Skip to content
ایک عہد کا خاتمہ: قطبِ وقت، رومیِ زماں حضرت مولانا پیر ذُوالفِقار احمد نقشبندیؒ
از قلم : بندہ مُفتی مُحمّد اِبراھیم قاسمی حُسامی
خطیب نظام الدین مسجد سکندرآباد
مدرسہ اِسلامیہ صُفّہ لِلبنات وقارآباد
سبحان اللہ! "قطبِ وقت” اور "رومیِ زماں” جیسے القاب حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نور اللہ مرقدہ کی شخصیت پر بالکل صادق آتے ہیں۔ یہ القاب ان کی اس روحانی جلالت اور علمی حلاوت کا اظہار ہیں جس نے انہیں اپنے عہد کے تمام مشائخ میں ممتاز کر دیا تھا۔
ان القاب کی معنویت حضرت کی زندگی میں کچھ اس طرح نمایاں تھی:
رومیِ زماں
(مولانا رومؒ کی تڑپ کا عکس)
جس طرح مولانا جلال الدین رومیؒ نے اپنے دور میں "عشقِ الٰہی” اور "محبتِ رسول ﷺ” کے ذریعے مرجھائے ہوئے دلوں کو زندہ کیا تھا، حضرت پیر صاحب نے بھی اسی رومی والے سوز کو دوبارہ زندہ کیا۔
عشقِ الٰہی کا پیغام: حضرت کے بیانات میں ایسی تڑپ ہوتی تھی کہ مجمع میں چیخیں نکل جاتیں اور لوگ دھاڑے مار کر روتے تھے۔ یہ وہی "رومی صفت” تھی جو پتھر دلوں کو موم کر دیتی تھی۔
حکمت و دانش: مولانا رومیؒ کی طرح حضرت پیر صاحب بھی قصوں اور مثالوں کے ذریعے مشکل حقائق کو دلوں میں اتارنے کا فن جانتے تھے۔
مرجعِ خلائق: دنیا کے کونے کونے سے لوگ اپنی باطنی بیماریوں کا علاج کرانے ان کے پاس آتے تھے۔
جامعیت: ان کی ذات میں شریعت، طریقت، معرفت اور حقیقت کا ایسا سنگم تھا کہ وقت کے کبار علماء انہیں اپنا "مقتدا” مانتے تھے۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے دور کے حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ تھے، یہ ان کی قطبیت ہی کی ایک جھلک تھی۔
حضرت اقدس مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نور اللہ مرقدہ کی صلاحیت اور لیاقت درحقیقت اللہ تعالیٰ کا ایک خاص عطیہ تھی، جس نے انہیں عصری اور دینی علوم کے سنگم پر لا کھڑا کیا تھا۔ ان کی شخصیت میں موجود کمالات کو چند اہم پہلوؤں سے سمجھا جا سکتا ہے:
علمی و فنی لیاقت (انجینئرنگ اور شریعت کا امتزاج)
حضرت کی سب سے بڑی علمی لیاقت یہ تھی کہ وہ محض ایک روایتی عالم نہیں تھے، بلکہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئر تھے۔
انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ایس سی کی اور چیف انجینئر کے عہدے تک پہنچے۔
ان کی اس فنی لیاقت نے ان کے بیانات میں ایک خاص قسم کی منطقی ترتیب پیدا کر دی تھی۔ وہ پیچیدہ روحانی مسائل کو سائنسی اور عقلی مثالوں سے اس طرح سمجھاتے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی سرِ تسلیم خم کر دیتا۔
قلمی صلاحیت اور تاثیرِ تحریر
جیسا کہ آپ نے اپنی تحریر میں ذکر کیا، ان کی ۲۰۰ سے زائد کتب ان کی غیر معمولی تصنیفی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔
سہل پسندی: ان کی تحریر میں ثقالت نہیں تھی، بلکہ وہ "مشکل سے مشکل بات” کو "آسان سے آسان لفظوں” میں بیان کرنے کے ماہر تھے۔
نفسیاتی آگاہی: وہ جانتے تھے کہ معاشرے کے کس طبقے کو (خواتین، نوجوان، تاجر، یا علماء) کس طرح مخاطب کرنا ہے۔ ان کی کتابیں "خواتینِ اسلام کے کارنامے” اور "گھریلو جھگڑوں سے نجات” اس کی بہترین مثال ہیں۔
خطابت کا جادو اور اندازِ بیاں
