Skip to content
ظریفانہ: دہلی کے ضمنی انتخابات
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن نے کلن سے کہا دیکھا تم نے دہلی اسمبلی کے بعد بلدیہ میں بھی ہم نے عآپ پر اپنی برتری ثابت کردی ۔
کلن بولا ہاں یار دہلی ہمارا پرانا گڑھ جوہے ۔وہ تو بیچ میں جھاڑو چل گیا ورنہ یہاں ہمیں کوئی ہرا نہیں سکتا ۔
یار تمہاری یادداشت بہت کمزور ہے۔ اروند کیجریوال نے ہم کو نہیں بلکہ کانگریس کی شیلا دکشت کو اقتدار سے بے دخل کیا تھا۔
ہاں یار میں تو بھول ہی گیا تھا لیکن اب تو ہاتھ ٹوٹ چکا ہے اور جھاڑو کھل کر بکھر گیا ہے اس لیے بس کمل کے نشان کا بول بالا ہے۔
للن بو وہ تو ہے مگر پہلے کے مقابلے ہمارا دو کا نقصان ہوگیا۔
اچھا وہ کیسے ؟
بھائی وہ جھنڈے والان میں مندر کے توڑے جانے کا اثر ہوسکتا ہے۔
اچھا مندر ٹوٹنے کے باوجود صرف دو نقصان ۔ سوچو اگر مسجد توڑی جاتی اور مسلمان اکثریت میں ہوتے تو کیا ہوتا ۔
وہی ہوتا جو کشمیریا پوراوانچل میں ہوا ہے۔ ہمارا سُپڑا صاف ہوجاتااور کیا؟
اچھا یہ بتاو کہ کانگریس کیا بنا ؟
کانگریس کو ایک فائدہ ہوا مگر ایک آزاد مسلمان بھی جیت گیا ۔
دہلی سے مسلمان جیت گیا اور وہ بھی آزاد۔ ہمارے امیت شاہ نے یہ کیسے ہونے دیا؟
ارے بھیا اس بیچارے کو کیوں گھسیٹ رہے ہو۔ وہ نہ پرانی دہلی میں دھماکوں کو روک سکا اور نہ الیکشن جیت سکا ۔
کیا بکتے ہو؟ دہلی دھماکوں کے باوجود اگر ہم ہار گئے تو اس سے بری بات اور کیا ہوسکتی ہے؟
ارے بھیا کلن وہ مسلمانوں کا علاقہ ہے ۔ وہاں ہم دھماکے کریں یا ٹھمکے لگائیں الیکشن جیت نہیں سکتے ۔
یار میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر ووٹ چوری ہی کرنا ہے تو کیوں نہیں کرسکتے۔ اچھا یہ بتاو کہ عآپ کی کیا حالت ہوئی؟
عآپ جہاں تھی وہیں رہی ۔ اس نےدو سیٹ گنوائی اور دو نئی جیت لیں۔ حساب برابر۔
وہ سب چھوڑو یہ بتاو کہ مندر والے علاقے میں کیا ہوا؟
للن بولا اس کے قریب یعنی پرانی دہلی کے چاندنی چوک میں بھی بی جے پی نے عآپ کو شکستِ فاش سے دوچار کردیا ۔
یار یہ تو بڑے شرم کی بات ہے۔ کم ازکم پرانی دہلی کے ہندووں کو ہمیں ایودھیا کی مانند سبق سکھانا چاہیے تھا تاکہ ہمارے رہنما عقل کے ناخون لیتے۔
بھیا وہ جو نعرہ لگتا تھا نا’جس ہندو کا خون نہ کھولے خون نہیں وہ پانی ہے‘ دہلی مندر انہدام نے ثابت کردیا کہ ’جو مندر کے کام نہ آئی وہ بیکار جوانی ہے‘۔
اچھا توکیا پرانی دہلی کی ساری نشستوں پر ہندووں نے بی جے پی کو کامیاب کردیا؟
جی نہیں چاندنی محل وارڈ میں مسلمان زیادہ ہیں ۔ وہاں ایک آزاد امیدوار محمد عمران نے 4592 ووٹوں کے فرق سے کمل سمیت جھاڑو کو ٹھکانے لگا دیا ۔
یار یہ مسلمان جہاں بھی موقع ملتا ہے ہماری تضحیک کردیتے ہیں لیکن ہندو بیچارہ مسجد توڑو یا مندر ہمارے ساتھ رہتا ہے۔
ہاں بھائی اس کو اپنی مسجد سے عقیدت ہے مگر ہمارے لیے مذہب کو بھی ایک سیاسی آلۂ کار بنا دیا گیا ہے ۔
