Skip to content
وراثت کا اسلامی نظام: ارتکازِ دولت کے خلاف خدائی حکمتِ عملی
ازقلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت۔
اسلام کا نظامِ وراثت محض جائیداد کی منتقلی کا قانونی ضابطہ نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر معاشی اور سماجی حکمتِ عملی کا مظہر ہے جو براہِ راست وحیِ الٰہی سے ماخوذ ہے۔ یہ نظام انسانی خواہشات، تعصبات اور وقتی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر عدلِ الٰہی کا وہ نمونہ پیش کرتا ہے جس کی جڑیں قرآن و سنت کی ابدی تعلیمات میں پیوست ہیں۔ قرآن کریم کی سورۃ النساء کی آیات 7، 11 اور 12 میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کے حصے، حقدار اور اصول اتنی جزئیات کے ساتھ بیان فرمائے ہیں کہ کسی بھی دوسرے قانونی نظام میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے… خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ، یہ حصہ مقرر شدہ ہے” (النساء: 7)۔ یہ حکم اس انقلابی تبدیلی کا نقیب تھا جس نے جاہلیت کے اُس نظام کو یکسر مسترد کر دیا جس میں صرف جنگجو مردوں کو وارث سمجھا جاتا تھا، اور خواتین و کمزور بچوں کو محروم رکھا جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے "نصف علم” قرار دیا اور امت کو اس کے سیکھنے اور سکھانے کی خاص تاکید فرمائی، کیونکہ یہ وہ پہلا علم ہے جو امت سے اٹھا لیا جائے گا۔
فقہی اعتبار سے اسلامی وراثت کا قانون ایک خودکار نظام ہے جو انسان کی موت کے فوراً بعد حرکت میں آ جاتا ہے۔ ترکے کی تقسیم سے قبل، حقوقِ متقدمہ کی ادائیگی لازمی ہے جن میں تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور جائز وصیت (جو کہ کل مال کے ایک تہائی تک محدود ہے) شامل ہیں۔ یہ ترتیب اس بات کی ضمانت ہے کہ مرحوم پر کوئی مالی بوجھ باقی نہ رہے اور بچ جانے والے ورثاء کو ان کا شرعی حق بغیر کسی قانونی رکاوٹ کے مل جائے۔ فقہاء کے درمیان بعض جزوی مسائل جیسے "عول” (جب وارثین کے حصے کل جائیداد سے بڑھ جائیں) اور "رد” (جب حصے بچ جائیں) میں باریک بین اختلافات موجود ہیں، جو اس نظام کی علمی گہرائی اور لچک کا ثبوت ہیں۔ مثال کے طور پر، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں پیدا ہونے والے عول کے مسئلے کا حل اجتہاد کے ذریعے نکالا گیا، جو آج بھی عدالتی نظیر کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ تاہم، مذاہبِ اربعہ (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) اس بنیادی اصول پر متفق ہیں کہ قرآنی حدود میں رد و بدل ممکن نہیں، البتہ جدید پیچیدہ حالات میں مقاصدِ شریعت کو سامنے رکھتے ہوئے تطبیق کی راہیں نکالی جا سکتی ہیں۔
معاشی زاویے سے دیکھا جائے تو اسلامی نظامِ وراثت ارتکازِ دولت کے خلاف ایک مؤثر ترین ہتھیار ہے۔ جہاں جاگیردارانہ نظام یا مغربی قانونِ وراثت (جیسے قانونِ وراثتِ اکبر) جائیداد کو ایک ہی وارث یا نسل میں مرکوز رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، وہاں اسلام جائیداد کو وسیع تر حلقے میں تقسیم کر کے معاشی گردش کو یقینی بناتا ہے۔ یہ نظام معاشی ناہمواری کے پیمانے کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے کیونکہ ہر نسل میں دولت چھوٹے حصوں میں بٹ کر زیادہ لوگوں تک پہنچتی ہے، جس سے غریب رشتہ داروں کی خود بخود کفالت ہوتی ہے۔ یہ تقسیم در تقسیم کا عمل اگرچہ بظاہر زمین یا اثاثوں کو چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے، لیکن جدید معاشی تجزیہ نگار اسے تقسیمِ سرمائے کا بہترین ذریعہ مانتے ہیں جو انفرادی ملکیت کے فروغ اور چھوٹے کاروبار کی بنیاد بنتا ہے۔
