Skip to content
دو زمیں، ایک آسماں
ازقلم:ڈاکٹر سراج انور، امراؤتی(مہاراشٹر)
موبائل : 08668323359
ممبئی کی صبح نے جب آنکھ کھولی تو شہر دو رنگوں میں بٹا ہوا تھا۔ ایک رنگ سنہری تھا، جو سمندر کے کنارے بڑی بڑی اونچی عمارتوں کے کھڑکیوں پر چمک رہا تھا۔ دوسرا رنگ دھواں دار تھا، جو گلیوں، بستیوں اور کھیتوں تک پھیلا ہوا تھا۔
فضا میں چاروں طرف آلودگی اور شور کی لہر پھیلی ہوئی تھی۔ چھتوں پر بیٹھے کبوتر بےچینی سے پر پھڑپھڑا رہے تھے، اور سڑکوں پر گاڑیوں کا ہجوم اپنی ہی دھن میں رواں تھا۔ اسی ہنگامہ خیز شہر کے ایئرپورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں آریان مہتا خاموشی سے بیٹھا تھا۔ وہی کھلاڑی، جس کے بلے کی گونج کبھی اسٹیڈیم کے آسمان کو ہلا دیتی تھی، آج ٹوپی اور سن گلاسز کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔
مایرا اس کے ساتھ تھی۔ بالی ووڈ کی وہ چمکتی ستارہ جس نے کبھی اپنی اداکاری سے بڑے پردے کو روشن کیا تھا۔ شادی کے بعد اس نے فلم انڈسٹری کو الوداع کہہ کر خود کو گھر تک محدود کر لیا تھا۔ آج وہ بھی سادہ لباس میں، چہرے پر ہلکا سا دوپٹہ ڈالے، خاموشی سے اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی تھی۔
ننھی آرا اپنی معصوم آنکھوں میں تجسس لیے پوچھ رہی تھی:
"پاپا، ہم نئے گھر پر کب پہنچیں گے؟”
آریان نے مسکرا کر اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا: "بس بیٹا، تھوڑی دیر میں۔”
کبیر اپنی ننھی مٹھیوں سے مایرا کی انگلیاں تھامے ہوئے تھا۔ سبھی کے چہروں پر نئے ملک میں بسنے کی خوشی الگ جھلک رہی تھی۔
ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں:
"ممبئی میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ چھوٹے بچوں کو سانس لینے میں شدید دقت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ بوڑھے بھی اسی مسئلے سے دوچار ہیں۔ اس زہریلی فضا میں سانس لینا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔…”
آریان نے لمحہ بھر کے لیے اسکرین پر نظر ڈالی، پھر اپنے بچوں کی طرف دیکھا۔ دل میں ایک سکون سا اتر آیا۔ بھارت کے فینز کی بھیڑ اور میڈیا کے کیمروں سے دور، وہ اپنے خاندان کو سکون اور آزادی دینا چاہتا تھا۔
لاؤنج میں اعلان گونجا:
"فلائٹ ٹو لندن ہیتھرو، ناؤ بورڈنگ…”
آریان اٹھا۔ اس کی جیب میں فرسٹ کلاس ٹکٹ تھے، بینک میں کروڑوں کا بیلنس، اور دل میں ایک اطمینان کہ وہ اپنی فیملی کو بہتر زندگی دے سکتا ہے۔
وہ سامان سنبھالتے ہوئے گیٹ کی طرف بڑھا۔ کچھ دیر بعد جہاز نے پرواز بھری۔ کھڑکی کے پار آریان نے نیچے جھانکا۔ ممبئی کی روشنیوں کا سمندر دھیرے دھیرے بادلوں اور دھند میں گم ہو رہا تھا۔ دل میں سرگوشی ابھری:
