Skip to content
زبان وقلم اور سوشل میڈیا دعوت دین کا موثر ذریعہ
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اللہ تعالیٰ نے جتنی مخلوقات پیدا کی ہیں ان میں انسان ایک ایسی مخلوق ہے جسے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا ایک عظیم شاہکار کہا جاتا ہے،اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں انسانوں کی تخلیق کو ’’احسن تقویم‘‘ قراردیا ہے ،اللہ تعالیٰ نے ا نسان کو ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے غیر معمولی اور انوکھی خوبیوں کا مالک بنایا ہے، انسان تمام مخلوقات میں معزز ،مکرم و اشرف کہلاتا ہے ،اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں بہت سی نعمتیں ایسی ہیں جو صرف انسانوں ہی کو حاصل ہیں ،انسانوں کے علاوہ دیگر مخلوقات بہت سی نعمتوں کے حصول کے باوجود انسانوں کو دی جانے والی مخصوص اور منفرد قسم کی نعمتوں سے محروم ہیں،انسانوں کو عطا کی جانے والی مخصوص اور منفرد نعمتوں میں سے ایک عظیم الشان نعمت’’ زبان‘‘ ہے تو دوسری عظیم الشان نعمت ’’قلم‘‘ ہے ،یہ دونعمتیں ایسی قیمتی اور عظیم ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے صرف اور صرف انسانوں کو عطا کی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں انسانوں کو اپنی بے شمار نعمتوں کے دئے جانے کا ذکر فرمایا ہے وہیں بطور خاص ان دونوں نعمتوں کا بھی ذکر فرمایا ہے تاکہ انسان ان نعمتوں کی قدردانی کرتے ہوئے اور ان کا صحیح استعمال کرسکے اور خاص طور پر انہیں اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رسول اللہؐ کے فرمودات اللہ تعالیٰ کے بندوں تک پہنچانے کے لئے استعمال کریں ۔
اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت اپنے اندر بے شمار فوائد اور الگ الگ تاثیر رکھتی ہےمگر ان نعمتوں میں زبان وقلم اپنے اندر غیر معمولی فوائد اور حکمت رکھتے ہیں بلکہ اگر یہ کہاجائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ زبان وقلم اپنے اندر بلا کی تاثیر اور جا دوئی اثر رکھتے ہیں ، زبان کی حرکت اور انداز بیاں سے جہاں سننے والے اور مخاطب متاثر ہوکر بات اور خطاب کرنے والے کے گرویدہ ہوجاتے ہیں بلکہ خوبصورت اندازبیاںدل کو چھولیتا ہے اور اس کے بعد ان کے قلوب ماننے کی طرف مائل ہوجاتے ہیں ،اسی طرح سے قلم کا معاملہ بھی ہے ،یقیناقلم کی حرکت اور سیاہی سے لکھے گئے چھوٹے چھوٹے جملے قارئین کے دلوں پر نقش ہوجاتے ہیں جس کے بعدپڑھنے والوں کی سوچ وفکر بدل جاتی ہے ،اسی وجہ سے ماہرین تعلیم نے زبان وقلم کو قوموں میں انقلاب لانے کا ذریعہ بتایا ہے،اسی طرح اہل علم نے زبان وقلم کو دعوت ِ دین کے دو اہم ترین ہتھیار قرار دئے ہیں جسے خوبصورتی کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے ہر دور کے داعیان اسلام نے کفر وشرک اور گمراہی وسرکشی میں مبتلا انسانوں کے مضبوط دلوں کے قلعوں کو فتح کرتے ہوئے اس میں توحید ورسالت کے جھنڈے گاڑ دئیے ،زبان وقلم کی ذریعہ دلوں کو فتح کی جانے والی فتوحات ان ہزاروں فتوحات پر بھاری ہیں جو دھار دار ہتھیاروں کے ذریعہ لوگوں کے جسموں کو فتح کیا جاتا ہے ،اس بات سے سبھی اچھی طرح واقف ہیں کہ فاتح اجسام اصل فاتح نہیں ہوتے بلکہ فاتح قلوب اصل فاتح ہوتے ہیں چنانچہ مشہور شاعر جگر مراد آبادی مرحوم نے اپنے ایک شعر میں دلوں کے فاتح کو فاتح زمانہ کہا ہے ؎
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح ِ زمانہ
