Skip to content
سال 2026ء: ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟
’گردوںنے گھڑی عمرکی ایک اورگھٹا دی‘
ازقلم: عبدالعزیز
مسلمان جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو اس کے پیش نظر یہ ہوتا ہے کہ یہ کام قرآن و حدیث کے مطابق ہے یا نہیں؟ جب اس کے مطابق ہوتا ہے تو اس کام کو سر انجام دیتا ہے اور اس کے مطابق نہیں ہوتا تو اس سے دور رہتا ہے۔ نئے سال منانے کے لئے کوئی عمل قرآن و حدیث میں نہیں ملتا؛البتہ بعض کتب حدیث میں یہ روایت موجود ہے کہ جب کوئی نیا مہینہ یا جب نئے سال کا پہلا مہینہ شروع ہوتا تو اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے اور بتاتے تھے۔ ترجمہ: ’’اے اللہ اس نئے سال کو ہمارے اوپر امن وایمان، سلامتی و اسلام او راپنی رضامندی؛ نیز شیطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما‘‘۔ (المعجم الاوسط للطبرانی 6/221 حدیث: 624۱ دارالحرمین قاہرہ)
جہاں تک عیسائیوں کی بات ہے تو وہ نیا شمسی سال دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ عیسائیوں کاعقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام 25دسمبر کو پیدا ہوئے تھے۔ ممکن ہے کچھ لوگ عقیدتاً نئے سال کا جشن مناتے ہوں گے لیکن زیادہ تر لوگ میرے خیال سے جو مناتے ہیں ان کے اندر شاید یہ جذبہ موجزن ہو کہ… ع ’تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئے‘۔ یہ مختلف طر ح کے جشن یہود و نصاریٰ اور دوسری قوموں میں منائے جاتے ہیں؛ جیسے: ’مدرز ڈے، فادرز ڈے، ویلنٹائن ڈے، چلڈرنز ڈے اور ٹیچرس ڈے وغیرہ؛ اس لیے کہ ان کے یہاں رشتوں میں دکھاوا ہوتا ہے۔ ماں باپ کو الگ رکھا جاتا ہے، اولاد کو بالغ ہوتے ہی گھر سے نکال دیا جاتاہے اور کوئی خاندانی نظام نہیں ہوتا؛ اس لیے انہوں نے ان سب کے لیے الگ الگ دن متعین کر رکھے ہیں جن میں ان تمام رشتوں کا دکھلاوا ہوسکے؛ مگر ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے اسلام نے سب کے حقوق مقرر کردیے ہیں اور پورا ایک خاندانی نظام موجود ہے؛ اس لیے نہ ہمیں ان دکھلاووں کی ضرورت ہے اور نہ مختلف طرح طے ڈے منانے کی؛ بل کہ مسلمانوں کو اس سے بچنے کی سخت ضرورت ہے؛تاکہ دوسری قوموں کی مشابہت سے بچا جاسکے؛ اس لیے کہ ہمارے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو غیروں کی اتباع اور مشابہت اختیار کرنے سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، ترجمہ: ’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انھیں میں سے ہے‘‘۔(ابودؤد 203/2رحمانیہ)
جہاں تک مسلمانوں کا مسئلہ ہے وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ایک لمحہ ، ایک ایک دن وہ اپنی قبر سے قریب ہورہے ہیں اور ان کی عمر کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک دن کم ہورہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وقت کی رفتار ہر چیز سے تیز ہے اور وقت برف کی طرح پگھلتا ہوا نظر آتا ہے۔ امام رازیؒ نے کسی بزرگ کا قول نقل کیا ہے کہ ’’میں نے سورہ عصر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جارہاہے، رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جارہاہے۔ اس کی یہ بات سن کر میں نے کہا یہ ہے ’والعصر ان الانسان لفی خسر‘کا مطلب‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’میں کسی چیز پر اتنا نادم اور شرمندہ نہیں ہوا جتنا کہ ایسے دن کے گزرنے پر جس کا سورج غروب ہوگیا جس میں میرا ایک دن کم ہوگیا اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہوسکا‘‘۔ (قیمۃ الزمن عند العلماء، ص: 27)
حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ’’ اے ابن آدم! تو ایام ہی کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزرگیا تو یوں سمجھ تیرا ایک حصہ بھی گزرگیا‘‘۔(حوالہ بالا)