"میں ضرور آؤں گا، جب بھی بھارت مجھے کرکٹ میچ کھیلنے کے لیے بلائے گا۔”
چند گھنٹوں میں وہ لندن کی دھند بھری صبح میں قدم رکھنے والے تھے، جہاں نیا گھر، نئی زندگی، اور وہ سکون جس کی تلاش میں وہ نکلے تھے۔ مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے نیچے، اسی زمین پر، کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس نہ کا ہوائی جہاز کا ٹکٹ ہے، نہ پاسپورٹ، نہ بھاگنے کی آزادی۔
اسی وقت، ہزاروں میل دور، ایک چھوٹے سے گاؤں میں، جہاں شہری علاقہ ختم ہوتا تھا اور کھیتوں کی زمین شروع ہوتی تھی، موہن کی جھونپڑی تھی۔ مٹی اور بانس کی دیواریں، ٹین کی چھت، اور اندر اندھیرا۔ صبح کی دھوپ جھونپڑی میں دراڑوں سے چھن کر آتی تھی۔
موہن اپنے دو بیگھے کھیت کا مالک تھا۔ مگر مالک کہنا بھی مذاق تھا، کیونکہ زمین پر قرض زیادہ تھا اور فصل کم۔
وہ صبح چار بجے اٹھا۔ ہاتھ منہ دھویا، پھٹے ہوئے کپڑے پہنے، اور کھیت کی طرف چل پڑا۔ اس کے پاؤں ننگے تھے، جوتے پرانے ہو گئے تھے، سی سی کر کے اب ٹانکے بھی ٹوٹ چکے تھے۔
کھیت میں گیہوں کی فصل لہلہا رہی تھی، مگر موہن کے چہرے پر خوشی نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں میں پریشانی تھی۔
"اس بار بھی بیج کے پیسے نہیں نکلیں گے۔ بینک کا قرض اور بڑھ جائے گا۔” وہ بڑبڑایا اور ہل چلانے لگا۔
دوپہر ہوئی تو اس کی بیوی گیتا کھیت میں کھانا لے کر آئی۔ دو روٹیاں، نمک، اور پیاز۔ بس۔
"آج بچوں نے کھایا؟” موہن نے پوچھا۔
"ہاں، انہیں دے دیا۔ تم کھا لو۔” گیتا نے جھوٹ بولا۔ اس کے پیٹ میں کل شام سے کچھ نہیں گیا تھا، مگر چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھی۔
موہن نے کھانا کھایا۔ ہر نوالہ گلے میں اٹک رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ گیتا نے نہیں کھایا۔
شام کو جب موہن گھر لوٹا تو دروازے پر ایک سرکاری افسر کھڑا تھا۔ ہاتھ میں کاغذ تھے۔
"تم موہن ہو نا؟ یہ دیکھو، تمہارا نام ووٹر لسٹ سے غائب ہے۔ یہ فارم بھرو اور دو دن میں تحصیل آ کر جمع کراؤ۔ یہ سب الیکشن کمیشن کی Special Intensive Revision (SIR) مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت ووٹر لسٹوں کی گہرائی سے جانچ اور تصحیح کی جا رہی ہے۔”
موہن نے حیرت سے کہا: "مگر صاحب، میرا نام پچھلی بار تو تھا۔”
افسر نے روکھے لہجے میں کہا: "اب لسٹ صاف کی جا رہی ہے۔ ڈپلیکیٹ نام، مرے ہوئے افراد، اور اپنا گاؤں چھوڑ کر جانے والوں کو ہٹایا جا رہا ہے۔ اگر تم فارم نہیں بھروگے تو ہونے والے الیکشن میں ووٹ نہیں ڈال پاؤ گے۔” یہ کہہ کر افسر چلا گیا۔