یار للن تم ہندووں پر اتنا بڑا الزام کیسے لگا سکتے ہو؟
بھیا اگر ایسا نہ ہوتا تو سوشیل میڈیا پر مندر کے توڑے جانے کی تشہیر کے باوجود بی جے پی کودہلی میں 46 فیصد سے زیادہ ووٹ نہ ملتے ۔
اچھا للن یہ بتاو کہ مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع میں بابری مسجد کی تعمیر کا کیا چکر ہے؟
ارے بھائی وہاں کے مسلمان بابری مسجد کے طرز پر اور اسی نام سے مسجد بنانا چاہتے ہیں ۔ یہ ان کا حق ہے ۔ اس سے انہیں کون روک سکتا ہے؟
بھیا بابر نام پر مسجد بنانے کی کیا ضرورت؟ یہ تو چڑھانے والی بات ہے۔
للن بولا دیکھو جب تک بابری مسجد شہید نہیں کی گئی اس نام سے کوئی مسجد تعمیر نہیں ہوئی ۔ اب ہم لوگوں نے انہیں چڑھا دیا تو وہ بھی ایسا کریں گے؟
مگر مودی اور یوگی انہیں ایسا کرنے دیں گے ؟
کیوں نہیں۔ اس میں ان کا سیاسی فائدہ ہے اس لیے وہ خاموش حمایت کررہے ہیں اور ممتا کا نقصان ہے اس لیے انہوں نے ہمایوں کبیر کو معطل کردیا ۔
لیکن پھر بھی کیا مسلمان کسی اور کے نام سے مسجد نہیں بنا سکتے؟ ۔ بابر جیسے غیر ملکی حملہ آور کا نام تو اب اس ملک میں نہیں چلے گا ۔
اچھا ایک بات بتاو بابر کہاں سے آیا تھا ؟
پشاور یا قندھار کہیں سے آیا ہوگا ؟ مجھے ٹھیک سے نہیں معلوم ۔
اچھا تو تم نے اکھنڈ بھارت کا نقشہ دیکھا ہے؟
سمجھ گیا!تم کہو گے کہ اس میں پشاور اور قندھار شامل ہے۔ اس لیے وہ غیر ملکی حملہ آور نہیں تھا لیکن اس کو وہاں سے دہلی آنے کی کیا ضرورت تھی؟
اچھا ہمارے مراٹھے مہاراشٹر سے نکل کر آندھرا پردیش ، مدھیہ پردیش، اترپردیش سے ہوتے ہوئے قندھار جاسکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں آسکتا ۔
اوہو وہ گزرے زمانے کی باتیں ہیں ۔ اب زمانہ بدل گیا ہے۔
بہت خوب اپنے پردھان جی نے بڑودہ اور وارانسی سے الیکشن لڑا اور گجرات چھوڑ کر اترپردیش کے بن گئے۔ یہ کس زمانے کی بات ہے؟
کلن بگڑ کر بولا ارے بھیا بابر مسلمان تھا ۔ اس نے ہندو وں پر حملہ کیا تھا۔ تم سمجھتے کیوں نہیں ؟
یہ بھی غلط ہےبابر کو رانا سانگا نے ابراہیم لودھی سے لڑنے کے لیے بلایایعنی وہ ایک مسلم بادشاہ کے خلاف ہندو کے راجہ کی دعوت پر حملہ آور ہوا ۔
اچھا تو تمہارا مطلب ہے کہ کل کوایودھیا میں بھی بابری مسجد بنے گی اور اس کے لیے ایودھیا کے مندر کو توڑ دیا جائے گا؟
جی نہیں مندر توڑنے کی کیا ضرورت ؟ ہم نے خود بابری مسجد کی جگہ سے آٹھ سو میٹر دور مندر بنایا ہے ۔
کلن نے حیرت سے سوال کیا ۔ اچھا تو وہاں مسجد بنانے کے لیے مندر کو توڑنے ضرورت نہیں ہے؟
جی نہیں ہم نے خود اس جگہ کو چھوڑ کر دور مندر بنادیا ۔
اچھا تو یوگی جو متھرا اور کاشی کی بات کررہے ہیں وہ کیا ہے؟
ارے بھائی ان کو اگر مندر میں اتنی دلچسپی ہوتی تو دہلی میں اپنے فرقے کے مندر کو بچانے کے لیے دوڑ پڑتے لیکن انہیں تو سیاست کرنی ہے۔
ارے بھیا یوگی کے پیچھے آر ایس ایس ہے اس لیے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