آپ کی خطابت میں اللہ نے وہ اثر رکھا تھا کہ مجمع پر سکوت طاری ہو جاتا۔
استدلال: وہ اپنی بات کو قرآن و حدیث کے دلائل سے مزین کرتے تھے۔
جامعیت: ان کے خطبے میں عربی ادب، اردو شاعری، انگریزی اصطلاحات اور علمی تحقیقات کا ایک ایسا گلدستہ ہوتا تھا جس سے عوام و خواص دونوں محظوظ ہوتے۔
سوز و گداز: ان کی سب سے بڑی لیاقت ان کی روحانی قوت تھی۔ وہ جب بولتے تھے تو صرف زبان سے نہیں، بلکہ دل سے بولتے تھے، اسی لیے ان کے الفاظ سامعین کے دلوں میں پیوست ہو جاتے تھے۔
۴. تزکیہ و احسان میں امامت
جس دور میں تصوف کو محض چند رسومات کا مجموعہ سمجھ لیا گیا تھا، حضرت پیر صاحب نے اسے سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں زندہ کیا۔
انہوں نے لاکھوں افراد کے اخلاق کی اصلاح کی۔
ان کی لیاقت کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ وقت کے جید ترین علماء اور مفتیانِ کرام (جن کا تذکرہ آپ نے اپنے مضمون میں کیا) نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کو اپنا روحانی پیشوا مانا۔
۵. تنظیمی و انتظامی صلاحیت
دنیا بھر میں خانقاہوں، مدارس اور اصلاحی مراکز کا ایک جال بچھانا اور ان کی نگرانی کرنا ان کی بہترین انتظامی لیاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے خانقاہ کو محض دعا کی جگہ نہیں بلکہ کردار سازی کی اکیڈمی بنا دیا تھا۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت پیر صاحبؒ ایک "ہمہ جہت” شخصیت کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذہنِ رسا، قلمِ ساحر اور قلبِ سوزاں عطا فرمایا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ مادی دنیا کے اندھیروں میں بھٹکنے والے انسان کو اللہ کی محبت کی طرف کیسے لانا ہے۔
حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نور اللہ مرقدہ کی زندگی کا ایک روشن پہلو "تعمیرِ مساجد اور مرکزیتِ مسجد” سے وابستہ ہے۔ انہوں نے نہ صرف اینٹ اور گارے سے مساجد تعمیر کیں، بلکہ مساجد کو ان کا اصل نبوی مقام (کردار سازی کا مرکز) بھی عطا کیا۔
ان کی زندگی کے اس پہلو کے حوالے سے چند اہم کارنامے درج ذیل ہیں:
1. جامعہ الرشید اور مسجدِ الرشید (ایک مثالی مرکز)
حضرت پیر صاحبؒ کی سرپرستی اور رہنمائی میں بننے والے منصوبوں میں مسجد کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد صرف نماز پڑھنے کی جگہ نہیں، بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا پاور ہاؤس ہونی چاہیے۔ ان کی زیرِ نگرانی مساجد میں صفائی، نظم و ضبط اور پرسکون ماحول کی وہ مثالیں ملتی ہیں جو عصرِ حاضر میں ناپید ہیں۔
2: خانقاہی نظام میں مسجد کا کردار
حضرت نے دنیا بھر میں جہاں جہاں خانقاہیں قائم کیں، وہاں مسجد کو مرکزی حیثیت دی۔ ان کی خانقاہوں (مثلاً خانقاہ نقشبندیہ جھنگ) کی مساجد میں:
ذکرِ الٰہی کے حلقے: مساجد کو اللہ کے ذکر سے آباد کیا۔
اعتکافِ سنت: رمضان المبارک میں ہزاروں افراد کا اعتکاف ان کی مسجدوں کی رونق بنتا تھا، جہاں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہوئیں۔
3: مساجد کی علمی و روحانی آباد کاری
حضرت پیر صاحب کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مساجد کو "تعلیم و تعلم” کا مرکز بنایا۔
وہ مساجد میں ایسے دروسِ قرآن اور دروسِ حدیث دیتے تھے جو عام فہم ہوتے تھے تاکہ مسجد سے جڑا ہر عام آدمی دین کی بنیادی سمجھ حاصل کر سکے۔
