Skip to content
ساتھ غالبؔ کے گئی فکر کی گہرائی بھی
ازقلم:ڈاکٹر شکیل احمد خان،
پرنسپل آرٹس کالج، انکوش نگر،
جالنہ۔8308219804
اگر آپ ۴۰سال سے زیادہ عمر کے ہیں تو آپ حاتم طائی اور سات سوالوں کے بارے میں ضرور جانتے ہونگے۔۱۸۰۲ میں سید حیدر بخش حیدری نے ’ آرائش ِ محفل‘ نام سے ترجمہ کی ہوئی مشہور فارسی داستان میں حاتم طائی جان جوکھم میں ڈال کے سات سوالوں کے جواب حاصل کرتا ہے اور گوہرِ مراد پاتا ہے۔ویسے جس عہد کی عکاسی یہ داستان کرتی ہے اُس کی معاشرت بھی بہت الگ تھی اور اُس کی ترجیحات و سوالات بھی۔لیکن سوالات اُس دور میں بھی تھے اور سوالات اِس دور میں بھی ہیں۔سوالات ہر عہد میں پوچھے جاتے رہے ہیں اور پوچھے جاتے رہنے چاہیے۔کیونکہ سوالات جوابات تک لے جاتے ہیں۔ سوالات جتنے زیادہ پوچھے جایئں گے اُتنے زیادہ درست جواب تک پہونچائیں گے۔ اور درست جواب درست نتیجے یا فیصلہ پر پہونچنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔اس بات کو منطقی اور عملی طور پر استعمال اور ثابت کیاہے ٹویوڈا کمپنی کے بانی ساکیچی ٹویوڈا(1867- 1930) نے۔عہدِ قدیم کے جانباز دانشمند کوہِ قاف کی دیو مالائی دنیائوں میں گھومتے تھے تو عہد حاضر کے متجسس اذہان سائنس اور منطق کے آسمانوں میں۔حاتم طائی سات سوالوں کے ساتھ سامنے آتا ہے تو یہ جاپانی موجد پانچ سوالوں کے ساتھ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حاتم طائی کے ساتوں سوال الگ الگ تھے لیکن ٹویوڈا کے پانچوں سوال ایک ہی ہیں، نہ صرف ایک جیسے بلکہ ایک ہی لفظ! اور وہ کرشماتی لفظ ہے ’’ کیوں ‘‘۔کسی بھی مسئلہ کی گہرائی میںاترنے، اُس کی جڑ تک پہونچنے اور کسی بھی عمل یا فیصلے کی درستگی کو پرکھنے کیلئے ٹویوڈا نے ایک طریقہِ کاراپنایا جو بہت کارآمد ثابت ہوا۔دراصل ٹویوڈا نے اِس طریقہ ِکار کو اپنی کمپنی کے تکنیکی اور انتظامی معاملات سے نپٹنے کے لیے وضع کیا تھا۔ لیکن اِ س کی کامیابی اور افادیت کے پیشِ نظر بعد ازاں اِسے دیگر شعبوں اور علوم میں بھی استعمال کیا جانے لگا۔آج یہ’ٹویوڈا کے پانچ کیوں ‘(Toyoda’s Five Why) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ٹویوڈا کو جب بھی کسی پیچیدہ، دشوار اور الجھی ہوئی صورتِ حال کا سامنا ہوتا تو وہ خود سے پوچھتا ’کیوں‘؟ یعنی جو مسئلہ یا صورت ِ حال درپیش ہے وہ کیوں درپیش ہے۔اِس کا جو سبب یا جواب سامنے آتا ،وہ اُس پر پھر پوچھتا ’کیوں‘۔اِس طرح کیوں، کیوں پوچھتے وہ معاملے یا مسئلہ کی گہرائی میں اترنے لگتا۔ عموماً پانچویں ’کیوں‘ تک وہ معاملے کی جڑ تک پہونچ جاتا۔اور جب مسئلہ کی جڑ پکڑ میں آجائے تو درست حل بھی آشکار ہو جاتاہے۔اسے ایک مثال سے سمجھایا جاتا ہے۔ مسئلہ : انجن شروع نہیں ہورہا ہے۔ کیوں؟ جواب: بیٹری ڈیڈ ہے۔ کیوں ؟ جواب: الٹرنیٹر کام نہیں کر رہا ہے۔ کیوں؟ جواب:الٹرنیٹر کا بیلٹ ٹوٹ گیا ہے۔ کیوں؟ جواب:الٹرنیٹر میں بیلٹ بوسیدہ اور پرانا تھا۔ کیوں؟ جواب : شیڈولڈ مینٹینسس کے وقت اسے چیک کر کے بدلا نہیں گیاتھا۔ پانچویں کیوں پر سمجھ آگیا کے اصل وجہ ہے مینٹینس میں لاپرواہی۔ حل : تاکید اور پوری توجہ۔ اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ہم نہ تو صنعت کار ہیں اور نہ ہی میکانیک ، ان باتوں کا ہم سے کیا تعلق؟ ملت کو اِس سے کیا رہنمائی مل سکتی ہے ، تو ڈرا ٹھہریے۔ عہدِ حاضر میں دانشوران اور ماہرین ہر طرف نظریں رکھتے ہیں، ہر شعبہ حیات سے متعلق نئی باتوں، نظریوں اور طریقہ کار کو اپنے شعبہ یا معاملات پر اطلاق کر کے دیکھتے ہیں کہ آیا یہ چیز ان کے لئے بھی کارآمد ہے؟آج دنیا میں دانشمند لوگ ٹو یوڈا کے طریقہ کار کو ازدواجی، گھریلو، ذاتی، معاشرتی، سماجی ، معاشی اور نفسیاتی معاملات میں بھی استعمال کر رہے ہیں۔جیسے تصور کیجئے آپ میں نئے لانچ ہوئے آئی فون خریدنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اب یہ طریقہ کار استعمال کیجئے۔ معاملہ : نئے فون کی خریداری۔ پہلا سوال کیوں؟ ( یعنی میں یہ فون کیوں خریدنا چاہتا ہوں ) جواب : میں لوگوں کو متاثر کرنا چاہتا ہوں۔ دوسرا سوال کیوں؟ ( یعنی میں دوسروں کو متاثر کیوں کرنا چاہتا ہوں) جواب : تا کے لوگ مجھے بڑا اور اہم سمجھیں۔ تیسرا سوال کیوں؟ ( یعنی میں کیوں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے بڑا اور اہم سمجھیں)۔جواب: اس لیے کہ میں سچ مچ میں یا واقعتاً اہم اور بڑا نہیں ہوں۔ چوتھا سوال کیوں ؟ ( یعنی میں سچ مچ میں اہم کیوں نہیں ہوں) جواب : میرے پاس ایسی خوبیاں، صلاحیتیں، ہنر ، اخلاق اور سرمایہ نہیں ہے جو لوگوں میں اہم ، با عزت ، اور پسندیدہ بنانے کے لئے درکار ہے۔ پانچواں سوال کیوں؟ ( یعنی مجھ میں یہ چیزیں کیوں نہیں ہیں)۔ جواب : کیوں کہ میں نے اب تک منصوبہ بندی اور مشقت سے انہیں حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی یا ابھی کر رہا ہوں۔ اِس طریقے سے آپ خواہش کی تہہ میں پہونچ چکے ہیں۔اور صحیح حل بھی آپ کے سامنے ہے۔ یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ آپ فون خرید نہیں پا رہے ہیں یا خواہش فون کی ہے۔خواہش دراصل سماجی مقام کے حصول کی ہے۔ اور سماجی اہمیت خوبیوں، صلاحیتوں اور سرمایے کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ جسے حاصل کرنے محنت اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔اِس طریقہ کار سے آپ پر یہ حقیقت بھی واضح ہو گی کہ آپ کو ضرورت توہے کسی اور چیز کی لیکن آپ خرید رہے ہیں کچھ اور ۔یعنی آپ کو ضرورت ہے محنت و منصوبہ بندی کی، اور آپ خریدنا چاہتے ہیں قیمتی فون ! دونوں عمل میں دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ کیا فون خرید لینے سے آپ کی منصوبہ بندی تیار ہو جائے گی ؟ جس چیز کی ضرورت ہے اُسے نظر انداز کر کے دوسرا کچھ بھی لیا جائے، کچھ بھی خریدا جائے تو قطع کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔بھلا پیٹ درد میں پیشانی پر جھنڈو بام مَلنے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ پھر اگر آپ قیمتی موبائل خرید بھی لیں تو بھی آپ کے اندر کا کھوکھلا پن ( Lower Self-Esteem ) آپ کو بے چین رکھے گا۔ اور جیسے ہی کوئی نئی چیز مارکیٹ میں آئے گی اور آپ دِکھاوے کے لیے اُسے خریدنا چاہیں گے۔اور یہ سلسلہ اُس وقت تک چلتا رہے گا جب تک آپ محنت و منصوبہ بندی سے صلاحیتیں اور سرمایہ حاصل نہیں کر لیتے اور آپ کا اعتماد او ر Self-esteem بڑھ نہیں جاتی۔ ٹویوڈاکا طریقہ کار یہ بھی واضح کر دے گا کہ موجودہ صورتِ حال میں نیا فون خریدنا آپ کے لیے دانشمندی ہے یا حماقت۔ ضروری نہیں کہ سوالات صرف پانچ ہی ہوں، زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ہر فرد کے پس منظر، صورت حال اور حالات کے لحاظ سے جوابات بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ آپ اِس نتیجے پر پہونچے کہ موبائل خرید لینا چاہیے۔ ایسی صورت میں ضرور خریدلیں۔ لیکن اگر آپ کے جوابات مندرجہ بالا مثال کی سمت میں جا رہے ہیں تو جان لیجیے کہ آپ کو فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ آپ کی سماجی امیج بڑھنے کی بجائے گھٹے گی ۔ کیوں کہ معاشی و سماجی استطاعت سے بڑھ کر چیزیں خریدنے پر لوگ آپ کو بد سلیقہ اور لاپرواہ بھی سمجھنے لگیں گے۔لہذا اہم بات یہ ہے کہ ہر معاملہ اور ہر مسئلہ میں پہلے اچھی طرح سوچ بچار کر لیں، غور و فکر کریں، سوالات پوچھیں اور کسی نتیجہ پر پہونچھ کر قدم اُٹھائیں۔ اِس طرز عمل کو کہتے ہیں دانائی، اِسے کہتے ہیں بالغ نظری، اِسے کہتے ہیں فکر و عمل کی گہرائی۔اور ملت میں سوچ بچار و فکر و عمل کی گہرائی کے فقدان نے ہی ٹویوڈا کے ذکر کی ترغیب دی ہے۔ کہتے ہیں کہ علم مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں بھی ملے اُسے حاصل کرلو۔ ہم بھی اپنے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کے لیے ٹویوڈا کے طریقہ کو آزما سکتے ہیں۔ غور و فکر کی دعوت اور ترغیب تو اکثر دی جاتی ہے لیکن یہ کس طرح کیا جائے اس پر بہت کم گفتگو ہوتی ہے۔اب یہ ایک طریقہ سامنے آیا ہے تو کیوں نہ اِسے استعمال کیا جائے؟ یہ کہنے کی تو شاید ضرورت نہیں کہآج ملت اور اُس کا ہر فرد عجیب و غریب، پیچیدہ اور گوناگوں الجھنوں اور مسائل میں گرفتار ہے۔لیکن استثنائی مثالوں کو چھوڑ دیں تو من حیث القوم ہم قدم پہلے اُٹھاتے ہیں(بلکہ قدم رکھ دیتے ہیں) اور سوچتے بعد میں ہیں۔ کرتے اوربولتے پہلے ہیں اور غور کرتے بعد میں ہیں۔ اور اِس کا خمیازہ بھی آے دن بھگتتے رہتے ہیں۔ ہمارے مسائل حل تو کیا ہوتے ہیں ، بلکہ بڑھتے جاتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی معاملہ یا مسئلہ سامنے آئے ، ہم فوراً کسی نتیجے پر چھلانگ لگا دیتے ہیں کہ یہ اِس لئے ہو رہا ہے یا اِس کی وجہ یہ ہے۔اکثر لوگ کوئی مسئلہ سامنے آتے ہی روایتی یا سماج میں مروج سوچ کو ہی درست مان کر اظہارِ خیال شروع کر دیتے ہیں۔مثلاً جیسے ہی کسی کڑکی کے دیگر قوم میں شادی کی خبر سامنے آئے، ہم مخلوط نظامِ تعلیم کے پیچھے لٹ لے کر دوڈنا شروع کر دیتے ہیں۔ نہ ہمارے پاس کوئی ڈاٹا موجود ہے کہ کتنے فیصد لڑکیاں مخلوط نظام میں پڑھ رہی ہیںنہ ہی یہ پتہ کے اُن میں کتنے فیصد اِیسا کر رہی ہیں اور جو کر رہی ہیں اُن میں سے کتنے فیصدکے ایسا کرنے کی وجہ واقعتاً مخلوط نظامِ تعلیم ہے۔نہ ہی ہمیں مخلوط نظامِ تعلیم سے باہر پڑھنے والی لڑکیوں میں ایسے واقعات کاکوئی ڈاٹا اور فیصد معلوم ہے۔شاید ایسی ہی صورتِ حال کے لیے کہا گیا ہے کہ ’’ اِس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا :: لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں ‘‘ ۔کوئی مسئلہ ایسا بھی ہو سکتا ہے جس کی جھوٹی بڑی کئی وجوہات ہو ں۔ایسے میں کسی ایک وجہ پر ہی فوکس کرنا دانشمندی نہیں کہلائے گا۔واضح رہے کہ یہاں راقم کا منشاء نہ تو مخلوط نظامِ تعلیم کی تائید یا تردید ہے اور نہ ہی کسی نتیجے کو صحیح یا غلط ٹہرانا۔بلکہ ایک مثال کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش ہے کہ سرسری انداز میںیا جذبات میں مسائل کا حل نہ تلاش کیا جائے۔ سیاسی معاملات میں بھی بیشتر افراد جذباتیت کا شکار ہو کر فوراً ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔جب کہ ان کا سامنا منصوبہ بندی میں ماہر، چالاک ، عیار اور Cold Blooded حریفوں سے ہے۔یاد رکھیے، دماغ کا مقابلہ دماغ ہی کر سکتا ہے، دل نہیں۔ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کئی مسائل علامتیں(symptoms)ہوتے ہیں، مرض ( Disease) نہیں۔جیسے ماب لنچینگ ایک علامت ہے۔اصل مرض کچھ اور ہے۔ لنچینگ ہو رہی ہے۔ کیوں؟ لڑکی کی شادی کا مسئلہ ہے۔ کیوں؟ معاشی مسئلہ ہے ۔ کیوں؟ ٹویوڈا کی طرز پر کیوں، کیوں پوچھتے مسائل کی گہرائی میں اترتے جائیے۔ مسئلہ کی جڑ پکڑ میں آجائے تو صحیح حل پر کام ہوگا، پکا اور صحیح علاج ہوگا۔ یہ کرنا ہی ہوگا۔ غور و فکر سے رابط بڑھانا ہی ہو گا۔ ورنہ ہماری آیئندہ نسلیں بھی راجیش ریڈی کا یہی شعر گنگناتی رہیں گی کہ :
ساتھ غالبؔ کے گئی فکر کی گہرائی بھی
اور لہجہ بھی گیا میر تقی میرؔ کے ساتھ
Like this:
Like Loading...