Skip to content
ماہ رجب فضائل واحکام
ازقلم: مفتی عبیدالرحمن قاسمی
استاذ حدیث جامعہ حنفیہ للبنات ظہیرآباد
ماہ رجب ہجری و اسلامی سال کے حساب سے ساتواں مہینہ کہلاتا ہے یہ مہینہ بھی سال کے خاص مہینوں میں بڑی اہمیت و فضیلت کا حامل ہے اس مہینے کے بزرگی و برتری بھی قرآن و حدیث سے ثابت ہے
اس مہینے میں کئی اہم اسلامی واقعات بھی پیش آئے ہیں اس مہینہ کو’’اصب‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و بخشش کے ذریعہ خصوصی انعام فرماتے ہیں اور اس ماہ میں عبادات اور دعائیں مستجاب ہوتی ہیں
ماہ رجب کا شمار اشہر حرم
اس مہینے کی سب سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس مہینے کا شمار ”اشہر حرم “ یعنی عظمت و حرمت والے مہینوں میں ہوتا ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰہِ اثۡنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ مِنۡہَاۤ اَرۡبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ۬ۙ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِیۡہِنَّ اَنۡفُسَکُمۡ وَ قَاتِلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ کَآفَّۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ (سورہ توبہ)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے، جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا، ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں، یہی دین (کا) سیدھا سادہ (تقاضا) ہے، لہذا ان مہینوں کے معاملے میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو،اور تم سب ملکر مشرکوں سے اسی طرح لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور یقین رکھو کہ اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔
اس آیت کریمہ کی تفسیر بیان کرتےہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح وضاحت فرمائی ہے
عن النبي ﷺ، قال: الزمان قد استدار کہيئتہٖ يوم خلق اللہ السماوات والأرض، السنۃ اثنا عشر شہرا، منہا أربعۃ حرم، ثلاث متوالیات: ذوالقعدۃ وذوالحجۃ والمحرم، ورجب مضر الذي بین جمادی وشعبان۔‘‘( صحیح بخاری)
’’ زمانہ پھر اپنی پہلی اسی ہیئت پر آ گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں: تین تو لگاتار یعنی ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم، اور چوتھا رجبِ مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں ہے
اور اسی آیت کے ضمن میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:” ملتِ ابراہیمی میں یہ چار مہینے ادب واحترام کے تھے ،اللہ تعالی ٰ نے ان کی حرمت کو برقرار رکھا اور مشرکینِ عرب نے جو اس میں تحریف کی تھی اس کی نفی فرما دی“۔(معارف القرآن کاندھلوی)
لہذا ان میں عبادت کرنے کا اجر و ثواب زیادہ ملتا ہے جو شخص ان مہینوں میں برائیوں سے بچتا ہے، اسے باقی مہینوں میں برائیوں سے بچنے کی توفیق ملتی ہے
*ماہ رجب کے آغاز پر دعا کا اہتمام*
ایسے ہی ماہ رجب کی فضیلت اس بات سے بھی ثابت ہوتی ہیکہ جب اس مہینہ کا آغازہوتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس دعاء کا اہتمام فرمایا کرتے تھے جیساکہ صاحب مشکوٰۃ المصابیح نے اس طرح نقل کیا ہے
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ: ”اللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي رَجَبَ وَشَعْبَانَ و بلِّغْنا رمَضَان“(مشکاة المصابیح، کتاب الجمعہ ) ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: جب نبیِ اکرم ﷺ رجب کے مہینہ کا چاند دیکھتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے:اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما،اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دے۔
ملا علی قاری رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح و مطلب بیانکرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: اے اللہ ان مہینوں میں ہماری طاعت و عبادت میں برکت عطا فرما،اور ہماری عمر لمبی کر کے رمضان تک پہنچا؛ تا کہ رمضان کے اعمال روزہ اور تراویح وغیرہ کی سعادت حاصل کریں (مرقاة المفاتیح)