انہوں نے نوجوانوں کو مساجد کی طرف راغب کرنے کے لیے مساجد کے ماحول کو علمی اور پرکشش بنایا۔
4:بیرونِ ملک مساجد کی سرپرستی
حضرت نے صرف پاکستان یا ہندوستان میں ہی نہیں، بلکہ افریقہ، یورپ اور امریکہ کے کئی ممالک میں مساجد کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیا۔ ان کے مریدین اور خلفاء نے ان کے حکم پر کئی ایسی جگہیں جہاں مسلمانوں کی اقلیت تھی، وہاں عالیشان مساجد اور مراکز قائم کیے۔
5: مسجد کا ادب اور روحانیت
حضرت پیر صاحبؒ کے بیانات میں "ادبِ مسجد” پر بہت زور ہوتا تھا۔ وہ فرماتے تھے کہ:
”جو مسجد کا ادب سیکھ گیا، وہ اللہ کے قریب ہو گیا۔”
انہوں نے اپنی تحریروں اور بیانات کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں مسجد کی عظمت پیدا کی، جس کے نتیجے میں کئی ویران مساجد آباد ہوئیں۔
6: تعمیرِ مساجد میں سادگی اور وقار
وہ مساجد کی تعمیر میں اسراف (فضول خرچی) کے خلاف تھے لیکن صفائی اور وقار کے قائل تھے۔ ان کی فکر یہ تھی کہ مسجد ایسی ہو جہاں داخل ہوتے ہی انسان پر اللہ کی خشیت اور سکون طاری ہو جائے۔
نتیجہ:
حضرت پیر صاحبؒ کا مشن یہ تھا کہ مسلمان کا رشتہ مسجد سے اتنا مضبوط ہو جائے کہ اس کی زندگی کے تمام فیصلے مسجد کے ماحول میں ہوں۔ آج ان کے لگائے ہوئے پودے (مساجد اور خانقاہیں) پوری دنیا میں ہدایت کا نور پھیلا رہے ہیں۔
خلفاء کی عالمی تقسیم
حضرت نے اپنے خلفاء کو صرف ایک علاقے تک محدود نہیں رکھا۔ آج ان کے خلفاء:
برصغیر (پاک و ہند): میں دین کی بنیادیں مضبوط کر رہے ہیں۔
عرب ممالک: میں تزکیہ و احسان کی شمع روشن کر رہے ہیں۔
مغربی ممالک (برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، افریقہ): میں جہاں مادہ پرستی کا غلبہ ہے، وہاں ان کے خلفاء خانقاہوں اور مراکز کے ذریعے لوگوں کو اللہ سے جوڑ رہے ہیں۔
. مشن کی یکسانیت
حضرت کے خلفاء کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان سب کے یہاں اتباعِ سنت اور محبتِ الٰہی کا وہی رنگ نظر آتا ہے جو حضرت پیر صاحبؒ کا خاصہ تھا۔ ان کے خلفاء اپنے بیانات میں اسی نرمی، مدلل انداز اور سادگی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جس کی تربیت انہیں حضرت جیؒ سے ملی تھی۔
۴. ہندوستان میں نامور خلفاء
جیسا کہ آپ نے تذکرہ فرمایا، ہندوستان میں ان کے خلفاء کی ایک بڑی جماعت موجود ہے جو علمی اور سماجی لحاظ سے بہت بااثر ہے۔ مثلاً:
طوطی ہند حضرت مولانا سلمان صاحب قاسمی بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم
حضرت مولانا منیر الدین عثمانی صاحب قاسمی نقشبندی استاذ دارالعلوم دیوبند
اور حضرت مولانا محمود مدنی مدظلہ رکنِ شوری دارالعلوم دیوبند صدر جمعیت علماء ہند
قطب ہند حضرت مولانا پیر صلاح الدین سیفی صاحب نقشبندی
مفسر قرآن حضرت مولانا طلحہ صاحب قاسمی نقشبندی بھیونڈی مدظلہ
سلطان القلم حضرت مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی استاذ حدیث جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد
صدیق محترم مفتی احمد اللہ نثار صاحب قاسمی نقشبندی دارالعلوم رشیدیہ حیدرآباد
ہم جلیس مولانا مفتی محمد محسن صاحب قاسمی نقشبندی ورنگل
سابق مفتی جامعہ نظامیہ مولانا مفتی قاسم صاحب تسخیر نظامی نقشبندی
