مفتی شمائل ندوی ـ دشمنوں کے نرغے میں
ازقلم:رفیع الدین حنیف قاسمی
ادارہ کہف الایمان ٹرسٹ ، بورابنڈہ ، حیدرآباد
ایک نوجوان عالم دین، جس نے عصری زبان میں موجودہ دور کے ایک ادیب شاعر، بڑے تجربہ کارشخص، جس نے اپنی زبان کی مٹھاس اور شیرینی کے ذریعہ ہزاروں لوگوں کے دل کو موہ لیا تھا، جاوید اختر ایک گائے گار، ڈرامہ نگار، اردو ادب کاایک عظیم انشاء پرداز، لیکن ایک ملحد، خدا بیزار، اپنی انانیت پر مصر ، خدا کی عظیم ذات پر دشمنام طرازی کرنے والا ایک بے لگام، ایک شتر بے مہار شخص ، نوجوان ندوی نے اس حوالے سے ان کی کیا نکیل پکڑی اور خدا کے وجود پر عقلی دلائل کیا پیش کئے ، یہ نوجوان عالم دین نہ صرف ہندوستان ؛ بلکہ عالم اسلام میں ایک ہیرو اور اسلام کا عظیم نوجوان داعی شمار ہونے لگا، ان کی ڈیبیٹ کو دنیائے اسلام اور عرب بھر کے میڈیا نے عربی اور خود یورپین ممالک میں بھی نشر کیا گیا، پورے ملک میں اس ڈیبیٹ پر تبصرے ہوئے، بلکہ بعض غیر مسلم سنجید مذہبی پیشواؤں کو بھی اس ڈیبیٹ پر سنجیدہ تبصرہ کرتا ہوا دیکھا گیا۔
بس ایک بڑی ملحد کے سامنے موجودہ دور کی عصری زبان اور فہم میںانگریزی زبان کے بھرپور استعمال کے ساتھ اس نوجوان عالم دین نے کیا گفتگو کی، مضبوط عقلی دلائل کے ذریعہ کیا دوٹوک مناظرہ کیا، اپنے میں سے بھی ایک بڑے طبقے کو جو صرف فرقہ واریت کا راگ الاپتا ہے ، جن کا پیشہ ہی فرقہ واریت اور امت میں تفریق کو ہوا دینا ہے ، مفتی شمائل کا اس طرح ملحدین کا ببانگ دہل اور ڈنکے کی چوٹ پر خدا کے وجود پرنہایت پرسکون اور پررعب لہجے میں دلائل کا پیش کرنا بڑا گراں گذرا،دین کی حقانیت اور احقاق حق کاز کے لئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تمام امت مسلمہ بڑے پیمانے پر یگانگت کا اظہار کرتی؛ بلکہ ہر وہ شخص جو خدا کے وجود پر یقین رکھتا ہے ، اس ڈیبیٹ کی سراہنا کرتا، مفتی شمائل ندوی کا شکریہ ادا کرتا ۔
وہی اپنی پرانی روش اور طریقہ کار اور فرقہ واریت کے خول سے باہر نہ نکل سکے نتیجہ ملک کے سنگھیوں اور چاٹوکار میڈیا کو ہی مفتی شمائل ندوی کے خلاف کھڑا کردیا، بلکہ مولانا توقیر رضا صاحب جو اس وقت امت مسلمہ ہند کی ایک بلند آواز تھے، حق بات کہنے میں کسی ظالم کے ظلم کی پرواہ نہ کرتے ، ان کے لئے بھی ان کے اپنے لوگوں نے ان سے پلڑا جھاڑ لیا اور ان سے اپنے سے قطع تعلق کی بات کہہ دی، صرف ظالم کے ظلم سے بچنے کے خاطر، جب کہ علماء حق نے توقیر رضا صاحب کی بے جاگرفتاری پر آو از اٹھائی؛ بلکہ سلمان ازہری مد ظلہ العالی کو بے جا گرفتار کیا گیا ، اس پر بھی صدائے احتجاج بلند کیا، علماء حق وہ ہوتے ہیں جو احقاق حق کے لئے ہر دم میدان عمل میں سرگرداں ہوتے ہیں ، حالات اور تقاضے اور مصلحتیں ان کے لئے آڑ نہیں بنتی، وہ دار ورسن اور قید زنداں کو تو برداشت کرتے ہیں ؛ لیکن احقاق حق کی ذمہ داری سے دست بردار اور کنارہ کش نہیں ہوسکتے ۔
