Skip to content
اب کسی شخص میں سچ سننے کی ہمت ہے کہاں؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مولانا محمود مدنی نے اپنے حالیہ خطاب میں اگر فرمایا کہ ’جب تک ظلم ہوگا تب تک جہاد رہے گا‘تو اس میں غلط کیا ہے؟ اس مشروط جہاد سے وہی ظالم پریشان ہیں جو اسے ظلم و جبر کا بازار گرم رکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ظلم سے آنکھیں موند کر جہاد پر اٹک جاتے ہیں۔ ان لوگوں کو اگر جہاد سے پریشانی ہے تو ظلم سے باز آجائیں اور اس کے خلاف جہاد کرنے والوں کا ساتھ دیں لیکن یہ تو کرنا نہیں ہے اس لیے ہنگامہ آرائی کی جارہی ہے ۔ وہ پہلے تو یہ بتائیں کہ ہندوستان میں ظلم و جبر ہورہا ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کھل کر بولیں کہ امریکہ کی رپورٹ جھوٹی ہے۔ یہ اگر نہیں کرسکتے یعنی مانتے ہیں کہ ظلم ہورہا تو بتائیں اس کو روکنے کے لیے کچھ کرنا چاہیے یا نہیں ؟ اگر کرنا چاہیے اور وہ جہاد ہے تو پھر حمایت کرنی چاہیے ۔ وہ اگر حمایت نہیں کرسکتے تو کم ازکم مخالفت نہ کریں ۔ انہیں اس لیے مرچی لگتی ہے کیونکہ ظلم مخالف جہاد ان کے اقتدار کے لیےبڑا چیلنج ہے۔ ۔ مولانا کا بیان حفیظ میرٹھی کے اس شعر کی مصداق ہے؎
رات کو رات کہہ دیا میں نے سنتے ہی بوکھلا گئی دنیا
مولانا محمود مدنی کے جہاد سے متعلق بیان پرسمبت پترا جیسے جاہل کو بی جے پی کے ذریعہ بہار جیسے صوبے میں نامزد کردہ گورنر عارف محمد خان کا رد عمل دیکھ کر انہیں برخواست کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ عارف محمد خان نے کہا کہ مولانا محمود مدنی کے بیان سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا اور قرآن بھی وہی کہہ رہا ہے جو محمود مدنی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے۔ وہ بولے قرآن کے مطابق جہاد کا مطلب ظلم کے خلاف کمزوروں، غریبوں یا مظلوموں کی حمایت میں کھڑا ہونا اور آواز اٹھانا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا، "ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ہی حقیقی جہاد ہے۔”۔ اس کے بعد اپنے سیاسی آقاوں کی خوشنودی کے لیے انہیں یہ بھی کہنا پڑا کہ ’’ در العلوم دیوبند کی کتاب میں جہاد کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ ”شریعت میں جہاد دین حق کی طرف بلانے اور جو اسے قبول نہ کرے، اس سے جنگ کرنے کو کہتے ہیں۔‘‘ عارف محمد خان اگر اس کتاب کا حوالہ دے دیتے تو بہتر تھا لیکن اگر کوئی ایسی کتاب ہو تو اس کا نام بتایا جائے۔عارف خان نے قرآنی اصطلاح کا یہ مطلب بتایا کہ آپ صرف ظلم کرنے سے بچیں یہ کافی نہیں ہے بلکہ اگر کسی کمزور یا غریب پر ظلم ہو رہا ہے تو آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کے لیے آواز اٹھائیے اور اس کی مدد کیجیے۔
یہاں ایک سوال یہ ہے کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے کیا عارف محمد خان اس ذمہ داری کو ادا کررہے ہیں ؟ کیا انہوں اپنی پارٹی کی توجہ اس جانب مبذول کرانے زحمت گوارہ کی ہے ؟ وہ اگر ان کی سن کر نہیں دے رہے تو موصوف ایسے اقتدار کے آلۂ کار کیوں بنے ہوئے ہیں ؟ اس حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی میں جس طرح تاریخ کو توڑ مروڈ کر پیش کیا جارہا ہے اس کے خلاف کچھ بولنے کے بجائے دارالعلوم دیوبند کے بارے میں یہ کیوں کہتے ہیں کہ جس تعلیمی ادارے سے ان (مولانامحمود مدنی ) کا تعلق ہے وہاں پرجہاد کے تعلق سے کیا وہ پڑھایا جا رہاہے؟ عارف محمد خان میں تعلیم گاہوں کے اندر بچوں کو ان کے عقیدے سے ٹکرانے والے وندے ماترم کو پڑھنے کی زبردستی کے خلاف بولنے کی جرأت کیوں نہیں ہے؟مولانا محمود مدنی کے بیان کو سیاق و سباق سے کاٹ کر دیکھنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا ”اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں نے مقدس اسلامی اصطلاحات مثلاً جہاد کے لفظ کو ایک گالی، فساد اور تشدد کا ہم نام بنا دیا ہے۔ لو جہاد، لینڈ جہاد، تعلیم جہاد، تھوک جہاد وغیرہ جیسے جملے استعمال کر کے مسلمانوں کی سخت دل آزاری اور ان کے مذہب کی توہین کی جا رہی ہے۔” یہ ناقابلِ تردید حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہے۔
