Skip to content
آئین کی بالادستی اور مدارس کا تحفظ
ازقلم: احمدافتخارقادری
ہندوستان کی جمہوریت کی بنیاد آئین پر استوار ہے اور آئین کی روح وہ توازن ہے جو اکثریت اور اقلیت، ریاست اور شہری، طاقت اور حق کے درمیان قائم کیا گیا ہے۔ مگر دور حاضر کی سیاست میں یہ توازن بارہا آزمائش سے دو چار نظر آتا ہے۔ خصوصاً جب بات اقلیتی حقوق، مذہبی آزادی اور تعلیمی خود مختاری کی آتی ہے تو سیاسی نعروں، انتظامی دباؤ اور قانونی موشگافیوں کے ذریعے آئینی روح کو کمزور کرنے کی کوششیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ ایسے ماحول میں سپریم کورٹ کا یہ تازہ فیصلہ جس میں مدارس اور دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں کو حق تعلیم قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کو سختی سے مسترد کیا گیا محض ایک عدالتی حکم نہیں بلکہ ہندوستانی آئینی نظام کی مضبوطی اور عدلیہ کی خود مختاری کا واضح اعلان ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا جب ملک کے مختلف حصوں میں مدارس کے خلاف ایک منظم فضا بنانے کی کوششیں دیکھی جا رہی ہیں۔ کہیں انہیں غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے، کہیں ان کی رجسٹریشن منسوخ کی جا رہی ہے اور کہیں انہیں زبردستی ایک ایسے تعلیمی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش ہو رہی ہے جو ان کی مذہبی شناخت اور آئینی حیثیت سے متصادم ہے۔ ایسے حالات میں سپریم کورٹ کا دو ٹوک موقف نہ صرف اقلیتی اداروں کے لیے اطمینان کا باعث ہے بلکہ جمہوری ہندوستان کے ہر اس شہری کے لیے بھی امید کی کرن ہے جو آئین کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے این جی او کی مفادِ عامہ کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے نہایت سخت زبان استعمال کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ 2014 میں آئینی بنچ اس معاملے پر حتمی فیصلہ دے چکا ہے اور اس کے بعد اس مسئلے کو دوبارہ اٹھانا عدالتی عمل کا سنگین غلط استعمال ہے۔ ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر کے عدالت نے یہ پیغام دیا کہ آئینی فیصلوں کو سیاسی یا نظریاتی ایجنڈے کے تحت بار بار چیلنج کرنا نہ صرف عدلیہ کی توہین ہے بلکہ پورے آئینی نظام کے لیے خطرہ بھی ہے۔ یہ فیصلہ دراصل اس بنیادی اصول کی توثیق ہے کہ آئین کے آرٹیکل 30 کے تحت اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا مکمل حق حاصل ہے۔ حق تعلیم قانون 2009 بلاشبہ ایک فلاحی قانون ہے جس کا مقصد بچوں کو تعلیم کی ضمانت دینا ہے مگر آئین نے خود واضح طور پر اقلیتی اداروں کو ایک خصوصی تحفظ فراہم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2014 میں آئینی بنچ نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ آر ٹی ای قانون اقلیتی تعلیمی اداروں پر لاگو نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود اس فیصلے کو چیلنج کرنے کی کوشش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بعض حلقے آئینی حدود کو نظر انداز کر کے ایک مخصوص فکری یا سیاسی بیانیے کو مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
دورِ حاضر کی سیاست میں یہ رجحان خاص طور پر نمایاں ہے کہ آئینی اداروں کو دباؤ میں لاکر یا عوامی جذبات کو بھڑکا کر طے شدہ اصولوں کو کمزور کیا جائے۔ مدارس کے معاملے میں بھی یہی روش اختیار کی گئی۔ کبھی انہیں قومی دھارے سے کٹا ہوا قرار دیا گیا، کبھی ان پر انتہا پسندی کے الزامات عائد کیے گئے۔اور کبھی یہ تاثر دیا گیا کہ وہ جدید تعلیم کے مخالف ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مدارس صدیوں سے ہندوستانی سماج کا حصہ رہے ہیں اور انہوں نے نہ صرف دینی تعلیم بلکہ سماجی اصلاح، اخلاقی تربیت اور تہذیبی بقا میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ آئینی تحفظ کسی عارضی سیاسی فضا کا محتاج نہیں ہوتا۔ عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ اقلیتی اداروں کو آر ٹی ای سے مستثنیٰ رکھنا آئین کے آرٹیکل 14، 15، 16، 21 اور 21 اے کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت کے نزدیک جب آئین خود آرٹیکل 30 کے ذریعے ایک خصوصی حق دیتا ہے تو اسے مساوات یا دیگر بنیادی حقوق کے نام پر کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ یہی آئینی حکمت ہے جو مختلف حقوق کے درمیان توازن قائم رکھتی ہے۔ عدالت کا یہ کہنا کہ اس نوعیت کی عرضیاں عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں دراصل موجودہ سیاسی ماحول پر ایک سخت تبصرہ بھی ہے۔ جب عدالتیں طے شدہ فیصلوں کو بار بار چیلنج ہوتے دیکھتی ہیں تو اس سے نہ صرف عدالتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ عوام کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئینی فیصلے واقعی حتمی ہیں یا نہیں۔ ایک لاکھ روپے کا جرمانہ اسی لیے محض ایک مالی سزا نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور آئینی تنبیہ ہے۔ آزاد میڈیا پلیٹ فارمز کے مطابق یہ فیصلہ مدارس کے خلاف جاری مہمات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ان تمام اداروں اور افراد کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو آئینی تحفظ کے باوجود اقلیتی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تعلیمی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے فیصلے کا خیر مقدم اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اب بھی آئین اور عدلیہ پر اعتماد رکھتا ہے۔ آخرکار یہ فیصلہ ہندوستان کی طاقت اس کی کثرت میں وحدت، اس کے آئینی اداروں کی خود مختاری اور اس کے شہریوں کے بنیادی حقوق میں مضمر ہے۔ دورِ حاضر کی سیاست اگر واقعی جمہوریت کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو اسے عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کرنا ہوگا اور آئینی حدود کے اندر رہ کر ہی اصلاحات کی بات کرنی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے مدارس کے معاملے میں نہ صرف آئین کی بالادستی کو برقرار رکھا ہے بلکہ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی دباؤ، کوئی مہم اور کوئی سیاسی شور آئینی حق سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ یہی پیغام اس فیصلے کی اصل روح ہے، اور یہی ہندوستانی جمہوریت کی اصل ضمانت بھی۔ یہ فیصلہ ہم سب کے لیے ایک سنجیدہ نصیحت اور فکری رہنمائی اپنے اندر رکھتا ہے۔ آئین محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ قوم کے اجتماعی ضمیر کی ترجمانی کرتا ہے اور جب اس کی تشریح و حفاظت سپریم کورٹ جیسے ادارے کے ہاتھ میں ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اختلافِ رائے اور اصلاح کے جذبے کو آئینی حدود کے اندر رکھیں، نہ کہ انہیں کمزور کرنے کا ذریعہ بنائیں۔ جو قومیں اپنے آئینی فیصلوں کا احترام نہیں کرتیں وہ بالآخر انتشار اور بے یقینی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ مدارس اور دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں کے حوالے سے یہ فیصلہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مذہبی آزادی اور تعلیمی خود مختاری کسی رعایت کا نام نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔ ان حقوق کو شک کی نگاہ سے دیکھنا یا انہیں سیاسی ضرورتوں کے تحت نشانہ بنانا دراصل قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اختلاف اور تنوع ہی ہندوستان کی اصل طاقت ہیں، اور اسی تنوع کے تحفظ سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قانون کی بالادستی کا تقاضا یہی ہے کہ فیصلے قبول کیے جائیں نہ کہ انہیں بار بار چیلنج کر کے اداروں کو کمزور کیا جائے۔ سیاست اگر واقعی قوم کی فلاح چاہتی ہے تو اسے نفرت اور تقسیم کے بجائے آئین، انصاف اور باہمی احترام کو اپنا محور بنانا ہوگا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ آئین کے سائے میں ہی سب کے حقوق محفوظ ہیں، اور اسی راستے پر چل کر ہندوستان اپنی جمہوری شناخت کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
One attachment
• Scanned by Gmail
Like this:
Like Loading...