موہن نے کاغذ کو دیکھا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ پڑھا لکھا نہیں تھا۔ اس نے سوچا کہ تحصیل جا کر کسی کلرک سے مدد لینی پڑے گی۔
مگر تحصیل جانے کے لیے بیس کلومیٹر کا سفر تھا۔ بس کا کرایہ پچاس روپے۔ اور پھر کلرک کو رشوت۔ دو سو روپے۔
موہن کی جیب میں کل تیس روپے تھے۔
رات کو جب وہ لیٹا تو گیتا نے پوچھا: "کیا ہوا؟ کوئی پریشانی ہے؟”
"نہیں، کچھ نہیں۔ سو جاؤ۔” موہن نے جھوٹ بولا۔
مگر اس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔ وہ سوچ رہا تھا: "کیا فائدہ اس ووٹ کا؟ کیا کبھی کسی نے ہماری سنی؟ فصل برباد ہو، قرض بڑھتا جائے، بچے بھوکے سوئیں، اور حکومت ووٹ کی فکر کرے۔”
اس کے دل میں غصّہ نہیں تھا، بے بسی تھی۔ بے بسی اس بات کی کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ وہ بھاگ نہیں سکتا، ملک نہیں چھوڑ سکتا، اپنے بچوں کو بہتر زندگی نہیں دے سکتا۔
اگلے دن صبح، وہ پھر کھیت میں تھا۔ ہل چلاتے ہوئے اس کی کمر میں درد ہو رہا تھا، ہاتھوں میں چھالے تھے، مگر رکنا نہیں تھا۔
"یہی تو میری زندگی ہے۔ مٹی سے پیدا ہوا، مٹی میں ہی کام کروں گا، اور مٹی میں ہی مر جاؤں گا۔” اس نے خود سے کہا۔
تحصیل کے چھوٹے سے دفتر میں، جہاں پنکھے کی گردش دھیمی تھی اور دیواروں پر پان کے دھبے لگے تھے، امت شکلا بیٹھا تھا۔ وہ بی ایل او تھا۔ بوتھ لیول آفیسر۔ اس کا کام تھا انتخابی فہرستیں درست کرنا، فارم جمع کرنا، اور ہر ووٹر کی تفصیلات چیک کرنا۔ حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن نے Special Intensive Revision (SIR) کی مہم شروع کی تھی، جسے ایک مہینے میں ہی مکمل کر کے دینا تھا۔
امت شکلا مڈل کلاس فیملی سے تھا۔ اس کی تنخواہ چالیس ہزار روپے تھی، مگر اس آمدنی میں کوئی بچت نہیں تھی۔ زندگی بس گزارنے بھر کی تھی، سیونگ کا تو سوال ہی نہیں۔
الیکشن کا موسم آیا تو امت پر کام کا بوجھ پہاڑ بن گیا۔ اوپر سے سخت احکامات تھے کہ فہرستیں بالکل درست ہونی چاہیئیں۔ ہر فارم چیک ہونا چاہیے۔ ہر ووٹر کی تفصیلات اپ ڈیٹ ہونی چاہیئیں۔
مگر فہرستیں کیسی تھیں؟
کسی کا نام دو بار درج، کسی کا پتہ غلط، کسی کی عمر غلط، کسی کا نام غائب۔
1219 ناموں کی فہرست، اور ہر نام کے ساتھ ایک عجیب الجھن۔
امت شکلا صبح آٹھ بجے دفتر آتا، رات دس بجے جاتا۔ گھر میں بیوی بچے انتظار کرتے، مگر وہ تھکا ہارا آتا اور سو جاتا۔
"امت، یہ کب تک چلے گا؟” سنیتا نے ایک دن پوچھا۔
"بس ابھی، الیکشن ہو جائیں تو آرام مل جائے گا۔” امت نے جواب دیا، مگر خود اسے یقین نہیں تھا۔