مولانا کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے سمبت پاترا نے کہا کہ ’’دنیا نے دیکھا ہے کہ لوگوں نے جہاد کے نام پر ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر میں کس طرح دہشت گردی کو فروغ دیا ہے۔‘‘ پاترا کو بتانا چاہیے کہ لو جہاد، لینڈ جہاد، تعلیم جہاد، تھوک جہاد جیسے اصطلاحات ہندوستان کے علاوہ کہاں استعمال کی جاتی ہیں ؟ انہیں کس نے وضع کیا اور ان کا دہشت گردی سے کیا تعلق ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت کی سرپرستی میں جاری و ساری ہندو توا نوازوں کی دہشت گردی کو جائز ٹھہرانے کی خاطر ان اصطلاحات کوایجاد کیا گیا ۔مولانا کے بیان کو اس لیے اچھالا جارہا ہےتاکہ ایس آئی آر کے دباو کی وجہ سے مرنے والے ہندو بی ایل او کی خودکشی یا اموات کے واقعات کی جانب سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ وہ بیچارے ہندوتوا نواز سرکار کے اشارے پر الیکشن کمیشن کے دھرم یُدھ کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایوان کے سرمائی اجلاس میں حزب اختلاف اس پر بحث چاہتا ہے۔ حکومت کو اس سے بھاگنے اور اپنی بزدلی کو چھپانے کی خاطر ایک ہنگامہ آرائی درکار ہے تاکہ پردہ پوشی کے ساتھ سیاسی فائدہ بھی ہو ۔مولانا کے بیان کو اس کام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
مولانا محمود مدنی کے بیان کا سیاق تو اوپر بیان ہوگیا اب سباق بھی دیکھیں ۔ انہوں نے فرمایا افسوس کا مقام ہے کہ حکومت اور میڈیا میں بیٹھے ذمہ دار افراد بھی اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہ تو پرانے دور سے چلا آ رہا ہے کہ کہیں بھی دہشت گردانہ عمل پیش آجائے تو اس کو جہاد کا نام دے کر اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے۔ فرد سے لے کر سما ج اور انسانیت کی بھلائی، ان کی سربلندی اور ان کی عزت و وقار کے قیام کے لیے لفظ جہاد کا استعمال ہوا ہے۔ مولانا نے جنگ و قتال کے معنیٰ میں جہاد کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بھی ظلم و فساد کے خاتمے اور انسانیت کی بقا کے لیے ہوگااس کےبعد وہ بولے ’’ اس لیے جب جب ظلم ہوگا تب تک جہاد ہوگا‘‘۔اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے موصوف نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ جہاد کوئی انفرادی ،نجی یا انتقامی کاروائی نہیں ۔ صرف ایک ذمہ دار اور شرعی اصولوں کے مطابق قائم ریاست ہی جہاد کا فیصلہ کر سکتی ہے۔نیز ہندوستان جیسے جمہوری اور سیکولر ملک میں جہاں اسلامی ریاست کا کوئی تصور موجود نہیں، وہاں جہاد کے نام پر کوئی گفتگو موضوع بحث ہی نہیں۔ مسلمان آئینی وفاداری کے پابند ہیں اور حکومت بھی پابند ہے کہ شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔اگر وہ ناکام ہوتی ہے تو وہ اس کی ذمہ داری ہوگی ،ہماری ذمہ داری نہیں ہوگی‘‘۔اس وضاحت سے علی الرغم عارف محمد خان نے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونے کی مومنانہ ذمہ داری کا ببانگ دہل اعتراف کرکے ’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘ کی یاد دلادی لیکن میڈیا ان کے بجائے مولانا کے پیچھے پڑگیا ۔
مولانا محمود مدنی نےحالاتِ حاضرہ کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ’’ آپ صرف اپنے اوپر نہیں بلکہ پورے عالم انسانیت پر نظر ڈالیے ،کیا دنیا میں آج کوئی زندہ قوم ایسی بھی ہے جو مشکلات میں محصور نہ ہو۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ مشکلات زندگی کی علامت ہیں ۔مردہ قومیں مشکلات میں مبتلا نہیں ہوتیں، وہ تو سرنڈر کر دیتی ہیں۔ لیکن یاد رکھیے زندہ قومیں ہی آزمائی جاتی ہیں اور مردانہ وار مشکلات کا مقابلہ کرتی ہیں‘‘۔ ابتلاء و آزمائش کے اس دورِ پرفتن میں انہوں نے قوم کو ہتھیار اٹھانے کی تلقین نہیں کی بلکہ مندرجہ ذیل قرآنی آیات سے تذکیر فرمائی :’’ ہم تمہاری آزمائش کرتے رہیں گے کچھ خوف اور بھوک سے، مال اور جان سے اور پھلوں کے نقصان سے اور صبر کرنے والوں کے لیے بشارت ہے‘‘۔انہوں نے مشکل حالات میں اس حکمتِ عملی کی یہ دلیل دی کہ جب نبی کریمﷺ کے حق و صداقت اور محبت و ہمدردی کے جواب میں مشرکین مکہ کی طرف سے ظلم و ستم بدخلقی اور بہیمت پیش کی جاتی تھی تو اس وقت حق تعالی جل مجدہ نے فرمایا : ’’صبر کرو جیسا کہ اول العزم رسولوں نے صبر و استقامت سے کام لیا اور خدا پر بھروسہ کرو‘‘۔
مولانا نے اسی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ پروردگار عالم فرماتے ہیں : ’’اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کرو اور خدا پر بھروسہ کرو‘‘۔ مولانا محمود مدنی کے خلاف طوفان کھڑا کرنے والے دراصل مسلمانوں کو دین حنیف کی پیروی سے روکنا چاہتے ہیں لیکن سچے اہل ایمان کےپیش نظر قرآن مجید کی یہ تعلیم ہمیشہ موجود رہتی ہے کہ :’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ اُن کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے‘‘۔
(۰۰۰۰۰جاری)
Post Views: 9
Like this:
Like Loading...