موبائل فون: نعمت یا نقمت؟
رشحاتِ قلم: محمد صابر حسین قاسمی نظام آباد
متعلم:تکمیل افتاء دارالعلوم حیدرآباد
عصرِ حاضر میں موبائل فون کا استعمال اس قدر عام ہوچکا ہے کہ یہ گھر گھر، دکان دکان اور ہر جیب کی زینت بن چکا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آج کے دور میں ہر انسان موبائل کا اسیر ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ جس کے پاس موبائل نہ ہو،اسے تعجب اور حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔
اگر جائزہ لیا جائے تو معاشرے میں ایک طبقہ وہ ہے جو موبائل فون کو صرف ضرورت کے وقت استعمال کرتا ہے؛ ضرورت پوری ہوئی تو فون ایک طرف رکھ دیا۔ لیکن اس کے برعکس اکثر لوگ موبائل کو بطور فیشن، عادت اور نمائش استعمال کرتے ہیں۔ جس کے پاس جتنا قیمتی موبائل ہو، وہ اسی قدر فخر محسوس کرتا ہے اور لوگوں میں اس کا اظہار کرتا پھرتا ہے۔ غریب ہو یا امیر، ہر شخص بہترین سے بہترین موبائل چاہتا ہے، حتیٰ کہ ضرورت کی گنجائش نہ ہونے پر بھی قرض لے کر موبائل خرید لیا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ موبائل فون نعمت ہے یا نقمت؟
یہ بات درست ہے کہ موبائل سے بے شمار سہولتیں مل رہی ہیں۔ گھر بیٹھے ضروری کام مکمل ہوجاتے ہیں، لین دین آسان ہے، بازار کا سامان منگانا ممکن ہے، اور ہر طرح کا رابطہ سہل ہوگیا ہے۔
لیکن دوسری طرف اس کے نقصانات بھی کم نہیں، بلکہ ہر روز اخبارات اور نیوز چینلوں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔
در حقیقت جواب یہ ہے کہ:
اگر موبائل کا استعمال ضرورت، فائدے، خیرخواہی، علم اور مثبت کاموں میں ہو… تو یہ نعمت ہے۔
اور اگر اسے فحاشی، غفلت، وقت ضائع، بدنگاہی، دوسروں کی عزت پامال کرنے، یا گناہوں میں استعمال کیا جائے… تو یہ نقمت ہے۔
موبائل فون کے فوائد
اس میں کوئی شک نہیں کہ جیسے موبائل کے نقصانات ہیں، ویسے ہی بے شمار فوائد بھی ہیں۔ جہاں اس کے منفی اثرات دکھائی دیتے ہیں، وہیں اس کے مثبت اثرات بھی واضح ہیں۔
ماضی میں والدین، رشتہ دار یا بیمار کی خبر گیری کے لیے سفر کی مشقت اٹھانا پڑتی تھی، لیکن آج دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر خیریت دریافت کی جاسکتی ہے۔
علم حاصل کرنے کے لیے دور دراز سفر کرنا پڑتا تھا، لیکن آج ایک میسج، ایک کال، ایک ویڈیو کال میں مسئلہ معلوم ہوجاتا ہے۔
علماء کے درد انگیز مضامین اور بیانات سن کر اصلاحِ نفس کا موقع ملتا ہے۔
ہزاروں کتابیں موبائل میں موجود رہتی ہیں، ضرورت کے وقت کوئی بھی کتاب پی ڈی ایف کی شکل میں فوراً دستیاب ہوجاتی ہے۔
سفر میں قرآن نہ ہو تو موبائل کی اسکرین پر تلاوت کی جاسکتی ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعہ دعوت دینا، فتنوں کا ردّ کرنا، علمی مواد کا نشر کرنا، یہ سب اسی موبائل کی بدولت ممکن ہے۔
ایمرجنسی میں مدد مانگنا، آن لائن کاروبار کرنا، ادائیگی و وصولی کرنا،یہ سب موبائل کی وجہ سے آسان ہوگیا ہے۔ غرض بے شمار فوائد ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔
موبائل فون کے نقصانات
جس طرح موبائل کے فوائد مسلم ہیں، اسی طرح اس کے نقصانات بھی ڈھکے چھپے نہیں۔ ہر شخص اس کے منفی اثرات سے واقف ہے۔
گھر گھر موبائل نے ایسا جادو چلایا ہے کہ والدین کے پاس فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کی فرصت ہے، مگر اولاد کی تربیت کے لیے وقت نہیں۔
ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے بیگانہ ہوچکے ہیں؛ ہر شخص اپنی اسکرین میں گم ہے۔
نوجوانوں میں فحش ویب سائٹس اور میٹریل کا استعمال اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس کی قباحت ختم ہوتی جارہی ہے۔ شہوت پرستی، بے حیائی، بدنگاہی، زنا کاری، تعلقاتِ ناجائز اور اخلاقی تباہی عام ہوچکی ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے شریف لڑکیوں کی عزتیں لٹ رہی ہیں، محبت کے نام پر ان کی زندگیوں کو تباہ کیا جارہا ہے، فریب دے کر قتل تک کردیا جاتا ہے۔
آن لائن فراڈ، اکاؤنٹ ہیکنگ، قرض کے نام پر ٹھگی،یہ سب موبائل کے ذریعے آسان ہوگیا ہے۔
بچے اغوا کرکے والدین سے بھاری پیسے طلب کیے جاتے ہیں، جس کے لیے والدین کو جائیداد تک بیچنی پڑتی ہے۔
سڑک حادثات میں موبائل بڑا سبب بن چکا ہے۔ چلتے ہوئے بھی موبائل ہاتھ سے رکھنے کو تیار نہیں، جس کے نتیجے میں روزانہ حادثات پیش آرہے ہیں۔
غرض موبائل کے نقصانات بے شمار ہیں اور معاشرے کو بڑی تباہی کی طرف لے جارہے ہیں۔
لمحۂ فکریہ
خدارا! ابھی وقت ہے کہ ہم موبائل کے غلط استعمال سے باز آجائیں، قبل اس کے کہ عذابِ الٰہی ہمیں آ لے۔ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن حسرت سے کہنا پڑے:
"یَا لَیْتَنِی لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیلًا”
کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا!
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"یَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُور”
اللہ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے بھیدوں کو خوب جانتا ہے۔
اگر اللہ پوچھ لے کہ کیا میں نے یہ حکم نہ دیا تھا:
"یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ”
اپنی نظریں اور شرمگاہیں محفوظ رکھو؟
اور کیا میں نے یہ نہ کہا تھا:
"لَا تَقْرَبُوا الزِّنَا”
زنا کے قریب بھی نہ جاؤ؟
یا نبی نے یہ نہ فرمایا تھا:
"الحیاء شعبة من الإیمان”
حیا ایمان کا حصہ ہے؟
اگر اللہ والدین کی نافرمانی پر پوچھ لے:
"فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ …”
والدین کو اُف تک نہ کہو۔
تو کیا ہم جواب دے سکیں گے؟
یقیناً نہیں!
لہٰذا توبہ نصوح کریں، اپنی غلطیوں کی اصلاح کریں، اور موبائل کو خوفِ خدا کے ساتھ استعمال کریں۔
موبائل کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہے جیسے شراب کے بارے میں فرمایا گیا:
"فِیهِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَکْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا”
ان میں کچھ فائدہ ہے مگر گناہ زیادہ ہے۔
بالکل یہی معاملہ موبائل کا ہے؛ فائدے موجود ہیں، مگر اگر غلط استعمال ہو تو نقصانات بے شمار ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں موبائل کو خیر کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
