Skip to content
حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی ؒکی رحلت امت کا عظیم خسارہ
مولانا جعفر پاشاہ کا تعزیتی بیان
حیدرآباد 15دسمبر (راست) امت مسلمہ ایک ایسے عبقری اور مخلص مصلح سے محروم ہو گئی ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی امت کے تزکیہ نفس، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت کے لیے وقف کر دی۔ حضرت پیر صاحب کی خدمات کا دائرہ کار بین الاقوامی تھا، اور آپ کے مواعظِ حسنہ اور کتب نے لاکھوں افراد کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا۔ آپ کا وعظ کا انداز ایسا تھا جو دلوں کی گہرائیوں میں اتر کر خوفِ خدا پیدا کرتا تھا۔اس وقت جب امت کو روحانی رہنمائی کی اشد ضرورت ہے، آپ کی وفات ملت اسلامیہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت پیر صاحب کے درجات کو مزید بلند فرمائے، آپ کو جنت الفردوس میں مقامِ اعلیٰ عطا فرمائے، اور آپ کی دینی و روحانی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے۔اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان، آپ کے خلفاء کرام، اور لاکھوں مریدین و محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور حضرت کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق دے۔اور امت کو آپ کا نعمل بدل عطا کرے.
اسلام کا بنیادی پیغام ایک دوسرے سے محبت اور رواداری ہے
نبیرہ مولانا عاقل ؒ کا جلسہ برائے خواتین سے خطاب
حیدرآباد 15دسمبر (راست) امارت ملت اسلامیہ شعبہ خواتین کے زیر اہتمام جلسہ برائے خواتین کا انعقاد عمل میں آیا۔ جسکی نگرانی مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے کی۔قرات کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ بارگاہ رسالت مآب میں ہدیہ نعت پیش کیا گیا۔بعد ازاں نبیرہ مولاناحمید الدین حسامی عاقلؒنے خدمت خلق کی اہمیت پر عورتوں کے ایک اہم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دینِ اسلام کا خلاصہ خدمتِ خلق اور باہمی اخوت میں پنہاں ہے۔خدمتِ خلق روحِ دین ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ عورت کا سب سے بڑا مرکزِ خدمت اس کا اپنا گھر ہے۔ اولاد کی صالح تربیت، رشتوں کا خیال اور خاندانی ذمہ داریوں کی ادائیگی ہی سب سے بڑی عبادت اور خدمت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی کمیونٹی میں تعلیم، بیماروں کی دیکھ بھال، اور غریبوں کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر خاموشی سے مدد کر کے رضائے الٰہی حاصل کریں۔ اختلافات کا خاتمہ اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس دور میں سب سے اہم معاشرتی خدمت یہ ہے کہ ہم اپنے درمیان کے چھوٹے بڑے اختلافات کو ختم کریں۔اسلام کا بنیادی پیغام ایک دوسرے سے محبت اور رواداری ہے۔ خواتین اپنے گھروں اور خاندانوں میں اتحاد کی بہترین مثال بن سکتی ہیں۔ اگر گھر میں ساس بہو، نند بھاوج یا دیورانی جیٹھانی کے اختلافات ختم ہوں گے، تو معاشرے میں خود بخود خیر اور محبت کی فضا قائم ہو جائے گی۔نبیرہ مولانا عاقل ؒ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے، آپس میں درگزر، صبر، اور ایثار کو فروغ دینا چاہیے۔ یہی عمل اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔ تمام خواتین سے اپیل کی کہ وہ ذاتی اختلافات کو بھلا کر، اخلاص کے ساتھ خدمتِ خلق اور اتحاد کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ یہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
Like this:
Like Loading...