Skip to content
موت عبرت کی آخری منزل !!!
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
موت دنیوی زندگی کے خاتمہ کا نام ہے ،موت یقینی ہے اور ہرجاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ،موت ایک پُل ہے جو پَل بھر میں انسان کو ایک جہان سے دوسرے جہان میں پہچا دیتی ہے ،موت ایسا سفر ہے جس میں گھر واپسی تصور ہی نہیں ہے،موت کے ساتھ ہی انسان اس دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہوجاتا ہے جسے عالم برزخ اور عالم آخرت کہاجاتا ہے، موت کے بعد انسان کی اُخروی زندگی کا آغاز ہوتا ہے ،اخروی زندگی دنیوی زندگی کے مقابلہ میں بہت طویل بلکہ کبھی ختم نہ ہونے والی ہے ،قرآن وحدیث میں دنیا اور دنیا کی زندگی کو عارضی اور فانی بتایا گیا ہے اس کے مقابلہ میں اُخروی زندگی اور وہاں کے قیام کوطویل اور لامحدود بتایا گیا ہے، قرآن وحدیث میں دنیاکو امتحان گاہ اور آخرت کو نتیجہ گاہ بھی بتایا گیا ہے یعنی دنیوی زندگی میں انسان کو کچھ اچھا یا بُرا عمل کرے گا آخرت میں اسی کا بدلہ پائے گا ، انسان کو دنیوی زندگی کے بُرے اور اچھے ہر عمل کا بدلہ دیا جائے گا ،نیک عمل پر جزا تو بُرے عمل پر سزا مقرر ہوگی ،کتب سماوی میں بھی اخروی زندگی اور وہاں کے احوال بیان کئے گئے ہیں اور تمام انبیاءؑ نے بھی اپنی اپنی قوموں کو آخرت کے احوال سے باخبر کرتے ہوئے وہاں کی زندگی کو کامیاب بنانے کی ترغیب وتعلیم فرمائی ہےاور بتلایا کہ وہ دنیوی زندگی کے ذریعہ کس طرح آخرت کی دائمی زندگی کی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں کہیں اجمالاً تو کہیں تفصیلا ً آخرت کا ذکر فرمایا ہے ، اسی طرح اللہ کے آخری رسول ؐ نے بھی اپنی امت کو آخرت کے تفصیلی احوال سے واقف کروایا ہے اور دنیوی زندگی کو اخروی زندگی کی کامیابی کے لئے استعمال کرنے کی ترغیب دی ہے ، دنیا کو آخرت کی کھیتی سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی جس طرح دنیا میں ایک کاشتکار زمین میں جو اور جس قدر بیج ڈالے گا اسی کے بقدر وہی پھل حاصل کرے گا، اسی طرح انسان دنیا میں جیسا عمل کرے گا ویسا ہی آخرت میں اسے بدلہ دیا جائے گا ،آخرت میں دوہی ٹھکانے ہیں ایک جنت اور دوسرا جہنم ،جنت نیک اور فرماں برداروں کے لئے ہے تو جہنم گناہ گار اور نافرمانوں کے لئے ہے ،جنت کی نعمتیں انسانی تصور سے باہر ہیں تو جہنم کی سزائیں بھی انسانی گمان سے بہت دور ہیں ،قیامت ہی دن ہر ایک کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ،ارشاد ہے:کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ وَما الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ(آل عمران:۸۶)’’ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تمہارا بدلہ تو قیامت ہی کے دن پورا دیا جائے گا اور جو آگ سے بچا جنت میں داخل ہو گیا اور وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا مال ہے‘‘۔
حقیقت یہ ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اور آخرت میں پہنچائے جانے کا تصور اور اس کا عقیدہ انسان کو انسان بناتا ہے ،حیوانی صفات سے دور رکھتا ہے ، اعتدال پر گامزن رکھتا ہے ،خالق کا فرماں بردار بناتا ہے ،نافرمانی اور بے راہ روی سے دور رکھتا ہے ،ناانصافی اور زیادتی سے بچاتا ہے اور اپنے اندر جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے اور یہی احساس انسان کو ہدایت یافتہ لوگوں کی صف میں کھڑا کرا دیتا ہے ، قرآن مجید میں فرماں برداروں کی جو صفات بیان کی گئیں ہیں ان میں سے ایک ایمان بالآخرت بھی ہے ،ارشاد ہے : والَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ وَبِالآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُون(البقرہ:۴)’’وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اس پر بھی جو (اے نبی ؐ) آپ پر نازل کیا گیا ہے اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ‘‘ اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے فقیہ العصر ،محدث کبیر مفتی اعظم مفتی محمد شفیع عثمانی ؒ نے بڑی اہم ترین اور نہایت قیمتی باتیں تحریر فرمائی ہیں جس سے آخرت پر ایمان لانے کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ ایمان بالآخرت انسانی زندگی میں کیا انقلاب برپا کرتا ہے اور اس کے زمین پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں :فرماتے ہیں کہ آخرت پر ایمان ایک انقلابی عقیدہ ہے ،آخرت پر ایمان لانا اگر چہ ایمان بالغیب کے لفظ میں آچکا ہے مگر اس کو پھر صراحۃً اس لئے ذکر کیا گیا کہ یہ اجزائے ایمان میں اس حیثیت سے سب میں اہم جز ہے کہ مقتضائے ایمان پر عمل کا جذبہ پیدا کرنا اسی کا اثر ہے،اور اسلامی عقائد میں یہی وہ انقلابی عقیدہ ہے جس نے دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی اور جس نے آسمانی تعلیم پر عمل کرنے والوں کو پہلے اخلاق واعمال میں اور پھر دنیا کی سیاست میں بھی تمام اقوام عالم کے مقابلہ میں ایک امتیازی مقام عطا فرمایا اور جو عقیدہ توحید ورسالت کی طرح تمام انبیاء اور تمام شرائع میں مشترک اور متفق علیہ چلا آتا ہے،وجہ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے سامنے صرف دنیا کی زندگی اور اسی کی عیش وعشرت ان کا انتہا ئی مقصود ہے اسی کی تکلیف کو تکلیف سمجھتے ہیں آخرت کی زندگی اور اعمال کے حساب کتاب اور جزاء وسزا کو وہ نہیں مانتے وہ جب جھوٹ ،سچ اور حلال وحرام کی تفریق کو اپنی عیش وعشرت میں خلل اندازی ہوتے دیکھیں تو ان کو جرائم سے روکنے والی کوئی چیز باقی نہیں رہتی ،حکومت کے تعزیری قوانین قطعا انسداد جرائم اور اصلاح اخلاق کے لئے کافی نہیں ،عادی مجرم تو ان سزاؤں کے عادی ہوہی جاتے ہیں ،کوئی شریف انسان اگر تعزیری سزا کے خوف سے اپنی خواہشات کو ترک بھی کرے تو اسی حد تک کہ اس کو حکومت کی داروگیر کا خطرہ ہو،خلوتوں میں اور رازدارانہ طریقوں پر جہاں حکومت اور اس کے قوانین کی رسائی نہیں ،اسے کون مجبور کر سکتا ہے کہ اپنی عیش وعشرت اور خواہش کو چھوڑ کر پابندیوں کا طوق اپنے گلے میں ڈال لے، ہاں وہ صرف عقیدہ آخرت اور خوف خدا ہی ہے جس کی وجہ سے انسان کی ظاہری اور باطنی حالت جلوت وخلوت میں یکساں ہو سکتی ہے وہ یقین رکھتا ہے کہ مکان کے بند دروازوں اور ان پر پہرہ چوکیوں میں اور رات کی تاریکیوں میں بھی کوئی دیکھنے والا مجھے دیکھ رہا ہے ،کوئی لکھنے والا میرے اعمال کو لکھ رہا ہے ،یہی وہ عقیدہ تھا جس پر پورا عمل کرنے کی وجہ سے اسلام کے ابتدائی دور میں ایسا پاکباز معاشرہ پیدا ہواکہ مسلمانوں کی صورت دیکھ کر،چال چلن دیکھ کر لوگ دل وجان سے اسلام کے گرویدہ ہوجاتے تھے ،یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ اس آیت میں بالآخرۃ کے ساتھ یؤمنون نہیں بلکہ یوقنون استعمال فرمایا گیا ہے ،کیونکہ ایمان کا مقابل تکذیب ہے اور ایقان کا مقابل شک وتردد ،اس میں اشارہ ہے کہ آخرت کی زندگی کی محض تصدیق کرنا مقصد کو پورا نہیں کرتا بلکہ اس کا ایسا یقین ضروری ہے جیسے کوئی چیز آنکھوں کے سامنے ہو ،متقین کی یہی صفت ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کے سامنے پیشی اور حساب کتاب ،پھر جزا وسزا کا نقشہ ہر وقت ان کے سامنے رہتا ہے(معارف القرآن ،تفسیر سورہ بقرہ ،آیت:۴)۔
