Skip to content
مودی کے ‘ماسٹر اسٹروکس’ اور گودی میڈیا کا سرکس
از قلم : اسماء جبین فلک
آج کل ہندوستان کے نیوز چینلز دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے اسکرین پر خبریں نہیں، بلکہ کسی شاہی دربار کا ‘قصیدہ خوانی’ مقابلہ چل رہا ہو۔ وہ دور لد گیا جب صحافی حکومت سے سوال پوچھتے تھےاب تو صحافی اپوزیشن سے ایسے سوال کرتے ہیں جیسے وہ خود ہی ملک کے وزیرِ اعظم ہے
چینلز کے اسٹوڈیوز اب نیوز روم کم اور ‘وار روم’ زیادہ لگتے ہیں۔ جیسے ہی رات کے 9 بجتے ہیں اینکرز اسکرین پر نمودار ہوتے ہیں اور ایسے چلاتے ہیں جیسے دشمن کی فوج نے ان کے اسٹوڈیو پر حملہ کر دیا ہو۔ گرافکس کی حالت یہ ہے کہ کبھی اینکر میزائل پر بیٹھا نظر آتا ہے تو کبھی ٹینک چلا رہا ہوتا ہے۔ بس کسر اتنی رہ گئی ہے کہ کسی دن کوئی اینکر اسٹوڈیو میں ہی ایٹم بم کا بٹن دبا کر ‘دیش بھکتی’ ثابت کر دے۔
پہلے زمانے میں پوچھا جاتا تھا کہ "مہنگائی کیوں بڑھی؟” لیکن اب مودی جی کے دور میں پوچھا جاتا ہے
"آپ تھکتے کیوں نہیں؟”
"آپ آم کاٹ کر کھاتے ہیں یا چوس کر؟”
"آپ کے پرس میں کتنے پیسے ہوتے ہیں؟” (جبکہ جواب پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ فقیر آدمی ہیں جھولا اٹھا کر چل دیں گے!)
اگر ملک میں بے روزگاری انتہا پر ہوکسان سڑکوں پر ہوں یا پیٹرول کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہوں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ چینل کے پاس فوری نسخہ موجود ہے ‘ہندو-مسلم ڈبیٹ’۔ جیسے ہی چینل پر مندر-مسجد یا پاکستان کا ذکر آتا ہے اچانک ملک کی تمام بھوک اور پیاس ختم ہو جاتی ہے۔ صحافی نہیں، بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ ‘ہپنوسس’ (Hypnosis) کے ماہر بیٹھے ہیں جو آپ کو یہ یقین دلا کر ہی دم لیں گے کہ آپ کا پیٹ بھلے ہی خالی ہو لیکن ‘وشو گرو’ بننے کا فخر آپ کے پیٹ کو بھرنے کے لیے کافی ہے۔
دنیا کے واحد ملک کا میڈیا ہندوستان میں پایا جاتا ہے جہاں حکومت سے نہیں بلکہ اپوزیشن سے حساب مانگا جاتا ہے۔ اگر کہیں سڑک ٹوٹ جائے تو اینکر چیخ کر کہتا ہے: "نہرو نے وہ سڑک ایسی کیوں بنائی تھی کہ آج ٹوٹ گئی؟” یا "راہول گاندھی چپ کیوں ہیں؟”۔ حکومت کے لیے ان کے پاس صرف ایک ہی فقرہ ہے: "ماسٹر اسٹروک!”۔ چاہے نوٹ بندی ہو یا جی ایس ٹی ان کے لیے ہر فیصلہ ایک ایسا ماسٹر اسٹروک ہے جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے بھلے ہی ملک کے عوام ہل کر رہ گئے ہوں
بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک کے بعد مودی جی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس رات موسم بہت خراب تھا اور بارش ہو رہی تھی۔ ماہرین کہہ رہے تھے کہ حملہ ٹال دیں لیکن مودی جی نے اپنا "راولپنڈی والا دماغ” لگایا اور کہا: "بادل ہیں فائدہ اٹھا سکتے ہیں راڈار بادلوں کی وجہ سے ہمیں دیکھ نہیں پائے گا۔”