اس وقت گودیامیڈیا اور شوشل میڈیا پر مفتی شمائل کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں،ان کو کسی طرح پھنسانے کی کوششیں کی جارہی ہے ، مختلف میڈیا چینلس پر مفتی شمائل کے خلاف پروپگنڈے کئے جارہے ہیں،در اصل اس پروپگنڈے کا اصل ذمہ دار ایک شخص ہے جو ڈاکٹر شجاعت علی قادری کے نام سے موسوم ہے ، اس نے گودی میڈیا کو مفتی شمائل ندوی کی وائرل ویڈیو فراہم ہی نہیں کی، بلکہ اسی شخص نے خود ان کے وائرل ویڈیوکے تعلق سے ایکس پرجو تبصرہ کیا ہے ، وہ تبصرہ قابل دید اور امت مسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے، دیکھئے آستین کے سانپ کیسے ہوتے ہیں؟اپنے ہی بھائی کی ٹانگ پکڑ کر کھیچنے لگے، جو خود دین کو مٹانے پر چلے ہیں،اس گھر کو آگ لگی ہے گھر کے چراغ سے ، صرف اس لئے کہ یہ ندوی ان کے مکتبہ فکر سے تعلق نہیں رکھتے، الامان والحفیظ۔
چنانچہ یہ ندوی کے ویڈیو، ان کے خیالات اور ان پر ملک کے قانون کے مختلف شقوں کے تحت سزا کی بھی بات کہہ رہے ہیں۔
علامہ اقبال کے قول کے مصداق
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
”مولانا ندوی کا یہ بیان سویدھان کے مول بھاؤنا کے خلاف ہے ، بھارت کامسلمان نہ تو ہندو راسٹر کا سمرتھک ہے نہ ہی وہابی شریعت کے نام پر کسی دھارمک شاسن کا ، ہمارے راستہ سویدھان ، لوگ تنتر اور سامان ناگریک آدھیکار ہے ، ایسے بیان انوچھید 14، 15،19و 25کی بھاؤنا کے خلاف ہے اور BNSدھارا 196کے تحت ڈنڈنئی ہے ” ۔
اس پر ایک تبصرہ نگار یہ آر شارخ خان نے لکھا ہے : ” جاہل انسان شریعت نہ تو وہابی ہوتی ہے، نہ ہی سنی، شریعت صرف شریعت ہوتی ہے ، شریعت کو بھی فرقوں میں بانٹے سے باز نہیں آئے”۔
پھر ان صاحب نے ان تبصرہ نگار کے جواب میں مولانا ندوی کو وہابیت اور IsIsجیسے دہشت گردفرقہ سے تعلق کو جوڑنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں ۔
مسلمانوں کی یہ آپسی تفرقہ بازی ، آپس کا بھید بھاؤ ، تناؤ کیا امت مسلمہ کے حق میں درست ہے ؟کیا ان حالات میں جب کہ ویسے بھی مسلمانوں کو ہراساں اور سراسیما کرنے کا کا موجود سنگھی ذہنیت اور موجود برسراقتدار حکومت کے کارکنان اور میڈیا نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہواہے؟ غیر تو اپنے آپ کو 80پرسنٹ ہم سب ایک ہی ہیں کہیں، ”بٹو گے تو کٹو گے” جیسے نعرے لگائیں، جب کہ ان میں بھی بے شمار برادریاں، ذاتین اور فرقہ بندیاں ہیں، جو ایک دوسرے کونیچا دکھاتے ہیں، لیکن انہوں نے اس وقت مسلمانوں کے خلاف یکجا ہو کر اپنی کمیونٹی کو مضبوط کر کے مسلمانوں کو تن تنہا کردیا ہے ، یہ بھی نہیں ہے کہ کسی سے اپنی براء ت کا اظہار کرنے سے مسلمانو ں کی کوئی جماعت یا فرقہ موجودہ حکومت کی عصبیت سے بچ سکتا ہے ، تمام مسلمان قرآن اور سنت کی بات کرتے ہیں، جس کا کوئی انکار نہیں کرتا ہے، قرآن اور سنت اور حضور اکرم ۖ کی ذات اقدس ہی ہمارے لئے محور ومدارہے ، کلمہ توحید ہم مسلمانوں کو اتحاد ویکجہتی کے دھاگے سے پروتا ہے ۔
ایک چھوٹا سا بچہ بازار سے گذر رہا ہے ، ہندو تو وادی غنڈے اسے ”جی شری رام ” کہنے پر مجبور کررہے ، وہ بچہ بار بار اصرار بھی تیزی سے قدم آگے بڑھاتے ہوئے چلاجاتا ہے ، وجہ اس تنگ کرنے کی یہ تھی کہ وہ بچہ کرتا پائجامہ زیت تن کیا ہوا، سرپر ٹوپی، شاید وہ مسلمانوں کے کسی بھی مسلک اور فرقہ سے تعلق نہیں رکھتا، لیکن فرقہ پرستوں کو بس ایک مسلمان بچہ کو پریشان کرنا یاد آیا۔