ایک رات، دفتر میں رات کے دو بج گئے تھے۔ امت اب بھی کاغذوں کے ڈھیر کے بیچ بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا، سانسیں تیز تھیں، دل کی دھڑکنیں بے ترتیب۔
"صرف دو سو فارم اور۔ بس دو سو۔” وہ خود کو حوصلہ دے رہا تھا۔
اچانک اس کے سینے میں درد اٹھا۔ تیز، بہت تیز۔ پھر ہاتھ سے قلم چھوٹ گیا اور سانس رک گئی۔
صبح جب دفتر کا چپڑاسی آیا تو امت شکلا کاغذوں کے درمیان بے جان پڑا تھا۔
اس کی جیب میں بچوں کی اسکول فیس کی رسید تھی۔ آدھی ادا ہو چکی تھی، آدھی باقی تھی۔
کاغذوں کے ڈھیر میں ایک اور نام درج ہو گیا تھا—امت شکلا۔”
اگلے دن اخبار میں چھوٹی سی خبر چھپی:
"تحصیل میں بی ایل او کی اچانک موت۔ کام کے دباؤ کا شبہ۔”
مگر یہ خبر بھی اس کی زندگی کی طرح مقامی اخبار کے کسی چھوٹے کونے میں نہایت مختصر دب گئی۔ نہ ٹی وی نے اسے دکھایا، نہ بڑے چینلوں نے کوئی خاص رپورٹ بنائی۔ جیسے وہ خود خاموشی میں گزر گیا، ویسے ہی اس کی خبر بھی خاموشی میں گم ہو گئی۔”
اسی دن، ایک اور خبر تھی:
"مشہور کرکٹر آریان مہتا لندن منتقل۔ خاندان کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز۔”
یہ خبر ہر چینل پر تھی۔ ہر اخبار میں تھی۔
لندن میں آریان مہتا اپنے نئے گھر کی بالکونی میں کھڑا تھا۔ باہر سبز باغ تھا، صاف ہوا تھی، اور آرا خوشی سے کھیل رہی تھی۔
"پاپا، دیکھو! یہاں کتنے پھول ہیں!” وہ چلائی۔
آریان مسکرایا۔ اس کے دل میں سکون تھا۔ اس نے صحیح فیصلہ کیا تھا۔
اسی وقت، ہزاروں کلومیٹر دور، گاؤں کے کھیتوں میں موہن اب بھی ہل چلا رہا تھا۔ اس کی کمر میں درد تھا، پیٹ میں بھوک تھی، دل میں بے بسی تھی۔
وہ سوچ رہا تھا: "کاش میں بھی کہیں جا سکتا۔ کاش میرے بچوں کو بھی اچھی زندگی مل سکتی۔ کاش…”
مگر کاش سے کچھ نہیں ہوتا۔
اس کے ہاتھ ہل کی مٹھی پر تھے، آنکھیں زمین پر گڑی تھیں، اور پاؤں مٹی میں دھنسے ہوئے تھے۔
امت شکلا کے گھر میں ماتم پسرا ہوا تھا۔ سنیتا اپنے دونوں بچوں کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔ سونو رو رہا تھا، پریتی خاموش تھی۔
"ماں، بابا کب آئیں گے؟” سونو نے پوچھا۔
سنیتا کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلا۔ وہ بس اپنے بیٹے کو سینے سے لگائے رہی۔
دیوار پر امت شکلا کی تصویر لگی تھی۔ سادہ شخص، مڈل کلاس، نہ امیر نہ غریب۔ بس ایک عام سرکاری ملازم، جس نے اپنی ڈیوٹی نبھاتے نبھاتے جان دے دی۔
سونو نے سوال کیا، مگر جواب دیوار پر لگی تصویر کی خاموشی میں تھا۔
کمرے میں پنکھا اب بھی گھوم رہا تھا، جیسے زندگی کی مشینری چلتی رہی ہو، مگر سانسیں رک چکی تھیں۔ ایک ہی آسمان کے نیچے، کسی کے لیے ہوا سکون تھی، کسی کے لیے مٹی بوجھ، اور کسی کے لیے کاغذ جان لیوا۔…
٭٭٭
Like this:
Like Loading...