Skip to content
ظریفانہ: ’آ کنال مجھے مار‘
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن نے کلن سے کہا یار اگر یہ کنال کامرا مسلمان ہوتا تو میں اسے قتل کردیتا ۔
ارے بھیا مسلمان سمجھ کر ہی قتل کردو ۔ ہرین پنڈیا ، پرجاپتی ،جسٹس لویا وغیرہ تھوڑی نا مسلمان تھے ۔اس لیے بھید بھاو کی کیا ضرورت؟
للن بگڑ کر بولا میں سنجیدہ بات کررہا ہوں تم ہنسی میں اڑا رہے ہو۔ یہ بہت بری بات ہے۔ اب پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے۔
کلن نے سوال کیا ، کیوں بھائی تم اس بیچارے مسخرے کی جان کے پیچھے ہاتھ دھو کر کیوں پڑ گئے؟
تم بیچارہ کہہ کر اس سےہمدردی تو نہیں جتاہے؟ دیکھو کلن و ہ مسخرہ ضرور ہے مگر بیچارہ نہیں ۔
ارے بھائی میں ہمدردی تھوڑی نا جتا رہا ہوں ۔ میرا تو کہنا ہے کہ ایسے للو ّپنجو کے منہ نہیں لگتے ۔
ہم تھوڑی نا اس کے منہ لگ رہے ہیں۔ وہ خود ہم پر بھونکتا ہے ۔ آخر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ کب تک؟ انسان آخر کب تک ۰۰۰
اوہو للن غصہ تھوک دو ۔ ہمارا ہاتھی سو سالوں سے جھومتا جھامتا چل رہا ہے اور کتے اس پر نہ صرف بھونکتے بلکہ کاٹ بھی لیتے ہیں، ہمیں فرق نہیں پڑتا۔
یار بھونکنا تو سمجھ میں آتا ہے مگر کاٹنا پہلی بار سنا ۔ یہ کیا چکر ہے؟
بھئی للن بھونکنا تو زبانی جمع خرچ ہے مگر درمیان میں کبھی کبھار پابندی وابندی بھی لگ جاتی ہے اسے کاٹنا سمجھ لو۔
یا ر تم نے بھی کنال کامرا کی مانند ہمارے سب سے بڑے رہنما سردار پٹیل کی توہین کردی ۔ اگرایف آئی آر کردوں تویواے پی اے لگ جائے گا۔
کیا بکواس کرتے ہو۔ میں نے کس کی تضحیک کی بھلا ؟
للن بولا بھیا اگر پابندی لگانا کاٹنے کے مترادف ہے تو ہم پر پہلی پابندی انگریزوں نے نہیں پٹیل نے لگائی تھی۔
ارے بیوقوف انگریز ہم پر پابندی کیوں لگاتے؟ ہم تو ان کی وفاداری میں انہیں کے مشن پر کام کررہے تھے ۔
چلو مان لیا لیکن پٹیل کو تو سمجھنا چاہیے تھا کہ نہرو کے مقابلے ہم ان کی حمایت کرتے ہیں ۔ اس لیے کم ازکم ہم پر پابندی تو نہیں لگاتے؟
ارے بھیا وہ نہرو کے مقابلے پر نہیں تھے۔ وہ دونوں تو بہت اچھے دوست تھے اور ہم گاندھی جی کے قاتل کا الزام لگاکر پابندی لگائی تھی ۔
اچھا تو اب سمجھا کہ نہرو کے بہکاوے میں آکر بیچارے پٹیل نے ہم پر پابندی لگا دی۔ وہی تو میں سوچ رہا تھا کہ اتنا اچھا آدمی ایسا غلط کام کیسے کرسکتا ہے؟
بھیا پٹیل کسی کی باتوں میں آنے والے آدمی نہیں تھے۔ انہوں نے خود اپنے خط لکھا کہ ہماری وجہ سے بننے والے ماحول نے گاندھی جی کا قتل کروا یا۔
اچھا ایسی بات ہے تو پردھان جی نے ان کا اتنا قدآور مجسمہ کیوں بنوایا؟ اور ہر سال تہنیت کیوں کرتے ہیں؟؟
کیا کریں ؟ سنگھ کے آبا و اجداد میں کوئی ایسا ہے ہی نہیں کہ جس کے تئیں عوامی سطح پرعقیدت کا اظہار کیا جا سکے اس لیے ’نئیں ماما سے کانا ماما‘ ۔
للن بولا میں کنال کامرا کی بات کررہا تھا تم اسے سردار پٹیل کی طرف لے گئے کہیں کانگریس کا اثرتو نہیں ہوگیا؟
یار یہ فن تو ہم نے اپنے آئی ٹی سیل سے سیکھا ہے۔ یہ بیچ میں کانگریس کہاں سے آگئی؟
اپنا آئی ٹی سیل ؟ کیا وہ یہی سب سکھاتا ہے؟؟ کیا بکواس کرتے ہو؟؟؟
اس میں بکواس کی کیا بات؟ اب دیکھو مولانا محمود مدنی نےکہا کہ ’جب جب ظلم ہوگا تب تب جہاد ہوگا‘ اب تم ہی بتاو کہ اس میں کیا غلط ہے؟؟
للن نے چونک کر پوچھا یار غضب کرتے ہو۔ وہ کھلم کھلاّ عوام کو جہاد پر اکسا رہے ہیں اور تم کہتے ہو کہ اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ پاگل ہوگئے ہوکیا!
