Skip to content
بابری مسجد — ایک زخم، ایک امانت
از قلم : شیخ امیرالدین رحمانی
( امام وخطیب مسجد امام ٹولی چوکی )
تاریخ کے اوراق میں کچھ دن ایسے محفوظ کر دیئے جاتے ہیں جو محض تاریخ نہیں رہتے بلکہ احساس بن جاتے ہیں، درد بن جاتے ہیں اور قوم کی یاد میں ایک مستقل چراغ کی طرح جلتے رہتے ہیں۔ 6 دسمبر 1992ء بھی ایسا ہی دن ہے۔ وہ دن جب ایودھیا کی فضا نے ایک ظلم دیکھا، وہ منظر جس نے کروڑوں دلوں کو لہو کر دیا۔ صدیوں سے اللہ کی بندگی کیلئے کھڑی بابری مسجد زمیں بوس کر دی گئی۔ گنبد گر گئے، دیواریں ٹوٹ گئیں، مگر مسجد کا تقدس نہیں ٹوٹا، کیونکہ مسجد اینٹ اور گارے کا مجموعہ نہیں بلکہ اللہ کی زمین پر اس کا گھر ہے۔ دیواریں شہید ہو جائیں تو ہو جائیں، مسجد نہیں شہید ہوتی، مسجد ہمیشہ مسجد رہتی ہے۔
بابری مسجد کی تاریخ ہمیں 1527ء کی طرف لے جاتی ہے جب مغل سپہ سالار میر باقی نے اس گھرِ خدا کو تعمیر کیا۔ صدیوں تک یہاں اذانیں گونجتی رہیں، قرآن تلاوت ہوتا رہا، سجدوں میں پیشانیاں جھکتی رہیں۔ مگر 1949ء سے سازشوں کا سلسلہ شروع ہوا، مسجد میں راتوں رات مورتی رکھ کر تنازع کھڑا کیا گیا۔ معاملات عدالت، سیاست اور طاقت کے دائرے میں آنے لگے اور ایک دن وہ بھی آیا جب مسجد پر حملہ کر کے اسے شہید کر دیا گیا۔ انصاف، آئین اور سیکولرزم اپنی جگہ روئے گئے اور تاریخ نے اس دن کو سیاہ کاغذ میں لکھ لیا۔
اسلام میں مسجد کی حرمت بے مثال ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ”مساجد اللہ کیلئے ہیں، پس اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارو“۔ فقہاء کا اصول ہے کہ جہاں ایک بار مسجد قائم ہو جائے وہ ہمیشہ مسجد رہتی ہے۔ عمارت ڈھادی جائے تو حکم نہیں بدلتا۔ وہ زمین ہمیشہ اللہ کیلئے وقف ہو چکی ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ مسجدیں شہید نہیں ہوتیں، صرف ان کی دیواریں گرتی ہیں۔ بابری مسجد آج بھی مسجد ہے، کیونکہ تقدس باقی ہے، وقف باقی ہے، نسبت باقی ہے۔
6 دسمبر صرف ایک انہدام کا نام نہیں، یہ امت کیلئے آزمائش و بیداری کا پیغام ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں اگر اپنے تاریخی واقعات کو بھول جائیں تو ان کا وجود کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس واقعہ نے ہمیں سمجھایا کہ حق کیلئے ثابت قدم رہنا ضروری ہے، دلائل کے ساتھ، عزت کے ساتھ، قانون کے دائرے میں رہ کر۔ نفرت کا جواب نفرت نہیں، کردار اور استقامت ہے۔ بابری مسجد ہماری تاریخ ہے، ہماری شناخت ہے، ہمارا قرض ہے۔
ہماری ذمہ داری ہے کہ اس واقعہ کو ذہن و دل میں زندہ رکھیں، اسے نسلوں تک پہنچائیں، اس کی علمی و تاریخی روشنی بجھنے نہ دیں۔ مسجد کا تعلق صرف تعمیر سے نہیں بلکہ دل سے ہوتا ہے۔ مسجد ہماری اجتماعی روح ہے، ایمان کی خوشبو ہے، امت کا مرکز ہے۔ جب تک مسجد سے رشتہ نبھتا رہے گا، قوم زندہ رہے گی۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی مساجد کو آباد رکھیں، ان سے محبت کریں، ان کے حقوق ادا کریں اور ان سے اپنے دل معلق رکھیں۔ یہی مسجد کے تقدس کی حفاظت ہے، یہی بابری مسجد کا درس ہے۔
بابری مسجد ملبہ نہیں، زندہ سوال ہے۔ وہ دلوں میں بستی ہے، دعاؤں میں شامل ہے۔ وہ ہم سے وفا چاہتی ہے، یاد چاہتی ہے۔ آج بھی بابری مسجد ہمیں پکارتی ہے کہ مسجدیں گرائی جا سکتی ہیں مگر ایمان کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ ظلم کا وقت آتا ہے مگر ختم ہوتا ہے۔ حق دب سکتا ہے مگر مٹ نہیں سکتا۔ ایک دن انصاف کا سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔
آئیے اس دن کو صرف ماتم نہیں بلکہ شعور کے طور پر زندہ رکھیں۔ سادگی، حکمت اور اتحاد کے ساتھ اپنی مقدس امانت کو یاد رکھیں۔ کیونکہ مسجد اللہ کا گھر ہے، اور اللہ کے گھر کی حرمت ایمان کی علامت ہے۔
Like this:
Like Loading...