زبان وقلم کی اہمیت اکا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان دونوں کا ذکر فرمایا ہے،سورہ رحمن میں قوت گویائی اور زبان کی نعمت کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:خَلَقَ الْإِنسَانَ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (الرحمن:۳،۴)انسان کو پیدا کیا اور اسے قوت گویائی عطا کی اور مافی الضمیر کے ادا کرنے کا سلیقہ سکھایا ،اسی طرح سورہ علق میں قلم کی نعمت اور اس کی خوبی کا ان الفاظ میں ذکر کیاہے : اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (علق:۲،۴)جس نے علم سکھایا قلم سے،قلم کی خصوصیت کا اندازہ امام تفسیر حضرت مجاہدؒ کے اس قول سے لگایا جاسکتا ہے وہ فرماتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات میں چار چیزیں اپنے دست قدرت سے خود بنائیں ہیں اور اس کے سوا باقی مخلوقات کے لئے حکم دیا ’’کن‘‘ یعنی ہوجا وہ موجود ہوگئیں ، چار چیزیں یہ ہیں قلم،عرش،عدن،آدم (معارف القرآن )، مذکورہ آیات قرآنی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زبان وقلم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے کس قدر عظیم نعمت ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ان دونوں نعمتوں سے سرفراز کیا ہے ، سیدنا آدم ؑ سے لے کر جناب محمد الرسول اللہ ؐ تک دنیا میں جتنے انبیاء ؑ تشریف لائے سبھوں نے دعوت دین کے فریضہ کی ادائیگی کے لئے زبان ہی کا استعمال فرمایا ،اللہ تعالیٰ نے ان مبارک ہستیوں کو زبان وبیان کا خوبصورت سلیقہ عطا فرمایا تھا ،اہل علم فرماتے ہیں جو کوئی بغیر کسی دشمنی وعناد اور خالی الذہن ہوکر ان کی باتیں سنتا تو اس کا پتھر دل موم کی طرح پگھل جاتا اور وہ حلقہ بگوش اسلام ہوجاتا تھا ، آخری پیغمبر جناب محمد الرسول اللہؐ کو اللہ تعالیٰ نے زبان وبیان کی قوت وصلاحیت کے ساتھ جامع کلمات کا معجزہ عطا فرمایا تھا ، چنانچہ آپؐ نے نہایت مختصر جملوں میں ایسی جامع اور سمندر جیسی گہرائی رکھنے والی باتیں ارشادفرمائی ہیں کہ اس کی تشریح میں علماء نے سینکڑوں صفحات تحریر کرڈالے،رسول اللہؐ کے بعد حضرات صحابہؓ و حضرات تابعینؒ نے بھی زبان وبیان کے ذریعہ اشاعت دین کا خوب کام کیا ،ان مبارک شخصیتوں کے بعد سے لے کر آج تک ہر دور میں علماء ،خطبا ء اور داعیان دین متین نے زبان وبیان کو بطور ہتھیار بناکر دعوت دین اور اشاعت دین کا فریضہ انجام دیتے آرہے ہیں ،ان حضرات نے زبان وبیان کی طاقت کا بخوبی اندازہ تھا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے کس قدر طاقت وقوت رکھی ہے ،اہل علم فرماتے ہیں زبان اور قلم دونوں ہی قیمتی جوہر ہیں اس میں عبور حاصل کرنا دین کا علم رکھنے والے اور خصوصا علماء اور داعیان دین کے لئے ناگزیز ہے، جس طرح ایک عالم کے لئے دینی علوم میں رسوخ ،مہارت اور پختگی ضروری ہے اسی طرح زبان وقلم پر بھی قدرت و مہارت ضروری ہے،جس طرح ایک سپاہی کے لئے میدان جنگ کی مہارت ضروری ہے اسی طرح میدان ِ دعوت کے شہسوار کے اندر زبان وقلم میں مہارت لازمی ہے اس کے بغیر میدان دعوت میں خاطرخواہ کامیابی ممکن نہیں ہے ۔
افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ آج زبان وقلم کا یہ ہتھیار جسے غیر متشدد مگر موثر ہتھیار کہا جاتا ہے کا استعمال ہم سے زیادہ اغیار اور دشمنان ِ اسلام کر رہے ہیں ،وہ اس میں بھر پور مہارت حاصل کر چکے ہیں ،ان کے تقریروں کو سننے اور تحریروں کو پڑھنے سے ایسا معلوم ہورہا ہے کہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اسے خاموش ہتھیار کے استعمال کر رہے ہیں کیونکہ وہ اس کے فوراً اثر انداز ہونے سے بخوبی واقف ہیں یہی وجہ ہے کہ آئے دن زبان وقلم کے ذریعہ وہ اسلام ، پیغمبر اسلام ؐاور اہل اسلام پر پے درپے حملے ہورہے ہیں اور اس کام کے لئے وہ زبان وقلم میں مہارت رکھنے والوں کی مکمل خدمات حاصل کرہے ہیں اور اس کے لئے باضابطہ انہیں تیاری کر رہے ہیں ، یہ لوگ اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ اسلام کے خلاف زہر اگل رہے ہیں جس کا مشاہدہ سوشل میڈیا کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے ،اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہے آج دنیا ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے،ٹکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے ،آج کی ترقی پر نظر ڈالیں تو ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے،ہر آدمی سوشل میڈیا میں گم ہے ،اس کے بغیر زندگی کا تصور نامکمل دکھائی دے رہا ہے ،معاشرہ میں سوشل میڈیا کو بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، کہنے والوں نے نہایت سچ کہا ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا ذہن سازی کا ریموٹ کنٹرول بن گیا ہے ،ہر آدمی اپنے افکار ونظریات دوسروں تک پہنچانے میں سوشل میڈیا کا سہارا لے رہا ہے اور اسی کے ذریعہ منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک اپنی باتیں پہنچانے لگا ہے،اس وقت دشمنان اسلام بھی بڑی چالاکی کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں بلکہ اسلامی ناموں سے چینلس چلارہے ہیں اور دین کے نام پر آزاد مزاجی کو پروان چڑھارہے ہیں اور ان باتوں کو ذکر کر رہے ہیں جن سے عام آدمی کے ذہن میں شکوک وشبہات پیدا ہوسکتے ہیں ،ان حالات میں مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ زبان وقلم میں مہارت حاصل کریں اور اپنے ارد گرد ماحول میں اس کے ذریعہ کم ازکم دین کی بنیادی باتیں عوام تک پہنچانے کی کوشش کریں اور جو نوجوان جدید ٹکنالوجی میں مہارت رکھتے ہیں اس کے ذریعہ مستند دینی معلومات لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں کیونکہ میڈیا ہی ہے جس کے ذریعہ مستقل مسلمانوں کے منفی پہلو کو اجاگر کرنے کی دشمنان اسلام کوشش کر رہے ہیں ،خیر امت ہونے کا تقاضہ ہے کہ مسلمان اپنا داعیانہ کردار اداکریں ،غیروں تک زبان وقلم کے ذریعہ اوراکابرین امت کی تحروں اور ان تحروں کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کرتے ہوئے اسے لوگوں تک پہنچانے کی فکر کریں اور قرآن وحدیث نیز مستند علماء کی کتابوں کی روشنی میں اسلام پر کئے جانے والے اعتراضات کا جواب دیں ،خاص کر نوجوان اور نوفارغ علماء وفضلا اگر کوشش کریں تو سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی دین کی خدمت کرسکتے ہیں ، چونکہ اکثر نوجوان علماء سوشل میڈیا میں متحرک نظر آتے ہیں اور وہ اس کے استعمال میں مہارت بھی رکھتے ہیں اس لئے وہ اس کا م کو بحسن خوبی انجام دے سکتے ہیں اس لئے اپنے مصروف ترین وقت میں سے کچھ وقت نکال کر سوشل میڈیا کے ذریعہ اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے اعتراضات اور پروپیگنڈوں کا موثر انداز میں جواب دیں اور اسے خوب پھیلانے کی کوشش کریں ۔
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہر زمانے میں امت مسلمہ میں ایسے قابل اشخاص پیدا ہو ئے اور ہورہے ہیں جن کے زبان میں جادوئی اثر اور قلم میں غیر معمولی تاثیر پائی جاتی ہے ،لوگ ان کی تقریروں اور تحروں کے گرویدہ ہیں ،ان کی باتیں معاشرہ پر اثر انداز ہوتی ہیں،الحمد للہ وہ اس کے ذریعہ لوگوں کی صحیح رہنمائی کررہے ہیں ،ضرورت ہے کہ ایسے درد مند ، مخلص اور مشفق اشخاص کی باتوں کو سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں تک پہنچایا جائے تاکہ صحیح باتیں لوگوں تک پہنچ سکے اور ان لوگوں کا جواب بھی ہوجائے جو اسلام کی دشمنی میں اسلام کے خلاف باتیں پھیلانے میں مصروف ہیں، زبان وقلم میں مہارت رکھنے والے اس جا نب توجہ دیں تو ان شاء اللہ دشمنان اسلام اور نام نہاد اسلامی اسکالر کا بہترین جواب ہوجائے گا اور عوام کی صحیح رہنمائی بھی ہوگی جو ا ن پُر فتن دور میں بے حد ضروری ہے تاکہ لوگوں کو تشکیک اور گمراہی سے بچایا جاسکے ۔
Like this:
Like Loading...