Skip to content
مودی سے ٹرمپ تک :
میں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اسلام دشمنی کے لیے مغرب کو کوئی مدعا نہیں ملا تو خواتین کے استحصال کو اچھالنا شروع کردیا۔ وطن عزیز کے ہندوتوا نواز تو مغرب کے پکےّ غلام ہیں۔ وہ کبھی ڈاکٹر منجے کو اٹلی کے مسولینی سے ملاقات کے لیے بھیجتے ہیں تو کبھی ہٹلر کو اپنے لیے نمونہ بتاتے ہیں ۔ ساورکر جیسے لوگ تو انگریزوں سے تاحیات وفاداری کا عہد کرکے جیل سےچھوٹ جاتے ہیں۔ ان کی وارث مودی سرکار بھی اقتدار کے بل بوتے پرمسلم سماج میں خواتین پر مظالم کا شور مچانے لگی۔ مودی نے مسلم خواتین کو ایک ساتھ تین طلاق دے کر الگ کر نے پر ٹسوے تو بہائے لیکن خود طلاق دئیے بغیر اپنی بیوی یشودھا بین کو لٹکتا چھوڑ دیا ۔ انہوں نے نہ تو شوہر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کی اور نہ اپنی بیوی کونئی ازدواجی زندگی شروع کرنے کا موقع دیا ۔ اتفاق سے ابھی حال میں امریکہ کے اندر اِ پسٹِن فائلز کے نام منکشف ہونے والےنئی دستاویزات میں ایک زمانے کے گہرے دوست اور فی الحال ایک دوسرے کے شدید ترین دشمن ٹرمپ اور مودی یعنی مغرب اور ہندوتوا دونوں پھنس گئے ۔ یہ دونوں حضرات دو عظیم جمہوریتوں کے سربراہ ہونے کے باوجود نابالغ اسکولی خواتین کے جنسی استحصال سے متعلق تنازع کا شکار ہوچکے ہیں ۔ ایسے میں مومن خاں مومن کا یہ شعر ان پر ہوبہو منطبق ہوجاتا ہے؎
یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا
میں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
اپسٹن فائل کے معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی پر سب سے کڑی تنقید خود سنگھی ذہنیت کے حامل بی جے پی کے سابق رکن پارلیمان سبرامنیم سوامی نے کی ہے۔ انہوں نے پہلے تو وزیر اعظم سمیت کسی کا نام نہیں لیا بلکہ ان انکشافات سے ہونے والی عالمی بدنامی سے پارٹی کو بچانے کی خاطر سینئر ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ اس سے متوقع نقصان کی پیش بندی ہوسکے ۔ اس کو میڈیا اور سرکار نے نظر انداز کردیا تو انہوں نے تھوڑا سا کھل کر ایکس پر لکھا:’’اِپسٹن اسکینڈل کچھ ہندوستانی وزراء، سابق وزراء اورچند موجودہ ارکان پارلیمنٹ کو ملوث کرے گا۔ کیا مودی حکومت جامع تحقیقات کا حکم دے گی‘‘؟ اس سوال کو بھی نظر انداز کردیا گیا تو سبرامنیم سوامی نے صاف صاف لکھ دیا : ’’مودی کے سابق کابینہ وزیر ہردیپ پوری کے گندے جنسی انکشافات کا استعمال کرنے والے امریکی بلیک میل سے مودی کا بچنا مشکل ہوگا۔ مودی برہما چاری ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ایک بیچلر ہیں، جو خواتین کے ساتھ مرضی یا ناخوشی کے باوجود بدسلوکی کرتے رہے ہیں ‘‘۔
