Skip to content
بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام عالمی مشاعرہ: فن و ادب کی ایک لازوال اور تاریخی شام
تاریخ ساز مشاعرہ: بزمِ اردو قطر کی انتظامیہ نے دوحہ میں ادب کی نئی تاریخ رقم کر دی
رپورٹ: علی اشہد اعظمی
گزشتہ شام دوحہ کے ‘لامیشن ہوٹل’ (بن محمود) میں بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام ایک عالمی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس نے اپنی کامیابی اور معیار کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ یہ شام اپنی خوبصورتی، نظم و ضبط اور سامعین کے جوش و خروش کے باعث اردو تاریخ کا ایک یادگار باب بن گئی ہے۔دوحہ، قطر: بزمِ اردو قطر نے ایک بار پھر اپنی شاندار روایت کو برقرار رکھتے ہوئے دوحہ کے ادبی افق پر ایک ایسا درخشندہ ستارہ ٹانکا ہے جس کی تابندگی دیر تک محسوس کی جائے گی۔
صدارت کی ذمہ داری جناب جاوید دانش جو کینڈا سے تشریف لائے تھے وہ ایک عالمی شہرت یافتہ تھیٹر آرٹسٹ و شاعر بھی ہیں جنہوں نے ہر ایک کلام کو عزت بخشی اور مشاعرے کا لطف لیا، مہمانِ خصوصی کے طور پر جناب عیسیٰ سلمان جمعہ ربیعہ الکواری موجود رہے ان کی دلچسپی قابلِ تحسین تھی، مہمانِ اعزازی کے طور پر جناب حسین سالم نے حصہ لیا اردو ان کی زبان نہیں تھی پھر بھی انہوں نے ہر کلام کی داد دی اور آخر تک مشاعرے کو سنتے رہے، نظامت کے فرائض انجام دے تھے ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش (ڈائریکٹر صدرا اسپتال)، جن کی شستہ بیانی اور برجستہ جملوں نے محفل میں روح پھونک دی۔
اس مشاعرے میں ہندوستان، پاکستان، کینیڈا اور قطر سے تعلق رکھنے والے 15 معتبر شعراء نے اپنے فکری اثاثوں سے سامعین کو نہال کیا۔ مزاحیہ شاعر اشفاق دیشمکھ نے اپنی شگفتہ بیانی سے محفل کا آغاز کر کے فضا کو خوشگوار بنا دیا۔
شرکاء کی فہرست میں درج ذیل نام شامل تھے:
شکیل اعظمی، خالد ندیم شانی، رعنا تبسم، عتیق انظر، افضل الہ آبادی، عزیز نبیل، صباحت عروج، احمد اشفاق، فراز ادیبی، مقصود انور مقصود، دل خیرا بادی، ڈاکٹر ندیم جیلانی، آصف شفیع، اشفاق دیشمکھ، اور راقم اعظمی۔
مشاعرے کے چند منتخب اشعار:
جو تیرے عیب بتاتے ہیں اسے مت کھونا
اب کہاں ملتے ہیں آئینہ دکھانے والے
شکیل اعظمی ( ہندوستان)
خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے
غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے
خالد ندیم شانی
میاں تم دوست بن جو ہمارے ساتھ کرتے ہو
وہی سب کچھ ہمارے دُشمنِ جانی بھی کرتے ہیں
عزیز نبیل (دوحہ قطر)
موسم تھا جب بہار کا ہم ہی تھے بے شعور
ہم باشعور کیا ہوئے موسم بدل گیا
رعنا تبسم (ہندوستان)
جو فن سے نا بلد ہیں انہیں فنکاری دلاتا ہے
وہ آتی باریوں میں اپنی سرداری دکھاتا ہے
عتیق انظر (دوحہ قطر)
وہ مجھے زینتِ صحرا نہیں ہونے دیتی
مجھ کو مجنو میری لیلیٰ نہیں ہونے دیتی
افضل الہ آبادی( ہندوستان)
جو لوگ کہہ رہے ہیں غریبی عذاب ہے
