Skip to content
جمعہ نامہ: فرعون اپنے دور کا زندہ ہے آج بھی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے :’’ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹلائے چلا گیا اور نہ مانا ‘‘۔ قرآن مجید کی 67 ؍ آیات میں فرعون کا نام کےساتھ ذکر ہے۔ اس لیےوہ سفاک فرمانروا کو سمجھنے کے لیے نہایت مفید مثال ہے۔یہاں اس کی ہٹ دھرمی اوراللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے و جواز گھڑنے رویہ یوں پیش کیا گیا کہ وہ ایک دن :’’ کہنے لگا ،اے موسیٰؑ، کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے؟ اچھا، ہم بھی تیرے مقابلے میں ویساہی جادو لاتے ہیں طے کر لے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے نہ ہم اِس قرارداد سے پھریں گے نہ تو پھریو کھُلے میدان میں سامنے آ جا‘‘۔ ان آیات میں فرعون چیلنج کرتےہوئےموسیٰؑ کو جادوگر قرار دے کراپنا بیانیہ وضع کرتاہے ۔ نبیٔ وقت کو جادوگر کہہ کے تحقیرکرنے کے بعد ان کی بعثت کا مقصد بھی خود کو ملک سے باہر نکالنا یا اقتدار سے بے دخل کرنا بتاتا ہے حالانکہ موسیٰ ؑ نے تو اسے بندگیٔ رب کی دعوت دی تھی۔ دعوت حق سےظالم اقتدار کو لاحق خطرے کا فرعون نے یہاں اعتراف کرلیا۔
حضرتِ موسیٰ ؑ فرعون کو ان الزامات کا جواب دینے میں اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے چیلنج قبول کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "جشن کا دن طے ہوا، ا ور دن چڑھے لوگ جمع ہوں” ۔ اسے ’آپدا میں اوسر‘ یعنی ’مشکل میں موقع‘ کی تلاش کہتے ہیں۔ دشمن اگر بذاتِ خود اپنی دعوت کو لوگوں تک پہنچانے کاموقع فراہم کرنے کی پیشکش کرے تو اسے فروعی مباحث میں پڑنے کے بجائے موقع کے بھرپور استعمال پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ فرمانِ قرآنی ہے :’’ فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کیے اور مقابلے میں آ گیا ‘‘۔ یعنی اس نے کو کسر نہیں چھوڑی لیکن جب مقابلے وقت آیا تو :’’ موسیٰؑ نے (عین موقع پر گروہ مقابل کو مخاطب کر کے) کہا "شامت کے مارو، اللہ پر جھُوٹی تہمتیں نہ باندھو ، ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیاناس کر دے گا جھوٹ جس نے بھی گھڑا وہ نامراد ہوا” ۔ دعوت میں اس انذار کے پہلو سے :’’ اُن کے درمیان اختلاف رائے ہو گیا اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے ‘‘۔ اس طرح گویا مخالفین میں اعتماد شکن انتشار پیدا ہوگیا جو دعو ت کی اہم حکمت ہے۔
حضرت موسیٰ ؑ کے لب و لہجے سے مخاطبین کے ذہن میں خلجان تو پیدا مگر آخر کار کچھ لوگو ں نے کہا کہ: "یہ دونوں تو محض جادوگر ہیں اِن کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کر دیں اور تمہارے مثالی طریق زندگی کا خاتمہ کر دیں ۔ اپنی ساری تدبیریں آج اکٹھی کر لو اور اَیکا کر کے میدان میں آؤبس یہ سمجھ لو کہ آج جو غالب رہا وہی جیت گیا” یہاں پھر وہی زمین سے بے دخلی اور مثالی طرز زندگی کے فرعونی بیانیہ کا حوالہ ہے۔ وطن عزیز میں فی زمانہ شاہ سے بھاگوت تک سبھی لوگ درندازوں کا خوف دلاکر یہی دلائل پیش کرتے ہیں۔ آگے ارشادِ قرآنی ہے جادوگروں نے پوچھا: "موسیٰؑ، تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟” موسیٰؑ نے کہا "نہیں، تم ہی پھینکو” یکایک اُن کی رسّیاں اور اُن کی لاٹھیاں اُن کے جادو کے زور سے موسیٰؑ کو دَوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں اور موسیٰؑ اپنے دل میں ڈر گیا‘‘۔ اس سے پتہ چلتا ہے مخالفین اسلام کے حربے داعی کو خوفزدہ کرنے والے ہوتے ہیں لیکن پھر رب کائنات اسے کیسے رفع دفع کرتا ہے اس کا ذکر آگے ہے۔
فرمانِ ربانی ہے:’’ہم نے کہا "مت ڈر، تو ہی غالب رہے گا ، پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، ابھی اِن کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگلے جاتا ہے یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، خواہ کسی شان سے وہ آئے” آخر کو یہی ہُوا کہ سارے جادوگر سجدے میں گرا دیئے گئے اور پکار اٹھے "مان لیا ہم نے ہارونؑ اور موسیٰؑ کے رب کو” ۔ اس موقع پرفرعون کو بھی سرِ خم تسلیم کرلینا چاہیے تھا مگر اس نے کہا:’’ تم ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا؟ معلوم ہو گیا کہ یہ تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادوگری سکھائی تھی اچھا، اب میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر پا ہے” ۔وطن عزیز میں تبدیلیٔ مذہب کے اجازت اور اس پر دھمکیاں اور سزائیں اسی روایت کا تسلسل ہے۔
بوکھلاہٹ کا شکارفرعون بھول گیا کہ جادوگروں کوتو اسی نے اپنی پسند سے بلایا تھا مگراس کی جواب میں استقامت کے پیکر نومسلمین کا بلاخوف و خطراظہار خیال تا قیامت اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کرتا رہے گا۔ ان کا جواب تھا : "قسم ہے اُس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آ جانے کے بعد بھی (صداقت پر) تجھے ترجیح دیں، تُو جو کچھ کرنا چاہے کر لے تو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دُنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور اس جادوگری سے، جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا، درگزر فرمائے اللہ ہی اچھا ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے” ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اُس کے لیے جہنم ہے جس میں وہ نہ جیے گا نہ مرے گا ۔ اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہو گا، جس نے نیک عمل کیے ہوں گے، ایسے سب لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں ۔ سدا بہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ جزا ہے اُس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے ‘‘۔ اس طرح جادوگروں نے فرعون سمیت ساری قوم کے سامنے دین ِحنیف کی بے کم و کاست دعوت پیش فرمادی ۔ فرعون جس طرح اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے جادوگروں کو موردِ الزام ٹھہراتا ہےاسی طرح دہلی دھماکوں کے بعد سرکاراپنی کوتاہی کی پردہ داری کے لیے دوسروں پر الزام تراشی کررہی ہے لیکن یہ حربہ نہ ماضی میں چل پایا اور نہ حال یا مستقبل میں کامیاب ہوگا۔
Like this:
Like Loading...