دیکھا تم بھی جاکر جہاد پر اٹک گئے۔ اس کے پہلے جو کہا اسے بھول گئے ۔ انہوں نے جہاد کو ظلم سے مشروط کیا ہے۔ کیا سمجھے ؟
ارے بھائی اپنے بھاگوت جی تو کہہ چکے ہیں کہ ہندوستان ہندو راشٹر ہے۔ اب تم ہی بتاو کہ ہندو راشٹر میں جہاد کا کیا کام؟
کلن نے سوال کیااچھا تو یہ بتاو کہ ہندو راشٹر میں ظلم وجبر کا کیا کام ؟
سنگھ چالک موہن بھاگوت تو وسودھیو کٹمبکم(ساری دنیا ایک کنبہ) کے قائل ہیں اس لیے ہندو راشٹر کے اندر کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا ۔
تو بات ختم ۔ نہ ظلم ہوگا اور نہ جہاد ہوگا ۔ پریشانی کی کیا بات ہے؟ آخر ہم جہاد سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟ جہاد سے بچنا ہوخود کو تو ظلم سے روکو ۔
مجھےتم تو کنال کامرا کے دوست لگتے ہو۔ میں جب بھی اس کی بات کرتا ہوں تم کہیں اور لے جاکر مجھے سردار پٹیل یا مولانا مدنی میں الجھا دیتے ہو۔
نہیں بھائی یہ تو بتاو کہ آخر اس کمبخت نے ایسا کیا کردیا کہ تم اتنے زیادہ خفا ہو ؟
بھیا اس بدبخت نے اپنی ٹی شرٹ پر آر ایس ایس لکھ کر اس پر کتے کو پیشاب کرتے دِکھا دیا ۔ اسی لیے کہتا ہوں کہ اگر وہ مسلمان ہوتا تو۰۰۰
بھیا پیشاب تو کتا کررہا ہے۔ یہ بتاو کہ وہ مسلمان ہے یا ہندو؟
وہ کتا! میرے خیال میں وہ ہندو یا مسلمان نہیں عیسائی ہے ۔
کلن نےہنس کر سوال کیا اچھا یہ تمہیں کیسے پتہ چلا ؟ کیا تم نے اسے گرجاگھر میں آتے جاتے دیکھاہے؟
یار کلن تم کتنے بھولے ہو؟ دیکھو جیسے گائے ہندو ہوتی ہے ویسے بکرا مسلمان ہوتا ہے ۔ ہاتھی دلت اور کتا عیسائی ہوتا ہے۔ تم اتنا بھی نہیں جانتے۔
کلن نے پوچھا اچھا بہت خوب۔ یہ بتاو کہ بلی کون ہوتی ہے؟
للن شرما کر بولا مجھے تو لگتا ہے کہ بھیگی بلی سنگھی ہوتی ہے ورنہ اس توہین کے بعد وہ شیوسینا کے چیتے کی مانند کنال کامرا پر جھپٹ پڑتی۔
ارے بھائی اپنے چندر شیکھر باون کلے نامی نے تو دھمکی دی ہے کہ اس میسیج کو جو پھیلائے گا اس پر کارروائی کی جائے گی ۔
غضب تماشا! پھیلانے والے کو کارروائی کی دھمکی لیکن بنانے والے کے خلاف زبان نہیں کھلتی۔ آخر اس سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟
بھیا اس نے تو اپنی ٹی شرٹ پر پی ایس ایس لکھا اور تم جیسے لوگوں نے اسے آر ایس ایس پڑھا۔ اب اس میں بیچارے کنال کامراکا کیا قصورَ ؟
پھر بیچارہ ؟ تم نہیں جانتے اس نے ہمارے ڈر سے پی ایس ایس لکھا ورنہ وہ تو آر ایس ایس ہی لکھنا چاہتا تھا۔
اگر وہ ڈرپوک ہوتا تو پی ایس ایس بھی کیوں لکھتا؟ اور عدالت اس بات پر فیصلہ نہیں کرے گی کہ وہ کیا چاہتا تھا وہ تو دیکھے گی کہ اس نےکیا کیا؟