سبرامنیم سوامی کی مودی پر تنقید کوئی نئی بات نہیں ہے مگر وہ اپنی پوسٹ پر قائم و دائم رہتے ہیں۔ اس بار انہوں نے پیغام ہٹا دیا تو بھی میڈیا میں گفتگو کا موضوع بن گئے۔کہ ایسا تکنیکی وجہ سے کیا گیا یا دباو ڈال کر ہٹایا گیا خیر وجہ جو بھی ہو ان سے ایچ ڈبلیو چینل پر ایک معروف صحافیہ نیلو ویاس نے پوچھا کہ کیا محض ملاقات کسی الزام کو ثابت کرتی ہے تو ڈاکٹر سبرامنیم کا جواب تھا جیفری اپسٹن جیسے بدنامِ زمانہ لڑکیوں کے دلال اور مشتبہ بلیک میلر سے آخر کوئی وزیر اعظم کیوں ملاقات کرتا ہے؟ اس سوال کا اطمینان بخش جواب نہ ملے تو شکوک و شبہات کا پیدا ہونا فطری ہے۔ مذکورہ تنازع میں منظر عام پر آنے والے 18؍ ہزار ای میلز سے انکشاف ہوا کہ بدنامِ زمانہ جیفری اِ پسٹِن نے 2019ء میں مودی اور ٹرمپ کے سابق مشیر خاص اسٹیو بینن کے درمیان ملاقات کرانے کی کوشش کی تھی۔ ای میلز میں ہندوستان کی اعلیٰ کاروباری و سیاسی شخصیات جیسے ہردیپ سنگھ پوری اور انیل امبانی سے رابطے کی بھی تصدیق ہوئی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ لڑکیوں کی فراہمی میں ملوث بدنامِ زمانہ جیفری کے ساتھ ملاقات کا اتنا چرچا کیوں ہے؟
امریکہ کے اندر ان انکشافات نے ایک سیاسی زلزلہ برپا کردیا ہے۔ وہاں کی کانگریس یعنی ایوانِ پارلیمان کی خاتون رکن مارجوری ٹیلر گرین نے اس معاملے میں اچانک کانگریس کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ فکری اعتبار سے مارجوری ریپبلکن پارٹی کے سخت گیر دائیں بازو سے تعلق رکھتی ہیں مگر ان کے ٹرمپ سے جیفری اِ پسٹِن کےتنازع پر اختلافات تھے۔استعفیٰ کے بعد سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی ویڈیو میں گرین نے کہا وہ واشنگٹن کے ماحول کے ساتھ ک مطابقت نہیں رکھ پائیں اس لیے انہیں مسلسل توہین اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے حامی اور خاندان انتخابات کی نفرت انگیز کشمکش کا سامنا کریں۔ گرین نے اپنے آخری پیغام میں کہا کہ 5 جنوری ان کا آخری دن ہو گا۔ حقوق نسواں کے علمبردار اور مساوات مرد و زن کی دہائی دینے والے امریکہ میں اگر ایک ہم خیال رکن پارلیمان کو رسوا کرکے استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا جاتا ہے جو مخالف نظریات کی حامل ارکان کے ساتھ کیسا معاندانہ سلوک ہوتا ہوگا؟ اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔اس کے بعد وہ بیچاری عام خواتین کس کسمپرسی کا شکار ہوں گی جن کو اِ پسٹِن جیسے درندے سیاسی آقاوں کے سامنے پروس کر اپنے ذاتی اور قومی مفاد ات کا تحفظ کرتے ہیں ۔
نام نہاد روش خیال اور ترقی یافتہ ملک میں گرین جیسی رکن پارلیمان اعتراف کرتی ہیں کہ انہیں چودہ سال کی عمر میں جنسی زیادتی اور انسانی سمگلنگ کا شکار خواتین کی دفاعی کوشش کے باعث "غدار” قرار دیاگیا صدر مملکت کی جانب سے دھمکی دی جو ان کو ناقابل قبول اور اس لیے وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہیں ۔ صدر ٹرمپ کی سب سے وفادار حامیوں میں شمار کی جانے والی اور امریکہ کو پھر ایک بار عظیم بنانے کی جدوجہد میں شامل گرین نے جب7 نومبر کو ٹرمپ کی حمایت واپس لی تو انہیں "نیچ اور پارٹی کا غدار” قرار دیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں ۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کی عظیم ترین جمہوریت میں اختلافِ رائے کی آزادی اور اس کے اظہار کا احترام اسی طرح کیا جاتا ہے؟ اگر یہ صورتحال ہے تو اس نظام کے علمبرداروں کو دوسروں پر تنقید کرنے سے قبل اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے۔جیفری اِ پسٹِن کے معاملے میں ٹرمپ کے نرم موقف نے امریکہ کو چوراہے کے بیچ برہنہ کرکے کھڑا کردیا ہے۔جنسی جرائم کے مجرم جیفری اِ پسٹِن سے متعلق امریکی عدالتی دستاویزات میں اس کی خاتون دوست گیلین میکسویل کا نام بھی شامل ہے ۔ وہ لڑکیوں کے جنسی استحصال میں اِ پسٹِن کی مدد کرنے کے جرم میں جیل کے اندر چکی پیس رہی ہے۔
وطن عزیز میں جھارکھنڈ کے اندر بی جے پی کی سیکریٹری پھول جوشی اس معاملے میں گیلین میکسویل سے پیچھے نہیں ہے۔ وہ بھی دھڑلے اپنے آقاوں کی خوشنودی کے لیے لڑکیاں مہیا کرتی ہے۔اس طرح یہود اورہنود کے سامراج کی تعریف توصیف کرنے والوں اپنی عمارت کے ستونوں پر نظر ڈال کر شرمندہ ہونا چاہیے۔ ہندی کے معتبر اخبار نے چھپے ہوئے کیمرے کے ساتھ اسٹنگ آپریشن کیا اورپھول جوشی سمیت اس کے ساتھیوں سے گفتگو کو اپنے خفیہ کیمرے میں قید کرلیا۔ اس میں ان لوگوں نے اعتراف کیا کہ بعض سیاست دان "گلیمر” والی خواتین کی تلاش میں رہتے ہیں اور کچھ سیاست دان اس طرح کی ملاقاتیں بار بار یا ایک سے زیادہ خواتین کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ افراد پیسے خرچ نہیں کرتے اس لیے انہیں پھنسانے کے لیے دلالوں کے ذریعہ وہ اپنے "گاہک کے مزاج” کے مطابق خواتین فراہم کرتے ہیں ۔ کیمرے کے سامنے انتخابی امیدواروں کو "اعلیٰ پروفائل” خواتین کا انتظام کر نے کا اعتراف موجود ہے۔پھول جوشی نے کہا کہ اسے "عام لیڈر نہ سمجھا جائے” کیونکہ اس کے اہم لوگوں سے رابطے ہیں۔ مقامی ارکان اسمبلی کو یہ معلوم ہے پھر بھی وہ پوچھنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
پھول جوشی بی جے پی کے صوبائی یونٹ میں درج فہرست ذاتوں کے وِنگ میں سیکریٹری کے عہدے پر فائز ہے اور مرکزی قیادت کی ہدایت پربہار میں انتخابی مہم چلا رہی تھی۔ انڈر کور صحافی نے انتخابات میں استعمال کے لیے 50 خواتین کا تقاضا کیاتو اسے 30 سے زائد لڑکیوں کی تصاویر دکھاکرپسند کرنےکی پیشکش کی گئی۔ بہار الیکشن کی مہم کے دوران یہ کاروبار خوب پھلا پھولا۔ کرناٹک میں سابق رکن پارلیمان پرجول ریونا جنسی استحصال کرکے ویڈیو بنانے کے جرم میں جیل کی چکی پیس رہا ہے۔ ان انکشافات کے بعد بھی وزیر اعظم نے اس کی تشہیر کی ۔ وہ تو خیرجے ڈی ایس میں تھا مگر اب بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ ایس یدی یورپا پر ایک میٹنگ کے دوران 17 سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی چارج شیٹ داخل ہوگئی ہے۔ آر ایس ایس جس ہندوتوا کے سنسکار کی بات کرتا ہے یہ سارے اس کے نمونے ہیں اورجیفری اِ پسٹِن نامی یہودی مغربی اقدار کا نمائندہ ہے ۔ اس طرح اسلام اور مسلمانوں پر خواتین پر ظلم کرنے کا الزام لگانے والے اپنے ہی جال میں پھنس گئے ہیں ۔ ان لوگوں کو تباہ وبرباد کرنے کے لیے کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں علامہ اقبال نے انہیں کو مخاطب کرکے کہا تھا ؎
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا
Like this:
Like Loading...