Skip to content
شہادت بابری مسجد تاریخ ہند کا سیاہ داغ
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
سال کا آخری مہینہ ڈسمبر اور اس کی ۶ تاریخ جب بھی آتی ہے اپنے ساتھ ایک سیاہ تاریک تاریخ لاتی ہے کیونکہ ۱۹۹۲ء کو مذکورہ دن تاریخی عظیم الشان بابری مسجد کو کٹر ہندو فرقہ پرستوں نے حکومت وقت کی پشت پناہی اور طاقتور نیم فوجی دستوں کی موجود گی میں شہید کر کے ظلم وستم کی ایسی تاریخ رقم کی ہے جو ہندوستانی تاریخ کا بد نما داغ ہے جسے کبھی بھی مٹایا نہیں جا سکتا ہےاس پر ستم ظرفی کہ ۹ ؍ نومبر ۲۰۱۹کو عدالت عظمیٰ نے اپنا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے بابری مسجد کو ہندؤں کے حق میں دے دیا اور اس کے بعد ستم بالائے ستم کہ ۵؍ اگست ۲۰۲۰ کو ملک کے وزیر اعظم کے ہاتھوں رام مندر کے لئے سنگ بنیاد رکھ دیا گیا اور بالآخر ۲۲؍ جنوری ۲۰۲۴ کو بابری مسجد کی جگہ تعمیر کردہ رام مندر کا افتتاح کردیا گیا ، بات یہ ہے کہ بابری مسجد کی شہادت صرف ایک مسجد کی شہادت نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستانی سیکولر کردار ،مذہبی رواداری، صدیوں قدیم ہم آہنگی ، آپسی پیار ومحبت اور محسنوں کا گھناؤنا قتل ہے، سچ یہ ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کو ہندوستان اور عالم اسلام کے مسلمان ہی نہیں بلکہ سیکولر مزاج اورسنجیدہ قسم کی ذہنیت رکھنے والے برادران وطن اور پوری دنیا میں بسنے والے انصاف پسند لوگ بھی اس کربناک غم کو صدیوں تک بھلا نہیں پائیں گے،کہنے کو تو یہ ایک مسجد کی شہادت ہے مگر حقیقت میں ظلم وستم کی ایک دستان ہے ،بابری مسجد شہید ہوتی رہی اور ملک کا مسلمان بے بسی کے ساتھ اس دل دہلانے والے منظر کو دیکھتا رہا ، اس وقت اسے پہلی بار یہ احساس ہوا تھا کہ اس کے آبا واجداد نے جس سر زمین کو اپنے خون ِ جگر سے سینچا تھا اور جسے اپنے ہاتھوں سے تراش کر حسین وجمیل بنایا تھا آج اسی سرزمین پر اسے اجنی بنا کر یکا وتنہا کر دیا گیا ہے ،بات یہ ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے واقعہ کو تین دہوں سے زیادہ وقت گزرچکا ہے لیکن مسلمان اور سیکولر ذہنیت رکھنے والے لوگوں کے دلوں میں اس کا زخم اب بھی تازہ ہے اور تاریخ کے صفحات میں شہادت بابری مسجد کے دن کو سیاہ داغ ہی شمار کیا ہے ۔
بابری مسجد ہندوستان کی وہ تاریخی مسجدوں میں سے ایک تھی جسے مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے حکم سے دربار بابری سے منسلک ایک نامور شخص میر باقی نے اپنے زیر نگرانی ۱۵۲۷ء میں اتر پردیش کے مقام ایودھیا میں تعمیر کیا تھا ،یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی، بابری مسجد کی تعمیر سے پہلے وہاں کوئی مندر نہیں تھا یہ بات بھی تاریخی کتب اور مستند حوالوں سے ثابت ہے ،کچھ فاصلے پر چند بیراگی ایک کورٹ پر رہا کرتے تھے جسے رام کورٹ کہتے تھے ،اکبر نے اپنے زمانے میں ہندؤں کو چبوترہ بناکر پوجا پاٹ کی اجازت دی تھی،انگریزوں کے زمانے میں سازش شروع ہوئی ،ہندو مسلم اتحاد کو متاثر کرنے کے لئے ایچ او نوئل نامی انگریزی آفسر نے ڈسٹرکٹ گزٹ کو مرتب