Skip to content
کرکٹ کا کھیل تفریح یا جنون؟ اعتدال کی ضرورت
✍🏻 محمد عادل ارریاوی
_____
محترم قارئین کرکٹ دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں شمار ہوتا ہے خصوصاً اپنے ایشیاء کے ممالک جیسے ہندوستان پاکستان بنگلہ دیش اور سری لنکا وغیرہ میں اس کھیل کو بے حد پسند کیا جاتا ہے کرکٹ نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ یہ جسمانی صحت اور نظم و ضبط کو بھی فروغ دیتا ہے تاہم جہاں اس کھیل کے بے شمار فوائد ہیں وہیں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوستو ایک وقت تھا جب کھیل کود کو صرف بچوں سے وابستہ سمجھا جاتا تھا اور اسے محض صحت یا تفریح کا ذریعہ مانا جاتا تھا مگر وقت کے ساتھ کھیل نے ترقی کی اور ایک باقاعدہ مشغلہ اور پھر پیشہ بن گیا اب کھیل دیکھنے والوں کی تعداد کھیلنے والوں سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا بھر کے لوگ لمحہ بہ لمحہ کھیل کی صورتحال سے باخبر رہتے ہیں۔ کرکٹ کے میچز خاص طور پر ٹیسٹ اور ون ڈے میچز کئی گھنٹوں دنوں پر محیط ہوتے ہیں شائقین خصوصاً طلبہ اتنے شائقین ہوتے ہیں ہم نے کئی طلبہ کو دیکھا ہے جو ہر وقت صرف میچ میچ کا رٹا لگاتے ہیں اپنا قیمتی وقت پڑھائی کے بجائے میچ دیکھنے میں ضائع کر دیتے ہیں جس سے تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
آج بہت سارے کھیل خصوصاً کرکٹ اس حد تک اہم بنا دیے گئے ہیں کہ انہیں کامیابی و ناکامی بلکہ قسمت اور ایمان سے جوڑ دیا جاتا ہے اپنی پسندیدہ ٹیم کی جیت پر غیر معمولی خوشی اور شکست پر شدید غم کا اظہار کیا جاتا ہے خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان جیسے حریف ممالک کے مقابلوں میں لوگوں کی دلچسپی انتہا کو پہنچ جاتی ہے روزمرہ کے کام رک جاتے ہیں عبادات اور ضروری امور نظر انداز ہو جاتے ہیں جوا شور شرابا اسراف اور دیگر ناجائز کام عام ہو جاتے ہیں یہ سب امور اللہ ربّ العزت کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں اور دنیا و آخرت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ کھیل کے ساتھ اس طرح کا جنون دراصل ایک نشہ ہے جو انسان کو حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔ اسلام میں کھیل کی اجازت اعتدال کے ساتھ ہے مگر جب وہ غفلت اور منکرات کا سبب بن جائے تو قابلِ مذمت ہے۔
بہت سارے طلبہ اور شائقینِ کرکٹ کو دیکھتا ہوں کہ جب کبھی کسی کھلاڑی کو خریدنے کی بات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں ‘فلاں کو اتنے کروڑ میں خریدا فلاں کو اتنے میں اس طرح خوشی کا اظہار کرتے ہیں جیسے یہ رقم انہیں ہی ملنے والی ہو اتنی بڑی رقم پتہ نہیں اتنے دیوانے کیوں ہوتے ہیں۔ مانتے ہیں کہ کرکٹ ایک دلچسپ اور مفید کھیل ہے لیکن ہر چیز کی طرح اس میں بھی اعتدال ضروری ہے اگر کرکٹ کو تفریح اور صحت مند سرگرمی کے طور پر اپنایا جائے تو یہ فائدہ مند ہے لیکن اگر اسے جنون بنا لیا جائے تو اس کے نقصانات فوائد پر غالب آ سکتے ہیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ کھیل اور تعلیم تفریح اور ذمہ داری کے درمیان توازن قائم رکھیں
دعا ہے کہ اللہ ربّ العزت ہمیں اعتدال اختیار کرنے اور کھیل کے اس بے جا جنون سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین
Like this:
Like Loading...