اب سائنس چیختی رہی کہ راڈار بادلوں کے پار بھی دیکھ لیتا ہے، لیکن نیوز چینلز کے اینکرز نے راتوں رات فزکس کی نئی کتابیں لکھ ڈالیں۔ سکرین پر گرافکس چلنے لگے کہ کیسے مودی جی نے بادلوں کو ‘انوزیبل چادر’ (Invisible Cloak) کی طرح استعمال کیا۔ ایک اینکر تو اتنا جذباتی ہوا کہ اس نے قریب قریب یہ ثابت کر دیا کہ آئن اسٹائن نے اپنی تھیوری مودی جی سے پوچھ کر ہی لکھی ہوگی۔
مودی جی نے ایک بار یہ انکشاف کر کے سب کو حیران کر دیا کہ انہوں نے 88-1987 میں اڈوانی جی کی رنگین تصویر کھینچی تھی اور اسے ای میل کے ذریعے بھیجا تھا۔ اب تاریخ یہ کہتی ہے کہ اس وقت نہ ہندوستان میں انٹرنیٹ تھا اور نہ ہی عام لوگوں کے پاس ڈیجیٹل کیمرے لیکن میڈیا نے اس پر سوال پوچھنے کے بجائے اسے مودی جی کی "دور اندیشی” قرار دیا۔
اینکرز نے ایسے بریکنگ نیوز چلائی جیسے مودی جی نے ای میل کی ایجاد ہی ساٹھ کی دہائی میں ہمالیہ کی کسی غار میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر کر لی تھی۔ کسی نے یہ ہمت نہیں کی کہ پوچھے، "حضور! اس وقت ای میل بھیجی کس کو تھی جب کسی اور کے پاس انٹرنیٹ ہی نہیں تھا؟”
ایک جلسے میں مودی جی نے بتایا کہ کیسے ایک شخص نے گندی نالی کے اوپر الٹا برتن رکھ کر وہاں سے نکلنے والی گیس (میگھن) سے چائے بنائی۔
سائنس دان سر پیٹتے رہ گئے لیکن نیوز چینلز نے اگلے ہی دن اسٹوڈیو میں نالیاں "تخلیق” کر دیں اور اینکرز ہاتھ میں پتیلی لے کر کھڑے ہو گئے کہ دیکھیے! مودی جی نے ملک کو انرجی کا نیا ذریعہ دے دیا ہے۔ اب گیس سلنڈر مہنگا ہے تو کیا ہوا؟ نالیاں تو مفت ہیں!
اکشے کمار کے ساتھ ہونے والے اس مشہور انٹرویو کو کون بھول سکتا ہے جس میں آدھا گھنٹہ صرف اس پر بحث ہوئی کہ مودی جی آم کیسے کھاتے ہیں؟
"کیا آپ آم کاٹ کر کھاتے ہیں؟”
"کیا آپ اسے چوس کر کھاتے ہیں؟”
"بچپن میں آپ کھیتوں میں جا کر آم توڑتے تھے؟”
میڈیا نے اسے سال کا سب سے "انسانی” انٹرویو قرار دیا۔ ملک میں بے روزگاری پر خاموشی تھی لیکن آم چوسنے کے عمل پر گھنٹوں ڈبیٹ (Debate) ہوئی کہ مودی جی کا آم کھانے کا طریقہ کتنا "دیش بھکتی” سے بھرپور ہے۔جیسے ہی مودی جی نے پکوڑوں کا ذکر کیااگلے ہی دن نیوز چینلز کے اسٹوڈیوز ‘ڈھابوں’ میں بدل گئے۔ ریشمی سوٹ پہنے اینکرزجن کی ماہانہ تنخواہ لاکھوں میں ہےاسکرین پر کڑھائی اور تیل لے کر بیٹھ گئے اور نوجوانوں کو سمجھانے لگے کہ "بیٹا! انجینئرنگ اور ایم بی اے میں کیا رکھا ہے؟ اصل زندگی تو بیسن اور پیاز کے گھول میں چھپی ہے۔”
چینلز پر ایسے گرافکس چلائے گئے جیسے پکوڑے بیچنا گوگل یا مائیکروسافٹ میں نوکری کرنے سے بہتر ہو۔ ایک اینکر نے تو باقاعدہ کیلکولیٹر نکال کر یہ حساب لگا ڈالا کہ اگر آپ ایک منٹ میں چار پکوڑے تلتے ہیں تو دس سال میں آپ ‘ایلون مسک’ کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک بے روزگاری کا حل کسی سرکاری پالیسی میں نہیں بلکہ پکوڑوں کی چٹنی میں موجود تھا۔
میڈیا نے فوری طور پر ایسے ایک دو لوگوں کو ڈھونڈ نکالا جنہوں نے ڈگری کے بعد پکوڑے بیچنا شروع کیے تھے۔ ان کا انٹرویو ایسے لیا گیا جیسے وہ چاند سے فتح یاب ہو کر لوٹے ہوں۔ اینکر صاحب چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے: "دیکھیے! یہ ہے خود انحصاری (آتم نربھرتا)۔ مودی جی کا وژن سچ ہو رہا ہے!”۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ "جناب اگر سب پکوڑے ہی بیچیں گے تو کھائے گا کون؟