یہ لوگ وہ ہیں جن کو محبت نہیں ہوئی
صباحت عروج( پاکستان)
تیرا نام آگیا تھا درمیانِ گفتگو
میری آنکھوں کے جزیرے میں سمندر آگیا
احمد اشفاق ( دوحہ قطر)
بدن کی کیا حقیقت روح تک پہچان لیتے ہیں
وہ چہرہ دیکھتے ہیں دل کی حالت جان لیتے ہیں
فراز ادیبی( ہندوستان)
محبت سے بھرے الفاظ کو پتوار کر لوں گا
تیرے خط کو بنا کر ناؤ دریا پار کر لوں گا
مقصود انور مقصود ( دوحہ قطر)
دل سے دل آنکھ سے ہیں آنکھ ملانے والے
ہم جھکی ڈالیوں کا پھل نہیں کھانے والے
دل خیرا بادی ( ہندوستان)
آنے جانے کی جو تکرار لگی رہتی ہے
اس سے کچھ رونقِ بازار لگی رہتی ہے
آصف شفیع ( دوحہ قطر)
تیری صورت سے جہاں بھر میں نمایاں سب سے
تیرے جیسا کوئی ماہتاب کہاں سے لاؤں
راقم اعظمی ( دوحہ قطر)
زہر کے تاجر تیرے آنے سے اتنا تو ہوا
سانپ تھے جتنے پرانے بے ضرر لگنے لگے
ڈاکٹر ندیم جیلانی ( دوحہ قطر)
چوری وہ کر رہا تھا کسی کے مکان سے خرچہ بھی کر رہا تھا بڑی آن بان سے
میں نے بھی اسے روکا نہیں کبھی
سامان لے رہا تھا وہ میری دوکان سے
اشفاق دیشمکھ ( دوحہ قطر)
ان سبھی شعراء نے اپنے متنوع کلام سے مشاعرے کو کیف و سرور سے بھر دیا۔
مشاعرے کی کامیابی میں بزم کے دو اہم ستونوں احمد اشفاق (جنرل سیکرٹری) اور راقم اعظمی (جوائنٹ سیکرٹری) کا کردار کلیدی رہا۔ جس طرح کرکٹ میں میچ کی صورتحال دیکھ کر بیٹنگ آرڈر بدلا جاتا ہے، بالکل اسی طرح ان دونوں حضرات نے سامعین کے مزاج اور وقت کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے شعراء کی ترتیب میں ایسی تبدیلی کی کہ محفل کا گراف مسلسل بلند ہوتا گیا۔ "جب آخری چار پانچ شعراء باقی تھے، تو ہال کا منظر دیدنی تھا۔ سامعین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر داد دے رہے تھے اور تالیوں کی گونج میں ہر شعر کا استقبال ہو رہا تھا-
اس کامیاب پروگرام کے پسِ پردہ احمد اشفاق اور راقم اعظمیٓ کی رہنمائی میں ایک منظم ٹیم متحرک تھی جس میں علی اشہد اعظمی (خازن)، مقصود انور مقصود ( نائب صدر) واصف گیلانی (شعبہ نشرو اشاعت) محمد عمران (سوشل میڈیا)، اجمل بسہمی، اریب اشفاق، وندنا راج، منصور اعظمی، طاہر جمیل، محفوظ حسن، انمول اتفاق، معظم ندوی، اجمل قیامی، زید بسہمی اطہر اعظمی اور یاور حسین نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں۔
تقریب کا آغاز معظم ندوی کی تلاوت سے ہوا تھا، اس کے بعد اطہر اعظمی نے بزمِ اردو قطر کا تعارف پیش کیا اس کے فوراً بعد شعراء کرام اور مہمانان کی گل پوشی کی گئ انہیں ممنٹو اور ہدیہ پیش گیا گیا جبکہ اختتام پر مقصود انور مقصود نے تمام مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بزم کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ بھی ایسے معیاری مشاعرہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ محفل کا اختتام ایک پرتکلف عشائیے پر ہوا، جس کی خوشبو سامعین اپنے ساتھ لے کر رخصت ہوئے۔
Like this:
Like Loading...