اس دعاء سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک رمضان کی کتنی اہمیت تھی کہ ماہ ِ رمضان کی عبادت کو حاصل کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے دو ماہ قبل دعاؤں کا سلسلہ شروع فرمادیتے تھے۔ ماہِ رجب کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے برکت حاصل ہوئی، جس سے ماہ ِ رجب کی ایک درجہ فضیلت ثابت ہوتی ہے
*رجب کی پہلی رات کی فضیلت*
اس مہینے کی پہلی رات کی فضیلت بہت زیادہ ہے اور اس میں دعاؤں کا قبول ہونا حدیث مبارک سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے: پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں مانگی جانے والی دعاؤں کو مسترد نہیں کیا جاتا۔ شبِ جمعہ، رجب کی پہلی رات، پندرہویں شعبان کی رات اور عیدین کی راتیں (بیہقی)
لیکن یہ بات بھی ملحوظ خاطر ہونی چاہیے کہ کوئی مخصوص عبادات اور مخصوص اعمال اس میں ثابت نہیں ہے بشرط صحت و سہولت جو بھی عبادت ہو انجام دی جا سکتی ہے
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے غنیۃ الطالبین میں اس طرح نقل فرمایا ہےکہ حضرت عکرمہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رجب اللہ کا مہینہ ہے شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے اس روایت سے بھی رجب کی فضیلت عیاں ہو جاتی ہے
اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رجب دوسرے مہینوں پر وہی بزرگی رکھتا ہے جو قرآن مجید تمام کتابوں پر رکھتا ہے ایسے ہی شعبان کی بزرگی دوسرے مہینوں پر اس طرح ہے جس طرح مجھے تمام نبیوں پر بزرگی دی گئی رمضان کے بزرگی باقی مہینوں پر ایسی ہے جیسی ساری مخلوقات پر اللہ تعالی کی بزرگی (غنیۃ الطالبین)
رجب کی عظمت و حرمت کو بزرگوں نے اس طرح بھی بیان کیا ہے کہ رجب توبہ و استغفار کا مہینہ ہے اور شعبان محبت الہی کا اور رمضان تقرب الہی کا مہینہ ہے،رجب حرمت کا مہینہ ہے شعبان خدمت کا مہینہ ہے اور رمضان نعمت کا مہینہ ہے،ایسے ہی رجب بیج بونے کا مہینہ ہے شعبان پانی دینے کا مہینہ ہے اور رمضان کاشتکاری کا مہینہ ہے فصل کاٹنے کا مہینہ ہے، لہٰذا جو شخص ماہ رجب میں عبادت کا بیج نہ بوئے اور شعبان المعظم میں اُسے آنسوؤں سے سیراب نہ کرے وہ رمضان المبارک میں فصلِ رَحمت کیسے کاٹ سکے گا؟مزید فرماتے ہیں : ماہ رجب جسم کو اور شعبان المعظم دل کو اور رمضان المبارک رُوح کو پاک کرتا ہے۔
(غنیۃ الطالبین)
*ماہ رجب اور معراج النبی ﷺ*
اس ماہ کی فضیلت یوں بھی دو بالا ہو جاتی ہے کہ اکثر مورخین نے معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماہ رجب میں پیش آنے پر زیادہ احتمال ظاہر فرمایا ہے
یقینا واقعہ معراج تاریخ انسانی کے محیر العقول اور عظیم واقعات اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بے مثال اور عظیم الشان معجزات میں سے ایک ہے
جو قرآن مجید اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے اور تقریباً پچیس صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مروی ہے
یہ واقعہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا اس قدر عجیب اور عظیم الشان واقعہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی تمام نبیوں کے معجزات اسی روئ زمین پر نمودار ہوئے ہیں لیکن ایک تنہا معجزہ ہے جو زمین و اسمان کی سرحدیں پار کر گیا ہے معراج النبی ﷺ کا پہلا مقصد اللہ تبارک وتعالیٰ کا اپنی پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قدرت کاملہ کی عظیم نشانیوں کااظہار کرانا تھا اور دوسرا مقصد حبیب خدا سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کو فرش سے عرش پر بلا کر بلند مقام ومرتبہ سے سرفراز کرنا تھا اور تیسرا مقصد امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیمتی انعامات وتحائف سے نوازنا تھا
*معراج النبی ﷺ کا اجمالی تذکرہ*
