Skip to content
الحاد کا قصر ِ باطل پاش پاش !!!
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
ہفتہ ۲۰؍ڈسمبر ۲۰۲۵ کوہند وستان کی راجدھانی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں نوجوان عالم دین مفتی شمائل احمد عبداللہ ندوی اور مشہور نغمہ نگا ر ومعروف ملحد جاوید اختر ابن جان نثار اختر(ملحد) کے درمیان ’’خدا کا وجود؟‘‘ DOES GOD EXIST? کے عنوان پر تاریخی مناظرہ DEBATE ہوا ،سوشل میڈیا پر اس مناظرہ کی تاریخ کے اعلان کے بعد ہی سے لوگوں کو اس تاریخ کے تاریخی دن کا شدت سے انتظار تھا ، جیسے ہی ہفتہ کا دن آیا ہزاروں لوگوں کی نظریں گھڑی پر ٹکی ہوئی تھیں ،مناظرہ وقت مقررہ پر شروع ہوا اور دوگھنٹے تک موحد اور ملحد کے درمیان دلچسپ مباحثہ ومکالمہ چلتا رہا ، سوشل میڈیا کے ذریعہ اس مباحثہ کا لاکھوں لوگوں نے مشاہدہ کیا ،مناظرہ میں ایک جانب نوجوان عالم دین مفتی شمائل احمد ندوی تھے تو دوسری جانب بالی وڈ کے مشہور نغمہ نگار اور ملحد جاوید اختر تھے ، ایک طرف نوجوان عالم دین مفتی شمائل ندوی ہمت ،جرأت ، استقامت ،اعتماداور سنجیدگی ومتانت کے ساتھ وجود باری تعالیٰ پر عقلی ومنطقی مضبوط دلائل پیش کر رہے تھے ،مفتی شمائل ندوی نے اپنی گفتگو میں کائنات کے نظم وتوازن اور اس کی ترتیب کو خالق کی واضح دلیل قرار دیا تو دوسری طرف ملحد ومنکر جاوید اختر انکارِ وجود باری تعالیٰ پر بات کرنے کے بجائے دنیا میں ہونے والی تکلیفوں اور خاص کر غزہ میں بچوں کی اموات پر سوالات اٹھاکر اس کے ذریعہ وجود باری تعالیٰ کا انکار کر رہے تھے اور کہہ کرہے تھے کہ اگر خدا ہے تو پھر دھرتی پر اتنی تکلیفیں کیوں؟،مناظرہ کے شروع ہی میں مفتی شمائل ندوی نے مناظرہ کے اوصول وضوابط ذکرکئے،دوران مناظرہ جو بات صاف طور پر دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ مفتی شمائل ندوی شروع ہی سے پُر اعتماد دکھائی دے رہے تھے اور اس کے برخلاف ملحد جاوید اختر کی گفتگو میں بے اعتمادی صاف طور پر جھلک رہی تھی کیونکہ وہ اصل موضوع سے ہٹ کر جذباتی باتوں کو بیان کرنے لگے تھے ، مفتی شمائل ندوی کے مقابلہ میں ان کے دلائل بے وزن ، کاغذ کی کشتی اور ملبہ کا ڈھیر ثابت ہوئے ، حالانکہ ملحد جاوید اختر بہت تجربہ کار آدمی ہیں ،مختلف مباحث میں حصہ لیتے رہتے ہیں اور ملکی وعالمی سیمیناروں میں شرکت کرتے رہتے ہیں اور مگر اس کے باوجود اس مناظرہ میں وہ مفتی شمائل ندوی کے مقابلہ میں طفل مکتب ثابت ہوئے ، عموماً مدراس دینیہ کے فضلاء پر انگریزی زبان سے ناواقفیت کا طعنہ دیا جاتا ہے اور ان کا تمسخر اڑایا جاتا ہے مگر اس مناظرہ میں مفتی شمائل ندوی کی انگریزی زبان پر مہارت نے ناظرین اور بالخصوص جاوید اختر کو مبہوت اور متحیر کرکے رکھ دیا ،مجبوراً انہیں آسان اور سہل جملوں کے استعمال کرنے کی درخواست کرنا پڑا،دوران مناظرہ جاوید اختر خود اپنے جال میں پھنستے چلے گئے جس کا انہیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا ، مفتی شمائل کے مقابلہ میں جاوید اختر کی باتیں بچکانی ثابت ہوئی اور وہ دوران مناظرہ کبھی بھی پُر اعتماد نظر نہیں آئے اور نہ ہی ان کے دلائل میں کچھ دَم دکھائی دیا ،مناظرہ کے آخر میں ملحدین کے لئے شمشیر برہنہ مشہور مناظر ،ترجمان اسلام مفتی یاسر ندیم الواجدی قاسمی کے سوال نے ملحدین کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کا کام کردیا ،اس طرح مفتی یاسر ندیم الواجدی قاسمی اور مفتی شمائل ندی کی محنتیں رنگ لائی اور پھر ایک بار باطل کے مقابلہ میں حق کو تاریخی فتح حاصل ہوئی ،اس طرح خدائے واجب الوجد کا وعدہ پورا ہوا کہ وَقُلْ جَائَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا(الاسراء:۸۱)’’ اور آپ کہہ دیجئے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا یقینا باطل مٹنے ہی والا تھا ‘‘ ۔
ہر ذی شعور اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کائنات کو بنانے والی ایک عظیم الشان نہایت طاقتور اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والی ہستی ہے اور اسی کا نام ’’خدا ‘‘ ہے اور وہ ہستی واجب الوجود ہے جو ازل سے ہے اور ابدتک رہنے والی ہے ،کائنات اور کائنات کی ہر ایک شئے اسی کی پیدا کردہ اور اسی کے تابع ہے ،اس کی ذات وصفات اور طاقت وقدرت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ،حقیقت یہ ہے کہ عناصر کے کون وفساد اور ان کے سارے تغیرات صرف اسی ایک ہستی کی حیثیت کے تابع اور اس کی حکمت کے مظاہر ہیں؎
ہر تغیر ہے غیب کی آواز
ہر تجّدد میں ہیں ہزاروں راز
مشہور نغمہ نگارجاوید اختر خدا تعالیٰ کے منکر ہیں اور اس کے واجب الوجود ہونے کا انکار کرتے ہیں،موصوف نہ یہ کہ ملحدانہ افکار ونظریات رکھتے ہیں بلکہ اپنے لکچرس اور بیانات میں کھل کر اس کا اظہار بھی کرتے ہیں ، ملحد دراصل منکر خدا کو کہاجاتا ہے ، ملحدین عموماً مادے کو غیر فانی اور متشکل تسلیم کرتے ہیں ،ان کا خیال ہے کہ زمانہ ازلی اور ابدی ہے اور ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے،ملحدین ہر معاملہ میں اپنی عقل کو معیار بنا تے ہیں اور جو بات بظاہر عقل کے خلاف نظر آتی ہے تو اس کا انکار کر دیتے ہیں ،یہ لوگ سرے سے مذاہب کا انکار کرتے ہیں ، یہ لوگ عقل کو ہی اپنی زندگی کا رہنما مانتے ہیں، ہر زمانے میں توحید کے علمبرداروں اور دین متین کے متوالوں اور اسلام کے سپاہیوں نے ملحدین کو دندان شکن جوابات دئے ہیں چنانچہ ساتویں صدی ہجری کے مشہور مورخ اور فقیہ علامہ ابن خلدونؒ نے ملحدین کو بڑا زبردست جواب دیا تھا جیسا کہ ملحدین کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان باتوں کو مانتے ہیں جسے عقل تسلیم کرتی ہے اور ان باتوں کو تسلیم نہیں کرتے جو عقل کی کسوٹی پر کھری نہیں اُترتی ہیں ، علامہ نے انہیں جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ بلاشبہ عقل کسوٹی تو ہے مگر یہ ہر چیز کے لئے کسوٹی