Skip to content
ہندوستان میں مسلمانوں کا زوال اور تعمیرِ نو کے امکانات کی جستجو
تاریخ، حقیقت اور امکانات کی آئینہ میں
ازقلم: پروفیسر عرفان شاہد
بھارت کی گہری اور رنگین تہذیب میں مسلمان صدیوں سے ایک روشن اور فعال کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ یہ وہ قوم تھی جس نے علم و ہنر کے شہر بسائے، تہذیب و شائستگی کی زبانیں پروان چڑھائیں، عدالتوں میں انصاف کا چراغ جلایا اور صنعت و حرفت میں کمال دکھایا۔ مگر تاریخ کے صفحات نے کروٹ بدلی تو یہی قوم رفتہ رفتہ حاشیے پر دھکیلی جانے لگی۔
آج بھارتی مسلمانوں کی حالت دیکھ کر یہ سوال شدت سے اٹھتا ہے کہ آخر وہ کون سی زنجیریں ہیں جنہوں نے ایک باوقار قوم کے قدم روک دیے؟
اس سوال کا جواب ایک جملے یا ایک دور میں نہیں ملتا۔ مسلمانوں کا زوال کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ وقت، سیاست، معیشت، تعلیم اور سماج کے ملے جلے اثرات سے پیدا ہونے والا عمل ہے۔
نوآبادیاتی دور نے سب سے پہلا اور سب سے بڑا وار معیشت پر کیا۔ جب انگریزی مشینوں نے ہاتھ کی محنت کو کمزور کیا، تو سب سے زیادہ نقصان انہی دستکاروں کو پہنچا جن کی انگلیوں میں فن کا جادو اور رزق کی ڈور بندھی تھی۔ بنارس، مرادآباد، لکھنؤ، حیدرآباد ۔ ہر شہر کے بازاروں کی رونق اچانک بجھنے لگی۔ برطانوی قوانین نے مقامی صنعتوں کا گلا دبا دیا۔ یوں وہ معاشی ستون گرنے لگا جس پر مسلمان سماج کے بڑے حصے کی گزر بسر قائم تھی۔
پھر ۱۸۵۷ کی جنگ آئی جس نے مسلمانوں کو سیاسی طور پر تقریباً پوری طرح بے اختیار کر دیا۔ مغل حکومت کے خاتمے کے ساتھ زبان بدلی، عدالتوں کا نظام بدلا، اور وہ راستے جو مسلمانوں کے لیے صدیوں سے کھلے تھے، یکایک بند ہونے لگے۔ جدید تعلیم کی ضرورت بڑھی مگر مسلمان تبدیلی کی رفتار کے ساتھ قدم نہ ملا سکے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب قوم کے قدم لڑکھڑائے، مگر نئی راہیں اختیار کرنے کی فوری ہمت پیدا نہ ہو سکی۔
تقسیمِ ہند نے اس زوال کو اور گہرا کر دیا۔ ہجرت کے طوفان نے مسلمانوں کے معاشی، سماجی اور تعلیمی اداروں کو منتشر کر دیا۔ جو قیادت، جو متوسط طبقہ اور جو ہنر مند طبقہ قوم کا سہارا تھا، اس کا بڑا حصہ نئی سرحد کے پار چلا گیا۔ اور جو باقی رہ گئے، وہ خوف اور بےاعتمادی کی فضا میں اپنی شناخت اور وجود کے تحفظ کی جنگ لڑنے لگے۔
وقت گزرتا گیا مگر مسلمانوں کی بڑی تعداد تعلیم کے میدان میں پچھڑتی رہی۔ اسکولوں کی قلت، وسائل کی کمی، غربت، اور کبھی کبھی اپنی روایات کے بارے میں غلط فہمی نے انہیں جدید علوم سے دور رکھا۔
علم کے بغیر نہ معیشت بڑھتی ہے، نہ قیادت مضبوط ہوتی ہے، نہ خود اعتمادی قائم رہتی ہے۔ یہی وہ محرومی ہے جس نے مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کو مسلسل کمزور رکھا۔
معاشی سطح پر بھی حالات بہتر نہیں ہوئے۔ بہت سی مسلم آبادیوں میں بینک تک رسائی نہیں، قرضے نہیں ملتے، کاروبار کے لیے سرمایہ نہیں ملتا۔ یوں کاروبار چھوٹے رہتے ہیں، ترقی رک جاتی ہے، اور غربت نسل در نسل ایک وراثت کی طرح منتقل ہوتی رہتی ہے۔
فرقہ وارانہ کشیدگی نے مسلمانوں کی اجتماعی تصویر کو یوں دھندلا دیا کہ جیسے کسی روشن منظر پر مسلسل دُھوئیں کی پرتیں چڑھتی جائیں۔ بار بار کے فسادات نے نہ صرف ان کے گھر اُجاڑے بلکہ دلوں کے اندر برسوں سے پلنے والا اعتماد بھی چھین لیا۔ تحفظ کی تلاش میں مسلمان آہستہ آہستہ ایسی بستیوں تک محدود ہوتے گئے جہاں نہ سہولیات زندگی کی رمق رکھتی تھیں اور نہ مستقبل کی روشنی پوری طرح دکھائی دیتی تھی۔ یوں امیدیں سکڑ کر چند گلیوں میں سمٹ گئیں۔ اس المیے کے ساتھ ایک اور دکھ بھی جڑا ہوا ہے—قوم کے اپنے اندر موجود دراڑیں۔ ذات پات کی جکڑبندی، مسلکی رنجشیں اور قیادت کی بے سُرئی نے ملت کے جسم کو متحد رکھنے کے بجائے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ گویا ایک ایسا درخت جس کی شاخیں تو بہت ہوں، مگر جڑ کمزور ہو جائے تو سایہ بھی پست ہو جاتا ہے اور ثمر بھی محدود
