Skip to content
کوئی چلا جرمنی تو کوئی چلا ایتھوپیا؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
سرمائی اجلاس کے دوران جب راہل گاندھی کے غیر ملکی دورے کا اعلان ہوا تو بی جے پی والوں نے یہ شورمچانا شروع کردیا کہ ملک کو ایک سیاح حزب اختلاف کا رہنما ملا ہے جو منہ اٹھائے غیر ملکی دورے پر نکل جاتا ہے۔ راہل گاندھی 15 سے 20 دسمبر تک جرمنی کے دورے پر جانے والے ہیں اس لیے زعفرانیوں کے پیٹ میں اینٹھن ہورہی ہے۔ ان کو پریشانی اس بات سے بھی ہے کہ دورے کے دوران وہ جرمن حکومت کے وزراء سے ملاقات کریں گے اور ہندوستانی تارکین وطن سے بھی بات چیت ہوگی ۔ انڈین اوورسیز کانگریس کے مطابق وہ تنظیم کے عہدیداروں کی نشستوں میں شرکت کرنا، پارٹی کو مضبوط بناکر این آر آئی کے مسائل کو حل کرنا بھی ہے ۔ راہل گاندھی کےاس دورے سےجرمنی و ہندوستان کے عالمی کردار پرگفت و شنید کے ذریعہ قابل قدر پیش رفت کی امید ہے۔ یوکرین کی جنگ نے یوروپ کو نہ صرف روس کا دشمن بنادیا ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں بھی دراڑ ڈال دی ہے۔ ایسے میں مودی سرکار کے روس اور امریکہ کی جانب جھکاو نے ہندوستان کو یوروپ سے دور کردیا ہے۔ راہل گاندھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن بی جے پی کے اندر پایا جانے والا بغض اور احساسِ کمتری اس راہ کی رکاوٹ ہے۔
راہل گاندھی پر تنقید کرنے والے نارنگی سنترے بھول گئے کہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی 15 تا18 دسمبر 2025 کے دوران غیر ملکی دورے پر جانے والے ہیں۔ کانگریس نے جب یہ انکشاف کیا کہ وہ اسیّ بار پارلیمانی اجلاس کے دوران غیر ملکی دورے پر جاچکے ہیں تو زعفرانی بغلیں جھانکنے لگے۔ موصوف اس بار اردن، ایتھوپیا اوراومان کا دورہ کریں گے۔ اب کہاں جرمنی اور کہاں یہ تین غیر اہم ملک؟ وزیر اعظم یوروپ یا امریکہ جاکروہاں اپنی سبکی کرانا نہیں چاہتے اس لیے ان غیر معروف ممالک میں جاکر اپنا ڈنکا بجانا چاہتے ہیں۔ اب اس رائی کا پہاڑ بنانا یہ گودی میڈیا کا کام ہے ۔ اردن کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر شاہ عبداللہ دوم کی دعوت پر مودی دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گےتاکہ دونوں ممالک کے باہمی تعاون، مشترکہ ترقی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے عزم کی تجدید کی جائے۔ اپنےدورے کے دوسرے مرحلے میں مودی ایتھوپیا میں وزیراعظم ڈاکٹر ابی احمد علی سے 16 تا 17 دسمبر 2025 کو ملیں گے۔ مودی کےاس پہلےایتھوپیا دورے میں دوستی، تعاون اور قریبی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی اپنے دورے سے واپسی میں 17 تا 18 دسمبر 2025 کو سلطان ہیثم بن طارق کی دعوت پر سلطنتِ اومان کا دورہ کریں گے۔ ویسے تو یہ ان کا یہ دوسرا دورہ ہے مگر ہندوستان اور اومان کے درمیان ہمہ جہت تزویراتی شراکت داری صدیوں پرانی ہے۔ سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے پر یہ دونوں ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، سلامتی، ٹیکنالوجی، زراعت اور ثقافت سمیت تمام شعبوں میں شراکت داری کا جامع جائزہ لے اور علاقائی و عالمی مسائل پر تبادلۂ خیال کریں گے۔حزب اختلاف کا کام سوال پوچھنا ہے ۔ اس لیے راہل کی عارضی غیر موجودگی کے سبب کچھ سوالات نہیں پوچھے جائیں گے لیکن حزب اقتدار کو تو جواب دینا ہوتا ہے۔ اس کے رہنما یعنی وزیر اعظم کو ایوان کے اجلاس میں بیٹھ کر سارے عوامی نمائندوں کی بات سننی چاہیے اور پھر ان کے استفسار یا اعتراض کا معقول جواب دینا چاہیے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اندر نہ تو کسی کی بات سننے کا صبر و تحمل ہے اور نہ اسے جواب دینے کی صلاحیت ہے۔ اس لیے وہ دورانِ اجلاس ما لدیپ جیسے ملک بھی چلے جاتے ہیں جہاں ’انڈیا آوٹ‘ کے نعرے پر انتخاب لڑنے والے کامیاب ہوگئے اور وہاں سے ہندوستانی بحریہ افسران کو بیرنگ لوٹا دیا گیا ۔ یہ کوئی بہت پرانی واردات نہیں بلکہ پچھلے اجلاس کا واقعہ ہے موصوف پہلے برطانیہ گئے اور پھر مالدیپ سے ہوکر لوٹے۔
وزیر اعظم پچھلی بار جب وہ اپنی تقریر سے قبل ایوان میں داخل ہوئے تو ان کا ستقبال ’ووٹ چور گدی چھوڑ‘ کے فلک شگاف نعرے سے ہوا تھا۔ وہ آپریشن سندور پر مباحثے کااختتامی خطاب پیش کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ موصوف چونکہ پورے اجلاس میں موجود نہیں تھے اس لیے ان کی تقریر لکھنے والوں نے ایوان کے شرکاء کی باتوں کو نوٹ کرکے ان کے جوابات دینے کی زحمت بھی نہیں کی تھی۔ اس وقت بہار کا انتخاب ہونے والا تھا اس کے پیش نظر آپریشن سندور پر ایک تقریر پیش کردی گئی ۔ ایوان بالا میں آپریشن سندور پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ”دنیا میں کسی رہنما نے بھارت کو آپریشن بند کرنے کے لیے نہیں کہا، 9 مئی کی رات مجھے امریکی نائب صدر نے فون کیا، وہ ایک گھنٹے تک کوشش کرتے رہے، لیکن چونکہ وہ فوج کے ساتھ میٹنگ میں تھے اس لیے اسے نہیں لے سکے‘‘۔ اس کے بعد خود مودی نے فون لوٹایا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان بڑا حملہ کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔ اس کے جواب میں مودی بولے اگر پاکستان کا یہ ارادہ ہے تو اسے بہت مہنگا پڑے گا ۔ ان کا کہنا تھا ’ہم گولی کا جواب گولے سے دیں گے‘۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بیان میں صدر ٹرمپ کا نہ تو کوئی ذکر کیا تھا اور نہ تردید کرنےکی جرأت کی تھی کہ جنگ تو انہوں نے ہی رکوائی ہے۔ کاش کے وہ لال آنکھیں نکال کر کہہ دیتے کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں لیکن ٹرمپ یا شی جن پنگ کا نام لینے سے مودی بہت خوف کھاتے ہیں۔ ان کی چھپن انچی چھاتی(سینہ) پچک جاتی ہے اور ہاتھ پیر پھولنے لگتے ہیں۔ مانسون اجلاس جولائی میں ہوا تھا اور اب نومبر میں سرمائی اجلاس ہورہا ہے۔ وزیر اعظم نے ایوان میں بتایا تھا کہ آپریشن سندور جاری ہے اور اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک کہ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ اس دوران دہلی کے اندر دھماکہ ہوگیا اور اس کا الزام بھی لشکر طیبہ پر لگا اس لیے وزیر اعظم کو بتانا چاہیے کہ جاری و ساری آپریشن سندور کے تحت کیا اقدام کیے گئے لیکن چونکہ سرکار میں اس حوالے سے مکمل سناٹا چھایا ہوا ہے اس لیے ان کی زبان بھی بند رہی اور آپریشن سندور ہوا ہوگیا۔ اس سرمائی اجلاس کے ایجنڈے سے دہلی دھماکوں کا غائب ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اسے روکنے میں مودی سرکار پوری طرح ناکام رہی بلکہ اس کے بعد سرینگر کے پولیس تھانے میں دھماکوں نے بھی کئی لوگوں کی جان لی ۔ اس کی تفتیش میں وہ معلومات سامنے آئی اسےپیش ہونا چاہیے تھا۔ بحث والے دن گوا کے ایک نائٹ کلب میں آگ لگنے پچیس لوگوں کی موت ہوگئی اس پر افسوس ظاہر کرکے حکومتی اقدامات سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی اس اجلاس کے نصف پر ’وندے ماترم‘ پر بحث کا آغاز کرنےکی خاطر تشریف لائے ۔ یہ موضوع ایس آئی آر یا انتخابی اصلاحات پر ہونے والی بحث سے توجہ ہٹانے کی خاطر رکھا گیا تھا ۔ یہاں بی جے پی سے دو غلطیاں ہوئیں اول تو اسے انتخابی اصلاحات کے بعد رکھتے تاکہ انتخابی اصلاحات کی بحث کے اثرات کو زائل کیا جاتا مگر ترتیب اُلٹنے کے سبب بساط ہی اُلٹ گئی۔ ویسے وندے ماترم پر بھی بی جے پی کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ یہ لوگ کانگریس کو مسلم لیگ اور محمد علی جناح سے جوڑنا چاہتے تھے۔ اس کے برعکس ہندو مہا سبھا کا مغربی بنگال اور سندھ میں مسلم لیگ کی حکومت میں شامل ہونا سامنے آگیا۔ جہاں تک محمد علی جناح کا تعلق ہے اڈوانی کے ذریعہ ان کی خدمت میں خراج عقیدت اور جسونت سنگھ کی کتاب میں تعریف و توصیف بی جے پی کے گلے کی ہڈی بن گئی۔ جن سنگھ کے پہلے صدر شیاماپرشاد مکرجی کا قرارِ داد پاکستان پیش کرنے والے فضل الحق کی حکومت میں شامل ہونے کے ذکر نے ان کی ہوا نکال دی اور ہندوتوانوازوں کو نہ صرف مسلم لیگ کا حلیف بلکہ انگریزوں کا رفیق ثابت کردیا ۔ اس طرح وندے ماترم کے معاملے میں تو ان ساری تدبیریں اپنے ہی گلے پڑ گئیں ۔
ایوان کے مانسون اجلاس میں مودی نے کہا تھا کہ ، "ہندوستان نے سندھ طاس معاہدہ روک کر اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی غلطی کو درست کیا ہے۔ پانی اور خون کبھی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘‘۔ سچائی تو یہ ہے کہ سندھ ندی کا پانی اب بھی پہلے کی طرح پاکستان جارہا ہے۔ وزیر اعظم کو بتانا چاہیے تھا کہ ان کی رگوں میں دوڑنے والے سندور نے اسے روکنے کی خاطر کیا اقدامات کروائے؟ اس سوال کا جواب دینے کے بجائے وہ پھر سے پنڈت نہرو کا دُکھڑا لے بیٹھے اور یہ جھوٹ پیش کردیا کہ مسلمانوں کو خوش کرکے اپنی کرسی بچانے کی خاطر ملک پہلے وزیر اعظم نے ’وندے ماترم ‘ کے دو حصے کردئیے اور اسی وجہ سے ملک تقسیم ہوگیا۔ یہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ وہ کسی ایک فرد کا فیصلہ نہیں تھا مگر اسے سچ مان بھی لیا جائے تو نوےّ سال بعد اب کیا ہوسکتا ہے؟ پنڈت نہرو کے سبب اگر ملک ٹوٹا تو خود انہیں پاکستان پر قبضہ کرکے ہندوستان میں شامل کرنے سے کس نے روک رکھا ہے؟ پہلگام حملے کے بعد اور اب دہلی دھماکوں سے ملنے والے مواقع کوکیوں گنوایا گیا؟ پاکستان نہ سہی تو مقبوضہ کشمیر ہی واپس لے لیتے جس کی خاطر امیت شاہ جان لڑانے کی بات کررہے تھے یا کم ازکم چین کو اروناچل میں گھسنے سے تو روک ہی سکتے تھے لیکن پنڈت نہرو کو برا بھلا کہنے والے والے وزیر اعظم سے کیا ایوان کے اندر اور باہر تقریر کے سواکچھ ہوتا بھی ہے؟ سرمائی اجلاس میں یہ حقیقت جگ ظاہر ہوگئی کہ ’اب کی بار، بیساکھی پر سوار، ہانپتی کانپتی سرکار ‘۔
Like this:
Like Loading...