Skip to content
آؤ اس کو تحریک بنادیں
تحریر : توصیف القاسمی (مولنواسی)
مقصود منزل پیراگپور سہارنپور
واٹسپ نمبر 8860931450
بھارت میں ہندوتوا کے لئے سب سے بڑا اور ناقابلِ تسخیر چیلنج اگر کوئی ہے تو وہ دین اسلام ہے ۔ ہندوتوا کے لئے یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا کوئی بھی نظریاتی مذہبی یا سماجی توڑ اس کے پاس نہیں اور یہ ایک انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی چیز کا مقابلہ نہیں کرپاتا تو یا تو اس میں خامی نکالتا ہے یا پھر اس کے تمسخر و استہزاء پر اتر آتا ہے ، بالکل ایسا ہی ہندوتوا عناصر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں ۔ ویسے تو بھارت میں ہندوتوا کے لئے بہت سے بڑے بڑے چیلنج ہیں اسلام ، عیسائیت ،بدھ ازم ، امبیڈکر واد ، سیکولرازم وغیرہ ، مگر مولانا سجاد نعمانی صاحب نے دلت لیڈر کا بچا ہؤا پانی پی کر ہندوتوا عناصر کے لئے ایک نیا چیلنج پیدا کردیا ، تو کیوں نہ اس چیلنج کو ایک تحریک کی شکل دے دی جائے ؟ اور تحریک کی شکل دے کر 33/ کروڑ جھوٹے خداؤں کو مشکل میں پھنسا دیا جائے ۔ حال ہی میں جس طرح مسلمانوں نے سکھ قوم کی بڑھ چڑھ کر ہمدردی اور تعاون کیا اور اس کو ایک تحریک کی شکل دی بالکل اسی طرح ”دلت بھائی کا بچا ہوا پانی پینا “ کو لیکر ایک تحریک کی شکل دے دی جائے اور پورے بھارت میں گاؤں دیہات سے لیکر راجدھانی تک اس عمل کو بار بار دہرایا جائے تو اس عمل سے جہاں ہندوتوا عناصر کو ان کی اوقات دکھائی جائے گی وہیں اسلام کا پیغام اخوت و مساوات بھی سامنے آئے گا اور ”ہندو اکثریت میں ہیں “ کا بھرم بھی ٹوٹے گا ، ”دلت -مسلم اتحاد“ بھی پروان چڑھے گا ۔
یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قارئین کرام کی آسانی کے لئے انسان کا ”بچا ہوا کھانا یا پانی“ پینے کے بارے میں مختصر سی فقہی و اصولی گفتگو پیش کردی جائے تاکہ یہ معاملہ اسلامی ماخذ source کی روشنی میں مزید واضح اور آسان ہوجائے ۔ اسلام کے اندر ماکولات و مشروبات drinking and eating items کے باب chapter میں جھوٹے اور غیر جھوٹے کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے یہ تصور خالص ہندوانہ ہے جس کی جڑ میں طبقاتی کشمکش cast based conflict ہے اور یہ تصور اسی کشمکش کا شاخسانہ ہے ، ہاں اسلام کے اندر پاک و ناپاک کا تصور ہے نفع بخش اور غیر نفع بخش کا تصور ہے صحت بخش اور مضر صحت کا تصور ہے یا پھر آخری درجے میں طبعی کراہیت کا تصور بھی مانا گیا ہے مگر اس کی حیثیت انفرادی individual ہے ناکہ عمومی ۔ مذکورہ اصول کی روشنی میں مسلم و غیر مسلم کی تفریق کیے بغیر ہر انسان کا جھوٹا قابل استعمال ہے ، لیکن اگر کسی شخص نے ( مسلم و غیر مسلم کی تفریق کیے بغیر) شراب پی ہوئی ہے یا خنزیر کا گوشت کھایا ہؤا ہے تو زوال اثر تک اسکا بچا ہؤا کھانا پانی ناپاک مانا جائے گا ۔
3/ دسمبر 2025
Like this:
Like Loading...