کرتے ہوئے یہ غلط ریمارک لکھا کہ بابری مسجد ایک منہدمہ مقام پر بنائی گئی ہے ،انگریز لڑاؤ اور حکومت کرو پالیسی پر عمل کرتے رہے ،انہوں نے بابری مسجد کے ذریعہ جو بیج پویا تھا دھیرے دھیرے وہ تناور درخت میں تبدیل ہو گیا ۱۸۸۵ ء میں بیراگیوں کے مہنت رگھبیر داس نے سکریٹری آف اسٹیٹ فارانڈین کونسل میں بابری مسجد کے متولی محمد اصغر کے خلاف مقدمہ دائر کیا کہ مسجد بیرونی احاطہ میں واقع چبوترہ رام جنم بھومی ہے ،اس کے بعد ۱۸۸۵ء سے ۱۹۴۷ء تک بابری تنازعہ پر مقدمہ بازی ہوتی رہی ،ملک تقسیم ہوا ،اس کے بعد فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کے خلاف متحد ہو گئیں اور چوری چپھے ۲۲؍ڈسمبر ۱۹۴۹ء کی رات بابری مسجد میں مورتیاں رکھ دی گئیں ،جس کے بعد نقص امن کے نام پر مسجد پر تالا لگا دیا گیا ،۱۶؍جنوری ۱۹۵۰ء کو ہندوؤں کی جانب سے ایک دعویٰ کیا گیا کہ بابری مسجد دراصل رام جنم بھومی ہے ،۱۹۸۴ء میں وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام کی جائے پیدائش کو آزاد کروانے کے لئے تحریک کا اعلان کیا اور بی جے پی کے رہنما لعل کرشن اڈوانی نے اس تحریک کی قیادت سنبھالی ،۱۹۸۶ء میں ضلعی عدالت کی جانب سے ہندوؤں کو متنازع مقام پر پوجا کی اجازت دے دی گئی اور ۱۹۸۹ء کو وشوا ہندو پریشد نے مسجد سے ملحقہ زمین پر رام مندر کی بنیاد رکھی ،پھر ۱۹۹۰ء میں انہی لوگوں نے مسجد کو جزوی نقصان پہنچایا پھر ۶؍ڈسمبر ۱۹۹۲ء منظم طریقہ پر وشوا ہندو پریشد اور دیگر ہندو کٹر تنظیموں نے مل کر حکومت کی سر پرستی اور نیم فوجی دستوں کے سامنے مسجد کو شہید کر ڈالا ،بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمانوں کی متحدہ تنظیم مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں مقدمہ چلتا رہا اور تقریبا اٹھائیس سال تک چلتا رہا مگر بالآخر وہی ہوا جس کا کسی نے اندازہ نہیں کیا تھا کہ عدالت عظمی نے بابری مسجد کے حق میں تمام شواہد ہونے کے باوجود محض آستھا کی بنیاد پر اپنا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے اسے ہند توا کے حق میں دے دیا اور اس کے بعد سیکولر ملک کے وزیر اعظم کے ہاتھوں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کے لئے سنگ بنیاد رکھا گیا اور مندر کی تعمیر کے بعد حکومت وقت کی سرپرستی میں بڑے دھوم دھام سے اس کا افتتاح کیا گیاجوکہ سکیولر ملک کے لئے انتہائی خطرناک اور جمہوریت کے لئے بد نماداغ ہے جسے تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی ۔
سچ یہ ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد سے ہی شرپسندوں کے حوصلے بلند ہوگئے ،انہیں یقین ہوگیا کہ حکومت کی سرسیوں پر انہیں کا ذہن رکھنے والے لوگ موجود ہیں اور انہیں اس کا بھی یقین ہوگیا کہ ظلم وستم میں وہ آزاد ہیں اس پر نہ کوئی روک ٹوک کرنے والا ہے اور نہ ہی ان سے کوئی پوچھنے کی ہمت کرنے والا ہے ،چنانچہ بابری مسجد شہید کرنے والوں پر نہ مقدمہ چلا اور نہ ہی ان کی گرفت کی گئی بلکہ بعض عوامی منتخب نمائندوں کی جانب سے ظلم پر ان کی پیٹ تھپتھپائی گئی اسی سے حوصلہ پاکر ظالموں نے جگہ جگہ یہ نعرہ لگاتے رہے کہ’’ ایودھیا صرف ایک جھلک ہے ،کاشی متھرا ابھی باقی ہے‘‘ جس کا صاف لفظوں میں یہ مطلب ہے کہ کاشی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد پر بھی مندر کی جگہ تعمیر کئے جانے کے دعؤں کو بڑھاوا دیا جائے گا اور جس طرح طاقت وظلم اور کھلی نا انصافی کے ذریعہ بابری مسجد کو چھین کر مندر بنائی گئی اسی طرح ان مقامات کا بھی وہی حشر کیا جائے گا ،اس وقت قطب مینار سے لے کر درگاہ اجمیر شریف تک کم ازکم دس یا اس سے زائد ایسے مقامات ہیں جس پر ہندؤں نے اپنا دعویٰ پیش کیا ہے ،اگر تاریخ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور نگاہ انصاف سے دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مسلم حکمران نے نہ مندر توڑ کر مسجد بنائی ہے اور نہ ہی کسی مندر کی جگہ میں مسجد تعمیر کی ہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ کسی کی عبادت گاہ توڑ کر مسجد بنانا جائز نہیں ہے اور اسلام میں اس کی ہر گز گنجائش نہیں ہے ۔
سچ یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر وقفہ وقفہ سے ظلم وتشدد برپا کیا جارہا ہے اور انہیں مختلف طریقوں سے پریشان کیا جارہا ہے،کبھی منظم فسادات کے ذریعہ ان کے جان ومال کو نقصان پہنچایا جارہا ہے تو کبھی ہجومی تشدد کے ذریعہ ان پر خوف مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو کبھی ان کا سوشل بائکاٹ کرکے انہیں یکا وتنہا اور الگ تھلگ کیا جارہا ہے تو کبھی ان کے نوجوانوں پر بے بنیاد الزام لگاکر انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال کران میں مایوسی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ،تو کبھی مخصوص مقامات پر انہیں عبادت کرنے سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے تو کہیں اذان کو تکلیف کا نام دے کر اس پر روک لگائی جارہی ہے ، افسوس تو اس پر ہے کہ جن جن مقامات پر مخصوص طبقہ حکومت کی کرسی پر براجمان ہے وہاں دوسری بڑی اکثریت مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جارہا ہے اور ان کا دائرہ حیات تنگ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے جب حکمرانوں ہی نے ظلم کی ٹھان لی ہے تو پھر عوام کا کیا کہنا ،حد تو یہ ہے کہ بے گناہ مسلمانوں پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے ان پر سخت قسم کے مقدمات عائد کئے جارہے ہیں اور ان کے گھروں کو غیر قانونی بتاکر ان پر بلڈوزر چلائے جارہے اور تو اور کھلے الفاظ میں ان کے مذہب کی توہین کی جارہی ہے اور اس پر ناراضگی کا اظہار کرنے والوں کو طاقت کے بل پر بُری طرح پیٹا جارہا ہے مگر ان سب کے باوجود مسلمانوں کا صبر وتحمل قابل تعریف ہے ،حقیقت یہ ہے کہ جس قدر مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے اگر اس کا دسواں حصہ بھی کسی دوسری قوم ہوتا تو وہ بلبلا اٹھتی تھی۔
حکومت اور اس پر برجمان لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ حکومت واقتدار ظلم کے لئے نہیں انصاف کے لئے ہوتا ہے اور حکومت کی نظر میں تمام شہری قابل احترام ہوتے ہیں اور مساوی حق رکھتے ہیں، اگر کسی کی حکومت میں کسی بھی شہری پر ظلم ہوتا ہے یا انصاف نہیں ہوتا ہے تو یہ حکومت کی نااہلی اور ناکامی ہوتی ہے اور اس کی اصل ذمہ دار حکومت ہی ہوتی ہے ،حکمران جان لیں کہ اگر وہ حکومت پر برقرار رہنا چاہتے ہیں اور طویل وقت تک حکومت کی کرسیوں پر فائز رہنا چاہتے ہیں تو انہیں عدل وانصاف کا میزان قائم کرنا ہوگا اور ظلم اور ظلم کے تمام راستوں کو ختم کرنا ہوگا اور یہ بات یاد رکھنا ہوگا کہ ظلم پر خاموش رہنا اور ظلم کے ساتھ حکومت کرنا بھی بڑا ظلم ہے اور ظلم بہت دنوں تک قائم نہیں رہ سکتا ہےاور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والے کو ہرگز پسند نہیں کرتے ہیں ،ظلم ایک شخص کے ساتھ ہو یا متعدد اشخاص کے ساتھ یا عام لوگوں کے ساتھ ہو یا مخصوص طبقہ کے ساتھ ظلم تو بہر حال ظلم ہی ہے اور اس کا وبال بڑا خطرناک ہوتا ہے۔
موجودہ حالات میں عوام وخواص چاہے وہ کسی مذہب ومشرب سے تعلق رکھتے ہوں ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کریں اورظلم کے خاتمہ کی ہر ممکن کوشش کریں اور صاف طور پر یہ بتائیں کہ ملک چاہے جتنا بھی بڑا اور طاقتور ہو جس کی زمین پر اگر ایک شخص کے ساتھ بھی ظلم ہوتا ہے تو ہرگز چین اور سکون سے رہ نہیں سکتا بلکہ ظلم کی نحوست سب کو اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے اور اگر اس پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو اس کے بُرے اثرات سے آنے والی نسل محفوظ نہیں رہ سکتی ہیں اور جہاں کی نسلیں محفوظ نہیں رہے گی تو ملک کس طرح سلامتی وامن کے ساتھ رہ سکتا ہے ،اس لئے ظلم پر آواز اٹھانا ہر ایک کا ملکی واخلاقی فریضہ ہے اور یہ فریضہ ہر شہری کو نبھانا ہوگا اور عزم مصمم کرنا ہوگا کہ ہم نہ تو کسی پر ظلم کریں گے اور نہ ہی ظلم پر خاموش رہیں گے بلکہ متحدہ طور پر ظالم کو ظلم سے روکنے کی بھر پور کوشش کریں گے اور مظلوم کو اس کا پورا پورا حق دلائیں گے ۔
ان حالات میںمسلمانان ہند کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات سے گھبرائیں نہیں ،مایوسی کا شکار نہ ہوںبلکہ اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں ،تعلیمات نبوی ؐ پر گامزن رہیں اور خیر امت ہونے کا فریضہ اداکریں ،برادران وطن تک اسلام کی تعلیمات محبت وامن کو پہنچائیں ،تاریخ ہند سے برادران وطن اور خصوصا نواجوان نسل کو واقف کریں اور بتائیں کہ ان کے آباواجداد نے عدل وانصاف کے ساتھ حکومت کی تھی اور اپنی پوری زندگی ملک کے ترقی کے لئے صرف کی تھی ، جو لوگ تاریخ ہند کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں وہ ہر گز خیر خواہ نہیں ہو سکتے ہیں اور جو تاریخ کے ساتھ انصاف کر نہیں سکتے وہ دوسروں کے ساتھ کیسے انصاف کر سکتے ہیں ،اگر ہم نے ظلم کے خلاف چپ رہنا پسند کیا تو یہ ملک کے لئے بھی نقصان دہ ہوگا،یہاں رہنے والوں کے لئے بھی خطرناک ہوگا اور آنے والی نسلوں کے لئے بھی؎
ظلم کرنے کی جو ظالم کو اجازت ہوگی
جان لوگوں کی نہ ہرگز سلامت ہوگی
ظالم پر چپ جو رہا،موت تو ٹل جائے گی
پر یہی چپ میری نسلوں کو نگل جائے گی
Like this:
Like Loading...
ماشاء الله بهت خوب