اس لئے مسلمانوں کو اپنی آواز کے اٹھانے سے پہلے ، ہر قدم کے رکھنے سے پہلے انجام کار کو دیکھ کر اپنے قدم اٹھانے ہوںگے کہ کہیں یہ ہمارا بنا ہواجال ہمارے جان کا کنکال نہ بن جائے۔
سدرشن ٹی وی کے مالک نے ہمیشہ ہی سے اسلام اور مسلمانو ں کے خلاف زہر کھولا ہے ، اس کے بیٹے نے ایک بڑا پروگرام سدرشن ٹی وی پرنشر کر کے مفتی شمائل ندوی کے وائرل شدہ ویڈیوں کے کچھ حصوں کی کتر بینت کے ذریعہ انہیں ملک کا غدا راور نیا ذاکر نائیک روپ تک کہہ دیا ۔
بس اس واسطے کہ مولانا ندوی نے اپنے سابقہ بیانات میں قرآن کو سب سے بلند ترین کتاب اور مذہب اسلام میں تمام مسائل کے حل کی بات کہی تھی اور یہ بتلایا تھا کہ سیکولزم اور وطن پرستی یہ مسلمانوں کا خالص عقیدہ نہیں ہوسکتا ہے ، سب سے پہلے مسلمانوں کے لئے ان کا دین اور کی کتاب قرآن ہے ، حالانکہ اس قسم کے بیانات دیگر ہندودھارمک لوگوں نے بھی دیئے ، لیکن مفتی شمائل ندوی کو ٹارگٹ کرنا اور ایک نوجوان عالم دین جو عصری امیج میں اسلام کی دعوت کا کام کرنا چاہتا ہے، اس پر کسی طرح پابندی قدغن لگانا ہے ۔
ایک سوامی جی ہیں جو کہ ایک دھارمک گرو بھی ہیں، ان سے پوچھا گیا:ںں دھرم بڑا یا دیش یا سویدھان ، اس گرو نے کہا : میرے درشتی میں سب سے بڑا ہے دھرم، اینکر پوچھتا ہے : ، سویدھان سے بڑا تو! جواب میں کہتا ہے : دھرم ۔ یہ ویڈیوں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔
اور ایک مشہور شنکر آچاریہ (ادیموکتشورانند)جن کے سیاسی تبصرے شائع ہوتے رہتے ہیں،ان سے اینکر نے سوال کیا کہ : کیا سویدھان سے اوپرمنوسمرتی ہے تو شنکر آچاریہ کہتے ہیں: ہم سناتن دھرمی ہیں، ہمارا جیون دھرم کے انوسار چلتا ہے ، سوبھاوک ہے ہمارے لئے دھرم بڑی چیز ہے ،جہاں دیش کی ناگرتا کی بات آئے گی وہاں دیش کی ناگرتا کے انوسار مانیںگے،اس لئے کہ ہم کسی بھی دیش میں چلے جائیںتو ہمارا دھرم تو ہمارے ساتھ رہے گا، جیسے ہی بھارت کی سیما چھوڑیںگے، دوسرے دیش کا قانون ہم پر لاگوہوجائے گا، لیکن منوسمرتی تو ہمارے دوسرے دیش جانے پر بھی لاگو رہے گی،پھراینکر کہتا ہے ، اگر منوسمرتی ہے سویدھان سے اوپر ہے تو کل مسلمان بھی قرآن کو سویدھان سے اوپر مانے گا؟ تو شنکر اچاریہ کہتے ہیں: ہم اس کے لئے کیا کہہ سکتے ہیں؟”
دوسرے دھرم والے کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن اگر یہی بات قرآن اور دین کے حوالے سے کہہ دی جائے کہ یہ ہمارے لئے وطن اور سویدھان سے بڑھ کر ہے تو پھر اس کے خلاف نہ صرف اپنے بلکہ غیر اور بلکہ پورا ملکی میڈیا زہر اگلنے لگتا ہے ، مسلمانوں اور مفتی شمائل جیسے لوگوں پر دہشت گردی ، غداری وطن جیسے الزامات کی بھر مار کردی جاتی ہے العیاذ باللہ ۔
