Skip to content
ڈاکٹر نصرت پروین نے تقرر نامہ نتیش کمار کے منہ پر دے مارا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعلیٰ نتیش کمار نےڈاکٹر نصرت پروین کے نقاب کی جانب ہاتھ بڑھا کر جو غلطی کی اس انتقام ان کے ذریعہ دئیے جانے والے تقرر نامہ کو سرکار کے منہ پر مار کر لے لیا گیا ۔ ان کے ملازمت پر حاضر ہونے کی آخری تاریخ 20دسمبر تھی۔اس سے ایک دن قبل کالج کے پرنسپل نے یہ افواہ اڑائی کہ وہ اگلے دن ڈیوٹی پر آنے کے لیے راضی ہوگئی ہیں لیکن وہ نہیں آئیں۔ نتیش کمار جیسے بی جے پی کے ٹکڑوں پر پلنے والے اور پھینکی ہوئی ہڈیوں کو کھا کر اپنے آقاوں کا تلوہ چاٹنے والوں کو یہ حیرت کا جھٹکا تھا ۔ اپنی رسوائی کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے وہ تاریخ 31 ؍ دسمبر تک بڑھائی گئی جو کل ہے مگر تادمِ تحریر ڈاکٹر نصرت سمیت ان کا خاندان اس بدمعاش سرکار کے شکنجے سے باہر ہے۔ دینک بھاسکر کے نمائندے نے یہ انکشاف بھی کیا کہ نتیش کی اچانک بدتمیزی کے لیے وہ تیار نہیں تھی اس لیے فوراً کسی ردعمل کا اظہار نہیں کرسکی مگر نیچے آنے کے بعد وہ دوبارہ اسٹیج پر گئی تھیں تاکہ اس تقررنامہ کو پھاڑ کر نتیش کمار اور ان لوگوں کے منہ پر پھینک سکے جو اس بدتمیزی پر مسکرا رہے تھے لیکن اس سے پہلے وہ نکل چکے تھے ۔ ڈاکٹر نصرت پروین سرکاری پیشکش کو ٹھوکر مارکر جو احتجاج کیا وہ کسی کرارے طمانچے سے کم نہیں ہے۔
معروف ہندی اخبار نتیش کمار اور ہندوتوا نواز کے لیے ڈاکٹر نصرت پروین کا یہ احتجاج سمجھنا مشکل ہے کیونکہ ان کی قدیم روایت میں تو خواتین ہر طرح کا ظلم سہتی رہی ہے اور اسی معیار حق کے طور مہابھارت و رامائن کے ذریعہ معاشرے کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔ نتیش کمار کی بے حرمتی کے بعد اس بدتمیزی کا موازنہ مہابھارت کی دروپدی کے ساتھ کی جانے والی بدسلوکی سے کرکے سوال کیا گیا کہ اگر ان کو موقع میسر آجائے تو کیا یہ لوگ پھر سے اس ظلم کا ارتکاب نہیں کریں گے ؟ یہ سوال یاددلاتا ہے کہ جب دروپدی کو پانڈو برادران جوئے میں ہار گئے تو ان کے عم زاد بھائی کورو نے بھرے دربار میں اپنی بھابی کا وستر ہرن( یعنی برہنہ) کرنے کی کوشش کی تھی ۔ دشاسن کے دربار جس طرح پانڈو مقہور تھے اسی طرح فی الحال ہندوستان میں حزب اختلاف بھی مجبور ہے۔ گرو درونا چاریہ نے اس زیادتی کو روکنے کے بجائے اس کی خاموش حمایت کی تھی ۔ نتیش کمار کی اس نازیبا حرکت پر خاموشی اختیار کرکے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت پورا سنگھ پریوار گرو درونا چاریہ کی پیروی کررہاہے ؟ اس جرم پر ان کی خاموشی اور مرکزی وزیر گری راج کی بدزبانی اشارہ کررہی ہے کہ ملک کو پھر سے مہابھارت کے دور میں ڈھکیلنے کی جاری ہے۔