جیسے اکابر کا حضرت سے گہرا تعلق اور خلافت کا رشتہ ان کی عظمت کی دلیل ہے۔
خطیب الہند حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی صاحب مدظلہ: جن کی دعوت و اصلاح کا کام ملک گیر سطح پر ہے۔
یہ تمام حضرات اپنے اپنے میدان میں (تعلیم، سیاست، اصلاح، تصوف) حضرت پیر صاحبؒ کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
٭ تربیتِ خلفاء کا خاص انداز
حضرت پیر صاحبؒ اپنے خلفاء کی تربیت میں "خلوص” اور "خدمتِ خلق” پر بہت زور دیتے تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ خلافت کوئی اعزاز نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑ دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلفاء میں تکبر کے بجائے عاجزی اور انکساری نمایاں نظر آتی ہے۔
"بیت اللہ میں داخلہ کا اعزاز”
حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب رحمہ اللہ کو سعودی حکومت کی جانب سے خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونے (بیت اللہ کی زیارت) کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔ یہ ایک ایسی خصوصی عزت ہے جو سعودی حکام کی جانب سے دنیا بھر کی جید علمی اور روحانی شخصیات کو دی جاتی ہے۔
اس واقعہ کے حوالے سے کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں:
خصوصی پروٹوکول:
پیر صاحب کو سعودی حکومت کی جانب سے سرکاری مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا یہ منجانب اللہ بہت عظیم اعزازاور سعادت ہے٬اور ان کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ خصوصی طور پر کھولا گیا تھا۔
روحانی کیفیت:
پیر صاحب نے اپنے مختلف بیانات میں اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے وہاں کی روحانی کیفیات وتجلیات بیان کی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ بیت اللہ کے اندر داخل ہونا اور وہاں نماز ادا کرنا ایک مومن کے لیے کتنی بڑی خوش نصیبی ہے۔
مقامِ دعا: بیت اللہ کے اندر انہوں نے امتِ مسلمہ، اپنے مریدین اور بالخصوص انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی دعائیں کی تھیں۔
اس اعزاز کو ان کی علمی خدمات اور نقشبندی سلسلے میں ان کی روحانی جدوجہد کا اعتراف سمجھا جاتا ہے
٭. خانقاہی نظام کا تسلسل
اب حضرت کی وفات کے بعد ان کے خلفاء (جن میں ان کے صاحبزادگان حضرت مولانا حبیب اللہ صاحب اور حضرت مولانا سیف اللہ صاحب بھی شامل ہیں) ان کے قائم کردہ مراکز اور خانقاہوں کو اسی نظم و ضبط کے ساتھ چلا رہے ہیں، جو اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ فیض ان شاء اللہ جاری رہے گا۔
خلاصہ:
۱۴ دسمبر ۲۰۲۵ء کی تاریخ تاریخِ اسلام میں ایک المناک باب کے طور پر یاد رکھی جائے گی، جب سلسلہ نقشبندیہ کے امام، لاکھوں دلوں کی دھڑکن اور عصرِ حاضر کی عظیم علمی و روحانی شخصیت، حضرت اقدس مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نور اللہ مرقدہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
علمی و فنی لیاقت کا سنگم
