Skip to content
حفاظ کرام کی خدمت میں درد بھرا پیغام
۔۔۔۔
ازقلم: احمد عبدالحسیب تنویر قاسمی
حیدرآباد
قران کریم اللہ تعالی کی ایسی کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے اپنے ذمے لے رکھی ہے ۔۔۔۔قران مجید سے پہلے اللہ تعالی نے بہت ساری اسمانی اور کتابیں بھی نازل فرمائیں مگر کسی بھی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے اپنے ذمے نہیں لی بلکہ لوگوں کو ذمہ دار بنایا کہ تم کو جو کتاب دی گئی ہے اس کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری تم سب کی ہے ۔۔۔۔ قران مجید کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے اپنے ذمے لیتے ہوئے یوں فرمایا
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(9)
بیشک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور بیشک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔
چونکہ اللہ تعالی نے قران مجید کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے ذمے لے رکھی ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر قیامت تک ایک سلسلہ چلتا رہے گا حفاظ قران کا جو قران کریم کو اپنے سینوں میں محفوظ کریں گے ۔۔۔۔برخلاف پچھلی کتابوں کے حاملین کے چونکہ ان کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے اپنے ذمے نہیں لی بلکہ لوگوں کے ذمے کر دی کتابوں کی حفاظت کی ۔۔۔۔ظاہر ہے جس کام کی ذمہ داری اللہ تعالی لے لیں وہ کام بحسن و خوبی انجام پاتا رہے گا اور جس کام کی ذمہ داری انسانوں پر ڈالی گئی ہو انسان بہرحال پوری کوشش کے باوجود اس چیز کو مکمل طور پر کما حقہ ادا نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔ اسی وجہ سے پچھلی کتابیں جن قوموں کو دی گئی ان قوموں میں اسمانی کتابوں کے حفاظ یا تو بالکل نہیں ملتے تھے یا ملتے بھی ہیں تو ایسے جیسے کھانے میں نمک کے برابر ۔۔۔۔
جس سینے کو اللہ تعالی قران مجید کی حفاظت کے لیے قبول فرما لیں وہ سینہ انتہائی بابرکت کہلاتا ہے ۔۔۔۔ایسی مقدس ہستی کو حافظ قران کہا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
حافظ قران کے ماں باپ کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے یہ اعزاز رکھا گیا کہ قیامت کے دن اللہ تعالی حافظ قران کے ماں باپ کو ایسا تاج پہنائیں گے جس کی روشنی سورج سے بھی زیادہ تیز ہوگی
سنن ابی داؤد میں ہے:
"عن سهل بن معاذ الجهني، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قرأ القرآن وعمل بما فيه ألبس والداه تاجا يوم القيامة ضوءه أحسن من ضوء الشمس في بيوت الدنيا لو كانت فيكم.”
(باب في ثواب قراءة القرآن، ج:١، ص:٥٤٣، ط:المطبعة الأنصارية
جو شخص قرآن پڑھے اور اس پر عمل بھی کرے تو اس کے والدین کو قیامت کے دن تاج پہنایا جائے گا، اس کی روشنی تمہارے دنیاوی گھروں میں ہونے والی سورج کی روشنی سے زیادہ اچھی ہو گی۔
حافظ قران کے ماں باپ کے لیے اتنا بڑا اعزاز ہے تو حافظ قران کے لیے اور کیا بڑا اعزاز ہوگا اپ اندازہ نہیں کر سکتے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپ کے حافظ قران بننے میں لاکھوں روپے خرچ ہوئے کیا اپ کو اندازہ ہے ؟
مدرسے میں پڑھنے والے اکثر طلبہ وہ ہوتے ہیں جو فیس ادا نہیں کرتے مدرسہ کی امداد پر پڑھتے ہیں ایسے طلبہ تقریبا 90 فیصد ہوتے ہیں بلا مبالغہ۔۔ُ۔ ۔اور 10 فیصد طلبہ وہ ہوتے ہیں جن کے ماں باپ یا سرپرست حضرات فیس ادا کرتے ہیں۔ ۔۔۔