اچھا ایسی بات ہے تو بتاو کہ یہ پی ایس ایس کیا ہے؟
لوگ کہتے ہیں کہ پی ایس ایس کا مطلب ’پیوپل ودھ سینس آف سٹائر‘ یعنی ظرافت کے حامل لوگ ہوتا ہے ۔
اچھا تو کیا ایسی کسی تنظیم کا سرکاری دفتر مثلاًچیریٹی کمشنر یا انکم ٹیکس وغیرہ میں اندراج ہے؟ ارے بھیا ایسا کوئی ادارہ ہی نہیں ہے۔
بھیا اپنے آر ایس ایس کا بھی تو نہ اندراج ہے اور نہ دستور جبکہ سردار پٹیل نے ہمیں اس کا پابند کیا تھا ۔ اس لیے خاموشی میں بھلائی ہے۔
للن نے کہا لیکن پردھان جی نے لال قلعہ سے ہمیں دنیا کی سب سے بڑی غیر سرکاری تنظیم ہونے کا سرٹیفکیٹ دے دیا اور کیا چاہیے۔
تم کس پردھان جی بات کررہے ہو جن کی اپنی ڈگری جعلی ہے؟ ایسے پردھان کے سرٹیفکیٹ کی کیا حیثیت ؟ اندراج نہ ہونا ناقابلِ تردیدحقیقت ہے۔
اچھا یہ بتاو کہ اگر کسی کا رجسٹریشن نہ ہو تو کیا لوگوں کو اس کی تضحیک کرنے کا حق مل جاتا ہے؟
بھیا جو موجود ہی نہ ہو تو اس کی توہین کیسی؟ ویسے پپو، ہائبرڈ بچھڑا، جرسی گائے، کٹھ ملا اور بابر کی اولاد وغیرہ کہنے کی روایت تو ہمیں نے قائم کی ہے ۔
وہ تو ٹھیک ہے مگر ہم نے کتے کو ٹانگ اٹھا کرکسی پر پیشاب کرتے تو نہیں دِکھایا، یار یہ کیسے برداشت کرلیں ؟
تم تصویر سے پریشان ہو۔ ہمارے پرویش شکلا نے تو قبائلی مزدور کے سر پر پیشاب کرکے ویڈیو بنائی اور اسے پھیلایا۔ ہم کس منہ سے مخالفت کریں ۔
دیکھو بھائی شکلا جیسا سنگھی برہمن ایسی ظلم کبھی نہیں کرسکتا ۔ یہ ہمیں بدنام کرنے کی سازش ہے۔
اچھا تو اس کے گھر اپنے شیوراج سنگھ چوہان نے بلڈوزر کیوں چلایا؟ اور مظلوم قبائلی کے پیر دھونے کی نوٹنکی کیوں کی؟
ارے بھائی کیا کریں۔ ووٹ کے لیے یہ تماشا کرنا پڑتا ہے ورنہ دلت اور قبائلی آج کل بہت اچھل رہے ہیں ان کو قابو میں رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے۔
اچھا تو کیا ہم کم اچھل رہے ہیں۔ ہمیں قابو میں رکھنے کے لیے کنال نے ایک طنزیہ ٹی شرٹ پہن لی تو کون سا مہاپاپ کردیا؟
دیکھو کلن تم اس کا لاکھ دفاع کرو ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔ اس کو عدالت سے سزا دلوا کر رہیں گے۔ کیا سمجھے ؟
ارے بھیا عدالت سزا کیسے دے گی؟ پاگل ہوگئے ہو کیا ؟ اس نے تو پی ایس ایس لکھا ہے ۔ ہمارا نام ہی نہیں لکھا ۔
اچھا تو ہمارے رہنما اس کی مخالفت کیوں کررہے ہیں؟ ملک بھر میں ’ہنگامہ ہے کیوں برپا‘؟
بھیا اسے’چور کی داڑھی میں تنکا‘ کہتے ہیں ۔ ہم اسے نظر انداز کردیتے تو معاملہ رفع دفع ہوجاتا مگر ہم نے ’آکنال مجھے مار ‘والی حماقت کردی۔
للن بولا تم سے بحث بے کا ہے میں تو تمہیں اپنا آدمی سمجھتا تھا مگر تم تو کنال کے ہمدرد نکلے میں چلتا ہوں۔
Post Views: 26