Skip to content
” عافیت “ ایک عظیم ترین نعمت !
از : محمد عمر قاسمی کاماریڈی
انسانی زندگی کے سمندر کا تلاطم حالات کی موجوں کے اتار چڑھاؤ سے وجود میں آتا ہے ، کبھی مسرت و شادمانی ہے تو کبھی رنج و غم ، کبھی قبض تو کبھی بسط ، کبھی خزاں تو کبھی بہار ، خوش حالی تو کبھی قحط سالی ، کبھی صحت و تن درستی تو کبھی علالت و بیماری ؛ حالات کبھی یکساں نہیں ہوتے ، بہ قول علامہ اقبال ؒ
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
سازگار حالات اور ناموافق مواقع کا میسر آنا تکوینی نظام کا حصہ ہے ، ابتلا و آزمائش سے حفاظت ، کروب و آلام سے امن و سلامتی ، آفات و پریشانی سے آزادی ، اور جملہ مصائب و مشکلات سے پناہ کا نام ” عافیت “ ہے ، عافیت نہایت ہی مختصر اور جامع لفظ ہے ؛ لیکن اس میں معانی ومفاہیم کا ایک گنجینہ پنہاں ہے ؛ بلاشبہ ” عافیت “ انمول نعمت اور بیش قیمت خدائی تحفہ ہے ، آسودگی اور مرفہ الحالی کی زندگی بسر کرنے کا لطف’ ایمان و ایقان کے بعد سب سے بڑی دولت ہے ؛ نیز بغیر عافیت کے انسانی زندگی دولت و ثروت کی کثرت اور اسبابِ آرائش و آسائش کی بہتات ہوتے ہوئے بھی اجیرن اور دوبھر ہوجاتی ہے ، نعمتوں کی قدردانی بقاءِ عافیت اور ازدیادِ نعمات کی ضامن اور کفیل ہے ؛ لیکن آدم زاد نعمت کی قدر شناسی کے بجائے ناقدری کرکے موقع گنوا دیتا ہے ، حقیقت یہی ہے کہ قدرِ نعمت بعدِ زوال ہوتی ہے ، اور یہ بھی سچ ہے کہ ” قدر عافیت کسے داند کہ بہ مصیبتے گرفتار آید “
صبر و سزا کے بجائے عافیت مانگنی چاہیے!,
شریعت مطہرہ نے اپنے پیرو کاروں کو رضا بالقضاء کی تعلیم دی ہے ، بندۂ مؤمن کا شعار تو یہ ہے کہ وہ ” والقدر خيره وشره من الله تعالى “ پر ایمان لا کر خیر اور خوشی میں خدا تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہے ، شر اور مصیبت میں صبر کا دامن تھام لیتا ہے ، انسان پر جب مصائب و مشکلات آں پڑے تو شریعت ہر صاحبِ ایمان کو ان پر صبر کرنے کی تعلیم دیتی ہے ؛ لیکن بہت سی دفعہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض ضعیف الاعتقاد لوگ عافیت کی قدر کرنے کے بجائے اظہارِ توانائی کے نشہ میں توفیقِ صبر کی دعائیں کرتے ہیں اور کچھ انسان بڑی مصیبت کے بجائے چھوٹی مصیبت کا سوال کرتا ہے ؛ حالاں کہ ایسے موقع پر عافیت و سلامتی کی دعا مانگنی چاہیے، حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں : نبی ﷺ نے ایک شخص کو یہ دعا مانگتے دیکھا : ’’اللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الصَّبْرَ‘‘ (’’اے اللہ! میں آپ سے صبر مانگتا ہوں۔‘‘) تو آپ ﷺنے اسے منع فرمادیا کہ: ’’ سَأَلْتَ اللّٰہَ الْبَلاَئَ ۔‘‘ صبر تو بلاء ومصیبت پر ہوتا ہے،’’فَسَلْہُ العَافِیَۃَ‘‘ ۔۔۔۔۔ ’’تم اللہ سے صبر کی دعا مانگنے کے بجائے عافیت کی دعا مانگو۔‘‘
اور ایک حدیث مبارکہ میں اماں جان حضرت عائشہ صدیقہ ؓ محسن انسانیت ﷺ کے بارے میں فرماتی ہیں: ” ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم فى امرين إلا اخذ ايسرهما ما لم يكن إثما. فإن كان إثما “(موطا امام مالك :۶۲۳)
( نبی ﷺ کو جن دو کاموں میں اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان کام ہی اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ والا (ناجائز) کام نہ ہوتا)
آفات و مصائب قدرتی اور سماوی تو ہوتے ہیں ؛ لیکن بالعموم یہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ غیر متعلقہ امور میں پڑ کر اور غیر ضروری مقدمات میں پھنس کر خود مشکل میں پڑ جاتے ہیں اور پریشان ہوتے ہیں ؛ حالاں کہ یہ خلافِ عقل امر اور عافیت کی ناقدری ہے ، دانش مندی کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اپنے متعلقہ حلقہ اور محدود دائرہ میں رہیں اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں ، اور نبی ﷺ نے یہ دعا سکھائی ہے : ” اللهم إني اعوذ بك من زوال نعمتك وتحول عافيتك وفجاءة نقمتك وجميع سخطك “. (اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے ، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے ، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔)
عافیت کے سلسلہ میں اکابر کا نقطۂ نظر!