موت کے بعد ایک دوسری زندگی کے اعتقاد و ایقان ،رب سے ملاقات ،اس کے دربار میں پیشی اور وہاں حساب وکتاب دینے کے خوف سے جہاں ایک طرف انسانی زندگی میں درستگی آتی ہے ،مزاج میں اعتدال پیدا ہوتا ہے ، شب وروز اور اس کے لیل ونہار کی قیمت کا اندازہ ہوتا ہے جس کے بعد صحیح سمت زندگی گزارنے میں مدد ملتی ہے تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور اس کے دیدار کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے جس سے اس کی محبت ومعرفت کا جذبہ پروان چڑھتا ہے اور یہ اعمال صالحہ کے اختیار کرنے اور اعمال سیئہ سے بچنے کا ذریعہ بنتا ہے، یقینا اچھے اعمال جہاں انسان کو اللہ تعالیٰ کی خوشودی دلاتے ہیں وہیں بُرے اعمال انسان کو اس کے رب کی نظروں میں گرادیتے ہیںتو تیسری طرف موت کے بعد کی زندگی کے احساس سے موت کا ڈر وخوف دل سے نکل جاتا ہے ، انسان بے خوف ہو کر زندگی گزارتا ہے ،وہ آئندہ زندگی کے بارے جان کر خوش ہوتا ہے اور وہاں کی نعمتوں کے حاصل کرنے کے لئے اپنا تن من اور دھن لٹا تا رہتا ہے اور جو انسان آخرت کی فکر اور وہاں کی ابدی زندگی کی دائمی نعمتوں کی خواہش رکھتا ہے تو وہ ضرور ان چیزوں کو اختیار کرتا ہے جن سے وہاں کی زندگی سنور تی ہے اور ابدی راحتیں میسر آتی ہیں ، اسے جب معلوم ہوتا ہے کہ اس فانی ،محدود اور مختصر زندگی کو ربانی احکامات اور نبوی تعلیمات پر چلانے سے ایک طرف یہاں کی زندگی میں سکون حاصل ہوتا ہے اور وہاں کی زندگی نعمتو ں سے بھر پور ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام واکرام کی بارش ہوتی ہیں تو پھر وہ ابدی راحتوں کے لئے دنیوی عارضی دشواریوں سے اس طرح گزرتا جاتا ہے جس طرح راہ کا مسافر منزل کے شوق میں بے خوف وخطر ہوکر دیوانہ وار چلتا جاتا ہے ۔
اہل ایمان کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ عارضی زندگی کے مقابلہ میں دائمی زندگی کی فکر کریں اور اپنی دنیوی زندگی کو اخروی زندگی کی کامیابی کے حصول میں صرف کریں ،کیونکہ اخروی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا مدار دنیوی زندگی کے صحیح اور غلط طریقے کے ساتھ گزارنے پر موقوف ہے ،گویا دنیوی زندگی امتحان ہے اور اخروی زندگی انعام ہے ، امتحان کی کوششیں اور جد جہد کامیابی کی نوید ہوتی ہیں ،جو امتحان کو امتحان نہیں سمجھتا اس کا انجام بھیانک اور خطرناک ہوتا ہے ، ذلت ورسوائی ،ناکامی ونامرادی اور بے بسی وبے چارگی اس کا مقدر بن جاتی ہے ،وہ ٹھوکروں میں جیتا ہے اور ٹھوکروں ہی میں مرتا ہے ،جو شخص دنیوی زندگی اور یہاں کے لمحات کو امتحان نہیں سمجھتا اور اپنی نادانی اور من مانی کی وجہ سے یوں ہی گزار دیتا ہے وہ موت کے ساتھ ہی ناکامیوں میں گھرجاتا ہے ، دنیا کا وقت تو جیسے تیسے گزرجاتا ہے مگر جب موت آتی ہے تو اس کا جھٹکا بڑا خطرناک ہوتا ہے جو انسانی وجود کو ہلا کر رہ دیتا ہے ،ساری ناکامیاں عیاں ہوجاتی ہیں ،ہر لمحہ عذاب کا کوڑا بن کر اس کے وجود پر برستا رہتا ہے اور وہ عتاب ربانی کی چکی میں پستا رہتا ہے ،وہ اپنے گزرے ہوئے دنوں پر افسوس کرتا ہے اور ندامت کے آنسو بہاتا رہتا ہے مگر اس وقت اس کی یہ ندامت کام نہیں آتی،وہ جان چکا ہوتا ہے کہ دنیوی امتحان کو نظر انداز کرنے کا کس قدر بھیانک نتیجہ سامنے آیاہے،قرآن مجید میں ان لوگوں کے الفاظ کو نوٹ کیا گیا ہے جو آخرت میں افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کاش ہم مسلمان ہوتے اور فرماں برداری کے ساتھ زندگی گزارتے ،ارشاد ہےربَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لَوْ کَانُواْ مُسْلِمِیْن(الحجر:۲)’’ایک وقت آئے گا جب یہ کافر تمنا ئیں کریں گے کہ وہ مسلمان ہوتے‘‘ ،مگر اس وقت ان کی تمنا بس تمنا ہی رہے گی اور ان سے کہا جائے گا کہ اب کسی کو دوبارہ دنیا میں بھیجا نہیں جائے گا بلکہ دنیا میں جو کچھ کیا تھا اس کا بدلہ دیا جائے گا ، بر خلاف جو مسلمان ہوں گے جنہوں نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہوگی اور اس کے لمحات کو آخرت کی کامیابی کا زینہ سمجھتے ہوئے گزرا ہوگا وہ خوش ہوں گے اور اپنے ان دوستوں سے مخاطب ہو کر کہیں گے جنہیں وہ دنیا میں دنیا کی حقیقت سے آگاہ کیا تھا اور انہیں آخرت کی تیاری کی فکر دلائی تھی اور یہاں کی کامیابی کاراز بتایا تھا مگر افسوس کے انہوں نے سنی اَن سنی کردی تھی ،ان سے کہیں گے تم نے آنکھوں سے دیکھ لیا کہ دنیا سے محبت اور اس کی فانی زندگی سے غیر معمولی چمٹ جانے کا انجام کیا ہوا بالآخر ہم کامیاب ہوئے اور تم ناکام ۔
جب ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ دنیوی زندگی عارضی اور آخرت باقی ہے ،یہاں کی کمائی وہاں پائیں گے،موت اختتا م زندگی کا نام ہے اور وہ ہمارے سر پر کھڑی ہے ،موت سے بھاگنے والا درحقیقت موت ہی کی طرف بھاگتاہے ، روزانہ لاکھوں انسان موت کے سامنے زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں اور آن واحد میں ان کا گرم وجود سرد پڑجاتا ہے ، وہ اپنوں کی نظروں میں پَرائے بن جاتے ہیں ،ان کی اپنی چیزوں پر لمحہ بھر میں دوسروں کا قبضہ ہوجاتا ہے ،وہ اپنوں کو پکار نہیں سکتا اسی وجہ سے ان کے اپنے انہیں بے پسی ولاچاری سے دیکھتے ہیں بلکہ چہروں کو ڈھک دیتے ہیں اور اپنے کندھوں پر سوارکرتے ہوئے شہر خموشاں چھوڑ آتے ہیں مگر افسوس کہ ان کی موت سے عبرت ونصیحت حاصل نہیں کرتے حالانکہ روزانہ ہر ایک انسان کی موت زبان حال سے یہ پیغام دے رہی ہے کہ ؎
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ ،کل ہماری باری ہے
مولانا رومؒ نے موت سے عبرت پر ایک حکایت بیان کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شیر شکار پر نکلا تو اپنے ساتھ لومڑی اور ریچھ کو بھی لے لیا،شیر نے تین شکار کئے ،ایک ہرن کا ،دوسرے گائے کا اور تیسرے خرگوش ،ریچھ اکڑ کر شیر سے بولا کہ شکار میں ہمارا بھی حصہ ہے اور شکار کی تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ شیر جنگل کا بادشاہ ہے اس لئے اس کے حصے میں گائے ،میں درمیانہ ہوں اس لئے ہرن میرا اور خرگوش لومڑی کا،اتنا سنتے ہی شیرنے اپنا زور دار پنجہ ریچھ کے گردن میں پیوست کرتے ہوئے اسے مارڈالا ،لومڑی چالاک تھی اس لئے سارا معاملہ سمجھ گئی ،شیر لومڑی کی طرف دیکھ کر کہا تم کس طرح سے تقسیم کرنا چاہوگی ؟، لومڑی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو جنگل کے بادشاہ ہیں اس لئے خرگوش ناشتے میں کھائیں ،گائے دوپہر میں اور ہرن رات میں تناول فرمائیں ،لومڑی کی اس تقسیم سے شیر بڑا خوش ہوا ،اس نے لومڑی سے پوچھا کہ تونے یہ تقسیم کہاں سے سیکھی ہے ؟؟؟ لومڑی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریچھ کی موت سے، اس حکایت کو نقل کرنے کے بعد مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ اے غافل انسان! تو بھی کچھ موت سے سیکھ لے ،جب تیرے پاس تیرے اپنے موت کی نیند سوجاتے ہیں تو سمجھ اور دھیان رکھ۔
مرنے والوں کو مرتا دیکھ کر عبرت ونصیحت حاصل کرنا چاہئے ،روزانہ سونے سے پہلے کچھ دیر موت اور آخرت کا تصور کرنا چاہئے ،ہفتے میں کم ازکم ایک دن کسی قبرستان جاکر اپنی آخری آرام گاہ سے عبرت حاصل کرنا چاہئے اور بار بار اپنے آپ سے مخاطب ہوکر کہنا ہے ؎
ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے
Like this:
Like Loading...