Skip to content
سرمائی اجلاس : شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی روایت شکن رہنما ہیں ۔ ان کو جو کرنا چاہیے وہ کرنے کے بجائے کچھ اور ہی کرتے رہتےہیں مثلاً ایوان پارلیمان کے اجلاس سے قبل حزب اختلاف کے ساتھ ایک نشست ہوتی ہے جس میں ایجنڈا یعنی وہ موضوعات ومسائل طے ہوتےہیں جن پرگفتگو کی جائے ۔ موصوف اس میں شرکت کرنا اپنے لیے کسرِ شان سمجھتے ہیں اس لیے کبھی شریک نہیں ہوتے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کوئی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ سرکار بعد میں بتائے گی یعنی شہنشاہ سے پوچھ کر اطلاع دی جائے گی۔ پچھلی بار دوران اجلاس وہ برطانیہ اور مالدیپ کے دورے پر نکل گئے تھے ۔ اس معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک ایوان اور اس کی کارروائی سے زیادہ اہم سیر و تفریح ہے کیونکہ موصوف کے غیر ملکی دوروں سے ملک کا تو کوئی بھلا نہیں ہوتا۔ ہزاروں کروڈ گنوانے والے وزیر اعظم کے ساتھ آپریشن سندور کے بعد مشکل کی گھڑی میں کوئی ایک بھی ملک نہیں کھڑا تھا ۔وزیر اعظم مودی کی غیر سنجیدگی نے ایوان پارلیمان کے وقار کو اس قدر پامال کیا کہ اس پر احمد مشتاق کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیا
ہم نے تو اپنے باغ کو صحرا بنا دیا
وزیر اعظم کو اجلاس کے دوران سب کی بات سن کر اس کا جواب دینا چاہیے مگر یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اول تو لوگوں کی باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتیں اور اگر آبھی جائیں تو سیکریٹری کی مدد کے بغیر جواب دینے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ اس لیے وہ کسی کی سننے کے نہیں بلکہ صرف اپنی رٹی رٹائی تقریرسنانے کے قائل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ موصوف مہمان کی مانند اپنی تقریر سے قبل ایوان میں تشریف لاتے ہیں اور ایک بھاشن ٹھونک کر گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہوجاتے ہیں لیکن اجلاس سے قبل ایوانِ پارلیمان سے باہر اخبار نویسوں کو ضرور خطاب فرماتے ہیں۔ اس بار انہوں نے فرمایا کہ’ یہ اجلاس شکست کی مایوسی یا فتح کے گھمنڈ کا میدان نہیں بننا چاہیے‘۔ اس کے فوراً بعد وہ ایوانِ بالا میں گئے اور خود ان کی اپنی پارٹی کے صدر نےاس نصیحت کی دھجیاں اڑا دیں ۔ جگدیپ دھنکڑ کی رسوا کن دداعی کے بعد یہ پہلا اجلاس ہے اور اس کی صدارت نئے نائب صدر رادھا کرشنن فرما رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے تہنیتی خطاب کیا۔
وزیر اعظم کے بعد حزب اختلاف کے رہنما ملک ا رجن کھرگے نے بھی صدرِ اجلاس کی تہنیت کے بعد سابق نائب صدر کو یاد کرکے کہہ دیا کہ انہیں افسوس ہے کہ سابق صدر اجلاس کی الوادعی تقریب کا موقع نہیں آیا۔ اس ایک جملے نے ان تمام تلخ یادوں کو تازہ کردیا کہ جن میں دھنکر کو بھگایا گیا تھا۔ ان کے روپوش ہونے کے مناظر بھی سامنے آگئے اور آج بھی وہ بیچارے گمنامی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کھرگے کے تبصرے سے بی جے پی کے صدر جے پی نڈا کو ایسا جھٹکا لگا کہ جسے وہ برداشت نہیں کرسکے اور وزیر اعظم کی نصیحت کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ۔ انہوں نے فرمایا آپ کو بہار ، ہریانہ اور مہاراشٹر کی ہار نے کافی تکلیف پہنچائی ہے ۔آپ کو اپنی تکلیف ڈاکٹر کو بتانا چاہیے۔ اس جملے کا موجودہ یا سابق صدرِ اجلاس سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں تھا مگرحزب اختلاف کو شکست کی مایوسی کا شکار کرنے کی خاطریہ فتح کا غرور بول رہا تھا ۔ کسی معمولی رکن پارلیمان سے یہ حرکت سرزد ہوتی صدر جے پی نڈا سے سنبھالتے مگر خود انہوں نے ہی اپنے وزیر اعظم کے فرمان کو کوڑے دان کی نذر کر دیا۔کتھنی اور کرنی کا فرق اسی کو کہتے ہیں۔
ایوان کے باہر اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ نئی نسل کے ارکان کو تجربات کا فائدہ ملنا چاہیے لیکن اگرنوجوان ان سے کینہ پروری سیکھیں تو اس سے ملک و قوم یا ان کی اپنی ذات کا کون سا بھلا ہوگا؟ وزیر اعظم نے یہ بھی فرمایا کہ یہاں نعروں کے بجائے حکمت عملی پر زور دیا جانا چاہیے۔ پچھلی بار ایوان میں وزیر اعظم کا استقبال ’ووٹ چھوڑ گدی چھوڑ‘ کے نعرے سے ہوا تھا۔ شاید اس کے زخم ابھی بھرے نہیں ہیں لیکن حزب اقتدار بھی تو کسی سنجیدہ حکمتِ عملی پر بحث کرنے کے بجائے گھٹیا قسم کی نعرے بازی اور گالی گلوچ تک میں مصروف رہتا ہے۔ وزیر اعظم یا وزیر داخلہ ان کی حوصلہ شکنی کرنے کے بجائے پیٹھ تھپتھپاتے نظر آتے ہیں ۔ اس بار مودی کا یہ مکالمہ خوب چلاکہ ’ یہاں ڈرامہ نہیں ڈیلیوری ہونی چاہیے‘ ۔ وزیر اعظم کو جس کسی نے یہ جملہ لکھ کر دیا اسی سے اگر وہ اس مطلب بھی پوچھ لیتے تو ایسی احمقانہ بات کرنے بچ سکتے تھے لیکن رسوائی جس کا مقدر ہو اسے کون ٹال سکتا ہے؟
جمہوری نظام سیاست میں مختلف جماعتیں اپنا منشور پیش کرکے انتخاب لڑتی ہیں اور کامیابی یا ناکامی سے دوچار ہوجاتی ہیں ۔ انتخابی کامیابی کے بعد حکومت کے سارے انسانی و مالی وسائل حزب اقتدار کے قبضے میں آجاتے ہیں اس لیے ڈیلیوری کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ حزب اختلاف کا کام تو صرف سرکار کی توجہ عوامی مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا اور ان کے وعدوں کے تعلق سے احتساب لینا ہوتا ہے جس کو کرکے کوئی جماعت اقتدار میں آئی ہو۔ وزیر اعظم نے حزب اختلاف کو ڈیلیوری کی تلقین کرکے بتا دیا کہ وہ اس نظام سیاست کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہیں ۔ حزب اختلاف کا فرض ہے کہ وہ سرکار سے پوچھے ’اچھے دن کہاں گئے؟‘ دو کروڈ سالانہ نوکریوں میں سے کتنی ملیں اور کتنی پکوڑے تلنے کی نذر ہوگئیں؟ایندھن کا بھاو کیوں بڑھ رہا ہے اور ؟ روپیہ کی قیمت کس لیے گھٹ رہی ہے؟ ٹریف کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا؟ آئی ایم ایف نے ہندوستانی معیشت کو بھی پاکستان کے سی گریڈ میں کیوں ڈال دیا؟منی پور میں کیا ہورہا ہے؟ تیجس کیوں گرگیا؟ یہ اور اس طرح سوالات کاجواب دینا حکومت کی ذمہ داری اور ڈیلیوری ہے ۔
