Skip to content
نئے بہار میں انکاونٹر، بلڈوز اورماب لنچنگ کا دور دورہ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بہار کے اندر بی جے پی نے پچھلی بار چراغ پاسوان کی مدد سے جے ڈی یو کی کمر توڑ کر اسے نصف پر پہنچا دیا ۔ اس بنیاد پر وہ 2025 میں جے ڈی یو سے زیادہ نشستوں کی دعویدار تھی ۔ نتیش کمار اڑگئے اور ممکن پھر سے پلٹنے کی دھمکی دے دی تو معاملہ برابری پر چھوٹا ۔ ووٹ چوری کرکے بی جے پی جہاں خود 89 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری وہیں جے ڈی یو کو 85 پر محدود کردیا ۔ نتیش کمار کو چونکہ پتہ چل گیا تھا کہ یہ محنت کی کمائی نہیں بلکہ ( گیانیشور کمار کے) ہاتھ کی صفائی ہے اس لیے وہ صرف ۴؍ سیٹوں کا فرق ہونے کے باوجود چھوٹا بھائی بننے پر راضی ہوگئے ۔ اس کا فائدہ اٹھا کر نئی کابینہ کے 26؍ ا رکان میں سے بی جے پی کے 14 اور جے ڈی یو کے صرف 8 وزراء شامل کیے گئے ۔ یہ عجب اتفاق ہے ارکان اسمبلی میں تو ۴؍ کا فرق یعنی ۵؍ فیصد اور کابینہ کے اندر ۶؍ فرق یعنی چالیس فیصد اسے اندھیر نگری نہیں تو کیا کہا جائے؟ اس کے علاوہ خودکو ’’بڑا بھائی‘‘ ثابت کرنے کے لیے بی جے پی نے محکمہ داخلہ بھی اپنے پاس رکھ کر خود بالکل بونا بنا دیا ۔
ماضی میں1967 اور1970 کے علاوہ یہ اہم محکمہ ہمیشہ وزیر اعلیٰ کے پاس ہی رہالیکن اس بار ڈپٹی سی ایم سمراٹ چودھری کو وزارتِ داخلہ قلمدان دے کربہار میں بھی انکاونٹر ، بلڈوزر، ماب لنچنگ اور مسلم خاتون کے ساتھ بدسلوکی تک کا درواز ہ کھول دیا۔ اپنی اس حرکت سے جہاں وزیر اعلیٰ نے یہ ثابت کیا کہ کوئی بی جے پی والا بھی ان سے زیادہ چاپلوس نہیں ہوسکتا وہیں یہ پیغام بھی دے دیا گیا کہ لالو پرشاد یادو کے جنگل راج سے ڈرانے والی بی جے پی کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ وہ لاقانونیت کا ننگا ناچ کرنے میں بے مثال ہے۔ بہار سے آنے والی ماب لنچنگ کےانتہائی خوفناک واقعہ نے یہ سوال پیدا کردیا کہ اس ملک میں کیا عام مسلما ن شہری محفوظ نہیں ہے؟ نوادہ کے دہشت گرد ہندوتوانوازوں نے اپنے ظلم سے پہلگام کی دہشت گردی کو بھی شرمندہ کردیا ۔پہلگام دھماکے کے بعد شک کی بنیاد پر گھروں کودھماکہ کرکے اڑایا گیا ۔ دہلی دھماکوں کی تفتیش کے دوران ہی ملزم کے گھر کو ڈائنامیٹ کرکے اہل خانہ کو سزا دی گئی لیکن نوادہ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔ پہلگام کے بعد تومیڈیا نے آسمان سر پر اٹھالیا تھااور حکومت نےآپریشن سندور چھیڑ کر اس کا سیاسی فا ئدہ اٹھانے کی کوشش کی جبکہ نوادہ کی شرمناک دہشت گردی کے بعد ہر طرف پر اسرار سناّٹا پسرا ہوا ہے۔ میڈیا کے اندر بنگلہ دیش میں دیپو چندر کے حوالے سے جتنا مواد آیا اس کا عشر عشیر بھی نوادہ کے متعلق نہیں تھا ۔
بہار میں ماب لنچنگ سے قبل انکاونٹر نے پیر پسارنے شروع کردئیے ۔ بیگوسرائے میں اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) اور ضلعی پولیس کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں سمراٹ چودھری کے وزارت سنبھالتے ہی ایک انکاؤنٹر ہوا۔ اس میں ایک بدنام زمانہ بدمعاش زخمی ہوگیا ۔ اس پر سرپنچ کے بیٹے کے قتل کا الزام تھا۔ اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کو اطلاع ملی تھی کہ مفرور بدمعاش شیو دت رائے صاحب پور کمال تھانہ علاقہ میں ملہی پور کے قریب ہتھیار خریدنے آیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی ایس ٹی ایف کی ٹیم پہنچی اور مقامی پولیس اسٹیشن کو اطلاع دی۔ پولیس کو دیکھتے ہی 6 ملزمین فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔ اپنے دفاع میں پولیس نے جوابی فائرنگ کی جس سے شیو دت رائے زخمی ہو گیا۔ اس طرح ماب لنچنگ کے علاوہ انکاونٹر بھی یوپی کی سرحد عبور کرکے بہار پہنچ گیا۔اس سے دو دن قبل بیگوسرائے ہی میں جے ڈی یو کے ایک لیڈر کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔اس ضلع کے چھوڑاہی تھانہ علاقے میں بے خوف بدمعاشوں نے گھر میں گھس کر نیلیش کمار کوگولی ماری جبکہ وہ اپنے گھر میں سو رہے تھے ۔ 3 موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر آنے جرائم پیشہ نے افراد بغیر کچھ بولے تابڑ توڑ گولیاں چلا کر نیلیش کمار کو گولیوں سے بھون دیا۔
آر جے ڈی کے ترجمان شکتی سنگھ یادو نےاس واردات پر کہا کہ پہلے بھی این ڈی اے کی حکومت تھی۔ اس وقت بھی قتل وغارت گری کا دور جاری تھا اور اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کو برسراقتدار آئے چند ہی دن ہوئے ہیں لیکن 50 سے زائد قتل کی وارداتیں ہوچکی ہیں۔ شکتی سنگھ یادو کے مطابق جن کے ہاتھ میں اقتدار کی باگ ڈور ہے، ان پرنظم نسق درست رکھنے کی ذمہ داری ہے۔ انتظامیہ کی کارکردگی میں یکسانیت ہونی چاہیے، جرائم پیشہ کسی ذات اور مذہب کا نہیں ہوتا مگریہ بھی سچ ہے کہ حکومت کی ذات اور وزیر کامذہب ہوتا ہے۔ انتظامیہ اس کا خوب پاس و لحاظ کرتا ہے۔ سمراٹ کے اقتدار سنبھالتے ہی مجرم پیشہ لوگوں کے حوصلے ایسے بلند ہوئے کہ۲۲؍نومبر بیگو سرائے ضلع کے ویرپور تھانہ علاقے میں ایک کپڑا تاجر کو گولی مار کر قتل کر کے ملزم فرار ہو گئے۔ بیگوسرائے ضلع میں دو دنوں کے اندر قتل کی وہ دوسری واردات تھی۔ اس میں جرائم پیشہ لوگوں نے کپڑا تاجر محمد شہزاد کو گولی مار کر قتل کرنے کے بعد اپنے ہتھیار لہراتے ہوئے فرار ہو گئے۔
ان واقعات کی جانب سے توجہ ہٹانے کی خاطربھارتیہ جنتا پارٹی ریاست میں جرائم کی روک تھام کے نام پر 400 مبینہ مجرموں اور مافیا کے خلاف کارروائی کی فہرست منظرِ عام پر لا رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر ریاست میں اس قدر جرائم پیشہ گروہ مصروفِ عمل ہیں تو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کانام نہاد گڈ گورننس اور داخلی سلامتی کے دعویٰ کہاں ہے؟ موصوف گزشتہ 20 برس سے ریاست کے وزیر داخلہ کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔ بی جے پی کے اس اقدام نے نہ صرف نتیش کمار کےسشاسن (بہترین انتظام والے) دعویٰ کی ہوا نکال دی بلکہ ا ن کے تئیں اندرونی بداعتمادی کا اظہار کردیا ہے۔بی جے پی اور جے ڈی یو کے درمیان سیاسی کریڈٹ کے لیے مقابلہ آرائی میں اول الذکر دگر گوں نظم و نسق کا شور مچا رہی ہے جبکہ جے ڈی یو موجودہ ترقی، روزگار، قانون و انتظام اور فلاحی منصوبے کا پہاڑا پڑھ رہی ہے ۔ اس بیچ گجرات کے28 سالہ انکت مشرا نے وزیر اعلی نتیش کمار کو ہی جان سے مارنے کی دھمکی دے دی۔ اس کو گرفتار کرنے کے لیے بہار پولیس نے سورت کرائم برانچ سے مدد طلب کی تو اس نے لسکانہ سے نوجوان کو پکڑ کر اس کے حوالے کر دیا۔ انکت مشرا نے 20 مارچ کو انٹرنیٹ کے ذریعے ایک میڈیا چینل سے رابطہ کرکے وزیر اعلیٰ کو 36 گھنٹے میں بم سے اڑانے کی دھمکی دی تھی۔سوال یہ ہے کہ بہاری تو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں ایسے میں گجرات کے انکت کو آخر نتیش پر اتنا غصہ کیوں آگیا؟ یہ پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ یہ صاحب کس کے اشارے پر دھمکی دے رہے ہیں ۔ کہیں ایسا کو نہیں کہ بقول شاعر ؎
چرخ کو کب یہ سلیقہ ہے ستم گاری میں کوئی معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں
۲۲؍ نومبر کو نئی حکومت کے بعد پہلا انکاونٹر ہوا اور اس کے اگلے ہی دن 23 نومبر کو چراغ پاسوان جیسے حامیوں کے علاقہ حاجی پور میں دلتوں کے گھروں ، دوکانیں اور خوانچوں پر بلڈوزر چلا دیا گیا۔سی پی آئی-ایم ایل کے جنرل سکریٹری دیپنکر بھٹّاچاریہ نے اسے بہار ایک خطرناک دور کی علامت بتایا ، جس میں قانون کی جگہ لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جا رہےہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس بار نتیش کمار صرف وزیر اعلیٰ ہیں اور وزارتِ داخلہ سمراٹ چودھری کو دے دی گئی ہے ۔ اس لیےاب حکومت کے سامنے اُتر پردیش کا بلڈوزر ماڈل رہےگا۔ اس میں قانون کا راج نظر نہیں آئے گا۔دیپانکر بھٹا چاریہ نے کہا کہ اتر پردیش میں مافیا راج ختم کرنے کے نام پر حکومت کے تحفظ میں رہنے والی اعلیٰ ذات کی جاگیردار طاقتوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی لیکن دلت، پسماندہ اور اقلیتی برادری پر مسلسل بلڈوزر چل رہے ہیں اور اب بہار میں بھی یہی ہونے والا ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انتخاب کے دوران ہی دولار چند یادو کا قتل ہوا تھا، اور اب ڈپٹی چیف منسٹر سمراٹ چودھری کہتے ہیں کہ سینے پر بلڈوزر چلا دیں گے ، غریبوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیں گے ۔
ایسے میں اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے تیسرے روز سنٹرل ہال میں ریاستی گورنر عارف محمد خان کے خطاب کی شروعات کے ساتھ ہی آڈیو سسٹم اچانک خراب ہو گیا۔ بی جے پی والے حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی کا مائک بند کرنے کے لیے بدنام ہیں مگر وہ اپنے نامزد کردہ گورنر کے ساتھ یہ معاندانہ سلوک کریں گے ایسا تو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ان کے خطاب کی ابتداء کے تقریباً 10 سے 15 منٹ تک مائک اور ساؤنڈ سسٹم نے کام نہیں کیا، اس کی وجہ سے ایوان کے اراکین گورنر کا خطاب سن نہیں پائے۔ ویسے اگر وہ لوگ سنتے بھی تو کیا سنتے؟ عارف محمد خان کے اندر بلڈوزر، انکاونٹر یا ماب لنچنگ کے خلاف کچھ بولنے کی ہمت تو ہے ہی نہیں ۔ اس تناظر میں اگر مولانا محمودمدنی کہتے ہیں کہ’جب تک ظلم جاری رہے گا تو جہاد بھی جاری رہے گا‘ تو اس میں کیا غلط ہے؟ انکاونٹر سے شروع ہوکر بلڈوزر ، ماب لنچنگ اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کا سفر گواہی دے رہا ہے کہ اب بہار میں بھی بی جے پی کا غنڈہ راج نہ صرف نافذ ہوچکا ہے بلکہ پھل پھول رہا ہے ۔
Post Views: 5
Like this:
Like Loading...