Skip to content
بنگلہ دیش انتخابات: امیدیں اور خدشات
ازقلم:عبدالعزیز
بنگلہ دیش میں 12فروری 2026ء کو عام انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے۔ سابق وزیر اعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ واجد کے سیاہ دور کے خاتمہ کے بعد یہ ملک میں تیرہویں بار پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق ملک میں 12 کروڑ 70لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں چالیس لاکھ نئے ووٹرز شامل ہیں۔ 17کروڑ آبادی والے ملک میں 300نشستوں پر اپنے نمائندے منتخب کریں گے، جبکہ 50نشستیں خواتین کے لئے مخصوص ہیں۔ جو پارٹی پوزیشن کے مطابق تقسیم کی جائیں گی۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور عوامی لیگ کے کارکنوںنے اپنے پندرہ سالہ دور میں مخالفین کے لئے زمین تنگ کر دی تھی۔ انھوں نے اپنے دورِ سیاہ میں متعدد مخالف رہنماؤں کو قتل، قید و بند اور اذیتوں کا نشانہ بنایا۔ اس غیر جمہوری دور میں سب سے زیادہ نشانہ جماعت اسلامی کے کارکن اور رہنما بنے۔ پاکستان سے محبت اور بنگلہ دیش سے غداری کے الزامات لگا کر جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کو جھوٹے مقدمات اور غیر قانونی ٹریبونل کے ذریعے عمر قید اور پھانسی کی سزائیں دی گئیں۔ جن میں سابق پارلیمانی اراکین اور وزراء بھی شامل تھے۔ عوامی احتجاج اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے شدید رد عمل کے باوجود شیخ حسینہ واجد نے کسی کی نہ سنی۔
جب ظلم اور کالے قوانین حد سے بڑھ گئے تو یونیورسٹیوں سے نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔ اگرچہ اس تحریک کی کسی سیاسی جماعت کی منظم قیادت نہیں تھی اور یہ مکمل طور پر نوجوانوں کے ہاتھ میں تھی، تاہم جماعت ِ اسلامی کے طلبہ ونگ ’’اسلامی چھاترو شبر‘‘ کی منظم اور تربیت یافتہ ٹیم اس میں نمایاں تھی۔ بالآخر نوجوانوں کی تحریک کامیاب ہوئی اور 400 سے زائد شہادتوں کے بعد شیخ حسینہ واجد ملک چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئیں۔ چونکہ اس تحریک کے پیچھے کوئی سیاسی جماعت نہیں تھی، اس لیے حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد نوبیل امن انعام یافتہ بینکر محمد یونس کو عبوری حکومت کا چیف ایڈوائزر مقرر کیا گیا۔ وہ ایک سیکولر سوچ رکھنے والے، مگر فرض شناس اور غیر جانبدار فرد ہیں، اسی لیے تحریک چلانے والے نوجوانوں، سیاسی جماعتوں اور عالمی اداروں سمیت سب کے لیے قابل ِ قبول بنے۔ محمد یونس کا کہنا ہے کہ وہ عام انتخابات کروا کر اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ اس وقت بنگلا دیش کی اہم سیاسی جماعتوں کی پوزیشن کچھ اس طرح ہے:
بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP): اس میں کوئی شک نہیں کہ بی این پی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی ماضی میں اس کی اتحادی بھی رہی ہے۔ پارٹی کی قائد سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیاء شدید بیماری کے بعد 80 سال کی عمر میں گزشتہ روز (29دسمبر) انتقال کرگئیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کی بیماری کی وجہ سے بی این پی مشکلات کا شکار رہی۔ ان کے انتقال کے بعد ممکن ہے کہ اب ہمدردی کے کچھ ووٹ بھی مل سکتے ہیں۔ ان کے بیٹے طارق رحمن تین چار روز پہلے اپنی 17 سالہ جلا وطنی کے بعد انتخابی مہم چلانے کے لئے واپسی کی۔ان کی ماں جب وینٹی لیٹر پر تھیں تو اسی وقت واپسی کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنی ماں کا آخری دیدار کرسکیں اور انتخابی مہم میں بھی حصہ لے سکیں۔ ووٹر لسٹ میں طارق رحمن کا نام شامل کئے جانے پر عوامی لیگ کے لیڈروں کی طرف سے اعتراضات جتائے گئے ہیں۔
عوامی لیگ (AL): شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد نے اپنے پندرہ سالہ دور سیاہ میں مخالفین پر سنگین مظالم ڈھائے۔ اس کے علاوہ ملکی دولت کی لوٹ مار اور مخالفین کا خون بہانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جب نوجوانوں کی تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت ختم ہوئی تو وہ ملک چھوڑ کر ہندستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئیں۔ ان کے خلاف 21 سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے جبکہ ان کی جماعت پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ان کے دور حکومت کے مظالم کی کہانیاں اور سیاسی کارکنوں کی اجتماعی قبروں کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ عامی لیگ کی سیاست عملاً ختم ہوچکی ہے۔ کئی رہنما روپوش ہیں۔ کچھ بی این پی میں بھی شامل ہوچکے ہیں۔ یوں یہ جماعت اس وقت بے یار و مددگار نظر آتی ہے۔