لیکن یہ تصویر جتنی مایوس کن نظر آئے، اسی میں امید کی روشنی بھی چھپی ہے۔
قومیں صرف تاریخ کے سہارے زندہ نہیں رہتیں؛ وہ اپنے فیصلوں، اپنے ارادوں اور اپنی سمتوں سے زندہ رہتی ہیں۔ اگر بھارتی مسلمان آج اپنے حالات کو بدلنے کا فیصلہ کر لیں تو نتیجہ آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ اور یہ تبدیلی کسی ایک راستے سے نہیں، بلکہ کئی راستوں سے مل کر پیدا ہوتی ہے۔
سب سے پہلی اور سب سے بنیادی تبدیلی تعلیم سے آتی ہے۔ اگر ہر مسلمان گھر یہ طے کر لے کہ بچے کی تعلیم پر سمجھوتا نہیں ہوگا، تو پورا منظرنامہ بدل سکتا ہے۔ اسکول، کالج، یونیورسٹی، ٹیکنیکل تعلیم، کمپیوٹر، انگریزی، ہنر — یہ سب وہ ذرائع ہیں جو ایک کمزور ہاتھ کو مضبوط بنا دیتے ہیں۔ علم وہ چراغ ہے جو نہ صرف گھر بلکہ پوری برادری کو روشن کرتا ہے۔
معیشت کی سطح پر مسلمانوں کو اپنے روایتی ہنر کو نئے دور کی ضرورتوں کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے کاریگر دنیا میں کہیں بھی مقابلہ کر سکتے ہیں، شرط صرف یہ ہے کہ ہم ان کے ہنر کو جدید مارکیٹ تک پہنچا سکیں۔ ای کامرس، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، ڈیزائن اور پیکجنگ — یہ سب وہ دروازے ہیں جن سے مسلمانوں کی دستکاری دوبارہ دنیا کی پسند بن سکتی ہے۔ ساتھ ہی کمیونٹی فنڈ، بغیر سود قرضے اور تعاون پر مبنی کاروبار چھوٹے تاجروں کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
سیاسی شمولیت بھی اسی طرح ضروری ہے۔ جب قوم کے نمائندے اسمبلیوں میں کم ہوں گے، جب فیصلہ ساز اداروں میں مسلمان نہ ہوں گے، تو ان کے مسائل کون اٹھائے گا؟ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان سیاست، سول سروس، قانون اور انتظامیہ میں داخل ہوں، تاکہ قوم کی آواز مضبوط ہو۔
ان سب کے ساتھ اسلام کی رہنمائی ہمارے لیے ایک نعمت ہے۔ اسلام نے سب سے پہلے علم کا حکم دیا۔ پھر عدل، مساوات، بھائی چارے اور دیانت کی بنیاد رکھی۔ اگر مسلمان اپنے ان اصولوں کو اپنی معاشرتی زندگی میں دوبارہ زندہ کر لیں تو ترقی خود ان کے قدم چومے گی۔ اسلام کہتا ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ فائدے کا باعث ہو۔ یہی اصول اگر ہمارے معاشی، تعلیمی اور سماجی فیصلوں میں شامل ہو جائیں تو ہر قدم خیر کا دروازہ بن جائے گا۔
اتحاد بھی اسلامی تعلیمات کا بنیادی ستون ہے۔ آج امت کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ ایک ہو سکے۔ ہمارا اتحاد کسی مسلک، ذات یا فرقے کے ارد گرد نہیں ہونا چاہیے، بلکہ تعلیم، ترقی، انصاف اور اخلاق کے گرد ہونا چاہیے۔ یہی اتحاد ہمیں ماضی کی عظمت نہیں بلکہ مستقبل کی کامیابی دے سکتا ہے۔
ریاست کے کرنے کے کام اپنی جگہ اہم ہیں ۔ اسکول، کالج، ITI مراکز، بینکوں کی رسائی، روزگار کے مساوی مواقع، انصاف کی فراہمی۔ لیکن قومیں صرف ریاست کے سہارے نہیں بنتیں۔ اصل قوت وہ ہوتی ہے جو قوم اپنے اندر پیدا کرتی ہے۔ اپنے بچوں میں علم کی پیاس، اپنے کاروبار میں دیانت، اپنے گھروں میں امن، اپنی بستیوں میں اتحاد، اور اپنے دلوں میں خود اعتمادی پیدا ہو جائے تو زوال بھی شکست کھا جاتا ہے۔
ھندوستانی مسلمانوں کا مستقبل اندھیری رات نہیں ۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں امید کی گنجائش آج بھی برقرار ہے۔
یہ راستہ طویل سہی، مشکل سہی، لیکن ناممکن نہیں
قومیں جب جاگ جائیں تو تاریخ کے دھارے بدل جایا کرتے ہیں۔
اور شاید وقت آ گیا ہے کہ بھارتی مسلمان اپنی تاریخ نہیں، اپنا مستقبل لکھنا شروع کریں۔
Post Views: 9
Like this:
Like Loading...