مادیت پرستی کے اس دور میں مال و زر کو ہی جزوِ زندگی اور مقصدِ حیات گردانا جاتا ہے ؛ جب کہ کثرتِ مال واسباب سے زیادہ بہتر پرسکون زندگی کا میسر ہونا ہے ، اس لیے بعض بزرگوں سے یہ منقول ہے کہ: ’’القلیل مع العافیۃ خیر من الکثیر مع القوارع۔‘‘ ( عافیت کے ساتھ تھوڑا مال اُس زیادہ مال سے بہتر ہے جو مصیبتوں کے ساتھ ہو۔)
★ اسی طرح عقل مندوں کا یہ قول ہے کہ: ’’العافیۃ تاج علٰی رؤوس الأصحاء لایراہ إلا المرضٰی۔‘‘ ( عافیت تو ایک تاج ہے جو تندرست لوگوں کے سروں پر سجا ہوا ہے ، وہ خود تو اس تاج کو نہیں دیکھ سکتے، ہاں! جو مریض ہوں‘ وہ اس تاج کو تن درستوں کے سروں پر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔)
★ نیز صاحبِ مظاہرِ حق علامہ نواب قطب الدین دہلویؒ ” نسأل اللّٰہَ العافیۃَ “ کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
’’ اللہ تعالیٰ عافیت مانگنے کو بہت پسند کرتا ہے ، اس کے برابر اور کسی چیز کے مانگنے کو پسند نہیں کرتا ، عافیت کے معنی ہیں: دنیا و آخرت کی تمام ظاہری و باطنی غیر پسندیدہ چیزوں: تمام آفات و مصائب ، تمام بیماریوں اور تمام بلاؤں سے سلامتی و حفاظت ؛ لہٰذا عافیت‘ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں پر حاوی ہے۔ جس نے عافیت مانگی ، اس نے گویا دنیا وآخرت کی تمام ہی بھلائیاں مانگ لیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ عافیت مانگنے کو پسند کرتا ہے ۔‘‘
★ ماضی قریب کے صاحبِ نسبت بزرگ حضرت ڈاکٹر عبدالحی عارفیؒ فرمایا کرتے تھے کہ: ”عافیت بہت بڑی چیز ہے ، بہت اونچی نعمت ہے ، اور عافیت کے مقابلے میں دنیا کی ساری دولتیں ہیچ ہیں ، کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں ؛ نیز وہ فرماتے تھے کہ: عافیت دل و دماغ کے سکون کو کہتے ہیں ، اور یہ سکون اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتا ہے ، یہ دولت اللہ تعالیٰ بغیر کسی سبب اور استحقاق کے عطا فرماتے ہیں ، عافیت کوئی آدمی خرید نہیں سکتا ، نہ روپیہ پیسے سے عافیت خریدی جاسکتی ہے ، نہ سرمایہ سے اور نہ ہی منصب سے کوئی عافیت حاصل کرسکتا ہے ، عافیت کا خزانہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے پاس ہے ، اس کی ذات کے سوا کوئی عافیت نہیں دے سکتا۔‘‘
★ ایک مرتبہ حضرت مفتی محمود الحسن صاحبؒ سے عافیت کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا : کہ جس شخص کو تین چیزیں نصیب ہوجائے تو سمجھ لو کہ اسے عافیت مل گئی :
(۱) اتباع سنت کی توفیق مل جائے ۔
(۲) بآسانی سانس آتی جاتی ہو ، (آکسیجن کی ضرورت نہ پڑے)
(۳) وقت پر حلال کی روزی مل جائے ۔ (راوی : مولانا شیخ حنیف لوہاروی صاحب)
★ داعی و مبلغ حضرت مولانا ابراہیم دیولا صاحب ادام اللہ بقاءہٗ ” عافیت “ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” دینی فتنہ اور جان لیوا بیماری سے نجات پانا عافیت ہے “ ۔
عافیت طلبی افضل ترین دعا ہے !
دعا مؤمن کا سب سے بڑا ہتھیار اور عبادت کا نچوڑ ہے ، دعا کی یہ تاثیر ہے کہ اس سے نازل شدہ آفت سے بھی چھٹکارا ملتا ہے اور آئندہ نازل ہونے والی آفات و بلیات سے بھی حفاظت ہوتی ہے ؛ چنانچہ ارشادِ نبوی ہے : ”دعا ہر حال میں نفع پہونچاتی ہے جو (آفات) نازل ہوگئی ان کو دور کرنے میں مفید ہوتی ہے اور جو ابھی نازل نہیں ہوئی وہ دعا سے ٹل جاتی ہے ؛ لہٰذا دعا کا خاص اہتمام کرو“۔ (سنن ترمذی)
خدا تعالیٰ سے مانگی جانے والی دعاؤں میں سب سے افضل اور پسندیدہ ” عافیت طلبی “ ہے ، اور نبی ﷺ نے بیشتر احادیث میں طلبِ عافیت کی دعائیں سکھائی ہیں ؛ چنانچہ سطورِ ذیل میں چند دعائیں درج کی جاتی ہے جن کا معمول بنالینے سے ان شاء اللہ ہر طرح کے شر اور نقصان سے تحفظ اور بچاؤ ہوسکتا ہے ، حضرت عبداللہ ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ صبح و شام میں ان دعاؤں کا پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ استُرْ عَوْرَاتي، وآمِنْ رَوْعَاتي، اللَّهمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَينِ يَدَيَّ، ومِنْ خَلْفي، وَعن يَميني، وعن شِمالي، ومِن فَوْقِي، وأعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحتي (مسند احمد : ۲/۲۵)
(اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا طالب ہوں ، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا اور اپنے اہل و مال میں معافی اور عافیت کا طالب ہوں ، اے اللہ! میرے عیوب چھپا دے ، میرے دل کو مامون کر دے ، اور میرے آگے پیچھے ، دائیں بائیں ، اور اوپر سے میری حفاظت فرما ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں نیچے سے ہلاک کئے جانے سے)
(۲) حالتِ عافیت میں نعمتِ عافیت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے ، اور عافیت کے بقا و دوام کی دعا اور مستقبل کی مشکلات اور مصیبتوں سے بچنے کی دعا مانگنی چاہیے۔
” اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ تَمَامَ الْعَافِيَةِ وَ أَسْأَلُكَ دَوَامَ الْعَافِيَةِ وَ أَسْأَلُكَ الشُّكْرَ عَلَى الْعَافِيَةِ وَ أَسْأَلُكَ الْغِنٰى عَنِ النَّاسِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ وَ الْمُعَافَاةَ الدَّائِمَةَ فِي الدِّيْنِ وَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
اَللّٰهُمَّإِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجالِ“.
( اے اللہ میں آپ سے مکمل عافیت کا سوال کرتا ہوں ، اور آپ سے عافیت کے دوام کا سوال کرتا ہوں ، اور عافیت پر شکر گزاری کی آپ سے دعا کرتا ہوں ، اور لوگوں سے بے نیازی کی آپ سے دعا کرتاہوں۔ اے اللہ میں آپ سے بخشش اور عافیت اور دین و دنیا اور آخرت میں ہمیشہ کی معافی کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ میں جہنم کے عذاب سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں ، اور قبر کے عذاب سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں ، اور ظاہر و باطن تمام فتنوں سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں اور دجال کے فتنے سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔) (صحیح مسلم : ۲۸۶۷)
(۳) حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ کی یہ دعا تھی: ” اللهم إني اعوذ بك من زوال نعمتك وتحول عافيتك وفجاءة نقمتك وجميع سخطك “. (اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے ، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے ، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔) (سنن ابي داود: ۱۵۴۵)
ایک حدیث میں محسن انسانیت ﷺ نے اذان و اقامت کے درمیان عافیت مانگنے کی تعلیم دی ہے ؛ چنانچہ روایت میں ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ محبوبِ خدا ﷺ نے فرمایا کہ: اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم اس وقت کیا دعا کریں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ”سلوا الله العافية في الدنيا والآخرة “ (اللہ سے دنیا وآخرت کی عافیت مانگو۔) (سنن ترمذي : ۳۵۹۴)
حاصل کلام یہ کہ عافیت کے ہوتے ہوئے قدر کرنی چاہیے ، اگر خدانخواستہ مصیبت آجائے تو جزع فزع اور شکوہ شکایت کے بجائے صبر سے کام لینا چاہیے ، اور ذاتِ باری تعالٰی پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے فراخی و کشائش کا انتظار و امید رکھنی چاہیے ، اور اللہ تعالیٰ سے ہر حال میں راضی رہنا چاہیے۔
پروردگارِ عالم سے دعا ہے کہ اے اللہ ہمیں دونوں جہاں کی مکمل عافیت عطا فرمائے اور ہر طرح کے آفات و مصائب سے محفوظ فرمائے اور ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھیں آمین
Like this:
Like Loading...