بنگلہ دیش جماعت اسلامی: حسینہ واجد کے دور میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اس کے طلبہ ونگ کو بدترین ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا مگر جماعت اسلامی نے تصادم کے بجائے صبر و استقامت، تربیت اور تنظیم سازی کے ذریعے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ حسینہ واجد نے جھوٹے اور گھٹیا الزامات لگاکر جماعت پر جو پابندی عائد کی تھی عبوری حکومت کے آتے ہی یہ پابندی ختم کردی گئی۔ شدید مظالم اور انتقامی کارروائی کے باوجود قربانیاں دینے والی جماعت کو عوامی ہمدردیاں بڑے پیمانے پر حاصل ہیں۔ ڈھاکہ سمیت پورے ملک میں جماعت اسلامی کے بڑے جلسے ہورہے ہیں۔ طلبہ ونگ شیویر نے ڈھاکہ یونیورسٹی سمیت بڑی جامعات میں طلبہ یونین کے انتخاب میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جماعت روایتی سیاست سے ہٹ کر جدید تقاضوں کے مطابق انتخابی مہم چلا رہی ہے۔ مرکزی امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن عمر رسیدہ ہونے کے باوجود نہایت متحرک و فعال، برد باری اور حکمت عملی کے ساتھ انتخابی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’اگر جماعت اسلامی بھاری اکثریت بھی کامیاب ہوجائے تب بھی ہم سب جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور مخلوط حکومت بنائیں گے۔ بنگلہ دیش کی تعمیر و ترقی کے لئے ہم سب سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہیں‘‘۔
تجزیہ نگار جماعت کی پالیسیوں، انتخابی حکمت عملی کو نیک شگون اور کامیابی کی جانب پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ معلوم یہ ہوا ہے کہ بنگلہ دیش کی نوجوان نسل کو شامل کرنے کے لئے ڈیموکریٹک سوشلسٹ پالیسی اپنانے کی بات بھی جماعت نے کی ہے اور اپنے انتخابی نشان میں بھی تبدیلی کی ہے۔ دو تین روز پہلے وہاں کی وہ طلبہ تنظیم جس نے سابق وزیر اعظم بنگلہ دیش حسینہ واجد کو ہٹانے میں اہم رول ادا کیا تھا اس کی نوزائیدہ پارٹی ’این سی پی‘ نے جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل ہوگئی ہے۔
شریف عثمان ہادی کی شہادت: جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، کچھ ناخوشگوار واقعات بھی رونما ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ حال ہی میں طلبہ تحریک کے مرکزی رہنما اور ڈھاکا حلقہ 08 کے امیدوار شریف عثمان ہادی کو انتخابی مہم کے دوران نامعلوم افراد نے گولیوں کا نشانہ بنایا۔ وہ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے، اور الزام شیخ حسینہ واجد کے حامیوں پر لگایا گیا، کیونکہ خونریزی کے ذریعے انتخابات ملتوی کرانے کی سازش کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا تھا۔ 20 دسمبر کو یہ دل خراش خبر آگئی کہ سنگاپور میں زیر ِ علاج طلبہ تحریک کے زخمی رہنما شریف عثمان ہادی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی نمازِ جنازہ ڈھاکا یونیورسٹی میں ادا کی گئی جس میں چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس، جماعت ِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن اور بڑی تعداد میں سیاسی سماجی رہنماؤں، عام افراد اور طلبہ نے شرکت کی۔ ان کی وفات کے بعد ڈھاکا سمیت پورے ملک میں شدید احتجاج شروع ہو گیا ہے۔
بنگلہ دیش میں بھڑکتے شعلے، طلبہ تحریک کے احتجاجی مظاہرے کی وجہ سے حالات میں روز بروز تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں نے انتخابات کے ملتوی ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔ تاہم حکومت وقت پر انتخابات کرانے پر پُرعزم دکھائی دیتی ہے۔ اس تناظر میں جماعت اسلامی نے نوجوانوں کو ٹکٹ دے کر میدان میں اتارا ہے۔ اگر چہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے کردار، بیرونی سازشوں اور کنٹرولڈ جمہوریتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ جماعت اسلامی کی بڑی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔ سوائے اس کے کوئی معجزہ ہوجائے۔ تاہم سب کچھ صبر آزما ماحول اور محدود وسائل کے باوجود سب سے منظم اور بھرپور انتخابی مہم جماعت اسلامی ہی چلا رہی ہے۔ اصل فیصلہ تو 12 فروری کے انتخابی نتائج کے بعد ہی سامنے آئے گا کہ میدان کون مارتا ہے۔
ابھی تک اچھی بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی فوج سیاسی میدان سے باہر ہے لیکن اگر انتخابی معاملات میں فوج بظاہرہ یا درپردہ کسی بڑی طاقت کے اشارے پر مداخلت کرے گی تو بنگلہ دیش میں آزادانہ انتخاب ہونے کا امکان کم سے کم ہوجائے گا۔ دنیا کی بڑی طاقتیں جو چاہتی ہیں کہ دیگر ملکوں میں بالواسطہ ان کی حکمرانی ہو وہ بھی انتخابی مہم کو ہر طرح سے متاثر کرنا چاہتی ہیں۔ ان سب کے باوجود بنگلہ دیش کے نوجوانوں میں تحریکیت، انقلابی جذبہ اور جذبۂ شہادت آجانے کی وجہ سے غیر ملکی طاقتوں کا اثر کم سے کم ہوسکتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر جمہوری ملک اپنے اور دیگر ممالک میں آزاد انتخابات کرانے پر زور دے اور جمہوری اور فلاحی ریاست ملک میں قائم ہو تاکہ عام آدمی کو ملک کے ذرائع و وسائل سے یکساں فائدہ حاصل ہو۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...