Skip to content
اُردو زبان کی بقا کے لیے گھروں میں اُردو کا رواج انتہائی ضروری ہے : ڈاکٹر عمار رضوی
لکھنٶ3دسمبر(ابوشحمہ انصاری)اُردو صرف ایک زبان نہیں، بلکہ ایک مکمل تہذیب کا نام ہے جو صدیوں کی علمی، ادبی اور ثقافتی روایات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ تمام زبانوں کی جان ہے، کیونکہ اس نے مختلف لسانی ذخائر کو جذب کرکے اپنی ایک منفرد اور دل نشین شکل قائم کی ہے۔ اُردو کی مٹھاس، اس کے لہجے کی نرمی اور الفاظ کی چاشنی اسے دیگر زبانوں میں ممتاز بناتی ہے۔ اسی لیے اُردو دلوں کو جوڑنے، محبتیں بانٹنے اور تہذیبی قدریں منتقل کرنے کا بہترین ذریعہ رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار کانفرنس کے میزبان اور سابق کارگزار وزیر اعلیٰ اتر پردیش، ڈاکٹر عمار رضوی نے بین الاقوامی اُردو کانفرنس کے دوران کیا۔
مولانا ابو الکلام آزاد کے افکار و نظریات کو فروغ دینے والے ادارے "مولانا آزاد انسٹیٹیوٹ” کی جانب سے منعقدہ بین الاقوامی اُردو کانفرنس کا دوسرا اور آخری دن آج نہایت شاندار رہا۔ یہ کانفرنس شعبۂ اُردو، لکھنؤ یونیورسٹی میں منعقد ہوئی۔ دوران کانفرنس زبان و ادب کی گراں قدر خدمات کے لیے عالمی شہرت یافتہ محقق و ادیب، صدر شعبہ اُردو پروفیسر عبّاس رضا نیر کو ابو الکلام آزاد ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا ۔
واضح رہے کہ اس بین الاقوامی اُردو کانفرنس کا افتتاحی فنکشن گزشتہ یکم دسمبر کو ایرا میڈیکل کالج میں منعقد ہوا تھا۔
دوسرے دن کے پروگرام میں مجموعی طور پر تین سیشن ہوئے۔ پہلے اجلاس کی صدارت اُردو زبان و ادب کے نمائندہ ادیب، ڈاکٹر احسن زیدی (انگلینڈ) نے کی، جب کہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اُردو محققہ ڈاکٹر ریشماں پروین (صدر، شعبہ اُردو، کھن کھن جی گرلز کالج، لکھنؤ) شریک ہوئیں۔ اس سیشن میں شعبۂ اُردو کے اساتذہ ڈاکٹر جاں نثار عالم، ڈاکٹر عشرت ناہید (مولانا آزاد اردو یونیورسٹی، لکھنو کیمپس)، ڈاکٹر پروین شجاعت (ممتاز کالج) اور ڈاکٹر موسی رضا (خواجہ معین الدین چشتی یونیورسٹی) نے اپنے مقالات پیش کیے۔ اس اجلاس کی نظامت شعبۂ اُردو کے ریسرچ اسکالر غلام عبّاس رضوی نے انجام دی۔
دوسرے سیشن میں پروفیسر عمیر منظر (مولانا آزاد یونیورسٹی، لکھنو کیمپس) اور ڈاکٹر منتظر قائمی نے مقالے پیش کیے۔ اس سیشن کی صدارت ڈاکٹر ریشماں پروین نے کی۔ انہوں نے اپنے خطبے میں وقت کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ "جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دور میں اُردو کو نئے انداز میں پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے”۔ اس موقع پر پروفیسر سلیمان رضوی اور پروفیسر شمع محمود نے اظہارِ خیال کیا، جب کہ صدر شعبۂ اُردو پروفیسر عبّاس رضا نیر نے اُردو کی فلاح و ترقی کے حوالے سے خیالات پیش کیے۔
اسی طرح تیسرے سیشن کی صدارت پروفیسر خان محمد عاطف نے فرمائی۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر اکبر بلگرامی، شعبۂ اُردو کی ریسرچ اسکالر اور جدید فکشن نگار صائمہ انصاری، اور ریسرچ اسکالر زیبا جلیل نے اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔
اختتامی مرحلے میں مقالہ خوانان اور مہمانانِ ذوی الاحترام کو مومنٹو اور سرٹیفیکیٹ پیش کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔اور آخر میں ڈاکٹر عمار رضوی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔
اس موقع پر پروفیسر غلام نبی احمد، ڈاکٹر شبیب علوی، ڈاکٹر ثروت تقی، پروفیسر شبنم رضوی، ڈاکٹر سبحان عالم، ڈاکٹر سلمان، ڈاکٹر یاسر جمال، ڈاکٹر شاہانہ سلمان، ڈاکٹر احتشام، آصف زماں رضوی، شہاب الدین خان، روی پرکاش یادو، ڈاکٹر آل احمد، عطیق انصاری، مرزا فرقان بیگ، جمیل حسن نقوی کے علاوہ اُردو، فارسی، عربی، انگریزی اور تاریخ کے متعدد اساتذہ، سامعین، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
Like this:
Like Loading...