نہیں بن سکتی ہے کیونکہ بعض چیزیں عقل کے ترازو میں سماتی نہیں ہیں وجہ یہ ہے کہ ہر انسان کی عقل دوسرے انسان سے مختلف ہوتی ہے ،اگر عقل ہی کسوٹی اور معیار مانا جائے تو پھر سوال ہوتا ہے کہ کس عقل کو اور کس کی عقل کو معیار مانیں گے کیونکہ ہر ایک کی عقل وفہم دوسرے سے الگ ہوتی ہے ،بچوں کی عقل بڑوں سے الگ ہوتی ہے ،جوانوں کی عقل بوڑھوں سے جدا ہوتی ہے ،دانا کی عقل عام لوگوں سے مختلف ہوتی ہے تو ان میں سے کن کی عقل کو معیار مانا جائے گا ،بسا اوقات انسان کی عقل آج کچھ سونچتی ہے اور پھر یہی عقل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ اور سونچتی ہے تو فیصلہ کرنے کے لئے کس عقل کو ترازو بنائیں گے اور کس عقل کے فیصلہ کو حاکم بناکر اس کا فیصلہ قبول کریں گے ؟ علامہ کا یہ ایسا سوال ہے جس کا ن ملحدین کے پاس آج تک کوئی جواب نہیں ہے ، علامہ ابن خلدون ؒ نے ملحدین اور عقل کے اندھوں کو نہایت مسکت جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ بے شک عقل میزان ہے لیکن امور آخرت ،مقدرات الہیہ کو میزان عقل میں نہیں لا سکتے کیونکہ یہ امور عظیم الشان ہیں اور عقل کے کانٹے میں ان مباحث کے لئے اتنی طاقت ہی نہیں کہ اس میں یہ امور وزن ہو سکیں جیسے سنار کے کانٹے پر پہاڑ کا وزن نہیں کیا جا سکتا اس کے باوجود سنار کے کانٹے کو غیر درست نہیں کہا جا سکتاتومعلوم ہوا کہ عقل یقینا عقل ہے مگر ہر چیز کو عقل کے ترازو میں تولنا ناقص العقل ہونے کی علامت ہے ۔
عالم اسلام کے عظیم فقہ،امام عظیم سیدنا امام ابوحنیفہؒ تو ملحدین کے لئے تلوار تھے ،آپؒ نے کائنات کے دم بخود کرنے دینے والے نظام کے ذریعہ دلیل پکڑتے ہوئے ملحدین کے منہ پر طماچہ لگایا ہے ، امام رازی ؒ نے اپنی تفسیر کی کتاب میں نقل کرتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ ؒ ملحدین (دہریوں ) کے حق میں تلوار تھے اسی وجہ سے وہ لوگ آپؒ کے قتل کی تاک میں رہتے تھے، ایک دن آپؒ مسجد میں بیٹھے تھے کہ اچانک دہریوں کا ایک غول تلواروں کے ساتھ قتل کے ارادہ سے مسجد میں داخل ہوا،انہیں دیکھ کر امام صاحبؒ بالکل گھبرائے نہیں بلکہ ان سے فرمایا پہلے تم میری ایک بات کا جواب دو ،پھر جو چاہو کرو،ان لوگوں نے کہا وہ بات کیا ہے؟،توآپؒ فرمایا کہ تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میں دریا میں ایک کشتی دیکھی ہے جس میں قسم قسم کے سامان لدے ہوئے ہیں اور دریا کی موجیں جدھر ہواؤں کا زور ہوتا ہے اس کو اِدھر اُدھر نہیں کرتی ،مختلف قسم کی ہوائیں چلتی ہیں لیکن کشتی برابر سیدھی چلی جاتی ہے اور تعجب اس بات کا ہے کہ کوئی اس کا ملاح (چلانے والا) بھی نہیں ہے ،تو بتاؤ تو سہی عقلاً اس کی بات درست ہے ؟ تو لوگوں نے کہا بالکل نہیں اس بات کو عقل تسلیم ہی نہیں کرتی ہے،اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے کہ ایک کشتی کا دریا میں سیدھا چلنا بغیر ملاح عقلا ممکن نہیں ہے تو بھلا اتنی بڑی کائنات کا کسی چلانے والے کے بغیر چلنا کیوںکر ممکن ہو سکتا ہے،یہ سن کر قتل کے ارادہ سے آئے ہوئے لوگ روپڑے اور دہریت سے توبہ کرکے داخل اسلام ہوگئے،امام صاحب ؒ نے یہ استدلال اس آیت سے کیا ہے:إِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِیْ الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ(البقرہ:۱۶۴)۔