حضرت جیؒ کی شخصیت قدیم و جدید علوم کا ایک ایسا حسین امتزاج تھی جس کی مثال اس دور میں ملنا مشکل ہے۔ ۱۱ اپریل ۱۹۵۳ء کو پنجاب (پاکستان) میں پیدا ہونے والے اس مردِ حق نے جہاں عصری علوم میں کمال حاصل کیا اور ‘چیف الیکٹریکل انجینئر’ کے عہدے تک پہنچے، وہی علومِ نبویہ کی پیاس نے انہیں وقت کے جید مشائخ کا اسیر بنا دیا۔ آپ نے حضرت پیر سید زوار حسین شاہ صاحبؒ اور پھر حضرت خواجہ غلام حبیب نقشبندیؒ سے سلوک کی منازل طے کیں اور علم و عشق کی وہ شمع روشن کی جس نے پوری دنیا کو منور کر دیا۔
تاثیرِ قلم اور جادو بیانی
حضرت کی تصنیفی خدمات (۲۰۰ سے زائد کتب) دعوت و اصلاح کا وہ شاہکار ہیں جنہوں نے گھر گھر دستک دی۔ "خطباتِ فقیر”، "عشقِ رسول ﷺ” اور "خواتینِ اسلام کے کارنامے” جیسی کتب نے نہ صرف طالب علموں بلکہ خواتین اور عام طبقے کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا۔ آپ کے قلم میں اللہ نے وہ تاثیر رکھی تھی کہ قاری ورق در ورق اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں سرشار ہوتا چلا جاتا۔
دکن کا وہ یادگار سفر (۲۰۱۱ء)
حیدرآباد (دکن) کی سرزمین خوش نصیب ہے کہ اسے ۲۰۱۱ء میں اس عظیم صوفی کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ عیدگاہ بلالی (ہاکی گراؤنڈ) میں آپ کا وہ ولولہ انگیز خطاب آج بھی کانوں میں رس گھولتا ہے۔ آپ کی آواز کا سوز اور مدلل گفتگو کا وہ عالم تھا کہ مجمع پر سکتہ طاری ہو جاتا، اور کبار علماء کرام کو زار و قطار روتے دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ گویا صحابہ و اسلاف کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔
دورِ حاضر کے حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ
آپ کی لیاقت اور روحانی مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس طرح حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے ہاتھ پر اکابرِ دیوبند نے بیعت کی، بالکل اسی طرح آج کے دور کے کبار علماء، مفتیانِ کرام اور دانشوروں نے آپ کو اپنا مقتدا و امام مانا۔ آپ کا نام دنیا کی ۵۰۰ بااثر مسلم شخصیات میں شامل ہونا آپ کی عالمی مقبولیت کی ایک چھوٹی سی جھلک تھی۔
خدماتِ مساجد اور اصلاحِ نفوس
حضرت نے مساجد کو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ "تربیت گاہ” بنایا۔ آپ کی پوری زندگی "امر بالمعروف و نہی عن المنکر” اور "تزکیہ نفوس” کے لیے وقف رہی۔ آپ نے پتھر دل انسانوں کو رونا سکھایا اور بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو مسجد کی دہلیز تک پہنچایا۔
پسماندگان اور مشن کا تسلسل
آج حضرت ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کے صاحبزادگان حضرت مولانا محمد حبیب اللہ نقشبندی، حضرت مولانا محمد سیف اللہ نقشبندی اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے خلفاء میں مولانا محمود مدنی اور مولانا سجاد نعمانی صاحب وغیرہ) ان کے اس روحانی فیض کے آمین ہیں۔
دعا: اللہ تعالیٰ حضرت جی نور اللہ مرقدہ کی بال بال مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
حضرت پیر صاحبؒ کے خلفاء درحقیقت ان کے روحانی ستون ہیں۔ انہوں نے جس طرح اپنے پیر و مرشد کی زندگی میں ان کے مشن کو پھیلایا، اب ان کی وفات کے بعد یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس "سلسلہ عالیہ نقشبندیہ” کے فیض کو عام کریں۔ اللہ تعالٰی حضرت پیر صاحب رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے آمین
Like this:
Like Loading...