حالانکہ قرآن وحدیث ہماری زندگی کے نجی مسائل کو حل کرتے ہیں، ملک میں ملک کا قانون نافذ ہے ، اس پر اعتماد اور بھر وسہ کیا جاتا ہے ، بلکہ ہمارے قائدین ، علماء اور ائمہ ملک کی سیکولرزم کے بقاء واستمرار کے لئے رات ودن جدوجہد کرتے ہیں، البتہ دین وشریعت کو مسلمانوں کے نجی مسائل میں عدم دستبرداری کی بات ببانگ دہل کہتے ہیں، اس حوالے سے مسلم پرسنل لاء بورڈ بھی قائم ہے ، تاکہ حکومت دستور اور قانون مختلف شقوں کے بموجب مسلمانوں کے نجی دینی مسائل میں دخل اندازی نہ کرے ، ہر مذہب والوں کو ان کے ذاتی مسائل میں دینی احکام پر عمل آوری کا اختیار رہے ، لیکن ہمیشہ مسلمانوں نے ملک میں سیکولرزم اور ملک کے قانون کے تحفظ اوراس کے لئے جان کی بازی لگانے کی بات تک کہی ہے ، ہر قیمت پر مسلمان ملک کے قانون کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں، جو ان کے ان کے اپنے دین وشریعت پر عمل کے راستے کو آسان ترین بناتا ہے ، کیوں کر مسلمان اس کی مخالفت کرسکتا ہے ؟ ہندوستان جیسے مختلف مذاہب اور دھرموں سے تعلق رکھنے والے ملک میں سارے مذاہب کی بقا ملک کے قانون اور اس کے دستور میں ہی ہے ، ورنہ تو دیگر مذاہب والے ہندوراشٹر کے قیام کے بات کہتے ہیں، کیا ان پر کوئی تبصرہ کیا جاتا ہے؟ ان کی اس قدر تنقید کی جاتی ہے؟ا کبھی کسی مسلمان نے اس طرح کی بات کہی ہے ؟ملک میں شریعت کو نافذکرنا ہے یہ ہماری منزل یا مقصود ہے ؟؟
مفتی شمائل ندوی کو صرف اس لئے ٹارگٹ کیا جارہا ہے کہ ایک ہونہار عالم دین نے موجودہ عصری زبان میں خدا کے جود پر نہایت پرسکون اور مدلل اور مسکت دیبیٹ کر کے یہ ثابت کردیا ہے کہ علماء بھی عصری زبان میں دین کی تشریح وتوضیح کا کام انجام دے سکتے ہیں، جس کی وجہ سے خود اپنوں میں فرقہ واریت کو ہوا دینے والے اور دیگر فرقہ پرست ، تنگ ذہن رکھنے والوں کی جانب سے مفتی شمائل ندوی کو مختلف پروپیگنڈوں اور ہتھکنڈوں کے ذریعہ پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ خود عمل ملک کی سالمیت، بقا، تحفظ، آئین ودستور اور ملک میںبولنے کی آزاد ی پر لگام کسنے کے مماثل ہے ، جو ملک کے قانون اور دستور کے وجود کے لئے خطرہ کا باعث ہے ، ہندو تواں وادیاں یہ چاہتے ہیں، ملک میں منوسمرتی نافذ کی جائے ،رات دن اس پر راگ الاپے جاتے ہیں؛ لیکن اس پرکسی کوئی اعتراض نہیں؛ لیکن اس سے زیادہ افسوس اپنوں کی غداری اور مکاری پر ہوتا ہے ، جو اپنو ں کے لئے گھڑے کھودتے ہیں، انہیں یہ پتہ نہیں کہ اسی گھڑے میں انہیں بھی گرنا ہے ، یہ کسی سے راضی ہونے والے نہیں، سب کو نارگٹ بنائیںگے ، مسلمان ہونے کی نسبت پر ، ایمان کی نسبت پر ، کلمہ کی نسبت پر ، اللہ کی وحدانیت اطاعت رسول کی نسبت پر ، اسلامی شعائر اور اسلامی شناخت اور تشخص کی بنیاد پر ۔
ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبین
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیابات بنے
اس لئے ملک میں قانون آئین اور دستور کی حفاظت ملک کے ہر باسی کی ذمہ داری ہے ، خواہ وہ کوئی مسلمان ہو ، کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو،یا اور کوئی مذہب سے اپنا تعلق رکھنے والا شخص ، سب کو ملک کے آئین کی حفاظت کے لئے تگ ودو کرنا ہے تاکہ دین اور مذاہب کا بقا اور تحفظ ممکن ہوسکے ۔
اللہ تعالی توفیق ارزانی عطاء فرمائے ۔
