Skip to content
جدید جاہلیت کا فکری محاسبہ
ازقلم:پروفیسر محمد ادریس لاشاری
ترتیب: عبدالعزیز
انسانی فکر کی تاریخ میں وجود باری تعالیٰ کا مسئلہ ہمیشہ سے ایک مرکزی اور بنیادی نقطہ رہا ہے۔ یہ محض ایک نظریاتی بحث نہیں بلکہ اس کا گہرا تعلق کائنات کی اصل، انسانی شعور کی حقیقت اور اخلاقیات کے منبع سے ہے۔ حال ہی میں معروف شاعر و ادیب جاوید اختر اور نوجوان عالم ِ دین مفتی شمائل ندوی کے درمیان ہونے والا مکالمہ محض دو افراد کی ذہنی ورزش نہیں تھی، بلکہ یہ جدید جاہلیت اور اسلامی فکری نظام کے درمیان ایک فیصلہ کن تصادم تھا۔ اس مکالمے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ الحاد اور دہریت کی بنیادیں کتنی بودی ہیں اور اسلام کا مقدمہ کتنا مضبوط اور عقلی ہے، بشرطیکہ اسے صحیح فکری سانچے میں پیش کیا جائے۔
جاوید اختر صاحب کی گفتگو کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسی ’’جدید مادی ذہن‘‘ کی نمائندگی کر رہے تھے جو مادی حواس کے پنجرے میں قید ہو چکا ہے۔ ان کا سارا استدلال جذباتیت اور Argument from Ignorance پر مبنی تھا۔ انہوں نے Faith کو ایسی شے قرار دے کر رد کرنے کی کوشش کی جس کے پیچھے کوئی منطق یا ثبوت نہیں ہوتا، لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ عقل ِ سلیم خود اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اس عظیم الشان کائنات کا کوئی نہ کوئی صانع اور مدبر ضرور ہونا چاہیے۔ دوسری جانب مفتی شمائل ندوی نے جس طرح Argument from Contingency کو بنیاد بنایا، وہ Kalam کی ایک ایسی ٹھوس حقیقت ہے جسے دنیا کا کوئی فلسفہ رد نہیں کر سکتا۔
مفتی شمائل نے نہایت خوبی سے واضح کیا کہ کائنات کی ہر شے Contingent (ممکن الوجود) ہے۔ Contingent وہ ہے جو اپنے وجود کے لیے کسی دوسری علت (Cause) کا محتاج ہو۔ اگر ہم ان مادی اسباب کے سلسلے کو پیچھے لے جائیں تو یہ لامتناہی نہیں ہو سکتا، کیونکہ Infinite Regress منطقی طور پر محال ہے۔ اگر یہ سلسلہ پیچھے کی طرف کبھی ختم نہ ہوتا تو ہم ’’حال‘‘ کے اس لمحے تک کبھی نہ پہنچ پاتے، کیونکہ لامتناہی وقت کا گزرنا ناممکن ہے۔ ریاضی دانوں کے نزدیک بھی Actual Infinite حقیقت میں کہیں موجود نہیں ہوتا بلکہ یہ محض ذہن کا ایک تصور ہے۔ لہٰذا عقل مجبور ہے کہ ایک ایسی ہستی کو تسلیم کرے جو خود کسی کی محتاج نہ ہو، بلکہ Necessary Existent (واجب الوجود) ہو۔ یہ وہ ہستی ہے جس کا موجود ہونا اس کی اپنی ذات کا تقاضا ہے اور اسے ہی ہم اللہ کہتے ہیں۔
جاوید اختر صاحب نے اس کے جواب میں Pink Ball کی تمثیل پر جو اعتراضات کیے، وہ محض سطحی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جزیری کی تخلیق پر سوال کیوں نہیں اٹھاتے؟ درحقیقت مفتی صاحب کا نکتہ یہی تھا کہ اگر ایک چھوٹی سی گیند کے لیے ایک صانع کا ہونا ضروری ہے، تو یہ کائنات جو کہکشاؤں اور ستاروں کا ایک لامتناہی نظام ہے، کسی Intelligent Designer کے بغیر کیسے وجود میں آ سکتی ہے؟ جدید فزکس کے Fine-Tuning کے دلائل بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر کائنات کے طبعی مستقلات (Constants) میں ایک ذرہ برابر بھی فرق ہوتا تو نہ ستارے بنتے اور نہ زندگی ممکن ہوتی۔ مثال کے طور پر Big Bang کے وقت کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار میں ایک معمولی سے فرق کا مطلب زندگی کا قطعی خاتمہ ہوتا۔ جاوید اختر صاحب کا یہ سوال کہ ’’خدا نے کائنات بنانے سے پہلے کیا کیا؟‘‘، دراصل اسی قدیم فلسفیانہ مغالطے کی بازگشت ہے جس کا رد امام غزالیؒ نے صدیوں پہلے کر دیا تھا۔ امام صاحب نے فلاسفہ کے اس دعوے کو پاش پاش کیا کہ کائنات قدیم ہے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ Time (وقت) بذاتِ خود ایک تخلیق ہے جو کائنات کی حرکت کے ساتھ شروع ہوا، اس لیے تخلیق سے ’’پہلے‘‘ کا سوال ہی منطقی طور پر باطل ہے، کیونکہ ’’پہلے‘‘ کا لفظ خود وقت کی موجودگی کا تقاضا کرتا ہے جو اس وقت پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔
خدا کا Eternal Will مادہ اور زمان کی حدود سے آزاد ہے۔ وہ قادرِ مطلق ہستی ہے جو اپنے ارادے سے عدم کو وجود میں بدلنے پر قدرت رکھتی ہے۔ الحادی ذہن کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں کہ یہ کائنات عدم سے وجود میں کیسے آئی، سوائے اس کے کہ وہ ’’اتفاق‘‘ کے پردے میں اپنی علمی بے بسی کو چھپانے کی کوشش کرے۔
اس مناظرے میں جاوید اختر صاحب نے Problem of Evil کو بطورِ خاص جذباتی رنگ میں پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خدا رحیم ہے تو دنیا میں تکلیفیں اور ناانصافیاں کیوں ہیں؟ یہ الحاد کا وہ پرانا ہتھیار ہے جو انسانی عقل کی محدودیت کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ مفتی شمائل نے اس کا نہایت حکیمانہ جواب دیا کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ انسان کوFree Will (ارادہِ آزاد) دیا گیا ہے تاکہ وہ خیر اور شر میں سے ایک کا انتخاب کرے۔ اگر دنیا میں شر کا وجود نہ ہوتا تو انسانی کردار کی آزمائش ممکن ہی نہ ہوتی۔ مزید برآں، جاوید اختر کا یہ اعتراف کہ ’’نیچر میں کوئی انصاف نہیں ہے‘‘، ان کے اپنے ہی ورلڈ ویو کی نفی کر دیتا ہے۔ اگر کائنات محض مادہ ہے اور خدا موجود نہیں، تو پھر Objective Morality (معروضی اخلاقیات) کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی۔ ایک ملحد کے نزدیک ’’شر‘‘ محض ایک ناپسندیدہ مادی واقعہ ہے، لیکن اسلام یہ یقین دلاتا ہے کہ ایک ایسی عادل اور حکیم ہستی موجود ہے جو آخرت میں ہر مظلوم کی داد رسی کرے گی۔ اس عقیدے کے بغیر انسانی زندگی کا پورا اخلاقی ڈھانچہ ہی زمین بوس ہو جاتا ہے، کیونکہ خدا کے بغیر خیر و شر صرف ارتقائی پسند اور ناپسند بن کر رہ جاتے ہیں۔
جدید ملحدین سائنس کو خدا کے خلاف ایک متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن یہ دراصل Scientism (سائنس پرستی) کا مغالطہ ہے۔ سائنس کا دائرہِ کار مادی دنیا اور اس کے طریقہ کار تک محدود ہے، جبکہ خدا ایک Supernatural Reality ہے جس کا تعلق اس سوال سے ہے کہ ’’کائنات کیوں ہے؟‘‘ خود سائنس کے بڑے ادارے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سائنس خدا کے وجود کو نہ تو ثابت کر سکتی ہے اور نہ ہی رد کر سکتی ہے۔ حتیٰ کہ جدید Quantum Physics کے مشاہدات اس نظریے کی تائید کرتے نظر آتے ہیں کہ مادی اشیاء اپنی بقا کے لیے کسی Observer (مشاہدہ کار) اور محرک کی محتاج ہیں۔ یہ حقیقت کہ انسانی دل میں ہزاروں Neurons دریافت ہوئے ہیں جو فہم و ادراک میں حصہ لیتے ہیں، قرآن کے ان بیانات کی سائنسی تصدیق ہے جن پر ملحدین پہلے مذاق اڑایا کرتے تھے۔
