Skip to content
جمعہ نامہ: فرعونِ وقت کوئی بھی ہو سرکشی کرو
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے پروردگار نے موسیٰ کو آواز دی کہ اس ظالم قوم کے پاس جاؤ، یہ فرعون کی قوم ہے کیا یہ متقی نہ بنیں گے ‘‘۔ مدین سے لوٹتے ہوئے کوہِ طور کے دامن میں حضرت موسیٰ ؑ کو یہ مشکل ترین ذمہ داری ایک ایسے وقت میں سونپی گئی جبکہ وہ فرعون کی غلامی میں مبتلا ایک قوم کے فرد تھے ۔ انہیں ایک عظیم الشان سلطنت کے فرمانروا، ظالم و جابر اور اپنی خدائی کا دعویٰ کرنے والے حکمران کی طرف مبعوث کیا گیا تھا جبکہ اسی نےآپ کی پرورش کی تھی اور پھر آپ سے نادانستہ طور پر آل فرعون کے ایک آدمی کو قتل بھی ہوگیا تھا۔ اس کے بعد فرعونی حکومت کی سزا سے بچنے کے لیےموسیٰؑ مدین چلے گئے تھے گویا آپ فرعون کے ممنون و مفرور تھے۔ ان آیات میں دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی خاطر یہ تسلی کا سامان ہے۔ دعوت دین کا فریضہ سرانجام دینے والے موسیٰ ؑ اگر سنگین ترین حالات میں ظلم و جبر سے نجات پاسکتے ہیں تو ہمیں کامیابی و کامرانی کیوں نہیں مل سکتی؟اس لیے امت کو مخالفین کی معاندانہ روش سے افسردہ اور غمگین ہوئے بغیر اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل کرکے عوام و خواص کوتقویٰ اور پرہیزگاری کی دعوت دینا چاہیے۔
حضرتِ موسیٰ ؑاس عظیم منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی اپنی کم مائیگی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ :’’ پروردگار میں ڈرتا ہوں کہ یہ میری تکذیب نہ کریں ۔ میرا دل تنگ ہورہا ہے اور میری زبان رواں نہیں ہے۔ یہ پیغام ہارون کے پاس بھیج دے اور میرے اوپر ان کاایک جرم بھی ہے، مجھے خوف ہے کہ یہ میرا قتل نہ کردیں‘‘۔ فخرو رعونت سے پاک اس انبیائی عجز و انکسار میں اپنے رب کے تئیں بلا کی اپنائیت اور حقیقت بیانی ہے ۔ اس معذرت کو شرفِ قبولیت تو نہیں ملا لیکن حضرت ہارون ؑ کو رفیق کار بناکر ارشاد فرمایا گیا:’’ ہرگز نہیں تم دونوں ہی ہماری نشانیوں کو لے کر جاؤ اور ہم بھی تمہارے ساتھ سب سن رہے ہیں‘‘۔ اپنی سرپرستی کی یقین دہانی کے بعدطریقۂ دعوت ان الفاظ میں بیان کیا گیا کہ :’’ فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں ۔ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے‘‘۔ دعوت کااسلامی لب و لہجہ حالات حاضرہ سے بے نیاز نہیں ہوتا ۔ بنی اسرائیل کو چونکہ اس وقت غلام بنا کر رکھا گیا تھا اس لیے فرعون کو نہ صرف خدائی کے دعویٰ سے دستبردار ہوکر رب کائنات کا تقویٰ یعنی محبت و خوف یا عبادت و اطاعت کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا بلکہ بنی اسرائیل کی غلامی سے نجات کا مطالبہ بھی کروایا گیا۔
