیکن تم تو کہہ رہے تھے کہ پردھان جی سے ملنے کے لیے کویتا باہر بھی نہیں آئی تھی پھر تم نے اس کی آہ و بکا کیسے سن لی؟
بھیا سوال گریہ و زاری کا نہیں بلکہ پہچاننے کا ہے۔ اس عظیم خاتون کے گھر کے اندر بیٹھے بیٹھے پردھان جی کے پاکھنڈ( منافقت ) کو بھانپ لیا تھا۔
یہ تمہیں کیسے پتہ چلا؟
ارے بھائی کوئی اتنی بڑی رقم بلاوجہ لوٹاتا ہے بھلا؟ وہ اس وقت پہچان گئی جبکہ مجھے 17؍ سال لگ گئے۔
کلن نے پوچھا تمہاری بات میں نہیں سمجھا ۔
ارے بھائی اس سانحہ کے بعد نہ تو امیت شاہ یا اجیت ڈوبھال سے استعفیٰ لیا گیاالٹا وزیر اعظم خود غیر ملکی دورے پر نکل گئے اور کیا چاہیے؟
جی ہاں اسی لیے للیتا اور اس جیسے نہ جانے کتنے لوگوں کے زخموں پر نمک کاچھڑکاو ہوگیا اور وہ سرکار دربار کو سنے لگے۔
بھائی مجھے تو لگتا ہے کہ جس طرح دہلی دھماکے نے اپنی سرکار کو بے نقاب کیا ہے اس سےپہلے کبھی نہیں ہوا ہوگا۔
درست فرمایا یہی وجہ ہے کہ سارا نزلہ کشمیری اور دیگر مسلمانوں پر اتارا جارہا ہے پاکستان کی پر کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے۔
بھیا دیکھو ایسا ہے کہ بہار تو گزر گیا ۔ وہاں کے رائے دہندگان نے اپنا من بنالیا تھا اور اس کے مطابق بلا متاثر ہوئے ووٹ دے دیا۔
کلن نےپوچھا اچھا تو کیا اب پردھان جی اس کا نتقام نہیں لیں گے ۔
مجھے نہیں لگتا فی الحال لیں گے۔ مگرہوسکتا ہےمغربی بنگال میں انتخاب کے وقت ضرورت پڑے اور پاکستان کے بجائےبنگلہ دیش کی باری آجائے۔
ہاں بھیا اسی لیے اب اس معاملے کو ٹھنڈے بستے میں ڈالا جارہا ہے۔
مجھے تو لگتا ہے بیان بازی کے ذریعہ اسے زندہ رکھا جائے گا اور جب موقع پڑے استعمال کرلیا جائے گا۔
کلن نے سوال کیا یار سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کھیل کب تک چلے گا؟ لیکن بہار سے آنے والے ایکزٹ پولس بڑے خوش کن ہیں۔
جی ہاں لوک سبھا کے وقت بھی ایسے ہی ایکزٹ پولس آئے تھےلیکن چار سو تو دور تین سو بھی پار نہیں کرسکے ۔
وہ تو ہے مگر ایکزٹ پولس کا جو درمیانہ وقفہ ہوتا ہے اس پر جو شعر یاد آتا ہے۔ سنو گے ؟
کیوں نہیں؟
شاعر کہتا ہے؎
سونے چاندی کی چمک بس دیکھنے کی بات ہے
چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات ہے
Like this:
Like Loading...