مذکورہ بالا تناظر میں 2023 کا بہار یاد آتا ہے جب نتیش کمار آر جے ڈی کے ساتھ تھے۔ اس وقت حلیف جماعت کے چندر شیکھر وزیر تعلیم ہوا کرتے تھے ۔ انہوں نے نالندہ اوپن یونیورسٹی کے 15ویں کانووکیشن میں طلبا سے خطاب کرکے ایک ہنگامہ برپا کردیا تھا ۔ چندر شیکھر نے صاف کہا تھا کہ رام چرت مانس اور منو سمرتی نہ صرف سماج کو تقسیم کرکے بعض ذاتوں اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کی تشہیر کرتی ہیں بلکہ نفرت بھی پھیلاتی ہیں ۔ اس حق گوئی کے خلاف ہندوتوا نواز نے آسمان سر پر اٹھالیا تھا ۔ اس بیان کی مذمت کرکے بی جے پی نے چندر شیکھر کو ہندو برادری سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس پر چندر شیکھر کا جواب تھا کہ بھگوا پارٹی کوحقائق کا علم نہ ہونے پر معافی مانگنی چاہیے۔ چندر شیکھر نے مزید کہا تھا کہ منو اسمرتی ، رام چرت مانس اور بھگوا مفکر گرو گولولکر کی بنچ آف تھاٹس جیسی کتابیں دلتوں، او بی سی اور تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کے خلاف ہیں۔ ڈاکٹر نصرت پروین کے ساتھ نتیش کمار کی بدسلوکی پر چندر شیکھر کے جملے کا آخری حصہ صد فیصد صادق آتا ہے ۔اسی لیے ان کے خلاف ہنگامہ کھڑا کرنے والی بی جے پی نے نصرت پروین معاملے میں احتجاج نہیں کیا ۔
رام چرت مانس کے مطابق نچلی ذات کے لوگوں اور خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں تھا بلکہ اس میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعدیہ لوگ اسی طرح زہریلے ہو جاتے ہیں، جیسے کہ دودھ پینے کے بعد سانپ ہوتا ہے ۔ اس کے معمولی سے کوزےمیں معنیٰ و مفہوم کا سمندر بند ہے ۔ اس میں پہلے تو اونچی اور نیچی ذات کی تفریق کے تقدس کو تسلیم کیا گیا ۔ اس کے بعد نچلی ذات کے لوگوں کو زہریلے سانپ سے تشبیہ دی گئی ۔ آگے چل کر اس زہریلے سانپ کو کمزور رکھنے کی خاطر تعلیم سے محروم رکھنے کی تلقین کی گئی یعنی اگر انہیں علم کی دولت سے مالا مال کردیا جائے تو یہ لوگ طاقتور ہوکر اس زہریلے نظام کو ڈس کر تہس نہس کردیں گے جس میں شودر کااشلوک سن لینا اس قدر بڑا جرم تھا کہ اس کی سزا خود اسی کان میں سیسہ پگھلا کرڈالنے کی تھی۔ شودروں کو غلام بناکر اپنی خدمت پر مامور کرنے والی ذہنیت فی الحال سرکاری نظامِ تعلیم کو اندر ہی اندر کھوکھلا کررہی ہے۔ اسکول سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک نج کاری کا بول بالا ہے تاکہ آج کا شودر یعنی غریب خود کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرکے آگے نہ آسکے ۔ معاشرے میں سراٹھا کر نہ چلنے کے بجائےسر جھکا کر دولتمندوں کا غلام بنا رہے ۔ آر جے ڈی کے وزیر تعلیم چندر شیکھر اس سے واقف تھے اس لیے انہوں نے رام چرت مانس کی درج ذیل ذات پات کی حامی وخواتین مخالف چوپائی پر کھل کر تنقید کی ؎
ڈھول، گنوار، شودر، پشو، ناری سکل تاڑنا کے ادھیکاری
تعلیم سے محروم رکھ کر کسی طبقے کو پیچھے رکھنا ایک بلاواسطہ طریقہ ہے لیکن اس سے بات نہ بنے تو پھر تشدد کی ضرورت پیش آتی ہے جس کی مندرجہ بالا چوپائی میں کی تلقین کی گئی ہے۔ یہاں ڈنکے کی چوٹ پر گنوار، شودر ، جانور اور خواتین کو ڈھول کی مانند پیٹنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ عصرِ حاضر کے ہندوتوانواز شرم کے مارے ’تاڑنا‘ کے الگ الگ معنیٰ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں مگر سنسکرت میں اس کا مطلب ’مطلق سزا د یا سزا برائے اصلاح‘ ہی ہوتا ہے۔ بیٹے سے سلوک کی بابت جب معروف شلوک کے اندر کہا گیا ہے کہ پانچ سال تک اس سےمحبت کرو، دس سال تک سزا دو اور سولہ سال کی عمر ہوجانے پر دوستانہ کرلو تو اس کایہی مفہوم لیا گیا ۔ یہاں پر بھی بیٹے کے ساتھ بیٹی کا ذکر نہ ہونا تفریق و امتیاز کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ رام چرت مانس میں اسے سمندر کا بیان کہا گیا لیکن اگر تلسی داس اس خیال کے مخالف ہوتے تو اسے ہذف کرسکتے تھے ۔ ویسے اگر اس کو سمندر کا قول مان کر ہلکا کردیا جائے تب بھی شودر اور عورت کی مخالفت میں خود مریادہ پرشوتم رام کی زبان سے ادا ہونے والے اس اشلوک کا کیا کریں گے؎
ساپت تاڑت پرش کہنتا، بپر پوجیہ اس گاوہی سنتا پوجیہ بپر سیل گن ہینا، سدر نہ گن گیان پروینا
یہاں ’تاڑنا‘لفظ سے ’دیکھتا ہے یا دیکھنے والا ‘ کا مطلب لینا کسی صورت درست نہیں بلکہ یہ صرف اور صرف پیٹنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ لہٰذا ان سطروں کا واضح مطلب یہ ہے کہ شراپ (بددعا) دینے والا، مارنے والا، سخت سست کہنے والا بپریعنی برہمن بھی پرستش کے قابل ہے۔ اس کا مطلب یہ اگر کوئی برہمن خوبیوں سے عاری ہو تب بھی اس کی پوجا کی جانی چاہیے یا اس کی بددعا ، بدسلوکی ، مارپیٹ و بدزبانی کو برداشت کرکے اس کا احترام کرنا چاہیے۔ اس کےبر عکس اگر شودر علم و فضل کی دولت سے مالا مال ہو تب بھی اس کی پوجا نہیں کرنی چاہیے یا یعنی قابلِ تعظیم نہیں ہے۔ یہ اگر نسل پرستی نہیں ہے تو کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جیسی عبقری شخصیت بھی چھوت چھات کا شکار ہوئی ۔ ان سے متعلق یہ مشہور ہے کہ دفتر کا برہمن چپراسی فائل ہاتھ میں دینے کے بجائے میز پر اس لیے رکھ کر چلا جاتا تھا کہ کہیں ہاتھ چھو نہ جائے ۔ یہ اسی عقیدے و تعلیم کا اثر تھا کہ جسے عظیم سنسکار ( تربیت) کے طور گھٹیّ میں ڈال کر پلا دیا جاتا تھا۔
رام چرت مانس کے اندر ان سطروں کے ٹھیک اوپر یہ فرمان بھی موجود ہے کہ (سنوگندھرب کہوں میں توہی، موہے نہ سہائے برہما کل دروہی) یعنی ’سنو گندھرو! میں تم سے کہتا ہوں۔ برہمن قبیلے کے ساتھ غداری کرنے والا مجھے پسند نہیں‘۔یہ گندھرو بھی کبندھ نامی راکشس ہے، جسے ’رام چرت مانس‘ کے مطابق،رام چندر جی بے وجہ مار ڈالتے ہیں۔ مارے جانے کے بعد وہ کہتا ہے کہ وہ گندھروتھا جسے درواسا رشی نے اس لیےشراپ دیا تھا کہ وہ لوگوں کو ڈراتا تھا۔والمیکی رامائن کی ابتدا میں ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ رام چاروں ورن کو اپنے اپنے دھرم یعنی فرض میں مصروف رکھیں گے۔ ایسے میں گرو گولوالکر کے نقشِ قدم پر چلنے والی آر ایس ایس جب رام راجیہ قائم کرنے کی بات کرے گی تو شودروں اور خواتین کے ساتھ وہی مظالم ہوں گے جو ملک کے مختلف حصوں میں ہورہے ہیں۔ بہارکے وزیر تعلیم نے جب یہ مسئلہ اٹھایا تو اس بیان کے بارے میں نتیش کمار نے یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیا تھا کہ’مجھے اس کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔‘ نتیش کو اب بھی نہیں پتہ تھا کہ ڈاکٹر نصرت اپنے جرأتمندانہ احتجاج سے ان کو اور ہنسنے والے ساتھیوں کو خون کے آنسو رلادیں گی کیونکہ وہ سیتا یا دروپدی کی پیروکار ابلہ ناری نہیں ہیں جو ہر ظلم کو برداشت کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتی ہے۔
Like this:
Like Loading...