اسی طرح بادشاہ ہارون رشید نے ایک مرتبہ سیدنا امام مالکؒ سے وجود باری پر سوال کیا تو امام مالکؒ نے فرمایا آوازوں کا مختلف ہونا ،سروں کی تبدیلی اور زبان کے رنگارنگ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا کوئی خالق اور صانع ہے اور وہ ذات باری تعالیٰ ہے،امام مالکؒ نے اس آیت سے استدلال فرمایا:وَمِنْ آیَاتِہِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِکُمْ وَأَلْوَانِکُمْ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّلْعَالِمِیْنَ(روم:۲۲)اور اس کی نشانیوں کا ایک حصہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی ہے،یقینا اس میں دانش مندوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں،اسی طرح سیدنا امام شافعی ؒ سے کچھ دہریوں نے وجود باری پر سوال کیا تو آپؒنے بطور دلیل توت کے پتے کو پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ اس کا مزہ ، رنگ ،بو ا ورطبیعت سب ایک ہے یا نہیں ؟ سبھوں نے کیا بالکل ایک ہی ہے، پھر آپ ؒ نے فرمایامگر اس کے باوجود جب اسے ریشم کا کیڑا کھاتا ہے تو اس سے ریشم بنتا ہے،شہید کی مکھی کھاتی ہے تو اس سے شہید نکلتا ہے ،ہرن کھاتی ہے تو اس کے نافے سے مشک نکلتا ہے اور یہی بکری کھاتی ہے تو اس کے پیٹ سے میگنیاں نکلتی ہیں ،بھلا تو بتاؤ کہ اس ایک پتے میں مختلف اثر کس نے رکھے ہیں ،یہ جواب سن کر دہریے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے آپؒ کے دست حق پرست پر کلمہ پڑھ اسلام قبول کرلیا اور وہ سترہ (۱۷) آدمی تھے۔
ایک موقع پر فقہ حنبلی کے عظیم امام سیدنا امام احمد بن حنبل ؒ وجود باری تعالیٰ کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ ایک چکنا قلعہ ہے جس میں کوئی سوراخ نہیں ہے ،باہر جانب سے چاندی جیسا ہے اور اندر کی طرف سے سونے جیسا ہے ،پھر اچانک اس کی دیوریں پھٹ جاتی ہیں اور اس میں سے ایک حیوان نکلا ہے جو سماعت وبصارت سے متصف ہوتا ہے تو بتاؤ اس جانور کی اس بند قلعہ میں کس نے تخلیق فرمائی ہے ،یقینا اس کی تخلیق کرنے والا کوئی تو ہے وہی خدا ہے ،قلعہ سے مراد انڈا ہے اور حیوان سے مراد جوزا ہے ،امام احمد بن حنبلؒ نے بطور دلیل اس آیت کو پیش فرمایا ہے:یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ(الروم:۱۹) وہ جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور بے جان کو جاندار سے نکالتا ہے۔