لیکن موہن بھاگوت نے تو کل ہی کہا کہ رام مندر بن گیا اب راشٹر مندر بنانا ہے۔ متھرا کاشی کا انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا۔
ہاں بھائی ان کو الیکشن تھوڑی نا لڑنا ہے۔ پارلیمانی انتخاب میں یوگی کی حالت خراب ہوگئی تھی ۔ بی جے پی دوسرے نمبر آگئی تھی اس لیے ۰۰۰
ہاں بھائی یہی چنتا ہے جس کے سبب کاشی متھرا باقی ہے کا نعرہ لگایا جارہا ہے۔ یہ لوگ ہم ہندووں کو کب تک بیوقوف بناتے رہیں گے؟
بھیا جب ہم خود بیوقوف بننے کے لیے تیار بیٹھے ہیں تو میڈیا ہی ہمارے لیے کافی ہے۔
جی ہاں میں نے سوشیل میڈیا میں دیکھا تھا کہ دہلی میں ایک درگاہ کو توڑ دیا گیا اور تم مندر کہہ رہے ہو۔
للن نے ایک ویڈیو کھول کر دکھاتے ہوئے کہا کہ دیکھو بورڈ پر کیا لکھا ہے۔
کلن نے پڑھا ’مندر درگاہ پیر رتن ناتھ پشاوری‘ اور بولا یار یہ مندر اور رتن ناتھ کے ساتھ درگاہ اور پیر کیوں ہے؟
للن نے ویڈیو کو آگے بڑھا دیا ۔ اس میں ایک نوجوان کہہ رہا تھا کہ یہ زمین کابل کے بادشاہ نے ہمارے گرو کو یہ کہہ کر دی کہ یہ تمہاری درگاہ ہے۔
ارے غضب ہوگیا مسلمان بادشاہ نے مندر کے لیے جگہ دی اور ہماری ڈبل انجن سرکار نے اس رام مندرکو توڑ دیا؟ یہ تو عجب تماشا ہے؟
اور وہ بھی آر ایس ایس کے دفتر کی پارکنگ کے لیے ۔ یہ دیکھو مقامی لوگ تصدیق کر رہے ہیں ۔ للن نے پھر ویڈیو دکھائی ۔
کلن بولا یار میں تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ رام راجیہ اورہندو راشٹر میں ایسا بھی ہوسکتا ہے ۔
للن بولا بھیا دیکھو یہ عورت کیا کہہ رہی ہے’ ہندو اس ملک میں غیر محفوظ ہے ۔ ہمارے مندر پاکستان اور افغانستان میں محفوظ ہیں مگر یہاں نہیں ہیں‘
یار اس عورت نے تو میرے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ۔ اب تو کچھ سوچنا پڑے گا ۔
تمہارے اکیلے کے سوچنے سے کیا ہوگا کلن؟ تم نے دیکھا دہلی والوں نے بلدیہ کے انتخاب میں کیا کیا؟ لوگوں کا اگر یہی رویہ رہا تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔
جی ہاں یہ لوگ ہمیں مسجد کے کھیل میں الجھا کر اپنے دفتر بناتے رہیں گے اور اقتدار کے مزے لوٹتے رہیں گے۔ بات ختم ۰۰۰۰
للن بولا اچھا چلو جمن کے یہاں ایرانی چائے پیتے ہیں ۔
تم اس ایک کے چکر میں پریشان کیوں ہو؟ دوسرے پندرہ روپئے میں چائے دیتے ہیں وہ پچیس روپیہ لیتا ہے۔
نہیں بھیا اپنی چہل قدمی تو جمن کی چائے بغیر پوری ہی نہیں ہوتی بس یہ سمجھ لو ہماری صبح اس کی چائے سے ہوتی ہے۔
دیکھو یار نہ تو جمن کے پاس چائے کا کوئی باغ ہے، نہ بھینس کا طبیلہ اور نہ شکر کا کارخانہ ۔ جہاں سے وہ یہ سب لاتا ہے وہی سے سبھی لاتے ہیں۔
جی ہاں لیکن وہ تناسب جو جمن کے پاس ہے اور اس پر مسکراہٹ تو اس کے کہنے ؟یار یہ سب میری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
Like this:
Like Loading...