اور وہ فیس بھی بالکل برائے نام اور معمولی ہوتی ہے ۔۔۔۔
ایک طالب علم کے اوپر مدرسے میں ماہانہ کتنا خرچ اتا ہے اندازہ نہیں ہے آپ کو ۔۔۔بہت سارے طلباء یا ان کے سرپرست یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے فیس ادا کی ہے ۔۔۔۔مدرسے میں صرف کھانے کی فیس لی جاتی ہے ۔۔۔۔رہائش کے لیے تعلیم کے لیے کتابوں کے لیے نگرانیوں کے لیے اور دیگر اخراجات کے لۓ کو ئ فیس نہیں لی جاتی۔۔۔۔پھر ان اخراجات کی پابجائی کہاں سے کی جاتی؟
جواب یہ ہے کہ عوام سے وصول کیا گیا چندہ کے ذریعہ ایسے اخراجات کی پابجائ کی جاتی ہے۔۔۔۔۔
ایک طالب علم پر اوسطا ماہانہ آٹھ سے دس ہزار کا خرچ آ تا ہے ۔۔۔۔اور ایک طالب علم ناظرہ نورانی قاعدہ اور قران مجید مکمل کرنے میں چار سے پانچ سال لیتا ہے ۔۔۔۔اس اعتبار سے جوڑ لیجئے ایک طالب علم کے حفظ قران پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں ۔۔۔۔جو فیس دینے والے ہیں وہ جو سمجھتے ہیں کہ ہم فیس ادا کر رہے ہیں بڑی غلط فہمی میں ہیں ۔۔۔۔۔
مدرسے کو سال میں جب کبھی ضرورت پڑتی ہے تعاون کرنے والے بہت سارے وہ احباب ہوتے ہیں جن کے دل میں اللہ کی رضا اور اللہ کی خوشنودی پیش نظر ہوتی ہے وہ حضرات اس امید میں خرچ کر رہے ہیں کہ ہمارا پیسہ دینی کاموں میں لگ رہا ہے اس ارادے سے مدرسے کو تعاون کرتے ہیں۔۔۔۔ اور مدرسے کے ذمہ دار حضرات عوام کے تعاون کو حتی المقدور اپنے مصرف پر لگانے کی فکر میں رہتے ہیں اور طلبہ کو اچھی سے اچھی معیاری سہولتیں دے کر پڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔تو جو طلبہ فیس ادا کر کے پڑھ رہے ہیں وہ بھی عوام کے تعاون پر اور جو طلبہ فیس بالکل نہیں دیتے یا جزوی فیس ادا کرتے ہیں وہ بھی عوام کے تعاون اور چندے پر پڑ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
اپ کے اپنے گھر والے ماں باپ بھائی بہن رشتہ دار اعزاء اقرباءاور یہ تعاون کرنے والے حضرات ، مدرسے کا انتظامیہ اور اپ کے استاد محترم ۔۔۔۔سب اس امید میں لگے ہوئے ہیں کہ ہماری محنت سے ہمارا بھائی ہمارا بیٹا اور ہمارا شاگرد پڑھ رہا ہے کل کے دن یہ ہمارے لیے ذخیرہ اخرت ہوگا ۔۔۔۔۔بہت سارے لوگوں نے بڑی بڑی امیدیں اپ سے لگائی ہیں اپ کے حافظ قران بننے کی وجہ سے دینی کام ہوں گے اور اخرت میں اپ بہت سارے لوگوں کے لیے سفارشی بنیں گے ۔۔۔۔۔
اپ کی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بنتی ہے کہ حفظ قران کو محفوظ رکھیں اور اپ پر ادارے والوں نے ،استاد محترم نے اور تعاون کرنے والوں نے جو امیدیں لگائی ہیں ان کی امیدوں کو پوری کرنے کے لیے قران کی خدمت میں مسلسل لگے رہنے کی فکر کرنا چاہیے ۔۔۔۔
اور ماں باپ نے بھائی بہنوں نے کیا کیا قربانیاں دی ہیں اپ کو اس کا اندازہ نہیں ہے ۔۔۔۔
گھر میں کبھی اچھا کھانا بن جاتا تو ماں کے حلق سے نوالہ نیچے نہیں اترتا تھا۔۔۔۔ بھائی بہنوں کو اپ بہت یاد ایا کرتے تھے۔۔۔ باپ بیچارا گھر چلانے کے لیے جو محنت کرنا ہے وہ محنت کرتے ہوئے صحت اور سکون کی پرواہ کیے بغیر سارے گھر کے افراد کو کیسے سکون پہنچائے اس غرض سے دن رات محنت کرتا رہا ۔۔۔۔خود اپ نے بھی کتنی بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں اس کا اپ کو اندازہ نہیں ہے ؟خاندان میں کوئی تقریب ہوتی خوشی کا موقع کوئی غم کا موقع ہوتا جس میں سارے لوگ جمع ہوتے تو اپ کو یاد کیا جاتا رہا۔۔۔۔
