Skip to content
آندھرا پردیش کی مایہ ناز علمی شخصیت اور معروف عالمِ دین مفتی عبدالوہاب قاسمیؒ کا انتقال پرملال
ایک یادگار ملاقات، نصیحت اور تعزیتی بیان
از قلم : متعلم دورۂ حدیث، دارالعلوم رحمانیہ
آندھرا پردیش کی علمی، دینی اور روحانی فضا آج ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گئی۔ ممتاز عالمِ دین، شیخ الحدیث، بانی و مہتمم جامعہ نورُ الہدیٰ نیلور حضرت مولانا مفتی عبدالوہاب قاسمیؒ طویل علالت کے بعد آج اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون۔
ان کے انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے آندھرا پردیش بلکہ پڑوسی ریاست تلنگانہ میں بھی پھیل گئی، جس کے نتیجے میں علمی، دینی اور عوامی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
علمی و تدریسی خدمات کا سنہرا باب
حضرت مفتی عبدالوہاب قاسمیؒ کا شمار ریاست آندھرا پردیش کے اُن اکابر علماء میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کے فروغ، درس و تدریس، فقہ و افتاء اور اشاعتِ اسلام کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ نہ صرف ایک بلند پایہ مدرس اور فقیہ تھے بلکہ ایک مدبر منتظم اور درد مند رہبر بھی تھے۔
جامعہ نورُ الہدیٰ نیلور کا قیام آپ کی علمی بصیرت اور دینی غیرت کا زندہ ثبوت ہے۔ اس ادارے کے ذریعے آپ نے ہزاروں تشنگانِ علم کی علمی و روحانی پیاس بجھائی۔ آپ کے زیرِ سایہ تربیت پانے والے طلبہ آج ملک کے مختلف حصوں اور بیرونِ ملک بحیثیت علماء، ائمہ، خطباء اور مدرسین دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
فقہ و افتاء میں امتیازی مقام
مفتی صاحبؒ فقہِ اسلامی میں گہری بصیرت رکھتے تھے۔ پیچیدہ فقہی مسائل میں ان کی رائے نہایت متوازن، مدلل اور اکابر کے منہج کے مطابق ہوتی تھی۔ عوام و خواص ان کے فتاویٰ پر بھرپور اعتماد کرتے تھے۔ بے شمار افراد نے اپنی زندگی میں دینی رہنمائی کے لیے آپ سے رجوع کیا۔
ملی و دعوتی سرگرمیوں میں فعال کردار
نیلور، وجے واڑہ، حیدرآباد اور دیگر علاقوں میں درجنوں مدارس، مساجد اور مکاتب آپ کی سرپرستی اور رہنمائی میں چل رہے تھے۔ آپ نے نہ صرف ادارے قائم کیے بلکہ ان کے معیارِ تعلیم، نظم و ضبط اور دینی ماحول کی خود نگرانی فرماتے رہے۔
آپ دعوت و تبلیغ کے سچے خادم اور اکابرینِ امت کے نقشِ قدم پر چلنے والی ایک باوقار، سنجیدہ اور متقی شخصیت تھے۔ سادگی، تقویٰ، اخلاص اور استقامت آپ کی زندگی کے نمایاں اوصاف تھے۔
دعوت و تبلیغ کے اسفار اور اثرات
حضرت مفتی صاحبؒ محض ایک مدرس یا منتظم ہی نہیں تھے بلکہ دعوت و تبلیغ کے میدان کے ایک فعال مجاہد بھی تھے۔ دین کی اشاعت اور امت کی اصلاح کے لیے آپ نے دور دراز علاقوں کے کٹھن اور صبر آزما اسفار کیے۔ تبلیغی جماعت کے کام سے آپ کو والہانہ لگاؤ تھا۔
آپ کے دعوتی اسفار نے نہ صرف آندھرا پردیش کے گوشے گوشے میں بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں ایمان کی شمع کو فروزاں کیا۔ آپ کی مجالس میں شرکت کرنے والوں کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلیاں آتی تھیں۔ آپ کا اندازِ بیان نہایت سادہ، دل میں اتر جانے والا اور اخلاص سے بھرپور ہوتا تھا۔
حضرت سے ایک یادگار ملاقات اور قیمتی نصیحت
راقم الحروف کو حضرت مفتی عبدالوہاب قاسمیؒ سے مختصر مگر نہایت بامعنی ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ملاقات مرکز کنزالعلوم اکبرآباد کے پُرسکون نورانی ، دعوتی ، ماحول میں ہوئی۔ حضرت کی شخصیت میں عجیب وقار، چہرے پر نور اور گفتگو میں بے پناہ شفقت محسوس ہوتی تھی۔
اس ملاقات کے دوران حضرت نے چند ایسی نصیحتیں فرمائیں جو ایک طالبِ علم اور داعیِ دین کے لیے زندگی بھر کا سرمایہ ہیں۔
کتابُ اللہ سے مضبوط تعلق
حضرت نے فرمایا:
“اگر تمہیں دین میں استقامت، دل میں نور اور قول و عمل میں وزن چاہیے تو کتابُ اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کر لو۔ قرآن محض پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا دستور ہے۔ جو شخص قرآن کو سامنے رکھ کر چلتا ہے، اللہ اسے کبھی گمراہ نہیں ہونے دیتا۔”
حضرت نے روزانہ تلاوت، معانی میں غور و فکر اور عملی زندگی میں قرآن کو نافذ کرنے پر خاص زور دیا۔
سنتِ رسول ﷺ کو زندگی کا معیار بنانا
پھر نہایت درد مندی سے فرمایا:
“علم کی اصل برکت سنتِ رسول ﷺ کی پیروی میں ہے۔ جو علم سنت سے خالی ہو، وہ بوجھ تو ہو سکتا ہے مگر رہنمائی نہیں بن سکتا۔”
حضرت کے مطابق طالبِ علم ہو یا عالم، اگر اس کی زندگی میں سنت جھلکتی ہو تو اس کی بات دلوں میں اترتی ہے۔
آدابِ اساتذہ: علم کی کنجی
آخر میں حضرت نے اساتذہ کے ادب پر خصوصی تاکید کرتے ہوئے فرمایا:
“علم کتابوں سے نہیں، سینوں سے منتقل ہوتا ہے، اور یہ تبھی نصیب ہوتا ہے جب شاگرد کے دل میں اپنے اساتذہ کا ادب ہو۔”
یہ ملاقات مختصر تھی مگر اس کی تاثیر آج بھی دل میں زندہ ہے اور حضرت کی یہ نصیحتیں ایک مکمل دینی زندگی کا منشور ہیں۔
تعزیتی بیانات اور عوامی ردِ عمل
علمی، دینی، سماجی اور بعض سیاسی شخصیات نے حضرت مفتی عبدالوہاب قاسمیؒ کی وفات کو ایک عظیم علمی و دینی خسارہ قرار دیا ہے۔ پسماندگان میں ہزاروں شاگرد، لاکھوں عقیدت مند اور بے شمار چاہنے والے شامل ہیں۔
ایک عہد کا خاموش اختتام
بلاشبہ حضرت مفتی عبدالوہاب قاسمیؒ کی رحلت ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ ان کی زندگی سنت سے محبت، اکابر سے وابستگی اور دین پر استقامت کا روشن نمونہ تھی۔ ان کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں محسوس کیا جاتا رہے گا۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی عبدالوہاب قاسمیؒ کی جملہ دینی، علمی اور دعوتی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین
اللہ تعالیٰ پسماندگان، شاگردوں اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین
Like this:
Like Loading...