عالمی قوانین کے تقابل میں، اسلامی قانونِ وراثت ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ مغربی قوانین (جیسے برطانیہ کا موروثی قانون) زیادہ تر وصیت کی آزادی پر مبنی ہیں جہاں کوئی بھی شخص اپنی جائیداد کسی بھی غیر متعلقہ فرد یا ادارے کو دے کر اپنے خونی رشتہ داروں کو محروم کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اسلام میں وصیت کو ایک تہائی تک محدود کر کے اور وارث کے حق میں وصیت کو ممنوع قرار دے کر خونی رشتوں کے تقدس اور معاشی تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ اسی طرح، ہندو قانونِ وراثت میں روایتی طور پر خواتین کے حقوق محدود تھے، جبکہ اسلام نے چودہ سو سال قبل خواتین کو جائیداد میں مستقل اور ناقابلِ تنسیخ حق دار قرار دیا۔ یہ مساوات کے بجائے عدل کا فلسفہ ہے، جہاں مرد کو ملنے والا دگنا حصہ اس کی معاشی ذمہ داریوں (نان نفقہ، مہر) کے بدلے ہے، جبکہ عورت کا آدھا حصہ اس کی خالص بچت ہے جس پر کسی اور کی کفالت کا بوجھ نہیں۔
عصرِ حاضر میں اسلامی وراثت کے نظام کو درپیش چیلنجز اور جدید قانونی مسائل کا احاطہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان، مصر اور ملائیشیا جیسے ممالک میں "وصیتِ واجبہ” (دادا کی زندگی میں فوت ہونے والے بیٹے کی اولاد کا حق) کے مسئلے کو اجتہاد کے ذریعے حل کیا گیا ہے، تاکہ یتیم پوتوں کی کفالت کا بندوبست ہو سکے، جو مقاصدِ شریعت کے عین مطابق ہے۔ اسی طرح، جدید دور میں ڈیجیٹل اثاثوں (جیسے رمزی کرنسی، رقمی بٹوے، حقِ ملکیت) کی وراثت ایک نیا فقہی چیلنج ہے جس پر معاصر علماء اور ٹیکنالوجی کے ماہرین مل کر کام کر رہے ہیں۔ ڈی این اے جانچ کے ذریعے نسب کے تعین اور وراثت کے حقوق پر بھی جدید فقہی تحقیقات جاری ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلامی قانون جمود کا شکار نہیں بلکہ ہر دور کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ہمارے معاشرتی رویوں میں ایک المیہ خواتین کو ان کے شرعی حق سے محروم رکھنا ہے، جسے اکثر "خاندانی روایات” یا "جہیز” کا نام دے کر جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف صریحاً حکمِ الٰہی کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشی ظلم بھی ہے۔ فقہاء نے واضح کیا ہے کہ خواتین سے زبردستی یا جذباتی دباؤ کے تحت لی گئی حق سے دستبرداری شرعاً باطل ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ جن مسلم معاشروں میں خواتین کو ورائتی حقوق دیے جاتے ہیں، وہاں خواتین کی معاشی خودمختاری اور خاندانی فلاح و بہبود کے اشاریے نمایاں طور پر بہتر ہیں۔ لہٰذا، ضرورت اس امر کی ہے کہ قانونی اصلاحات کے ساتھ ساتھ سماجی شعور بیدار کیا جائے، اور جدید ٹیکنالوجی (جیسے ورائتی حساب گر) کا استعمال عام کیا جائے تاکہ تقسیم کے عمل میں شفافیت اور درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلامی وراثت کا نظام صرف ایک قانون نہیں، بلکہ ایک مکمل معاشی و سماجی فلسفہ ہے جو عدل، توازن اور اللہ کی رضا کے حصول کا راستہ دکھاتا ہے۔
Like this:
Like Loading...