بہت بڑی اور بھاری ذمہ داری اللہ تعالی نے اپ پر ڈالی ہے حافظ قران بنا کر یا عالم دین بنا کر ۔۔۔۔۔۔۔مقدر کے بقدر تو ضرور مل کر رہے گا ۔۔۔اللہ تعالی نے ہر شخص کا رزق مقرر کر دیا ہے جو ہر انسان کو بہرحال مل کر رہے گا ۔۔۔۔۔دنیا کمانے کے لیے اتنے مگن اور مصروف نہ ہو جائیے کہ اپ اپنے علم کو ہی بھول جائیں ۔۔۔۔
بہت سارے ایسے دوست احباب کو دیکھا گیا جن کو لوگ حافظ صاحب کے نام سے پکارتے ہیں ان کی پہچان ہی ہے حافظ قران سے ہے ۔۔۔۔۔
بہت سارے حفاظ، قران مجید کا ٹیوشن پڑھا نے کو اپنا ذریعہ معاش بنائے ہیں ۔۔۔
مگر افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ قران مجید پڑھنے کے لیے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے اور کتنے حافظ ایسے ہیں جو قران مجید حفظ تو کر لیے مگر مسلسل نہ پڑھتے رہنے کی وجہ سے اور دور نہ کرنے کی وجہ سے ،رمضان المبارک میں تراویح نہ سنانے کی وجہ سے بھول گئے ۔۔۔۔۔کتنے افسوس کی اور شرمندگی کی بات ہے ۔۔۔۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کے اخری دو سال حضرت جبرئیل امین علیہ الصلاۃ والسلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جبرئیل علیہ السلام کو قران مجید سناتے ۔۔۔۔کوئی تو حکمت ہوگی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلسل سنانے کی اور جبرئیل امین علیہ الصلاۃ والسلام اللہ کے حکم کے بغیر ہرگز تشریف نہیں لاتے تھے مطلب یہ ہے کہ اللہ کا منشاء بھی یہ ہے کہ قران مجید کا دور ہوتا رہے ۔۔۔۔۔مصروف ہوں، وقت نہیں ملتا، مجھ پر ذمہ داریاں ہیں یہ عذر بولنے میں تو اچھے لگتے ہوں گے مگر اللہ کے پاس یہ عذر قابل قبول نہیں۔۔۔۔۔
اور اہم بات یہ ہے کہ قران مجید کو نہ پڑھیں گے تو پھر یقینا قران مجید اپ سے رخصت ہو جائے گا اور اپ صرف نام کے حافظ صاحب رہ جائیں گے سینے میں حفظ قران اپ کا محفوظ نہیں رہا تو کس کام کے حافظ قران ؟
بہت بڑی وعید ہے قران مجید کے حفظ کو بھول جانے والے کے لیے ۔۔۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
عن سعد بن عبادة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ” ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه إلا لقي الله يوم القيامة أجذم ” . رواه أبو داود والدارمي”.
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآنِ کریم پڑھ کر بھول جائے تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔
ایک اور حدیث میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
وعرضت على ذنوب أمتي فلم أر ذنبا أعظم من سورة من القرآن أو آية أوتيها رجل ثم نسيها”.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ۔ اور مجھ پر میری اُمت کے گناہ پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ قرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت کسی آدمی کو (یاد کرنے کی توفیق) دی گئی اور پھر اس نے اسے بھلا دیا۔۔۔۔۔
عَنْ أَبِي مُوسَی رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم، قَالَ: تَعَاهَدُوْا هَذَا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الإِبِلِ فِي عُقُلِهَا. متفق عليه، وهذا لفظ مسلم.