حکومت ان مسائل پر گفتگو کرنے سے بچنے کے لیے وندے ماترم پر دس گھنٹوں تک بحث کرکے وقت ضائع کرنا چاہتی ہے۔ یہ بلی کا آنکھ موند کر دودھ پینے کی طرح ہے۔ وزیر اعظم حزب اختلاف کے سوالات کو ڈرامہ کہہ کر خود کو بچا نہیں سکتے کیونکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ نوٹنکی کے معاملے میں ٹرمپ بھی ان کے آگے پانی بھرتا ہے۔ فی الحال ملک بھر میں ایس آئی آر کے نام پر بی ایل اوز خودکشی کررہے ہیں؟ یا کام کے دباو میں حرکتِ قلب بند ہونے کے سبب لقمۂ اجل بن رہے ہیں۔ اس پر حکومت کے کسی اہم رہنما نے ہمدردی کا ایک جملہ تک نہیں کہا حالانکہ مرنے والے مسلمان ہوتے تو ان کی مجبوری قابلِ فہم تھی لیکن یہ لوگ تو اپنے ہندو رائے دہندگان کی موت پر بھی سفاک ہوگئے ۔ اس ظلم کی پردہ پوشی کے لیے الیکشن کمیشن خواتین بی ایل اوز کو نچا کر ان کی ویڈیوز جاری کررہا ہے۔ یہ وہی الیکشن کمیشن ہے جس نے یہ کہہ کر رائے دہندگان کی معلومات دینے سے انکار کردیا تھا کہ اس سے ملک کی باوقارخواتین کی توہین ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بی ایل اوز خواتین نہیں ہیں ۔کیا ان کے رقص کی آڑ میں اپنے جرائم کی پردہ پوشی کرنا بدترین خیانت نہیں ہے؟ کیا مودی جی الیکشن کمیشن کی اس ڈرامہ بازی پر لگام لگائیں گے؟
پہلگام حملے کے بعد دارالخلافہ دہلی میں دھماکے ہوگئے۔ اس میں پندرہ لوگ ہلاک ہوئے اس کے بعد کشمیر کے پولیس تھانے میں دھماکے ہوئے جس میں تیرہ اہلکاروں کی موت ہوئی ۔ ایسے میں حزب اختلاف کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوال کرے کہ دہلی میں دھماکوں کو روکنے کی ذمہ داری کس پر تھی؟ وزیر داخلہ اگر اسے نبھانے میں ناکام ہوگئے تو فیویکول لگا کر اپنی کرسی سے کیوں چپکے ہوئے ہیں؟ کانگریسی وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے تو ممبئی دھماکے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا پھرامیت شاہ کیوں نہیں دیتے؟ یہ ملک کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ حزب اختلاف یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آپریشن سندور اگر جاری ہے تو دہلی دھماکے کے بعد اس کا انتقام لینے میں کیا رکاوٹ ہے؟ دہلی کے اندر آئی ایس آئی اسلحہ بھیجتی ہے ۔ انڈرو ورلڈ ڈان ان کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں ؟ یہ کس کی ناکامی ہے ؟ سرکار سے اس بابت سوال کرنا ڈرامہ نہیں ہے ۔ دہلی کی ہوا میں آلودگی بامِ عروج پر ہے۔ عوام کا سانس لینا مشکل ہوگیا ہے۔ پہلے تو اروند کیجریوال کو ذمہ دار ٹھہرا دیا جاتا تھا لیکن اب تو ڈبل انجن سرکار ہے۔ آلودگی کم کرنے کی خاطر سرکار کیا کررہی ہے؟ ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم کا مضحکہ خیز انداز میں’موسم کا مزہ لیجیے‘کہہ دینا نہایت شرمناک جملہ ہے لیکن موجودہ سرکار پر تو غالب کا یہ شعر(مع ترمیم) صادق آتا ہے؎
پہلے آتی تھی حال دل پہ ہنسی ،اب کسی بات پر نہیں آتی سانس کس ناک سے لوگے مودی، شرم تم کو مگر نہیں آتی
Like this:
Like Loading...