حضرتِ موسیٰؑ کی دعوت کے مختلف مراحل قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں ۔ دعوت حق کے جواب میں فرعون کبھی اپنے احسانات یاد دلاتا ہے تو کبھی احساسِ جرم کا شکار کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسے ہندی مسلمانوں کو پاکستان لے لینے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ فرعون کے سوال کرنےپر کہ ربّ العالمین کون ہے تفصیل سے اسلام کی دعوت پیش کی جاتی ہے۔ اس کےجواب میں تمسخر اور دھمکی کے بعد بات مناظرے تک جاپہنچتی ہے۔ اس طرح گویا اسلام کی دعوت دربار شاہی سے نکل کر عوام الناس تک پہنچ جاتی ہے ۔ پوری قوم کے سامنے جادوگروں کے ایمان لانے اوربے مثال صبر و استقامت کے بعد گویا اتمام حجت ہوجاتا ہے اور تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوجاتی ہے۔فرمانِ قرآنی ہے:’’ہم نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی کہ "راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا” ۔یہ حکم اس لیے دیا گیا کیونکہ ’’ فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے) شہروں میں نقیب بھیج کرکہلا بھیجا تھا کہ "یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکنا رہنا ہے‘‘۔
فرعون کو جادوگروں کے معاملے میں تو ہزیمت ملی تھی لیکن آگے کے حالات کا اشارہ یوں کیا گیا کہ:’’ ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے‘‘۔ موجودہ تناظر میں دیکھیں تو اسرائیل کےباغ اور خزانے امریکہ میں ہے۔ وہاں پر صہیونیوں کی ہوا اکھڑ رہی ہے ۔ ارشادِ فرقانی ہے:’’ یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دوسری طرف) بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیا ‘‘ یعنی جو ہمدردی کسی زمانے میں یہودیوں کے تئیں تھی وہ مسلمانوں کی جانب مڑ رہی ہے ۔ حضرت موسیٰؑ کے زمانے میں بنی اسرائیل کے ساتھ ہوا تھا وہی فلسطینیوں کے تعلق سےہورہا ہے ۔آگے ارشادِ قرآنی ہے:’’ صبح ہوتے ہی یہ لوگ (فرعونی لشکر)اُن(بنی اسرائیل) کے تعاقب میں چل پڑے ‘‘اور پھر عصائے موسیٰ کی ضرب سے سمندر پھاڑ دیا گیا ۔ بنی اسرائیل بچا لیے گئے اور فرعون کو غرقاب کرکے رہتی دنیا تک کے لیے نشانی بنادیا گیا۔
فرعونِ وقت نتن یاہو فی الحال مالی بدعنوانی کی طغیانی میں ہاتھ پیر ماررہا ہے۔ اس کے سامنےاپنے اقتدار کوبچانے کے تین متبادل ہیں۔پہلا صدر سے پیشگی معافی مانگ کررسوائی کے ساتھ سیاست میں رہنا۔دوسرا عدالتی فیصلے کے بعد معافی کی درخواست کرنا بشرطیکہ جرم اخلاقی بدعنوانی کے زمرے میں نہ آئے اور سزا تین ماہ سے نہ زائد ہوورنہ وہ سات سال تک اسرائیلی پارلیمان کے انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہے گا۔ اس صورت میں سیاسی سرگرمیوں اور انتخابات کے اندر حصہ لینے سے محرومی ٹالنے کی یہی صورت ہے کہ عدالت نتن یاہو کو ایسی سزا دے جس میں جیل جانا شامل نہ ہو، یا اگر اسے معطل دی جائے سزا (یعنی سزا سنائی جائے مگر قید پر عمل نہ ہو) ۔ نیتن یاہو نے جس اقتدار کو بچانے کی خاطر دنیا کی سب سے بڑی نسل کشی کا ارتکاب کیا اس پر پھر سےغیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ اس سے قبل ایریل شیرون نامی بدبخت اسرائیلی وزیر اعظم ۸؍ برسوں تک کوما کی حالت میں نشانِ عبرت بنارہا۔ نیتن یاہو کا انجامِ بدکیا ہوگا یہ اللہ ہی جانتا ہے لیکن حبیب جالب کے یہ ا شعار اس جانب اشارہ ضرور کرتےہیں ؎
نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جائے گا
عصا اٹھاو کہ فرعون اسی سے جائے گا
بجھے چراغ ، لٹیں عصمتیں ، چمن اجڑ ا
یہ رنج جس نے ديئے کب خوشی سے جائے گا
Like this:
Like Loading...