”حضرت ابو موسٰی (اشعری) رضي اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید پڑھتے پڑھاتے، سنتے سناتے رہا کرو۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہء قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! ذہن سے نکل جانے میں یہ اس اونٹ سے بھی زیادہ تیز ہے جو رسی سے بندھا ہوا ہو۔“
حضرات علماء کرام نے تجربہ اور مشاہدے کی بنیاد پر یہ تحریر فرمایا ہے کہ جو حافظ قران رمضان المبارک میں چاہے اس کی عمر کچھ بھی ہو جائے قران مجید کو تراویح میں سنانے کا معمول رکھے امید ہے اللہ تعالی کی ذات عالی سے کہ اللہ تعالی اس کے حفظ قران کو اس کے سینے میں محفوظ رکھے گا ۔۔۔۔اور جو لوگ عمر کی زیادتی یا مصروفیت کا بہانہ یا اور کوئی ذمہ داریوں کے بہانے سے تراویح سنانے سے اپنے اپ کو الگ تھلگ کر لیتے ہیں ان کے حفظ قران کی حفاظت بہت مشکل بلکہ ناممکن جیسی ہے ۔۔۔۔
اس خوش فہمی میں ہرگز نہ رہیے کہ میں تو حافظ قران ہوں اگر اپ حافظ قران ہیں تو تراویح کا معمول بنائیے ۔۔۔تراویح پڑھانے کے لیے مسجد میں نہیں پڑھا سکتے تو اپ اپنے یا کسی اور کے مکان میں پڑھائیے۔۔۔۔ بیوی اور اپنے بچوں کو لے کر پڑھائیے مگر تراویح ضرور پڑھائیے ۔۔۔۔۔صرف امامت ، ٹیوشن پڑھا کر کمائی کے لیے قران مجید نہیں اتارا گیا۔۔۔۔۔ قران مجید کو جب اپ نے حفظ کیا ہے تو پھر اس کو اپنے سینے میں محفوظ رکھیے روزانہ پڑھنے کا معمول بنائیے ۔۔۔۔
حضرات علماء کرام نے ارشاد فرمایا اللہ کا منشاء تو یہ ہے کہ روزانہ مکمل قران مجید ہر انسان پڑھے ظاہر ہے انسان کے لیے روزانہ مکمل قران مجید پڑھنا اسان نہیں ہے ۔۔۔۔۔
تھوڑی سی اسان شکل ۔۔۔۔قران مجید میں سات منزلیں ہیں ۔۔۔۔۔ہفتے کے سات دن ہوتے ہیں ۔۔۔۔فرمایا کہ ہر دن ایک منزل مکمل کرے یہاں تک کہ ادھر ہفتہ مکمل ہو اور ادھر قران مجید مکمل ہو جائے ظاہر ہے یہ بھی انسان کے لیے اسان نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
اسان اور مناسب تدبیر نکالی گئی کہ مہینے میں 30 دن ہوتے ہیں قران مجید میں 30 پارے ہیں ۔۔۔۔ہر دن تاریخ کے اعتبار سے ایک پارہ مکمل کرے یہاں تک کہ ادھر مہینہ مکمل ہو اور ادھر قران مجید مکمل ہو ۔۔۔۔۔سال بھر مسلسل جو شخص پڑھتے رہتا ہے اس کے لیے تراویح سنانا اسان ہے زیادہ مشکل نہیں ہے ۔۔۔۔جو حفاظ کرام سال بھر نہیں پڑھتے ان کے لیے رمضان میں تراویح سنانا یقینا دشوار ہوتا ہے ۔۔۔۔اور جو حفاظ کرام حفظ قران مکمل کرنے کے بعد شروع کے چند سال بالکل تراویح نہیں پڑھاتے یا پھر مصروفیات کی وجہ سے اپنے کاموں میں اتنے مگن اور مصروف ہیں کہ ان کو قران مجید پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملتا سوائے چند سورتوں کے کچھ یاد ہی نہیں رہا تو ایک دن خدا نہ خواستہ ایسا ائے گا کہ وہ صرف نام کے حافظ رہ جائیں گے قران مجید ان کے سینے سے ایسے نکل جائے گا جیسے جانور کو نہ باندھا جائے تو جانور بدک جاتا ہے بھاگ جاتا ہے ۔۔۔۔
حافظ قران کے لیے جتنا بڑا اعزاز ہے حفظ کرنا قران مجید کو بھولنے کا وبال بھی اتنا ہی بڑا سخت ہے ۔۔۔۔
رجب کا مہینہ اگیا تقریبا دو مہینے باقی ہیں رمضان المبارک کے شروع ہونے میں ابھی سے کوشش شروع کر دیجئے ۔۔۔۔۔عہد کر لیجئے چاہے کچھ ہو جائے قران مجید کو روزانہ پڑھنے کا مرنے تک کے لیے معمول بنائے رکھوں گا ۔۔۔۔اور نام کا حافظ نہیں بلکہ حقیقی حافظ قران بنا رہوں گا ۔۔۔۔۔
اگر اپ نے قران مجید کو اپنے سینے میں محفوظ کر لیا اور قران مجید کے تقاضوں کو پورا کرتے رہے تو کل قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالی اپ سے فرمائیں گے
يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَأُ بِهَا "،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) صاحب قرآن سے کہا جائے گا: (قرآن) پڑھتا جا اور (بلندی کی طرف) چڑھتا جا۔ اور ویسے ہی ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا۔ پس تیری منزل وہ ہو گی جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہو گی“۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا اپ اس بڑے اعزاز کو پانے کے لیے فکر مند نہیں ہیں ؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ والسلام
احمد عبدالحسیب تنویر قاسمی ۔۔۔۔۔6/رجب المرجب 1447ھ
م/27/دسمبر 2025
Like this:
Like Loading...