یہ عمر اور زندگی جو ہم کو عطا ہوئی ہے وہ صرف آخرت کی ابدی زندگی کی تیاری کی خاطر عطا ہوئی ہے کہ ہم اس کے ذریعے آنے والی زندگی کو بہتر بناسکیں اور اپنے اعمال کو اچھا بناسکیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’یہ ایام تمہاری عمروں کے صحیفے ہیں، اچھے اعمال سے ان کو دوام بخشو‘‘۔
اردوکے بہت سے شعراء نے نئے سال کی آمد پر بہت سی نظمیں اور اشعار کہے ہیں۔ ایک شاعر کہتا ہے کہ ؎ غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی- گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی۔ فیضؔ لدھیانوی کی ایک نظم نئے سال پر بہت مشہور ہے۔
اے نئے سال بتا، تجھ میں نیا پن کیا ہے؟
ہر طرف خَلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے
روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی
آج ہم کو نظر آتی ہے ہر ایک بات وہی
آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زمیں
ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں
اگلے برسوں کی طرح ہونگے قرینے تیرے
کسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے
جنوری، فروری اور مارچ میں پڑے گی سردی
اور اپریل، مئی اور جون میں ہو گی گرمی
تیرا مَن دہر میں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا
اپنی میعاد بَسر کر کے چلا جائے گا
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی، شام نئی
ورنہ اِن آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی
بے سبب لوگ دیتے ہیں کیوں مبارک بادیں
غالباً بھول گئے وقت کی کڑوی یادیں
تیری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی
فیض نے لکھی ہے یہ نظم نرالے ڈھب کی
میرے خیال سے نئے پرانے سال کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ہر لمحے ہر گھڑی ہر دن کی اہمیت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہدایت ہے کہ ’’پہلے دن سے دوسرا دن بہتر ہونا چاہئے‘‘۔ بہتر اسی وقت ہوسکتا ہے جب آدمی ہر دن کا احتساب کرے۔ اس نے کیا کیا ہے، کیا کرنا چاہئے تھا، کیا نہیں کیا ہے، اور جو کچھ اس سے غلطی یا گناہ سرز ہوگیا ہے اس پر وہ تائب ہو، اللہ سے رجوع کرے، اللہ سے معافی مانگے اور اپنے کئے پر شرمندہ ہو اور آئندہ کے لئے فیصلہ کرلے کہ کبھی بھی ایسی غلطی، ایسا گناہ اس سے سرزد نہ ہو۔ جب ہی پہلے دن سے دوسرا دن بہتر ہوسکتا ہے۔ لیکن جو اپنا احتساب روز مرہ کی زندگی میں نہیں کرتے، خاص طور پر سوتے وقت نہیں کرتے تو ان کے لئے ہر دن یکساں ہوتا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ’’اپنا احتساب کرو اس سے پہلے کہ تمہارا احتساب کیا جائے‘‘۔
سال 2025ء گزرنے کو ہے، جن کو نئے سال کی آمد کا جشن منانا ہے وہ منائیں گے لیکن ہر مسلمان کو چاہئے کہ سالِ گزشتہ کا وہ جائزہ لیں کہ اس نے کیا منصوبہ بنایا تھا، کیا خاکہ مرتب کیا تھا، اس خاکے میں کیا رنگ بھرنا تھا اس نے کیا رنگ بھرا ہے؟اگر اس کا منصوبہ جو جائز اور کارآمد تھااگر وہ کسی وجہ سے نہیں ہوسکا پورا نہیں ہوا ادھورا رہ گیا تو اسے پورا کرنا چاہئے اور آئندہ دنوں کے لئے اسے منصوبہ بنانا چاہئے، کارآمد اور اچھا منصوبہ بنانا چاہئے، اپنے لئے ، اپنے خاندان کے لئے ، اپنے پڑوسیوں کے لئے اورملک وملت کے لئے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کا منصوبہ صرف اس کی ذات تک محدود ہو ۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے صحیح لکھا ہے کہ ’’وہ انسانوں کے لئے لاش ہے جو صرف اپنے لئے جیتا اور مرتا ہے‘‘۔
