Skip to content
غزہ کے بچے: ظلم،بارش اور سردی کے بیچ
✍️ فضیل اختر قاسمی بن عرفان احمد بھیروی
متعلم : دارالعلوم وقف دیوبند
28 نومبر 2024 ء
یہ تحریر دراصل محترم استاذِ گرامی حضرت مولانا مفتی محمد نوشاد نوری قاسمی صاحب کے فیس بک پیج پر موجود اُس تصویر کی ترجمان ہے، جو دیکھتے ہی دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ یہ تصویر نہ صرف غزہ کے مظلوموں کی المناک حالت کی عکاس ہے، بلکہ انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ہماری ذمہ داری کا آئینہ بھی ہے۔ اس میں چھپی معصومیت کی فریاد اور بے بسی کی چیخ ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔
یہ تصویر صدا ہے، پکار ہے، دعوتِ عمل ہے کہ ہم اپنی غفلت کو ترک کریں اور ان مظلوموں کے حق میں اپنے فرض کو پہچانیں۔ یہ ایک لمحہِ فکریہ ہے، جو دل کو درد سے بھر دیتا ہے اور روح کو جھنجھوڑ کر ہمیں اپنے عمل کا جائزہ لینے پر مجبور کرتا ہے۔
بارش کے سرد قطرے زمین کو تو نرم کرتے ہیں، لیکن غزہ کی بوسیدہ گلیوں میں یہ قطرے کسی بچے کے کانپتے وجود کو مزید ساکت کردیتے ہیں۔ ایک معصوم بچہ، جس کے ہونٹوں پر تبسم کبھی کھیلتی تھی، آج سرد ہواؤں میں لرزتے ہوئے پتھریلی زمین پر کھڑا ہے۔ اس کے گالوں پر گرتے بارش کے قطرے آنکھوں سے ٹپکتی ان خاموش چیخوں میں مل جاتے ہیں، جو دنیا کے بہرے کانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہیں۔
یہ بچہ، جس کے ننھے ہاتھ کبھی کھلونوں کو تھامنے کے لیے تھے، آج خالی ہیں۔ نہ گرم کپڑے ہیں، نہ سکون کا کوئی گوشہ۔ اس کے پاؤں ننگے ہیں، جنہیں زمین کی بےرحم ٹھنڈ نے سن کردیا ہے۔ وہ سردی سے کپکپاتا ہوا آسمان کی طرف دیکھتا ہے، شاید کسی مدد کی آس میں، مگر بارش کے بادل بھی اس کے دکھوں کے گواہ بن کر رو رہے ہیں۔
کیا یہ بچہ انسان نہیں؟ کیا اس کی معصومیت دنیا کے ضمیر کو جگانے کے لیے کافی نہیں؟ یہ سوال بارش کے ہر قطرے کے ساتھ زمین پر گرتا ہے، مگر جواب ندارد۔ دنیا اپنی گرم کمروں میں قہوے کی چسکیاں لے رہی ہے، اور غزہ کا یہ بچہ سردی اور بھوک سے زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔
یہ بچہ، غزہ کی جنگ زدہ دیواروں کے بیچ، دنیا کے جھوٹے وعدوں اور خاموش تماشائیوں کا زندہ گواہ ہے۔ اس کی کپکپاہٹ صرف سردی کی نہیں، بلکہ اس بےحسی کی ہے جو اسے مرنے کے لیے چھوڑ چکی ہے۔ وہ سردی سے ٹھٹھرتا ہوا، اپنی قسمت پر سوال اٹھاتا ہے، لیکن اس کے سوالوں کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔
یہ بچہ صرف غزہ کا نہیں، بلکہ انسانیت کا آئینہ ہے۔ مگر اس آئینے میں ہمیں اپنی بےحسی، ظلم اور ناانصافی کی بدترین شکل نظر آتی ہے۔ کیا یہ وقت نہیں کہ ہم اس بچے کی سردی کو اپنی گرمجوشی سے کم کریں؟ یا شاید ہم اسی طرح اپنی آنکھیں بند رکھیں گے، جب تک اس کے ننھے وجود کی لرزش ہمیشہ کے لیے خاموش نہ ہوجائے۔
اے میرے مولی !
یہ تیرے بندے ہیں، تیری ہی زمین پر تیرے ہی بندوں کے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔ بارش کی سرد بوندیں ان کے معصوم جسموں کو چھلنی کر رہی ہیں، اور ہم بےبسی کے عالم میں تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اے رب العالمین! ان مظلوموں کی داد رسی فرما۔
اے کریم آقا!
غزہ کے اس ننھے بچے پر رحم فرما، جو سردی کی شدت سے ٹھٹھرتا ہوا اپنی بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ اس کے ننگے پاؤں، کانپتے ہاتھ اور بھوک سے بلکتا ہوا جسم تیرے ہی در پر جھکا ہوا ہے۔ اے کریم، ہم سب گناہگاروں پر رحم کر اور اس معصوم کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔
اے قادرِ مطلق اللہ !
یہ بچے، جو تیرے نور کی جھلک ہیں، ان کو اس دنیا کے اندھیرے ظلم سے نجات دے۔ ان کے لیے سکون، تحفظ اور گرم پناہ گاہ مہیا فرما۔ اے مالک الملک، ان ظالموں کے دلوں کو پگھلا دے یا ان کے ظلم کا خاتمہ کردے۔
یا رب العالمین !
ہمارے دل کانپتے ہیں ان معصوموں کے حال پر، مگر ہماری بےعملی پر بھی شرم سے جھک جاتے ہیں۔ ہمیں ہدایت دے، ہمیں ان کے لیے کچھ کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اے رب العزت، ان کی دعاؤں کو قبول فرما اور ان کے آنسوؤں کو سکون میں بدل دے۔
یا ارحم الراحمین !
تیری رحمت کے سائے سے بڑھ کر کوئی سایہ نہیں۔ ان مظلوموں کو اپنی رحمت کی چادر میں چھپا لے۔ ان کے دکھوں کو دور فرما، ان کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، اور ہمیں ان کا مددگار بنا دے۔ آمین، یا رب العالمین
Like this:
Like Loading...