گودی میڈیا نے یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ جو نوجوان نوکری مانگ رہے ہیں وہ دراصل ‘کاہل’ ہیں۔ ایک اینکر نے تو یہاں تک طنز کیا کہ "نوجوانوں کو صرف سرکاری نوکری کی لت پڑی ہےپکوڑے تلنے میں شرم آتی ہے۔” گویا پی ایچ ڈی کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ بندہ نالے کی گیس پر پکوڑے تل کر مودی جی کے وژن کو چار چاند لگائے۔
چینلز نے یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ مودی جی کے اس بیان کے بعد دنیا بھر میں ‘انڈین پکوڑے’ کی مانگ بڑھ گئی ہے اور جلد ہی پکوڑا ‘ڈالر’ کو ٹکر دے گا۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ پکوڑا صرف ایک غذا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک "جیوسٹریٹجک ہتھیار” ہے جسے مودی جی نے دشمنوں کے خلاف استعمال کیا ہے۔
مودی جی کے دس سالہ دورِ اقتدار کا سب سے بڑا "کارنامہ” اگر کوئی ہےتو وہ یہ کہ انہوں نے ملک کے بڑے بڑے نیوز چینلز کو ‘نیوز ایجنسیوں’ سے ‘ایونٹ مینجمنٹ کمپنیوں’ میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج ہندوستان کا عام شہری جب ٹی وی کھولتا ہےتو اسے خبریں نہیں بلکہ ایک ایسی فلم دکھائی جاتی ہے جس کا ہیرو کبھی تھکتا نہیں کبھی غلطی نہیں کرتااور جس کے ہر ناکام فیصلے کو میڈیا اپنی چیخ و پکار سے "تاریخی کامیابی” بنا کر پیش کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مودی جی کے کارنامے زمین پر ڈھونڈنے سے نہیں بلکہ نیوز چینلز کے رنگین گرافکس اور اینکرز کے بلند بانگ دعووں میں ملتے ہیں۔ چاہے وہ نوٹ بندی کی قطاریں ہوں جی ایس ٹی کی پیچیدگیاں ہوں یا کسانوں کی تحریک—میڈیا نے ہر درد کو "ملک کی بہتری” کا نام دے کر عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ "اگر تکلیف ہو رہی ہے تو سمجھو دیش بدل رہا ہے”۔
آخر میں ستم ظریفی یہ ہے کہ جس جمہوریت کا چوتھا ستون (میڈیا) حکومت سے حساب مانگنے کے لیے کھڑا تھا وہی آج مودی جی کے کیمرے کا اینگل سیٹ کرنے اور ان کے ہر ‘ماسٹر اسٹروک’ پر ڈھول بجانے میں مصروف ہے۔ تاریخ جب لکھی جائے گی تو مودی جی کے کارناموں کے ساتھ ساتھ ان اینکرز کا نام بھی سنہری حروف میں لکھا جائے گا جنہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے ضمیر کو بیدار نہیں ہونے دیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ سچ بولنے سے ‘ٹی آر پی’ (TRP) نہیں ملتی اور سرکار کی جے جے کار کرنے سے ‘پراسپیرٹی’ (Prosperity) ملتی ہے۔
اب بس انتظار اس دن کا ہے جب کوئی اینکر اسٹوڈیو میں کھڑے ہو کر یہ دعویٰ کرے گا کہ مودی جی نے سانس لینے کا ایک ایسا نیا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس سے ملک کا قرضہ آدھا ہو جائے گا اور اس وقت بھی عوام سے یہی کہا جائے گا "سوال مت پوچھو، بس تالیاں بجاؤ اور پکوڑے کھاؤ!”
Like this:
Like Loading...