ایک اہم نکتہ جو اس بحث میں زیر ِ غور رہا، وہ علم کے ذرائع کا تھا۔ ملحد کا اصرار ہوتا ہے کہ صرف وہی چیز سچ ہے جسے حواس سے محسوس کیا جا سکے۔ لیکن علم کا ایک بڑا حصہ Testimony (خبر ِ صادق) پر مبنی ہوتا ہے۔ ہم نے کئی ممالک کو نہیں دیکھا، لیکن ہم ان کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اس کی خبر ہمیں معتبر ذرائع سے ملی ہے۔ اسی طرح، انبیاء کی خبر اور عقل کے Self-evident Truths ہمیں اس حقیقت تک پہنچاتے ہیں کہ کائنات کا ایک صانع موجود ہے، خواہ ہم اسے براہِ راست ان مادی آنکھوں سے نہ دیکھ سکیں۔
اس مکالمے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اقامت ِ دین کی جدوجہد میں علمی اور عقلی بصیرت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم آج ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں Secular Liberalism نے انسان کو اس کی فطرت سے دور کر دیا ہے۔ الحادی فکر کا مقابلہ محض جذباتی تقاریر سے نہیں بلکہ ان منطقی بنیادوں کو ہلا دینے سے ممکن ہے جن پر وہ کھڑی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو امام غزالی، ابن ِ سینا اور شاہ ولی اللہ اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے افکار سے روشناس کرائیں تاکہ وہ جاہلیت ِ جدیدہ کے فکری حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔ ایک داعی ِ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید علمی اصطلاحات اور فلسفیانہ مقدمات سے واقف ہو۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ Argument from Ignorance کیسے کام کرتا ہے، Fine-Tuning کے سائنسی شواہد کیا ہیں اورProblem of Evil کا منطقی حل کیا ہے۔ ہمیں اپنی علمی پوزیشن کو دفاعی کے بجائے جارحانہ بنانا ہوگا اور ملحد سے اس کے انکار کی دلیل مانگنی ہوگی، کیونکہBurden of Proof صرف ماننے والے پر نہیں بلکہ انکار کرنے والے پر بھی عائد ہوتا ہے۔
اسلام صرف ایک ’’مذہب‘‘ نہیں بلکہ ایک مکمل نظام حیات ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔ یہ انسان کو مادی غلامی سے نکال کر صرف ایک اللہ کی بندگی میں لاتا ہے، جس میں حقیقی آزادی اور سکون پوشیدہ ہے۔ اقامت ِ دین کا تقاضا ہے کہ ہم مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی روحانی اور فکری جڑوں کو بھی مضبوط کریں اور دنیا کے سامنے اسلام کو ایک برتر اور معقول متبادل کے طور پر پیش کریں۔
یہ پوری بحث ایک ایسی عظیم الشان عمارت کی مانند ہے جس کی نفاست، ترتیب اور مضبوطی کو دیکھ کر ایک گروہ (ملحدین) یہ کہتا ہے کہ اینٹیں، سیمنٹ اور سریا خود بخود ایک خاص شکل میں ڈھل گئے ہیں، اس کا کوئی انجینئر نہیں ہے۔ جبکہ دوسرا گروہ (اہل ِ ایمان) یہ جانتا ہے کہ عمارت کا ہر ستون اور ہر ڈیزائن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس کے پیچھے ایک ایسا Necessary Existent مصنف اور معمار موجود ہے جس کے نقشے کے بغیر یہ شاہکار کبھی وجود میں نہیں آ سکتا تھا اور جس نے اس عمارت میں رہنے والوں کے لیے ایک بہترین ضابطہ ِ اخلاق بھی وضع کیا ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...