Skip to content
قرآن کا پیغام ۔ انسانوں کے نام
ازقلم:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
قرآن کریم اللہ رب العزت کی آخری کتاب ہے، جسے اللہ رب العزت نے انسانوں کی ہدایت کے لیے اتارا ہے، یہ کتاب اللہ ہی نہیں کلام اللہ بھی ہے ، اس میں درج احکام و ہدایات رہتی دنیا تک کے لیے ہیں، اس لیے اللہ رب العزت نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، جس کی وجہ سے اس میں کسی قسم کی تبدیلی الٹ پھیر، حذف واضافہ کی قطعاً گنجائش نہیں ہے، یہ کتاب صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ، تمام انسانوں کے لیے ہے، جس طرح اللہ رب العزت ساری کائنات کا رب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سارے انسانوں کے رسول ہیں ، اسی طرح قرآن کریم کے احکام و ہدایات بنی نوع انسانوں کے لیے عام ہیں، جن لوگوں نے احکام و ہدایات کو مان لیا وہ امت اجابت یعنی قبول کر لینے والے ہیں اور جنہوں نے اب تک نہیں مانا ہے، ان کی حیثیت امت دعوت یعنی ان تک اللہ کا پیغام ان لوگوں کے ذریعہ جنہوں نے مان لیا، پہونچانا ہے، اس امت کو خیر امت اس لیے کہا گیا کہ یہ لوگوں کو بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا کام کرتی ہے اور اللہ پر ایمان رکھ کر کرتی ہے، اس لیے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس کام کو پوری مستعدی اور دل جمعی کے ساتھ کریں۔
قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے کہ ہم اللہ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ کریں، قرآن کی اصطلاح میں اسے شرک کہتے ہیں، یہ اللہ پر بہتان ہونے کی وجہ سے بڑا ظلم ہے، اللہ ہر گناہ کے معاف کرنے پر قادر ہے، جس میں کوئی شبہ نہیں لیکن اس نے خود ہی قرآن میں اعلان کر دیا ہے کہ ہم اس گناہ کو معاف نہیں کریں ۔ گے، اس لیے ہر حال میں اس سے بچنا چاہیے ، قرآن کریم اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جو اسماء حسنی اللہ کے اچھے اچھے نام آتے ہیں ، ان تمام کو اللہ کے ساتھ ہی خاص رکھنا چاہیے ، سوائے ان صفاتی ناموں کے جن کا ذکر اللہ نے خود ہی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا ہے، جیسے عزیز ، رؤف ، رحیم ، ان کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک محدود کر دینا چاہیے۔
اللہ کے بعد قرآن کریم میں جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول اور خاتم النبیین ماننا ہے، یہ ایمان کا بنیادی حصہ اور ہمارے اسلامی کلمہ کی اساس ہے ، اس لیے اس کو سختی سے اپنے عقیدہ کا جز بنانا اور اس پر قائم رہنا، انتہائی ضروری ہے، اس یقین میں کمی اور علم صحیح کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں ہی کئی مرتد ہو رہے ہیں ، نئے نئے فتنے پیدا ہو رہے ہیں، قادیانیت اور شکیلیت اس فتنے کی مختلف کڑیاں ہیں ، ان ایمان فروشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے اللہ و رسول کے بعد آسمانی کتابوں ، فرشتوں ، رسولوں، انبیاء ، قیامت کے دن اور تقدیر پر بھی ایمان رکھنا ضروری ہے، اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا ہے، قرآن کا پیغام یہ بھی ہے کہ اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں کمی نہ جائے، نماز کا اہتمام کیا جائے ، زکوۃ دیا جائے ، روزے رکھے جائیں اور حج پر جانے کی استطاعت ہو تو اس کی ادائیگی بھی زندگی میں ایک بار کی جائے اللہ نبی صلی الہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجتے ہیں، اٹھتے بیٹتے اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجا جائے اور اسے صرف نماز کے قعدہ اخیرہ اور میلا دشریف تک محدود نہ رکھا جائے۔
حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد یعنی بندوں کے حق کا خیال رکھا جائے ، ترکہ میں لڑکیوں کو حصہ دیا جائے ، ان کا حق نہ مارا جائے ، اگر کسی نے حق نہیں دیا تو اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور جہنم کی بھیانک آگ اس کی منتظر ہے، بیوی کا مہر ادا کیا جائے ، اسے ادھار اور قرض نہ رکھا جائے ، اگر کسی نے ایسا کیا اور بیوی نے معاف نہیں کیا، تو اس کے ترکہ سے ادا کیا جائے اور جب تک یہ ادائیگی نہیں ہوتی عذاب دین یعنی قرض کا عذاب مرنے والے پر مسلط رہے گا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے ، انہیں جھڑ کنا تو دور کی بات ہے، اف تک نہ کہا جائے ، ان کو ضرورت ہو تو ان کا سہارا بنا جائے ، شفقت و محبت کے جذبے سے ان کے لیے اپنے کاندھے جھکاؤ اور یہ سب کرنے کے بعد ان کے لیے دعا بھی کرو کہ اے اللہ ! جس طرح بچپن میں رحمت و شفقت کے ساتھ انہوں نے پرورش کی ، اس لیے تو بھی ان پر رحم فرما۔ بیویاں اللہ کی خاص نعمت کے طور پر تمہیں دی گئی ہیں ، ان کا خیال رکھا جائے ، مرد وعورت دونوں ایک دوسرے کے لباس ہیں اور جس طرح لباس جسم کو ڈھانکتا ہے، تم لوگ بھی ایک دوسرے کے جسمانی اور اخلاقی عیوب کو چھپانے اور
ختم کرنے کا سبب بن جاؤ ، ان کو زدو کوب نہ کرو، ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کی جائے، مرد کو یک گونہ فضیلت اس لیے دی گئی ہے کہ اس کے ذمہ اہل و عیال کا نفقہ ہے، عورت فطری اور صنفی اعتبار سے کمزور واقع ہوتی ہے، اس لیے بیویوں کا نگراں اور ظاہری محافظ شوہر کو بنایا گیا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ داروغہ کی طرح بیویوں پر مسلط رہے، اس رشتہ کو اللہ رب العزت نے اپنی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا ہے، تا کہ اس کی قربت سے سکون محسوس ہو اور آپس میں محبت اور رحمت کا سبب بنے ، اس پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ گھر ٹنشن فری زون ہونا چاہیے، دن بھر کا تھکا ماندہ شوہر جب گھر پہونچے تو اسے لگے کہ ہم ایک پر سکون ماحول میں آگیے ہیں۔
قرآن کریم کی سماجی تعلیمات اور لوگوں کے لیے پیغامات کا خلاصہ یہ ہے کہ گھروں میں سلام کر کے داخل ہوا جائے ، مرد و عورت اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ، شرم گاہ کی حفاظت کریں ، عورتیں زیب وزینت کی نمائش نہ کریں ، اپنے کو گھر سے نکلتے وقت با حجاب اور پردہ میں نکلا کریں، بعض حالات میں جب مشترکہ خاندان گھر میں ایک ساتھ رہتا ہو تو حجاب، پردہ وغیرہ کا خیال رکھیں، آوازیں نیچی رکھی جائیں ، لوگوں سے بات چیت میں نرم لہجہ اختیار کیا جائے کیوں کہ اپنے وقت کے سب سے اچھے انسان حضرت موسیٰ و ہارون علیہا السلام کو اپنے وقت کے سب سے بڑے انسان کو بھیجتے وقت نرمی سے بات کرنے کی اللہ نے ہدایت دی، وعدہ خلافی نہ کی جائے ، ناپ تول میں کمی نہ کی جائے ، غریبوں اور یتامیٰ کا مال ناحق نہ کھایا جائے ، ذات برادری کی بنیاد پر تفریق نہ کی جائے، یہ برتری نہیں محض پہچان کے لیے ہیں ، جھوٹ نہ بولا جائے ، ایک دوسرے پر لعن طعن سے پرہیز کریں، غیبت نہ کریں ، کسی کی ٹوہ میں نہ پڑیں، حمل میں یا ولادت کے بعد لڑکے لڑکیوں کو جان سے نہ ماریں، اللہ تم کو بھی رزق دیتے ہیں اور آنے والے لڑکے لڑکیوں کے رزق کی ذمہ داری بھی اللہ نے لے رکھی ہے۔
اللہ رب العزت کا حکم ہے کہ امانتیں اہل کے حوالہ کی جائیں اور لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جائے ، احسان کا رویہ اختیار کیا جائے ، قرابت داروں کو ان کا حق دیا جائے فحش اور منکرات سے بچا جائے ، انصاف کے دامن کو نہ چھوڑا جائے، گواہیاں نہ چھپائی جائیں، خواہ وہ اپنے والدین اور اعز واقرباء کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، کسی قوم کی دشمنی نا انصافی پر نہ ابھارے، ہر حال میں عدل کرو، یہ عمل تقویٰ سے قریب ہے ، یتامیٰ کے مال کو خرد برد نہ کریں، ناپ تول میں کسی مرحلہ میں کمی بیشی نہ کریں، زمین پر اکڑ کر نہ چلیں، کیوں کہ اس عمل سے نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ ہی آسمان کی بلندیوں تک پہونچ سکتا ہے، زندگی عبادالرحمن بن کر گزارنی ہے اور ان کی پہچان یہ ہے کہ وہ زمین پر چلنے میں نرم روی اختیار کرتے ہیں، جاہلوں کے تخاطب کو سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں، راتوں کو سجدے اور قیام میں گزارتے ہیں، وہ اللہ سے جہنم کے عذاب کو دور کرنے کی دعائیں کرتے ہیں، وہ فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ ہی بخالت کرتے ہیں، نہ تو وہ ناحق قتل کرتے ہیں اور نہ ہی زنا کا ارتکاب کرتے ہیں۔
آخرت کے حوالہ سے قرآن کا پیغام یہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے، اس دن ہر آدمی اپنے بھلے برے کاموں کو دیکھ لے گا ، اچھے اور بُرے اعمال کے اعتبار سے داہنے اور بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیئے جائیں گے، جن کے داہنے ہاتھ میں نامۂ اعمال دیا جائے گا وہ جنت میں جائیں گے اور جن کو بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا وہ جہنمی ہوں گے، ان سے پوچھا جائے گا کہ کس جرم کی پاداش میں تم جہنم تک پہونچے ، وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے، مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور روز جزا کا انکار کرتے تھے، جن اعمال کا اللہ نے ذکر کیا ہے، اس میں ایک کا تعلق حقوق اللہ، دوسرے کا حقوق العباد اور تیسرے کا ایمانیات سے ہے، کہنے کو یہ چند جملے ہیں، لیکن اس میں پوری شریعت اور پورا دین سمایا ہوا ہے ۔
اس لیے اگر جنت میں جانے کی خواہش ہے تو پورے دین پر عمل کیا کیجئے ، اسلام میں پورے پورے داخل ہو جائیے، شیطان اور خواہشات کی پیروی سے باز آئے، کیوں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
وما توفيقى الا بالله عليه توكلت واليه انيب
Like this:
Like Loading...