ہمارے ملک کا عزم و ارادہ: ہمارے ملک کے لیڈران میں سے خاص طور پر جو حکمراں طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ان میں سے اکثر اپنے ملک کو ’وِشو گرو‘ (رہنمائے عالم) اور نریندر مودی کو ’وشو گرو‘ دینے کا خطاب دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کا وہی ملک رہنمائے عالم یا وشو گرو ہوسکتا ہے جو اخلاقی، تعلیمی اور معاشی لحاظ سے برتر ہوگا۔ جس ملک میں افلاس اور غربت، جہالت اور بیماری کا دار دورہ ہو اور ملک کے رہنما بھی IMF اور ورلڈ بینک کے سامنے یا بڑی طاقتوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوں اس ملک کا وشو گرو بننا دیوانے کا خواب ہوسکتا ہے اور خواب کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ جہاں تک نریندر مودی کے ’وشو گرو‘ ہونے کا سوال ہے تو ان میں کوئی ایسی صلاحیت یا قابلیت نہیں ہے کہ وہ یا ان کے لوگ عالمی رہنما بننے کا خواب دیکھ سکیں۔ ایک ’گلوبل لیڈر شپ‘ یا ’تھاؤٹ لیڈر شپ‘ (Thougt Leadership)کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے لوگوں کا، ہر طبقہ، ہر شعبۂ حیات کے لوگوں کا خیال رکھے۔ کسی کے خلاف نہ ہو، کسی سے دشمنی مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر نہ کرتا ہو۔ اپنے ملک کے مسائل حل کرنے کی اس کے اندر صلاحیت ہو اور دنیا کے مسائل بھی حل کرنے کی قابلیت سے محروم نہ ہو۔ ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی، تنازعات اور صاف پانی کی فراہمی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کوشاں ہو۔
نریندر مودی جو غیر جمہوریت پسند انسان ہیں اور جو بھی ان کے وعدے ہوتے ہیں وہ ’جملہ‘ کہلاتے ہیں یعنی لوگوں کو دل جیتنے کے لئے نہیں بلکہ انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں۔ اب تک جتنے بھی وعدے کئے ہیں وہ سب کے سب جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وعدہ شکن انسان انسانیت سے دور ہوتا ہے۔ جو انسانیت سے دور ہوتا ہے وہ عالم انسانیت کا رہنما یا گرو کیسے ہوسکتا ہے؟ جو اپنے ملک میں امن و امان پیدا نہیں کرسکتا ہے وہ دنیا میں کیسے امن و امان پیدا کرسکتا ہے؟ملک میں مختلف رنگ و نسل کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ مختلف مذاہب اور ذات پات کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ جب وہ اور ان کی پارٹی ایک خاص مذہب سے وابستگی کا اعلان کرتے ہیں اور دیگر مذاہب خاص طور پر اسلام اور عیسائیت سے اور ان کے ماننے والوں سے معائدانہ سلوک کرتے ہیں تو کیسے ’وشو گرو‘ بن سکتے ہیں؟ اگر ان کو وشو گرو بننا ہے اور ملک کو بھی وشو گرو بنانا ہے تو وہ پہلے ملک کے وشو گرو بنیں اور اپنے اندر وہ صفات پیدا کریں جو وشو گرو کے لئے ضروری ہیں۔
مسلمانوں کو اللہ اور قرآن سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اسلام سے وہ رجوع کرلیتے ہیں تو ان کے سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ ’’اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ عقیدۂ توحید کے زیر سایہ سماجی مساوات، معاشی عدل اور جمہوریت کو مضبوط بنیادیں فراہم کرسکتا ہے۔ ساتھ ہی وہ اسلام سے باہر کے لوگوں کے لئے آزادیِ ضمیر کے ساتھ جینے کا حق تسلیم کرکے تکثیری معاشرہ (Plural Society) کے لئے میدان وسیع کرتاہے۔ بالفاظِ دیگر گلوبلائزیشن دنیاکے سارے انسانوں بالخصوص ایشیا اور افریقہ کے عوام میں جو امنگیں اور حوصلے پیدا کر رہا ہے ان کو پورا کرنا صرف اسلام کے لئے ممکن ہے۔ البتہ یہ خواب جبھی شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے جب اسلام کے علمبردار اپنے موجودہ طور طریقے بدل کر اسلام کے ترجمان بن جائیں۔ مسلمانوں کو ایک نئی شناخت حاصل کرنی ہوگی جو توحید، مکارمِ اخلاق، سماجی مساوات، معاشی عدل اورسچی جمہوریت کی آئینہ دار ہو‘‘۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068 / 9874445664
Like this:
Like Loading...