خانوادہ رسول کے چشم وچراغ سیدنا جعفر صادقؒ سے کسی نے وجود باری تعالیٰ کے متعلق سوال کیا تو آپؒ نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا کبھی تم نے سمندر میں کشتی پر سوار ی کی ہے ؟ سائل نے کہا: جی ہاں۔آپ ؒ نے اس سے پوچھا : کبھی دوران سفر سمندر میں کوئی خوف ناک حادثہ پیش آیا؟ اس نے کہاں ؛ہاں پیش آیا وہ اس طرح کہ ایک دن سمندر میں بڑا ہولناک طوفان آیا جس ہماری کشتی توڑ کر رکھ دی ، ملاح ڈوب گیا اور کشتی سوار کئی مسافر سمندری لہروں کے حوالے ہو گئے ،مجھے ٹوٹی ہوئی کشتی کا ایک تختہ ہاتھ آیا میں پکڑ کر اس پر سوار ہوگیا مگر لہروں کی شدت نے مجھے اس تختے سے جدا کردیا ،پھر لہریں مجھے اِدھر سے اُدھر ڈھکیلتی رہیں کچھ دیر بعد ایک زوردار لہرنے ڈھکیل کر مجھے سمندر کے کنارے پر ڈال دیا اس طرح میں موت کے منہ تک جاکر واپس آیا،اس مسافر کی کہانی سن کر حضرت جعفر صادقؒ نے اس سے فرمایا کہ پہلے تمہارا اعتقاد کشتی اور ملاح پر تھا، پھرجب تختہ پرآئے تو اس پر اعتقاد آگیا، پھر جب یہ چیز بھی ہاتھ سے نکل گئی تو اب سلامتی کی امید کس سے تھی ؟ وہ شخص خاموش ہو گیا،حضرت جعفر صادق ؒ نے فرمایا تمہارے دل میں سلامتی امید جس سے پیدا ہوئی تھی وہی تو تمہارا خدا ہے جس نے تم کو بچاکر ایک نئی زندگی عطا فرمائی ،یہ سن کر وہ شخص مسلمان ہوگیا ۔
دہلی کے اس تاریخی مناظرہ میں مفتی شمائل ندوی نے بھی اپنے اسلاف واکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جاوید اختر کے سامنے عقلی اور منطقی دلائل پر دلائل پیش کئے جسے سن کر وہ ایک دم سے چکراگئے ،ایک موقع پر مفتی شمائل ندوی نے سوال کیا کہ ہر چیز کسی سبب کی محتاج ہے تو اس سلسلہ کو کہیں نہ کہیں جاکر رکنا پڑے گا اور مسلمان اس سلسلہ کو خدا پر جاکر روکتے ہیں جبکہ منکرین خدا یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ آکر وہ کہاں جاکر رکیں گے ، یقینااس سوال کا جاوید اختر کے پاس کوئی جواب نہ تھا جس کی وجہ سے وہ دباؤ میں آگئے ، جاوید اخترکا سوال تھا کہ دنیا میں ظلم ونا انصافی ہورہی ہے اور بالخصوص اہل غزہ مستقل حالات سے دوچار ہیں ،اگر خدا ہے تو اس کے ہوتے ہوئے یہ ظلم کیسا؟ مفتی شمائل نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ غیر مادی مسئلہ پر مادی مثالوں سے استدلال بذات خود غیر منطقی ہے ،انہوں نے کہا کہ انسانی اختیار کے تحت ہونے والے ظلم کو خدا کی عدم موجودگی کی دلیل نہیں بنایا جاسکتا ،ظلم کے انسداد کے لئے خود انسان کو ذمہ دار بنایا گیا ہے اور خدائی ہدایات سے انحراف کے نتائج کو خدا کے وجود کے انکار سے جوڑنا فکری مغالطہ ہے۔
مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان وجود باری تعالیٰ پر دو گھنٹوںپر مشتمل طویل مباحثہ بالآخر اس نتیجہ پر پہنچا کہ الاسلام یَعْلُو ولا یُعْلیٰ (الدار قطنی :۱۱۲۶)یعنی اسلام مغلوب نہیں بلکہ غالب ہوکر رہے گا ،کامیاب منظرہ پر مفتی یاسر ندیم الواجدی قاسمی اور مفتی شمائل احمد ندوی اور ان کی ٹیم پوری امت مسلمہ کی جانب سے مبارکبار کی مستحق ہے ۔
Post Views: 15
Like this:
Like Loading...