نبی کریم ﷺ اپنی چچا زاد بہن حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان میں آرام فرمارہے تھےکہ اچانک چھت پھٹی اور جبریل امین آسمان سےاترے،اور ان کے ساتھ دیگر فرشتے بھی تھے، اللہ کے رسول ﷺکو جگایا اور مسجد حرام لے گئے ، وہاں آپ کے سینہ مبارک کو چاک کیا اور قلب اطہر کو آب زمزم سے دھویا، بعد ازاں آپ کے لئے ایک جنتی سواری لائ گئ جسے براق کہاجاتا ہے آپ کو اس اس پر سوار کیاگیا اس کے بعد مسجد اقصیٰ کی جانب روانہ ہوئے ، اس راستے میں آپ کو کچھ عجائبات دکھلائے گئے، مختلف اقوام اور مختلف لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے مختلف سزاؤں میں مبتلا تھے، مسجد اقصیٰ پہنچ کر رسول اللہﷺنے انبیاء کی امامت فرمائی، اس کے بعد ملائکہ کی معیت میں آسمانوں کی جانب روانہ ہوئے، اور آسمانوں میں آپ ﷺنے مختلف انبیا ئے کرام حضرت آدم، حضرت یحییٰ، حضرت عیسیٰ، حضرت یوسف، حضرت ادریس، حضرت ہارون، حضرت موسیٰ، حضرت ابراہیم علیہم الصلوات والتسلیمات سے ملاقات فرمائی۔ بعد ازاں آپ ﷺکو سدرۃ المنتہیٰ کی طرف بلند کیاگیا، اس مقام پر آپﷺ نے جبریل امین کو اصلی صورت میں دیکھا، نیز اللہ جل شانہ کی تجلیات و انوارات کا مشاہدہ کیا، یہاں سے مقام صریف الاقلام اور پھر مقام صریف الاقلام سے بارگاہ ِ قدس میں پہنچے، وہاں بارگاہِ الہیٰ میں سجدہ بجالائے، اور بلاواسطہ خداوند قدوس سے ہم کلامی کا شرف و اعزاز حاصل ہوا اسی موقع پر نمازیں فرض کی گئیں یہاں سے واپسی پر آپ ﷺ دوبارہ بیت المقدس میں تشریف لائے، وہاں سے براق پر سوار ہوکر صبح سے قبل مکہ مکرمہ پہنچ گئے
*ماہ رجب اور خصوصا ستائیسویں رجب (شب معراج) میں روزہ کا حکم*
چار حرمت اور عظمت والے مہینوں میں سے چوں کہ رجب کا مہینہ بھی ہے، اس لیے اس کی عزت واحترام کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اس مہینے میں عبادات کی طرف بھرپور توجہ دی جائے اور گناہوں سے بچنے کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔ماہِ رجب میں عبادات کے اہتمام کی ترغیب سے اس ماہ میں روزے رکھنے کی بھی فضیلت معلوم ہوجاتی ہے، کیوں کہ یہ بھی عمومی عبادات میں سے ہے اور اسی کے پیش نظر صحابہ کرام اور تابعین عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس ماہ روزہ رکھنے کاثبوت ملتا ہے یہاں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ روزے رکھنے کے لیے رجب کا پورا مہینہ ہی فضیلت والا ہے، البتہ اس مہینے میں روزہ رکھنے کے لیے کوئی خاص دن مقرر نہیں، اور نہ ہی معتبر احادیث سے ماہِ رجب کے کسی خاص دن یہاں تک کہ شب معراج کے دن بھی روزہ رکھنے کسی خاص فضیلت کا ثبوت نہیں ملتا لہذا اس سے احتیاط کرنی چاہیے اس کے علاوہ جو بھی اعمال اس ماہ میں خصوصیت کے ساتھ کئے جاتے ہیں وہ سب غیر شرعی بے اصل اور بے بنیاد ہیں جیسا کہ ایک خاص رسم رجب کے کونڈے کے نام سے منائ جاتی ہے جس کی تحقیق میں ہم ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں
*رجب کے کونڈے*
عوام میں رائج غلط رسومات میں سےماہ رجب کے کونڈے کی رسم بھی ہے جس کے لئے بائیس ۲۲/ رجب کا دن خاص کیا جاتاہے اس کے پس منظر میں مختلف من گھڑت واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک جعفر صادق رحمہ اللہ اور لکڑہارن کا واقعہ بھی بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ جعفر صادق نے لکڑہارن سے کہا کہ جو بھی آج (یعنی ۲۲ رجب کے روز) میرے نام کے کونڈے بھر کرتقسیم کرے گا اس کی حاجت ضرور پوری ہو گی ورنہ روز قیامت میرا گریبان پکڑلینا، چنانچہ لکڑہارن نے کونڈے بھرے تو اس کی حاجت پوری ہو گئی۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ قصہ ہی من گھڑت ہے کیونکہ اس کا تذکرہ نہ قرآن وحدیث میں موجود ہے اورنہ ہی کسی بھی مستند و معتبر کتاب میں موجود ہیں ہےبلکہ اس کی ایجاد عہد رسالت سے صدیوں بعد ہوئ ہے اور دین اسلام عہد رسالت میں مکمل ہو چکا ہے اس کے بعد کا اضافہ دین شمار نہیں ہو گا بلکہ اسے دین میں بدعت اور گمراہی کہا گیا ہے جیساکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے(کُلّ مُحْدَثة بِدْعةٌ وَکُلّ بِدْعةٍ ضَلَالةٌ) دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔
جبکہ درحقیقت بائیس رجب کو صحابی رسول کاتب وحی اور خلیفۃ المسلمین حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تھی اور شیعہ حضرات کو آپ سے جو بغض و عنادتھا اس کی وجہ انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر خوشی کے اظہار کے لیے ایک حیلہ تلاش کرلیا اور اہل سنت میں اس رسم کو عام کردیا، لہٰذا مسلمانوں کو ایسی رسومات سے احتراز کرنا چاہیے
Like this:
Like Loading...